موضوعات
- ۔مسائل ختم نبوت (4)
- آیات ختم نبوت (4)
- آیات نزول عیسی علیہ السلام (9)
- احادیث ضعیفہ (6)
- حادیثِ امام مہدی و مجدد (5)
- ختم نبوت فورم متفرقات (12)
- سیرت رسول عربی اور مرزا قادیانی (9)
- قادیانی خرافات پرتحقیقی مقالات (14)
- قادیانیت (23)
- متفرقات (26)
- مناظرے (5)
آمدو رفت
بلاگر حلقہ احباب
بلاگ کا کھوجی
مجاہد ختم نبوت غلام نبی نوری. Powered by Blogger.
موضوعات
Pages
Showing posts with label قادیانی خرافات پرتحقیقی مقالات. Show all posts
Showing posts with label قادیانی خرافات پرتحقیقی مقالات. Show all posts
Monday, 10 April 2017
Sunday, 12 February 2017
Qadiani Kafir Fatwa Imam E Azam Abu Hanifa R.A
متحدہ
07:51
0
comments
07:51
0
comments
بسم اللہ الرحمن الرحیم ،
آج کل اکثر گروپس میں مرزائی قادیانی اپنی خفیہ سازشوں کو پایا تکمیل تک پہنچانے کے لیے مسلمانوں کے بھیس میں چھپ کر سادہ فہم عوام کو مختلف اسلامی موضوعات پر بحث و مکالمات کرکے گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ، لیکن مجاہدین ختم نبوت ﷺ کی ٹیم بھی میدان میں آچکی ہے جو ایسی کالی بھیڑوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر بے نقاب کرتی ہے اور ان کے کفریہ عقائد کو عوام کے سامنے ایکسپوز کرتی ہے،
گزشتہ رات میرا ایک گروپ میں ایک مرزائی کے ساتھ موضوع حیات و فات مسیح پر مناظرہ ہوا، اور ہر بار کی طرح مرزائی دم دبا کر بھاگ نکلا، احتتام مناظرہ پر ہمارے ہی کچھ مسلم احباب نے اپنے تبصرے شروع کر دیے جن میں سے اکثر دیکھنے میں آیا کہ کچھ لوگ امام اعظم ابو حنیفہ ؒ کا ایک فتویٰ پیش کر رہے تھے کہ امام اعظم نے فرمایا ہے کہ حضور ﷺ آخری نبی ہیں ، اب حضور ﷺ کے بعد کسی بھی مدعی نبوت سے دلیل طلب کرنا کفر ہے ، اس لیے مرزائیوں سے مناظرہ کرنے والا بھی کافر ہوجاتا ہے،
یہ پُوسٹ انھی احباب کے لیے لگا رہا ہوں جن کے زہن میں یہ سوال ہوگا کہ مرزائی یا کسی بھی مدعی نبوت کے ماننے والوں سے ہم مناظرے مباحثے مکالمے کیوں کرتے ہیں،
درحقیقت ہمارے اُن بھائیوں کو فتویٰ کی اصل نوعیت کی سمجھ نہیں ہوتی اس وجہ سے وہ مسلم مجاہدین ختم نبوت ﷺ و مناظرین ختم نبوت ﷺ پر طرح طرح کے کفرکے فتوے داغنے شروع کر دیتے ہیں،
کسی بھی نبی کی نبوت کی دلیل معجزہ ہوتا ہے ، امام اعظم رحمتہ اللہ نے جو فتویٰ دیا ہے اُس کا مطلب یہ ہے کہ بعد از رسول کریم ﷺ کسی بھی مدعی نبوت سے اُس کے سچا ہونے پر معجزہ کی دلیل طلب کرنا کفر ہے ،کیونکہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کےآخری نبی ہیں ، اور اس بات پر ہر مسلمان کا ایمان کامل ہے، تو کسی بھی نئے مدعی نبوت سے اُس کی نبوت کی صداقت پر معجزہ بطور دلیل طلب کرنا عقیدہ ختم نبوت ﷺ کے منافی ہوگا ، اس لیے حضور ﷺ کے بعد کسی بھی مدعی نبوت سے دلیل طلب کرنا کفر ہے،
رہی بات مرزائیوں قادیانیوں سے مناظرہ کرنے کی تو اس زمن میں یہ بات عرض کرتا چلوں کہ ہم ( تمام مجاہدین اکرام ) مرزائیوں قادیانیوں یا کسی بھی مدعی نبوت سے اُس کی نبوت کے سچا ہونے پر دلیل طلب نہیں کرتے بلکہ اُن کر عقائد کو قرآن و سنت کی روشنی میں گمراہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ قرآں و سنت کی روشنی میں اپنے عقیدے درست کر لیں۔ ہمارا مقصد اُن سے مکالمات کرکے اُن کی اصلاح کرنا ہوتا ہے ،
کیونکہ مناظرہ میں دوفریقین اپنے زہن میں آئے دلائل کا تبادلہ خیال کرتے ہیں تو ان میں سے جو حق پر ہوتا ہے وہ باطل کی تردید کرتا ہے،
ہمارا مقصد دعوت دین ہے۔
منجانب، غلام نبی نوری
آج کل اکثر گروپس میں مرزائی قادیانی اپنی خفیہ سازشوں کو پایا تکمیل تک پہنچانے کے لیے مسلمانوں کے بھیس میں چھپ کر سادہ فہم عوام کو مختلف اسلامی موضوعات پر بحث و مکالمات کرکے گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ، لیکن مجاہدین ختم نبوت ﷺ کی ٹیم بھی میدان میں آچکی ہے جو ایسی کالی بھیڑوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر بے نقاب کرتی ہے اور ان کے کفریہ عقائد کو عوام کے سامنے ایکسپوز کرتی ہے،
گزشتہ رات میرا ایک گروپ میں ایک مرزائی کے ساتھ موضوع حیات و فات مسیح پر مناظرہ ہوا، اور ہر بار کی طرح مرزائی دم دبا کر بھاگ نکلا، احتتام مناظرہ پر ہمارے ہی کچھ مسلم احباب نے اپنے تبصرے شروع کر دیے جن میں سے اکثر دیکھنے میں آیا کہ کچھ لوگ امام اعظم ابو حنیفہ ؒ کا ایک فتویٰ پیش کر رہے تھے کہ امام اعظم نے فرمایا ہے کہ حضور ﷺ آخری نبی ہیں ، اب حضور ﷺ کے بعد کسی بھی مدعی نبوت سے دلیل طلب کرنا کفر ہے ، اس لیے مرزائیوں سے مناظرہ کرنے والا بھی کافر ہوجاتا ہے،
یہ پُوسٹ انھی احباب کے لیے لگا رہا ہوں جن کے زہن میں یہ سوال ہوگا کہ مرزائی یا کسی بھی مدعی نبوت کے ماننے والوں سے ہم مناظرے مباحثے مکالمے کیوں کرتے ہیں،
درحقیقت ہمارے اُن بھائیوں کو فتویٰ کی اصل نوعیت کی سمجھ نہیں ہوتی اس وجہ سے وہ مسلم مجاہدین ختم نبوت ﷺ و مناظرین ختم نبوت ﷺ پر طرح طرح کے کفرکے فتوے داغنے شروع کر دیتے ہیں،
کسی بھی نبی کی نبوت کی دلیل معجزہ ہوتا ہے ، امام اعظم رحمتہ اللہ نے جو فتویٰ دیا ہے اُس کا مطلب یہ ہے کہ بعد از رسول کریم ﷺ کسی بھی مدعی نبوت سے اُس کے سچا ہونے پر معجزہ کی دلیل طلب کرنا کفر ہے ،کیونکہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کےآخری نبی ہیں ، اور اس بات پر ہر مسلمان کا ایمان کامل ہے، تو کسی بھی نئے مدعی نبوت سے اُس کی نبوت کی صداقت پر معجزہ بطور دلیل طلب کرنا عقیدہ ختم نبوت ﷺ کے منافی ہوگا ، اس لیے حضور ﷺ کے بعد کسی بھی مدعی نبوت سے دلیل طلب کرنا کفر ہے،
رہی بات مرزائیوں قادیانیوں سے مناظرہ کرنے کی تو اس زمن میں یہ بات عرض کرتا چلوں کہ ہم ( تمام مجاہدین اکرام ) مرزائیوں قادیانیوں یا کسی بھی مدعی نبوت سے اُس کی نبوت کے سچا ہونے پر دلیل طلب نہیں کرتے بلکہ اُن کر عقائد کو قرآن و سنت کی روشنی میں گمراہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ قرآں و سنت کی روشنی میں اپنے عقیدے درست کر لیں۔ ہمارا مقصد اُن سے مکالمات کرکے اُن کی اصلاح کرنا ہوتا ہے ،
کیونکہ مناظرہ میں دوفریقین اپنے زہن میں آئے دلائل کا تبادلہ خیال کرتے ہیں تو ان میں سے جو حق پر ہوتا ہے وہ باطل کی تردید کرتا ہے،
ہمارا مقصد دعوت دین ہے۔
منجانب، غلام نبی نوری
بولے جانے والے چند کفریہ کلمات....
متحدہ
07:48
0
comments
07:48
0
comments
بولے جانے والے چند کفریہ کلمات....
میں یہاں پر کچھ کفریہ کلمات اپنےدوستوں کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ جو عام طور پر ہمارے مسلمان بھائی بہن بول ڈالتے ہیں۔جن سے ان کا ایمان ضائع ہوجاتا ہے اور ان کو خبر بھی نہیں ہوتی۔ اسی لئے علماء کرام فرماتے ہیں کہ فرائض علوم کو ضرور سیکھئے ۔
1۔ جیسے کوئی مصیبت کے وقت کہے۔" اللہ نے پتہ نہیں مصیبتوں کے لئے ہمارا گھر ہی دیکھ لیا ہے"
2۔ یا موت کے وقت کوئی کہہ دے۔"پتہ نہیں اللہ کو اس شخص کی بڑی ضرورت تھی جو اس کو اپنے پاس اتنی کم عمر میں بلا لیا"۔
3۔ یا کہا ۔ نیک لوگوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ جلدی اٹھا لیتا ہے کیوں کہ ایسوں کی اللہ عَزَّوَجَلَّ کو بھی ضَرورت پڑتی ہے
4۔ یااللہ ! تجھے بچّوں پر بھی ترس نہیں آیا۔
5۔ االلہ ! ہم نے تیرا کیابِگاڑا ہے! آخِر ملکُ الموت کوہمارے ہی گھر والوں کے پیچھے کیوں لگا دیا ہے
6۔ اچّھا ہے جہنَّم میں جائیں گے کہ فلمی اداکار ئیں بھی تو وہیں ہوں گی نہ مزہ آجائے گا۔
7۔ اکثر لوگ فیس بک پر اس طرح کے لطائف لکھ ڈالتے ہیں۔ یہ بھی کفر ہے۔ جیسے اگر تم لوگ جنّت میں چلے بھی گئے تو سگریٹ جلانے کیلئے تو ہمارے ہی پاس (یعنی دوزخ میں)آنا پڑے گا
8۔ آؤ ظہر کی نماز پڑھیں ، دوسرے نے مذاق میں جواب دیا :یا ر ! آج تو چُھٹّی کا دن ہے ، نَماز کی بھی چُھٹّی ہے ۔
9۔ کسی نے مذاق میں کہا:''بس جی چاہتا ہے یہودی یا عیسائی یا قادیانی بن جاؤں۔ ویزہ تو جلدی مل جاتا ہے نا۔
10۔ صبح صبح دعا مانگ لیا کرو اس وقت اللہ فارِغ ہوتا ہے
11۔ اتنی نیکیاں نہ کرو کہ خُدا کی جزا کم پڑجائے
12۔ خُدا نے تمہارے بال بڑی فرصت سے بنائے ہیں
13۔ زید نے کہا:یار!ہوسکتا ہے آج بارش ہوجائے۔ بکرنے کہا:''نہیں یار ! اللہ تو ہمیں بھول گیا ہے۔
14۔ کسی نے نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا مذاق اڑایا توکافر ہے۔
15۔ دنیا بنانے والے کیا تیرے من میں سمائی؟ تو نے کاہے کو دنیا بنائی؟ (گانا)
16۔ حسینوں کو آتے ہیں کیا کیا بہانے ۔ خدا بھی نہ جانے تو ہم کیسے جانے (گانا)
17۔ میری نگاہ میں کیا بن کے آپ رہتے ہیں ۔ قسم خدا کی ' خدا بن کے آپ رہتے ہیں ۔ (گانا) اس طرح کے بے شمار گانے جو ہمارے مسلما ن اکثر گنگناتے دیکھائی دیتے ہیں۔
18۔ نَماز کی دعوت دینے پر کسی نے کہا:''ہم نے کون سے گُناہ کئے ہیں جن کو بخْشوانے کیلئے نَماز پڑھیں۔
19۔ایک نے طبیعت پوچھی تو دوسرے نے مذاق کرتے ہوئے جواب دیا: نصْرمِّنَ اللہِ وَ ٹِّھیک ۔ کہہ دیا ۔کہنے والے پر حکم کفر ہے کہ آیت کو تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔
20۔ رَحمٰن کے گھر شیطان اور شیطان کے گھر رَحمٰن پیدا ہوتا ہے۔
21۔مسلمان بن کر امتحان میں پڑ گیا ہوں۔
وغیرہ وغیرہ۔۔ مزید تفصیل کےلئے مکتبۂ المدینہ کی "کفریہ کلمات " نامی کتاب کا مطالعہ فائدہ مند رہے گا۔
رحمتُ اللعالمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشادِمُعظَّم ہے:''ان فِتنوں سے پہلے نیک اعمال کے سلسلے میں جلدی کرو !جو تاریک رات کے حِصّوں کی طرح ہوں گے، ایک آدَمی صُبح کو مومِن ہو گا اور شام کو کافِر ہوگااور شام کو مومِن ہوگااور صُبح کو کافِر ہوگا ۔ نیز اپنے دین کو دُنیاوی سازو سامان کے بدلے فروخت کر دے گا۔ '' (مُسلِم حدیث118ص73)
درسِ ہدایت:۔ اللہ عزوجل کی شان میں ہرگزہرگز کوئی ایسا لفظ زبان سے نہ نکالنا چاہے جن سے ان کا ایمان ضائع ہونے کا خطرہ ہو۔ آج کل لوگ بہت لا پرواہی کرتے ہیں اور خداوند تعالیٰ کی شان میں کفریہ الفاظ بول کر ایمان گنوا دیتے ہیں اور وہ دنیا و آخرت میں عذاب کے حق دار بن جاتے ہیں۔اللہ تعالی ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے۔ اور ہمیں کلمہ طیبہ پڑھتے ہوئے ایمان کی حالت میں اس دنیا سے رخصت فرمائے۔ آمین..
#Ghulam_Nabi_Noori
میں یہاں پر کچھ کفریہ کلمات اپنےدوستوں کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ جو عام طور پر ہمارے مسلمان بھائی بہن بول ڈالتے ہیں۔جن سے ان کا ایمان ضائع ہوجاتا ہے اور ان کو خبر بھی نہیں ہوتی۔ اسی لئے علماء کرام فرماتے ہیں کہ فرائض علوم کو ضرور سیکھئے ۔
1۔ جیسے کوئی مصیبت کے وقت کہے۔" اللہ نے پتہ نہیں مصیبتوں کے لئے ہمارا گھر ہی دیکھ لیا ہے"
2۔ یا موت کے وقت کوئی کہہ دے۔"پتہ نہیں اللہ کو اس شخص کی بڑی ضرورت تھی جو اس کو اپنے پاس اتنی کم عمر میں بلا لیا"۔
3۔ یا کہا ۔ نیک لوگوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ جلدی اٹھا لیتا ہے کیوں کہ ایسوں کی اللہ عَزَّوَجَلَّ کو بھی ضَرورت پڑتی ہے
4۔ یااللہ ! تجھے بچّوں پر بھی ترس نہیں آیا۔
5۔ االلہ ! ہم نے تیرا کیابِگاڑا ہے! آخِر ملکُ الموت کوہمارے ہی گھر والوں کے پیچھے کیوں لگا دیا ہے
6۔ اچّھا ہے جہنَّم میں جائیں گے کہ فلمی اداکار ئیں بھی تو وہیں ہوں گی نہ مزہ آجائے گا۔
7۔ اکثر لوگ فیس بک پر اس طرح کے لطائف لکھ ڈالتے ہیں۔ یہ بھی کفر ہے۔ جیسے اگر تم لوگ جنّت میں چلے بھی گئے تو سگریٹ جلانے کیلئے تو ہمارے ہی پاس (یعنی دوزخ میں)آنا پڑے گا
8۔ آؤ ظہر کی نماز پڑھیں ، دوسرے نے مذاق میں جواب دیا :یا ر ! آج تو چُھٹّی کا دن ہے ، نَماز کی بھی چُھٹّی ہے ۔
9۔ کسی نے مذاق میں کہا:''بس جی چاہتا ہے یہودی یا عیسائی یا قادیانی بن جاؤں۔ ویزہ تو جلدی مل جاتا ہے نا۔
10۔ صبح صبح دعا مانگ لیا کرو اس وقت اللہ فارِغ ہوتا ہے
11۔ اتنی نیکیاں نہ کرو کہ خُدا کی جزا کم پڑجائے
12۔ خُدا نے تمہارے بال بڑی فرصت سے بنائے ہیں
13۔ زید نے کہا:یار!ہوسکتا ہے آج بارش ہوجائے۔ بکرنے کہا:''نہیں یار ! اللہ تو ہمیں بھول گیا ہے۔
14۔ کسی نے نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا مذاق اڑایا توکافر ہے۔
15۔ دنیا بنانے والے کیا تیرے من میں سمائی؟ تو نے کاہے کو دنیا بنائی؟ (گانا)
16۔ حسینوں کو آتے ہیں کیا کیا بہانے ۔ خدا بھی نہ جانے تو ہم کیسے جانے (گانا)
17۔ میری نگاہ میں کیا بن کے آپ رہتے ہیں ۔ قسم خدا کی ' خدا بن کے آپ رہتے ہیں ۔ (گانا) اس طرح کے بے شمار گانے جو ہمارے مسلما ن اکثر گنگناتے دیکھائی دیتے ہیں۔
18۔ نَماز کی دعوت دینے پر کسی نے کہا:''ہم نے کون سے گُناہ کئے ہیں جن کو بخْشوانے کیلئے نَماز پڑھیں۔
19۔ایک نے طبیعت پوچھی تو دوسرے نے مذاق کرتے ہوئے جواب دیا: نصْرمِّنَ اللہِ وَ ٹِّھیک ۔ کہہ دیا ۔کہنے والے پر حکم کفر ہے کہ آیت کو تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔
20۔ رَحمٰن کے گھر شیطان اور شیطان کے گھر رَحمٰن پیدا ہوتا ہے۔
21۔مسلمان بن کر امتحان میں پڑ گیا ہوں۔
وغیرہ وغیرہ۔۔ مزید تفصیل کےلئے مکتبۂ المدینہ کی "کفریہ کلمات " نامی کتاب کا مطالعہ فائدہ مند رہے گا۔
رحمتُ اللعالمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشادِمُعظَّم ہے:''ان فِتنوں سے پہلے نیک اعمال کے سلسلے میں جلدی کرو !جو تاریک رات کے حِصّوں کی طرح ہوں گے، ایک آدَمی صُبح کو مومِن ہو گا اور شام کو کافِر ہوگااور شام کو مومِن ہوگااور صُبح کو کافِر ہوگا ۔ نیز اپنے دین کو دُنیاوی سازو سامان کے بدلے فروخت کر دے گا۔ '' (مُسلِم حدیث118ص73)
درسِ ہدایت:۔ اللہ عزوجل کی شان میں ہرگزہرگز کوئی ایسا لفظ زبان سے نہ نکالنا چاہے جن سے ان کا ایمان ضائع ہونے کا خطرہ ہو۔ آج کل لوگ بہت لا پرواہی کرتے ہیں اور خداوند تعالیٰ کی شان میں کفریہ الفاظ بول کر ایمان گنوا دیتے ہیں اور وہ دنیا و آخرت میں عذاب کے حق دار بن جاتے ہیں۔اللہ تعالی ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے۔ اور ہمیں کلمہ طیبہ پڑھتے ہوئے ایمان کی حالت میں اس دنیا سے رخصت فرمائے۔ آمین..
#Ghulam_Nabi_Noori
Wednesday, 6 January 2016
مرزا قادیانی کے جھوٹے الہاموں کے لیے نبیوں کی مثالیں دینا ، مکمل آپریشن
متحدہ
09:08
0
comments
09:08
0
comments
مرزا قادیانی کے جھوٹے الہاموں کے لیے نبیوں کی مثالیں دینا ، مکمل آپریشن
قارئین محترم! اللہ تعالی کی طرف سے بھیجے ہوئے انبیاء میں سے اگر کوئی نبی کبھی بھول گیا تو اللہ تعالی نے اسے کبھی بھی غلطی پر نہیں رہنے دیا اور کسی نہ کسی طریقے سے جلد از جلد اسے یاد دہانی فرمادی یا اصلاح فرمادی ، یہ بات خود مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی تسلیم ہے چنانچہ اس نے صاف طور پر لکھا ہے: ۔
’’ انبیاء غلطی پر قائم نہیں رکھے جاتے‘‘ (رخ جلد 19صفحہ 133)
اور اس کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود نے لکھا: ۔
’’خدا اپنے نبی کو وفات تک غلطی میں نہیں رکھتا‘‘ (آئینہ صداقت، انوار العلوم جلد 6صفحہ 124)
اور یہ بات بھی ہمیشہ ذہن میں رکھیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے بارے میں یہ لکھا ہے : ۔
’’ان اللہ لا یترکنی علی خطأ طرفۃ عین‘‘ اللہ مجھے ایک لمحے کے بھی غلطی پر نہیں رہنے دیتا ۔ (نور الحق، رح جلد 8صفحہ 272)
یعنی مرز اکے مطابق اگر اس سے کوئی غلطی ہوجائے تو اس کا خدا فوراً اس کی اصلاح کردیتا ہے اور بتا دیتا ہے کہ یہ غلطی تھی اسے ٹھیک کرلو ۔ اب اگر تو ثابت ہوجائے کہ مرزا غلام احمد سے فلاں غلطی ہوئی ، اس نے فلاں بات غلط لکھی، اپنی (خودساختہ) وحی اور الہام کی ایک تشریح کی لیکن وہ غلط نکلی اور یہ بھی ثابت ہوجائے کہ مرزا اس دنیا سے چلا گیا لیکن اسے اس کی غلطی کا پتہ ہی نہ چلا تو یہ اس بات کی واضح دلیل ہوگی کہ مرزا غلام احمد اللہ کا نبی نہیں تھا ، اگر ہوتا تو یہ نا ممکن تھا کہ اس کی موت ہوجاتی اور اللہ اسے اس کی غلطی کے بارے میں نہ بتاتا کیونکہ بقول مرزا محمود ’’خدا اپنے نبی کو وفات تک غلطی میں نہیں رکھتا‘‘ ۔
یہ دوتین باتیں اگر آپ ہمیشہ ذہن میں رکھیں گے تو میں جس مرزائی فریب کا ذکر کرنے جارہاہوں آپ کبھی بھی اس سے دھوکہ نہیں کھائیں گے ، وہ فریب یہ ہے کہ مرزائی مربیوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ جب بھی تم مرزا غلام احمد کا دفاع کرنے میں نا کام ہوجاؤ ، اس کی کتابوں میں لکھے جھوٹوں کو سچ ثابت نہ کرسکو، اس کی پیش گوئیوں کو سچا ثابت نہ کرسکو ، تو ایک دم یہ کرو کہ اللہ کے نبیوں اور خاص طور پر آنحضرت صلى الله عليه وسلم پر اعتراضات شروع کردو اور کہنا شروع کردو کہ اے مولویو! تم جو اعتراض مرزا غلام احمد پر کرتے ہو وہ تو دوسرے نبیوں پر بھی ہوتے ہیں ، اور شور مچانا شروع کردو کہ یہ مولوی توہین انبیاء کرتے ہیں ، نعرے لگاؤ کہ مسلمانو! نبی کریم صلى الله عليه وسلم پر اعتراض کرکے دکھاؤ وغیرہ ، یعنی مرزا ئی مربیوں کی کوشش ہوتی ہے کہ جو عیب مرزا غلام احمد میں ثابت ہوتا ہے اسے کسی طرح اللہ کے نبیوں میں بھی ثابت کیا جائے ، اس کی چند مثالیں پیش کرتا ہوں تاکہ آپ کو اچھی طرح اس مرزائی فریب کی سمجھ آجائے ۔ مثلاً جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ مرزا غلام احمد نے دعویٰ کیا کہ اسے اس کے خدا نے الہام کیا تھاکہ ’’ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں‘‘ (الہام مرزا بتاریخ 14 جنوری 1906، تذکرۃ، صفحہ 503 طبع چہارم) لیکن مرزا تو لاہور میں مرا اس طرح یہ الہام جھوٹا ہوا ، اس کے جواب میں مرزائی مربی بڑے زور وشور سے آپ کو لعن طعن کرے گا اور کہے گا کہ تم مولوی یہودی ہو ، تم پوری بات پیش نہیں کرتے ، اس الہام کی تشریح تو خود مرزا قادیانی نے کردی تھی کہ مکہ میں مرنے سے مراد مکی فتح اور مدینہ میں مرنے سے مراد مدنی فتح ہے، یعنی مجھے فتح حاصل ہوگی (یہ الگ بات ہے کہ موت کا مطلب فتح کس لغت میں ہے؟) تو جب ہمارے حضرت جی نے اپنے الہام کی خود تشریح کردی تو تم کون ہوتے ہواعتراض کرنے والے ؟ جیسے حضرت یوسف علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ انہیں چاند، سورج اور گیارہ ستارے سجدہ کررہے ہیں ، اس کی تعبیر یہ تھی کہ چاند سورج سے مراد ان کے والدین اور ستاروں سے مراد ان کے بھائی تھے ، اس لئے جس کا خواب ہو یا جس کا الہام ہو جو تعبیر اور تشریح وہ بتائے وہی قابل قبو ل ہوگی ۔
لیکن دوستو! یہی مربی اس وقت اپنا بیان بدل لیں گے جب اگلا آدمی یہ پوچھے کہ مرزا غلام احمد نے کہا کہ اسے الہام ہوا تھا ’’بکر وثیب‘‘ اور اس کی تشریح خود مرزا نے یوں کی کہ ’’خدا تعالی کا ارادہ ہے کہ وہ 2 عورتیں میرے نکا ح میں لائے گا ، ایک بکر ہوگی (یعنی کنواری ہوگی) اور دوسری بیوہ ، چنانچہ یہ الہام جو بکر (یعنی کنواری) کے متعلق تھا وہ پورا ہوگیا (نصرت جہاں کی صورت میں) اور بیوہ کے الہام کی انتظار ہے‘‘ اب مرزائی مربی سے پوچھیں کہ یہاں آپ کے حضرت جی نے خود اپنے الہام کی تشریح بھی کردی ، تو اب بتاؤ کہ مرزا کے نکاح میں اس کی موت تک کون سی بیوہ آئی؟؟ تو یہاں مربی یہ نہیں کہے گا کہ تشریح تو وہی قابل قبول ہوگی جو مرزا نے کردی کیونکہ اس سے مرزا جھوٹا ہوتا ہے ، بلکہ یہا ں وہ دوسری چال چلے گا ، کہے گا کہ ’’مرزا قادیانی سے اس الہام کو سمجھنے میں غلطی ہوگئی ، اس الہام کا یہ مطلب نہیں تھا کہ اس کا نکاح دو عورتوں کے ساتھ ہوگا جن میں سے ایک کنواری اور ایک بیوہ ہوگی ،بلکہ اس الہام کی تشریح یہ تھی کہ صرف ایک عورت یعنی نصرت جہاں کے ساتھ جب نکاح ہوگا تو اس وقت وہ کنواری ہوگی اورپھر وہی نصرت جہاں ایک وقت بیوہ ہوجائے گی ، مرزا قادیانی نے یہاں اجتہادی غلطی کردی ، اور نبیوں سے کبھی اجتہادی غلطی ہوجا تی ہے ‘‘، دوستو! غورکیا آپ نے؟ الہام تھا مرزا کا ، تشریح کی مرزا نے، اس نے تو مرتے دم تک اپنی اس تشریح کو غلط نہیں کہا، نہ ہی اس نے یہ کہا کہ ہاں اس سے یہ الہام سمجھنے میں غلطی ہو گئی تھی ، نہ ہی اسے اس کے خدا نے اس غلطی پر مطلع کیا ، اور خود اس کے اقرار کے مطابق انبیاء تو غلطی پر قائم نہیں رکھے جاتے ، بقول مرزا محمود، اللہ اپنے نبی کو اس کی وفات تک غلطی پر نہیں رکھتا ، اور بقول مرزا قادیانی اللہ اسے ایک لمحے کے لئے بھی غلطی پر نہیں چھوڑتا، نیز مرزا نے صاف طور پر کہا تھا : ۔
’’کسی الہام کے وہ معنی ٹھیک ہوتے ہیں کہ ملہَم آپ بیان کرے ، اور ملہَم کے بیان کردہ معنوں پر کسی اور کی تشریح اور تفسیر ہرگز فوقیت نہیں رکھتی کیونکہ ملہَم اپنے الہام سے اندرونی واقفیت رکھتا ہے اور خدا تعالیٰ سے خاص طاقت پاکر اس کے معنیٰ کرتا ہے‘‘۔ (مجموعہ اشتہارات، جلد1 ، صفحہ 122)
پھر ایک جگہ مرزا نے لکھاتھا:۔
’’ملہَم سے زیادہ کوئی الہام کے معنیٰ نہیں سمجھ سکتا اور نہ کسی کا حق ہے جو اس کے مخالف کہے‘‘۔ (تتمہ حقیقۃ الوحی، رخ 22 صفحہ 438)
تو سوال یہ ہے کہ مرزا اپنے اس الہام کو اپنی سچائی کی نشانی کے طورپر شائع کرتا رہا ، اور وہ یہی لکھتا رہا کہ 2 عورتیں آئیں گی ، جن میں سے کنواری تو آچکی ، اب بیوہ کا انتظار ہے ، اس نے ہرگز یہ نہ لکھا کہ ان دو عورتوں سے مراد ایک ہی عورت یعنی نصرت جہاں بیگم ہے ، مرزا اس دنیا سے چلا گیا ، اس کے بعد اس کے مریدوں کو اس الہام کی ٹھیک تشریح سمجھ آئی اور انہوں نے اعلان کردیا کہ ہمارے نبی کو اس الہام کو سمجھنے میں غلطی لگی تھی ، اب ہمیں یہ سمجھ آیا ہے ۔ ہے ناں نادانوں کا ٹولہ؟ جو لوگ خود اپنے نبی کو جھوٹا ثابت کرتے ہوں ان سے بڑھ کر احمق بھلا کون ہوگا؟ ۔
اب آگے چلیے ! یہاں مرزائی مربی دو تین مثالیں بھی دیتے ہیں ، کہتے ہیں کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے خواب دیکھاکہ زمین کے خزانوں کی کنجیاں آپ کے ہاتھ مبارک پر رکھ دی گئیں ، لیکن آپ صلى الله عليه وسلم کی زندگی میں ایسا نہ ہوا بلکہ آپ کے وصال کے بعد صحابہؓ اور آپ کے غلاموں کے ہاتھوں فتوحات ہوئیں، تو کیا نعوذ باللہ تم آنحضرت صلى الله عليه وسلم پر بھی یہی اعتراض کروگے کہ آپ کا خواب جھوٹا ہوا؟، اسی طرح دیکھو آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے فرمایا تھا کہ میں نے خواب دیکھا جس میں مجھے ایک سرزمین دکھائی گئی جہاں کھجور کے درخت تھے اور مجھے بتایاگیا کہ آپ کی ہجرت اس مقام کی طرف ہوگی ، میرا خیال اس طرف گیا کہ یہ یمامہ ہے لیکن در حقیقت وہ یثرب یعنی مدینہ تھا اب کرو اعتراض نبی کریم صلى الله عليه وسلم پر انہوں نے مدینہ کو غلطی سے یمامہ سمجھ لیا ، اسی طرح حضرت نوح علیہ السلام سے اللہ نے وعدہ کیا تھا کہ میں تیرے ’’اھل‘‘ کو غرق ہونے سے بچالوں گا ، جب ان کا بیٹا غرق ہونے لگا تو انہوں نے دعا کی اے اللہ میرا بیٹا تو میرے اہل میں سے ہے اور آپ نے وعدہ کیا تھا کہ آپ میرے اہل کو بچائیں گے ، تواللہ نے آپ کو تنبیہ کردی کہ اے نوح! تیرا بیٹا تیرے اہل میں سے نہیں ، تیرے اہل وہ ہیں جو مومن ہیں ، یعنی اللہ نے بتادیا کہ میں نے جن اہل کو بچانے کا وعدہ کیا تھا اس سے مراد ظاہری اہل نہیں بلکہ روحانی اہل ہیں ، تو کرو اعتراض حضرت نوح عليه السلام پر انہوں نے اہل کا مطلب غلط سمجھا ۔
دوستو! اس دھوکے کا مختصر جواب یہی ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے ہرگز کوئی غلطی نہیں کی تھی ، اللہ نے ان سے ان کے اہل کو بچانے کا وعدہ فرمایا تھا اور وہا ں اللہ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ اس سے مراد روحانی اہل ہیں ، اور بیٹا یقینی طور پر اہل میں داخل ہے ، حضرت نوح علیہ السلام نے اسی بناپر دعا فرمائی ، اللہ نے ان کی دعا کے بعد اسی وقت وضاحت فرمادی کہ میری مراد اہل سے ظاہری والا اہل نہیں بلکہ روحانی اہل ہے اور حضرت نوح علیہ السلام کو پتہ چل گیا ، یعنی اللہ اپنے نبی کو غلطی پر نہیں رکھتا ، یہی ہم پہلے ثابت کرآئے ہیں ، اسی طرح زمین کے خزانوں کی کنجیاں آپ صلى الله عليه وسلم کے دست اقدس میں رکھے جانے والا خواب بھی سمجھیں ، پہلی بات یہ کہ وہ خواب تھا ، اور نبی کے خواب دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جن کی تعبیر بالکل اسی خواب کی طرح ظاہری ہوتی ہے کہ ویسا ہی ہوگا جیسا خواب میں نظر آیا ، اور دوسری قسم وہ ہوتی ہے جو خواب تعبیر طلب ہوتے ہیں جیسے حضرت یوسف علیہ السلام کا سورج ، چاند اور ستاروں کو اپنے سامنے سجدہ کرنے کا خواب اس کی تعبیر ظاہری نہ تھی ، یہ بات مرزا نے بھی لکھی ہے ، مرزا کا ایک مرید مولوی عبدالکریم بیمار تھا ، مرزا نے خواب دیکھا کہ وہ ٹھیک ہوگیا ہے ، لیکن حقیقت میں وہ ٹھیک نہ ہوا بلکہ مرگیا ، کسی نے اعتراض کیا کہ مرزا جی! آپ کا خواب جھوٹا ہوگیا تو مرزا نے لکھا:۔
’’ہاں ایک خواب میں ان کو دیکھا تھا کہ گویا وہ صحت یاب ہیں مگر خوابیں تعبیر طلب ہوتی ہیں اور تعبیر کی کتابوں کو دیکھ لو خوابوں کی تعبیر میں کبھی موت سے مراد صحت، اور کبھی صحت سے مراد موت ہوتی ہے ، اور کئی مرتبہ خواب میں ایک شخص کی موت دیکھی جاتی ہے اور اس کی تعبیر زیادت عمر ہوتی ہے ‘‘۔ (تتمہ حقیقۃ الوحی، رخ جلد 22صفحہ 459-458)
اب مرزائی مربی سے پوچھیں کہ مرزا نے جب مولوی عبدالکریم کے صحت یاب ہونے کا خواب دیکھا تمہارے عقیدے کے مطابق وہ نبی تھا کہ نہیں؟ اور وہ لکھتا ہے کہ خوابیں تعبیر طلب ہوتی ہیں ، ثابت ہوا کہ نبی کے ایسے خواب بھی ہوتے ہیں جن کی تعبیر ظاہری خواب کے مطابق نہیں ہوتی ، مثال ہم حضرت یوسف علیہ السلام کی دے چکے ہیں ، اور زمین کے خزانوں والے خواب کی تعبیر دوسری احادیث میں خود نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے بیان فرمادی ہے جن کے اندر یہ خبر دی کہ میرے صحابہ یا میری امت کے لوگ قیصر وکسریٰ کے ملک فتح کریں گے اور ان کے خزانوں پر اِن کا قبضہ ہوگا ، مثال کے طور پر صحیح مسلم کی ایک حدیث ہے ، حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: مسلمانوں یا مومنوں کی ایک جماعت ضرور بالضرور کسریٰ کے اس خزانے کو فتح کرے گی جو قصر ابیض میں ہے (صحیح مسلم: حدیث نمبر 2919) ، اسی طرح مسند احمد میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ : جب کسریٰ ہلاک ہوجائے گا تو پھر اس کے بعد کوئی کسریٰ نہ ہوگا (یعنی اس کے بعد ایران کے کسی بادشاہ کا لقب کسریٰ نہ ہوگا) اور جب قیصر ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہ ہوگا (یعنی روم کے کسی بادشاہ کا لقب قیصر نہ ہوگا) اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد(صلى الله عليه وسلم) کی جان ہے تم لوگ ان دونوں (یعنی قیصر وکسریٰ) کے خزانے ضرور اللہ کی راہ میں خرچ کروگے ۔ (مسند احمد، حدیث نمبر 7184) ، تو نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اپنے صحابہ اور اپنی امت کو فتوحات کی خوشخبری سناکر اپنے اس خواب کی تعبیر بیان فرمادی کہ میرے ہاتھ میں زمین کے خزانوں کی کنجیاں رکھے جانے کا مطلب ہے کہ میری امت کا ان پر قبضہ ہوگا ۔
اب آئیے آنحضرت صلى الله عليه وسلم کے اس خواب کی طرف جس میں آپ کو وہ سرزمین دکھا ئی گئی جہاں آپ کی ہجرت ہوناتھی ، یاد رکھیں خواب میں آپ کو صرف ایک سرزمین دکھائی گئی تھی ، اس کا نام نہیں بتایا گیا تھا ، اس سرزمین پر کھجوروں کے باغات تھے ، اور جیسے مدینہ (یثرب) میں کھجوروں کے باغات تھے بالکل اسی طرح یمامہ میں بھی تھے ، آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا ہے کہ اس سرزمین کو دیکھ کر میرا خیال یمامہ کی طرف گیا تھا ، جی ہاں یہی لفظ ہیں ’’میرا خیال اس طرف گیا تھا‘‘ نہ تو نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اس خواب کی کسی کے سامنے اس وقت تعبیر بیان فرمائی کہ اس کی تشریح یہ ہے کہ ہماری ہجرت یمامہ کی طرف ہوگی اور نہ ہی نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے کوئی اشتہار نکالا اور پیش گوئی شائع کردی کہ مجھے میرے خدا نے خبر دی ہے کہ تمہاری ہجرت یمامہ کی طرف ہوگی (جیسے مرزا قادیانی کیا کرتا تھا)، اور اس کا تو کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے ہجرت مدینہ کی طرف ہی فرمائی تھی نہ کہ یمامہ کی طرف ، تو اگر آپ غلط سمجھتے تو ضرور پہلے یمامہ جاتے لیکن ایسا نہیں ہوا ، اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم نے بالکل ٹھیک جگہ ہجرت فرمائی، اس حدیث شریف میں تو صرف خیال جانے کی بات ہے ۔ اور آخری بات وہی کہ اگر بالفرض آپ کا خیال یمامہ کیطرف جانا یہ آپ کی اجتہادی غلطی تھی تو اللہ نے اس خیال کی اصلاح فرمادی اور آپ نے ہجرت مدینہ کی طرف فرمائی ، کیونکہ انبیاء غلطی پر قائم نہیں رکھے جاتے ، لیکن جھوٹے مدعی نبوت وہ ہوتے ہیں جو پوری زندگی اشتہار نکالتے ہیں کہ میرا نکاح محمدی بیگم کے ساتھ ہوکر رہے گا ، یہ ایسی بات ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی ، لیکن وہ مرجاتے ہیں ایسا نہیں ہوتا اور نہ ہی اللہ انہیں بتاتا ہے کہ مرزا جی! نکاح تو کینسل ہوچکا یا آخرت میں ہوگا، جھوٹے وہ ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ اللہ نے انہیں الہام میں بتایا ہے کہ قادیان کے میاں منظور محمدلدھیانوی جن کی بیوی کا نام محمدی بیگم ہے ان کے گھر ایک لڑکا پیدا ہوگا جس کے نو نام ہیں ، لیکن وہ لڑکا غائب ہوجاتا ہے ، اور بعد میں مرزا کے مرید بتاتے ہیں کہ وہ لڑکا تو مرزا بشیر الدین محمود تھا ، مرزا جی کو غلطی لگی تھی ، اور میاں منظور محمد لدھیانوی سے مراد خود مرزا جی تھے اور محمدی بیگم سے مراد ہماری اماں جان نصرت جہاں بیگم تھیں لیکن ٹیچی (مرزا کے ایک فرشتہ کا نام) نے آنے میں دیر کردی اور مرزا جی دنیا سے چلے گئے
’’ انبیاء غلطی پر قائم نہیں رکھے جاتے‘‘ (رخ جلد 19صفحہ 133)
اور اس کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود نے لکھا: ۔
’’خدا اپنے نبی کو وفات تک غلطی میں نہیں رکھتا‘‘ (آئینہ صداقت، انوار العلوم جلد 6صفحہ 124)
اور یہ بات بھی ہمیشہ ذہن میں رکھیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے بارے میں یہ لکھا ہے : ۔
’’ان اللہ لا یترکنی علی خطأ طرفۃ عین‘‘ اللہ مجھے ایک لمحے کے بھی غلطی پر نہیں رہنے دیتا ۔ (نور الحق، رح جلد 8صفحہ 272)
یعنی مرز اکے مطابق اگر اس سے کوئی غلطی ہوجائے تو اس کا خدا فوراً اس کی اصلاح کردیتا ہے اور بتا دیتا ہے کہ یہ غلطی تھی اسے ٹھیک کرلو ۔ اب اگر تو ثابت ہوجائے کہ مرزا غلام احمد سے فلاں غلطی ہوئی ، اس نے فلاں بات غلط لکھی، اپنی (خودساختہ) وحی اور الہام کی ایک تشریح کی لیکن وہ غلط نکلی اور یہ بھی ثابت ہوجائے کہ مرزا اس دنیا سے چلا گیا لیکن اسے اس کی غلطی کا پتہ ہی نہ چلا تو یہ اس بات کی واضح دلیل ہوگی کہ مرزا غلام احمد اللہ کا نبی نہیں تھا ، اگر ہوتا تو یہ نا ممکن تھا کہ اس کی موت ہوجاتی اور اللہ اسے اس کی غلطی کے بارے میں نہ بتاتا کیونکہ بقول مرزا محمود ’’خدا اپنے نبی کو وفات تک غلطی میں نہیں رکھتا‘‘ ۔
یہ دوتین باتیں اگر آپ ہمیشہ ذہن میں رکھیں گے تو میں جس مرزائی فریب کا ذکر کرنے جارہاہوں آپ کبھی بھی اس سے دھوکہ نہیں کھائیں گے ، وہ فریب یہ ہے کہ مرزائی مربیوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ جب بھی تم مرزا غلام احمد کا دفاع کرنے میں نا کام ہوجاؤ ، اس کی کتابوں میں لکھے جھوٹوں کو سچ ثابت نہ کرسکو، اس کی پیش گوئیوں کو سچا ثابت نہ کرسکو ، تو ایک دم یہ کرو کہ اللہ کے نبیوں اور خاص طور پر آنحضرت صلى الله عليه وسلم پر اعتراضات شروع کردو اور کہنا شروع کردو کہ اے مولویو! تم جو اعتراض مرزا غلام احمد پر کرتے ہو وہ تو دوسرے نبیوں پر بھی ہوتے ہیں ، اور شور مچانا شروع کردو کہ یہ مولوی توہین انبیاء کرتے ہیں ، نعرے لگاؤ کہ مسلمانو! نبی کریم صلى الله عليه وسلم پر اعتراض کرکے دکھاؤ وغیرہ ، یعنی مرزا ئی مربیوں کی کوشش ہوتی ہے کہ جو عیب مرزا غلام احمد میں ثابت ہوتا ہے اسے کسی طرح اللہ کے نبیوں میں بھی ثابت کیا جائے ، اس کی چند مثالیں پیش کرتا ہوں تاکہ آپ کو اچھی طرح اس مرزائی فریب کی سمجھ آجائے ۔ مثلاً جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ مرزا غلام احمد نے دعویٰ کیا کہ اسے اس کے خدا نے الہام کیا تھاکہ ’’ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں‘‘ (الہام مرزا بتاریخ 14 جنوری 1906، تذکرۃ، صفحہ 503 طبع چہارم) لیکن مرزا تو لاہور میں مرا اس طرح یہ الہام جھوٹا ہوا ، اس کے جواب میں مرزائی مربی بڑے زور وشور سے آپ کو لعن طعن کرے گا اور کہے گا کہ تم مولوی یہودی ہو ، تم پوری بات پیش نہیں کرتے ، اس الہام کی تشریح تو خود مرزا قادیانی نے کردی تھی کہ مکہ میں مرنے سے مراد مکی فتح اور مدینہ میں مرنے سے مراد مدنی فتح ہے، یعنی مجھے فتح حاصل ہوگی (یہ الگ بات ہے کہ موت کا مطلب فتح کس لغت میں ہے؟) تو جب ہمارے حضرت جی نے اپنے الہام کی خود تشریح کردی تو تم کون ہوتے ہواعتراض کرنے والے ؟ جیسے حضرت یوسف علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ انہیں چاند، سورج اور گیارہ ستارے سجدہ کررہے ہیں ، اس کی تعبیر یہ تھی کہ چاند سورج سے مراد ان کے والدین اور ستاروں سے مراد ان کے بھائی تھے ، اس لئے جس کا خواب ہو یا جس کا الہام ہو جو تعبیر اور تشریح وہ بتائے وہی قابل قبو ل ہوگی ۔
لیکن دوستو! یہی مربی اس وقت اپنا بیان بدل لیں گے جب اگلا آدمی یہ پوچھے کہ مرزا غلام احمد نے کہا کہ اسے الہام ہوا تھا ’’بکر وثیب‘‘ اور اس کی تشریح خود مرزا نے یوں کی کہ ’’خدا تعالی کا ارادہ ہے کہ وہ 2 عورتیں میرے نکا ح میں لائے گا ، ایک بکر ہوگی (یعنی کنواری ہوگی) اور دوسری بیوہ ، چنانچہ یہ الہام جو بکر (یعنی کنواری) کے متعلق تھا وہ پورا ہوگیا (نصرت جہاں کی صورت میں) اور بیوہ کے الہام کی انتظار ہے‘‘ اب مرزائی مربی سے پوچھیں کہ یہاں آپ کے حضرت جی نے خود اپنے الہام کی تشریح بھی کردی ، تو اب بتاؤ کہ مرزا کے نکاح میں اس کی موت تک کون سی بیوہ آئی؟؟ تو یہاں مربی یہ نہیں کہے گا کہ تشریح تو وہی قابل قبول ہوگی جو مرزا نے کردی کیونکہ اس سے مرزا جھوٹا ہوتا ہے ، بلکہ یہا ں وہ دوسری چال چلے گا ، کہے گا کہ ’’مرزا قادیانی سے اس الہام کو سمجھنے میں غلطی ہوگئی ، اس الہام کا یہ مطلب نہیں تھا کہ اس کا نکاح دو عورتوں کے ساتھ ہوگا جن میں سے ایک کنواری اور ایک بیوہ ہوگی ،بلکہ اس الہام کی تشریح یہ تھی کہ صرف ایک عورت یعنی نصرت جہاں کے ساتھ جب نکاح ہوگا تو اس وقت وہ کنواری ہوگی اورپھر وہی نصرت جہاں ایک وقت بیوہ ہوجائے گی ، مرزا قادیانی نے یہاں اجتہادی غلطی کردی ، اور نبیوں سے کبھی اجتہادی غلطی ہوجا تی ہے ‘‘، دوستو! غورکیا آپ نے؟ الہام تھا مرزا کا ، تشریح کی مرزا نے، اس نے تو مرتے دم تک اپنی اس تشریح کو غلط نہیں کہا، نہ ہی اس نے یہ کہا کہ ہاں اس سے یہ الہام سمجھنے میں غلطی ہو گئی تھی ، نہ ہی اسے اس کے خدا نے اس غلطی پر مطلع کیا ، اور خود اس کے اقرار کے مطابق انبیاء تو غلطی پر قائم نہیں رکھے جاتے ، بقول مرزا محمود، اللہ اپنے نبی کو اس کی وفات تک غلطی پر نہیں رکھتا ، اور بقول مرزا قادیانی اللہ اسے ایک لمحے کے لئے بھی غلطی پر نہیں چھوڑتا، نیز مرزا نے صاف طور پر کہا تھا : ۔
’’کسی الہام کے وہ معنی ٹھیک ہوتے ہیں کہ ملہَم آپ بیان کرے ، اور ملہَم کے بیان کردہ معنوں پر کسی اور کی تشریح اور تفسیر ہرگز فوقیت نہیں رکھتی کیونکہ ملہَم اپنے الہام سے اندرونی واقفیت رکھتا ہے اور خدا تعالیٰ سے خاص طاقت پاکر اس کے معنیٰ کرتا ہے‘‘۔ (مجموعہ اشتہارات، جلد1 ، صفحہ 122)
پھر ایک جگہ مرزا نے لکھاتھا:۔
’’ملہَم سے زیادہ کوئی الہام کے معنیٰ نہیں سمجھ سکتا اور نہ کسی کا حق ہے جو اس کے مخالف کہے‘‘۔ (تتمہ حقیقۃ الوحی، رخ 22 صفحہ 438)
تو سوال یہ ہے کہ مرزا اپنے اس الہام کو اپنی سچائی کی نشانی کے طورپر شائع کرتا رہا ، اور وہ یہی لکھتا رہا کہ 2 عورتیں آئیں گی ، جن میں سے کنواری تو آچکی ، اب بیوہ کا انتظار ہے ، اس نے ہرگز یہ نہ لکھا کہ ان دو عورتوں سے مراد ایک ہی عورت یعنی نصرت جہاں بیگم ہے ، مرزا اس دنیا سے چلا گیا ، اس کے بعد اس کے مریدوں کو اس الہام کی ٹھیک تشریح سمجھ آئی اور انہوں نے اعلان کردیا کہ ہمارے نبی کو اس الہام کو سمجھنے میں غلطی لگی تھی ، اب ہمیں یہ سمجھ آیا ہے ۔ ہے ناں نادانوں کا ٹولہ؟ جو لوگ خود اپنے نبی کو جھوٹا ثابت کرتے ہوں ان سے بڑھ کر احمق بھلا کون ہوگا؟ ۔
اب آگے چلیے ! یہاں مرزائی مربی دو تین مثالیں بھی دیتے ہیں ، کہتے ہیں کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے خواب دیکھاکہ زمین کے خزانوں کی کنجیاں آپ کے ہاتھ مبارک پر رکھ دی گئیں ، لیکن آپ صلى الله عليه وسلم کی زندگی میں ایسا نہ ہوا بلکہ آپ کے وصال کے بعد صحابہؓ اور آپ کے غلاموں کے ہاتھوں فتوحات ہوئیں، تو کیا نعوذ باللہ تم آنحضرت صلى الله عليه وسلم پر بھی یہی اعتراض کروگے کہ آپ کا خواب جھوٹا ہوا؟، اسی طرح دیکھو آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے فرمایا تھا کہ میں نے خواب دیکھا جس میں مجھے ایک سرزمین دکھائی گئی جہاں کھجور کے درخت تھے اور مجھے بتایاگیا کہ آپ کی ہجرت اس مقام کی طرف ہوگی ، میرا خیال اس طرف گیا کہ یہ یمامہ ہے لیکن در حقیقت وہ یثرب یعنی مدینہ تھا اب کرو اعتراض نبی کریم صلى الله عليه وسلم پر انہوں نے مدینہ کو غلطی سے یمامہ سمجھ لیا ، اسی طرح حضرت نوح علیہ السلام سے اللہ نے وعدہ کیا تھا کہ میں تیرے ’’اھل‘‘ کو غرق ہونے سے بچالوں گا ، جب ان کا بیٹا غرق ہونے لگا تو انہوں نے دعا کی اے اللہ میرا بیٹا تو میرے اہل میں سے ہے اور آپ نے وعدہ کیا تھا کہ آپ میرے اہل کو بچائیں گے ، تواللہ نے آپ کو تنبیہ کردی کہ اے نوح! تیرا بیٹا تیرے اہل میں سے نہیں ، تیرے اہل وہ ہیں جو مومن ہیں ، یعنی اللہ نے بتادیا کہ میں نے جن اہل کو بچانے کا وعدہ کیا تھا اس سے مراد ظاہری اہل نہیں بلکہ روحانی اہل ہیں ، تو کرو اعتراض حضرت نوح عليه السلام پر انہوں نے اہل کا مطلب غلط سمجھا ۔
دوستو! اس دھوکے کا مختصر جواب یہی ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے ہرگز کوئی غلطی نہیں کی تھی ، اللہ نے ان سے ان کے اہل کو بچانے کا وعدہ فرمایا تھا اور وہا ں اللہ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ اس سے مراد روحانی اہل ہیں ، اور بیٹا یقینی طور پر اہل میں داخل ہے ، حضرت نوح علیہ السلام نے اسی بناپر دعا فرمائی ، اللہ نے ان کی دعا کے بعد اسی وقت وضاحت فرمادی کہ میری مراد اہل سے ظاہری والا اہل نہیں بلکہ روحانی اہل ہے اور حضرت نوح علیہ السلام کو پتہ چل گیا ، یعنی اللہ اپنے نبی کو غلطی پر نہیں رکھتا ، یہی ہم پہلے ثابت کرآئے ہیں ، اسی طرح زمین کے خزانوں کی کنجیاں آپ صلى الله عليه وسلم کے دست اقدس میں رکھے جانے والا خواب بھی سمجھیں ، پہلی بات یہ کہ وہ خواب تھا ، اور نبی کے خواب دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جن کی تعبیر بالکل اسی خواب کی طرح ظاہری ہوتی ہے کہ ویسا ہی ہوگا جیسا خواب میں نظر آیا ، اور دوسری قسم وہ ہوتی ہے جو خواب تعبیر طلب ہوتے ہیں جیسے حضرت یوسف علیہ السلام کا سورج ، چاند اور ستاروں کو اپنے سامنے سجدہ کرنے کا خواب اس کی تعبیر ظاہری نہ تھی ، یہ بات مرزا نے بھی لکھی ہے ، مرزا کا ایک مرید مولوی عبدالکریم بیمار تھا ، مرزا نے خواب دیکھا کہ وہ ٹھیک ہوگیا ہے ، لیکن حقیقت میں وہ ٹھیک نہ ہوا بلکہ مرگیا ، کسی نے اعتراض کیا کہ مرزا جی! آپ کا خواب جھوٹا ہوگیا تو مرزا نے لکھا:۔
’’ہاں ایک خواب میں ان کو دیکھا تھا کہ گویا وہ صحت یاب ہیں مگر خوابیں تعبیر طلب ہوتی ہیں اور تعبیر کی کتابوں کو دیکھ لو خوابوں کی تعبیر میں کبھی موت سے مراد صحت، اور کبھی صحت سے مراد موت ہوتی ہے ، اور کئی مرتبہ خواب میں ایک شخص کی موت دیکھی جاتی ہے اور اس کی تعبیر زیادت عمر ہوتی ہے ‘‘۔ (تتمہ حقیقۃ الوحی، رخ جلد 22صفحہ 459-458)
اب مرزائی مربی سے پوچھیں کہ مرزا نے جب مولوی عبدالکریم کے صحت یاب ہونے کا خواب دیکھا تمہارے عقیدے کے مطابق وہ نبی تھا کہ نہیں؟ اور وہ لکھتا ہے کہ خوابیں تعبیر طلب ہوتی ہیں ، ثابت ہوا کہ نبی کے ایسے خواب بھی ہوتے ہیں جن کی تعبیر ظاہری خواب کے مطابق نہیں ہوتی ، مثال ہم حضرت یوسف علیہ السلام کی دے چکے ہیں ، اور زمین کے خزانوں والے خواب کی تعبیر دوسری احادیث میں خود نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے بیان فرمادی ہے جن کے اندر یہ خبر دی کہ میرے صحابہ یا میری امت کے لوگ قیصر وکسریٰ کے ملک فتح کریں گے اور ان کے خزانوں پر اِن کا قبضہ ہوگا ، مثال کے طور پر صحیح مسلم کی ایک حدیث ہے ، حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: مسلمانوں یا مومنوں کی ایک جماعت ضرور بالضرور کسریٰ کے اس خزانے کو فتح کرے گی جو قصر ابیض میں ہے (صحیح مسلم: حدیث نمبر 2919) ، اسی طرح مسند احمد میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ : جب کسریٰ ہلاک ہوجائے گا تو پھر اس کے بعد کوئی کسریٰ نہ ہوگا (یعنی اس کے بعد ایران کے کسی بادشاہ کا لقب کسریٰ نہ ہوگا) اور جب قیصر ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہ ہوگا (یعنی روم کے کسی بادشاہ کا لقب قیصر نہ ہوگا) اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد(صلى الله عليه وسلم) کی جان ہے تم لوگ ان دونوں (یعنی قیصر وکسریٰ) کے خزانے ضرور اللہ کی راہ میں خرچ کروگے ۔ (مسند احمد، حدیث نمبر 7184) ، تو نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اپنے صحابہ اور اپنی امت کو فتوحات کی خوشخبری سناکر اپنے اس خواب کی تعبیر بیان فرمادی کہ میرے ہاتھ میں زمین کے خزانوں کی کنجیاں رکھے جانے کا مطلب ہے کہ میری امت کا ان پر قبضہ ہوگا ۔
اب آئیے آنحضرت صلى الله عليه وسلم کے اس خواب کی طرف جس میں آپ کو وہ سرزمین دکھا ئی گئی جہاں آپ کی ہجرت ہوناتھی ، یاد رکھیں خواب میں آپ کو صرف ایک سرزمین دکھائی گئی تھی ، اس کا نام نہیں بتایا گیا تھا ، اس سرزمین پر کھجوروں کے باغات تھے ، اور جیسے مدینہ (یثرب) میں کھجوروں کے باغات تھے بالکل اسی طرح یمامہ میں بھی تھے ، آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا ہے کہ اس سرزمین کو دیکھ کر میرا خیال یمامہ کی طرف گیا تھا ، جی ہاں یہی لفظ ہیں ’’میرا خیال اس طرف گیا تھا‘‘ نہ تو نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اس خواب کی کسی کے سامنے اس وقت تعبیر بیان فرمائی کہ اس کی تشریح یہ ہے کہ ہماری ہجرت یمامہ کی طرف ہوگی اور نہ ہی نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے کوئی اشتہار نکالا اور پیش گوئی شائع کردی کہ مجھے میرے خدا نے خبر دی ہے کہ تمہاری ہجرت یمامہ کی طرف ہوگی (جیسے مرزا قادیانی کیا کرتا تھا)، اور اس کا تو کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے ہجرت مدینہ کی طرف ہی فرمائی تھی نہ کہ یمامہ کی طرف ، تو اگر آپ غلط سمجھتے تو ضرور پہلے یمامہ جاتے لیکن ایسا نہیں ہوا ، اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم نے بالکل ٹھیک جگہ ہجرت فرمائی، اس حدیث شریف میں تو صرف خیال جانے کی بات ہے ۔ اور آخری بات وہی کہ اگر بالفرض آپ کا خیال یمامہ کیطرف جانا یہ آپ کی اجتہادی غلطی تھی تو اللہ نے اس خیال کی اصلاح فرمادی اور آپ نے ہجرت مدینہ کی طرف فرمائی ، کیونکہ انبیاء غلطی پر قائم نہیں رکھے جاتے ، لیکن جھوٹے مدعی نبوت وہ ہوتے ہیں جو پوری زندگی اشتہار نکالتے ہیں کہ میرا نکاح محمدی بیگم کے ساتھ ہوکر رہے گا ، یہ ایسی بات ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی ، لیکن وہ مرجاتے ہیں ایسا نہیں ہوتا اور نہ ہی اللہ انہیں بتاتا ہے کہ مرزا جی! نکاح تو کینسل ہوچکا یا آخرت میں ہوگا، جھوٹے وہ ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ اللہ نے انہیں الہام میں بتایا ہے کہ قادیان کے میاں منظور محمدلدھیانوی جن کی بیوی کا نام محمدی بیگم ہے ان کے گھر ایک لڑکا پیدا ہوگا جس کے نو نام ہیں ، لیکن وہ لڑکا غائب ہوجاتا ہے ، اور بعد میں مرزا کے مرید بتاتے ہیں کہ وہ لڑکا تو مرزا بشیر الدین محمود تھا ، مرزا جی کو غلطی لگی تھی ، اور میاں منظور محمد لدھیانوی سے مراد خود مرزا جی تھے اور محمدی بیگم سے مراد ہماری اماں جان نصرت جہاں بیگم تھیں لیکن ٹیچی (مرزا کے ایک فرشتہ کا نام) نے آنے میں دیر کردی اور مرزا جی دنیا سے چلے گئے
Wednesday, 21 October 2015
سوال۔۔۔۔ حضرت عیسی علیہ السلام نزول کے بعد حضور ﷺ کے امتی ہوں گے۔ جب پہلے تشریف لائے تھے تو نبی تھے ، اب تشریف لائیں گے تو امتی ہوں گے، قیامت کے دن ان کی کیا پوزیشن ہوگئ امتی کی یا نبی کی؟؟؟؟
متحدہ
15:28
0
comments
15:28
0
comments
سوال۔۔۔۔ حضرت عیسی علیہ السلام نزول کے بعد حضور ﷺ کے امتی ہوں گے۔ جب پہلے تشریف لائے تھے تو نبی تھے ، اب تشریف لائیں گے تو امتی ہوں گے، قیامت کے دن ان کی کیا پوزیشن ہوگئ امتی کی یا نبی کی؟؟؟؟
جواب حاضر ہے۔۔۔۔
مرزا قادیانی اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ۔۔۔۔۔
،، یہ ظاہر ہے کہ مسیح ان مریم اس امت کے شمار میں ہی آگئے ہیں،،
حوالہ(ازالہ اوہام صفحہ 623، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 436)
مرزا قادیانی مذید لکھتا ہے کہ ۔۔۔۔۔
تمام انبیاء اکرام علیہ السلام نبی اکرم ق کی امت میں شامل ہیں کیونکہ معراج کی رات نبی اکرم ﷺ نے تمام انبیاء اکرام کی امامت فرمائی ہے، لہذا حضرت عیسی علیہ السلام تو پہلے ہی نبی اکرم ﷺ کی امت میں شامل ہیں ، اس لئے ان کو دوبارہ نازل کرکے امتی بنانے کی کیا ضرورت ہے۔
جواب حاضر ہے۔۔۔۔
مرزا قادیانی اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ۔۔۔۔۔
،، یہ ظاہر ہے کہ مسیح ان مریم اس امت کے شمار میں ہی آگئے ہیں،،
حوالہ(ازالہ اوہام صفحہ 623، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 436)
مرزا قادیانی مذید لکھتا ہے کہ ۔۔۔۔۔
تمام انبیاء اکرام علیہ السلام نبی اکرم ق کی امت میں شامل ہیں کیونکہ معراج کی رات نبی اکرم ﷺ نے تمام انبیاء اکرام کی امامت فرمائی ہے، لہذا حضرت عیسی علیہ السلام تو پہلے ہی نبی اکرم ﷺ کی امت میں شامل ہیں ، اس لئے ان کو دوبارہ نازل کرکے امتی بنانے کی کیا ضرورت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لہٰذا ثابت ہوگیا کہ نہ صرف حضرت عیسی علیہ السلام بلکہ دیگر تمام انبیاء اکرام بھی نبی اکرم ﷺ کی امت میں شامل ہیں، کیونکہ تمام انبیاء اکرام علیہ السلام نے معراج کی رات نبی اکرم ﷺ کی امامت میں نماز ادا کی ، لہٰذا روز قیامت جو پوزیشن دیگر انبیاء اکرام علیہ السلام کی ہوگئی وہی حضرت عیسی علیہ السلام کی بھی ہوگئی،
لہٰذا ثابت ہوگیا کہ نہ صرف حضرت عیسی علیہ السلام بلکہ دیگر تمام انبیاء اکرام بھی نبی اکرم ﷺ کی امت میں شامل ہیں، کیونکہ تمام انبیاء اکرام علیہ السلام نے معراج کی رات نبی اکرم ﷺ کی امامت میں نماز ادا کی ، لہٰذا روز قیامت جو پوزیشن دیگر انبیاء اکرام علیہ السلام کی ہوگئی وہی حضرت عیسی علیہ السلام کی بھی ہوگئی،
Saturday, 19 September 2015
آسمان کی طرف حضرت عیسی علیہ السلام کے جانے کا قرآنی ثبوت
متحدہ
13:31
0
comments
13:31
0
comments
آسمان کی طرف حضرت عیسی علیہ السلام کے جانے کا قرآنی ثبوتسوال…مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ اﷲ پاک نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہود کی دست درازیوں سے محفوظ رکھتے ہوئے آسمانوں پر اٹھالیا۔ آپ قرآن و احادیث صحیحہ کی روشنی میں اس عقیدئہ کو ثابت کریں؟جواب… حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ جسد عنصری کے ساتھ آسمان پر اٹھایا جانا۔دلیل۱… ارشاد ربانی: ’’اذ قال اﷲ یعیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیّٰ ومطھرک من الذین کفروا وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الیٰ یوم القیامۃ ثم الیّٰ مرجعکم فاحکم بینکم فیما کنتم فیہ تختلفون (آل عمران:۵۵)‘‘ترجمہ: ’’جب کہ اﷲتعالیٰ نے فرمایا: اے عیسیٰ! میں لے لوں گا تجھ کو اور اٹھالوں گا اپنی طرف اور تم کو ان لوگوں سے پاک کرنے والا ہوں۔ جو منکر ہیں اور جو لوگ تمہارا کہنا ماننے والے ہیں ان کو غالب رکھنے والا ہوں ان لوگوں پر جو کہ منکر ہیں۔ روزقیامت تک پھر میری طرف ہوگی سب کی واپسی۔ سو میں تمہارے درمیان فیصلہ کردوں گا۔ ان امور میں جن میں تم باہم اختلاف کرتے تھے۔‘‘اس آیت کریمہ کے متصل ماقبل کی آیت کریمہ و مکروا و مکراﷲ میں باری تعالیٰ کی جس خفیہ و کامل تدبیر کی جانب اشارہ فرمایا گیا تھا۔ اس کی تفصیل حسب بیان مفسرین آیت مذکورہ میں فرمائی گئی ہے۔ اس محکم تدبیر کے وقوع سے پہلے ہی جب کہ یہود بے بہبود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جائے قیام کا محاصرہ کرکے قتل و سولی پر چڑھانے کا ناپاک منصوبہ بنارہے تھے۔ حضرت حق جل مجدہ نے ایسے خطرناک وقت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تسلی دینے کے لئے بشارت دے دی کہ آپ کے دشمن خائب و خاسر رہیں گے۔اس سلسلہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے چار وعدے فرمائے گئے:میں تجھے پورا پورا لے لوں گا۔اور تجھے اپنی طرف (آسمان پر) اٹھالوں گا۔اور تجھے کفار (یہود) کے شر سے صاف بچالوں گا۔تیرے متبعین کو تیرے دشمنوں پر قیامت تک غالب رکھوں گا۔یہ چار وعدے اس لئے فرمائے گئے کہ یہود کی سازش میں یہ تفصیل تھی کہ:حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پکڑیں۔اور طرح طرح کے عذاب دے کر ان کو قتل کریں۔اور پھر خوب رسوا اور ذلیل کریں۔اور اس ذریعہ سے ان کے دین کو فنا کریں کہ کوئی ان کا متبع ونام لیوا بھی نہ رہے۔لہٰذا ان کے پکڑنے کے مقابلہ میں متوفیک فرمایا۔ یعنی تم کو بھرپورلینے والا ہوں۔تم میری حفاظت میں ہو اور ارادئہ ایذاء و قتل کے مقابلہ میں رافعک الیّٰ فرمایا۔ یعنی میں تم کو آسمان پر اٹھالوں گا، اور رسوا اور ذلیل کرنے کے مقابلہ میں مطہرک من الذین کفروا فرمایا۔ یعنی میں تم کو ان یہود نامسعود سے پاک کروں گا۔ رسوائی و بے حرمتی کی نوبت ہی نہیں آئے گی اورآپ کی امت کو مٹانے اور دین مسیحی کو نیست و نابود کرنے والوں کے مقابلہ میں: ’’جاعل الذین اتبعوک‘‘ فرمایا۔ یعنی تیرے رفع کے بعد تیرے متبعین کو ان کفار پر غلبہ دوں گا۔توفی کے معنیبہرحال پہلا وعدہ لفظ ’’توفی‘‘ سے فرمایا گیا ہے۔ اس کے حروف اصلیہ ’’وفا‘‘ ہیں۔ جس کے معنی ہیں پورا کرنا۔ چنانچہ استعمال عرب ہے وفی بعھدہ اپنا وعدہ پورا کیا۔(لسان العرب)باب تفعل میں جانے کے بعد اس کے معنی ہیں: اخذ الشئی وافیاً (بیضاوی) یعنی کسی چیز کو پورا پورا لینا۔ توفی کا یہ مفہوم جنس کے درجہ میں ہے۔ جس کے تحت یہ تمام انواع آتی ہیں۔ موت، نیند اور رفع جسمانی۔چنانچہ امام رازیؒ فرماتے ہیں: ’’قولہ (انی متوفیک) یدل علی حصول التوفی وھو جنس تحتہ انواع بعضھا بالموت وبعضھا بالاصعاد الی السماء فلما قال بعدہ (و رافعک الیّٰ) کان ھذا تعیینا للنوع و لم یکن تکراراً‘‘(تفسیر کبیر زیر آیت یعیسیٰ انی متوفیک ص۷۲ جز۸)ترجمہ: ’’باری تعالیٰ کا ارشاد انی متوفیک صرف حصول توفی پر دلالت کرتا ہے اور وہ ایک جنس ہے۔ جس کے تحت کئی انواع ہیں۔ کوئی بالموت اور کوئی بالرفع الی السمائ۔ پس جب باری تعالیٰ نے اس کے بعد ورافعک الیّٰ فرمایا تو اس نوع کو متعین کرنا ہوا۔ (رفع الی السمائ) نہ کہ تکرار۔‘‘یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ کسی لفظ جنس کو بول کر اس کی خاص نوع مراد لینے کے لئے قرینہ حالیہ و مقالیہ کا پایا جانا ضروری ہے۔ تو یہاں توفی بمعنی رفع جسمانی الی السماء لینے کے لئے ایک قرینہ یہ ہے کہ اس کے فوراً بعد ورافعک الیّٰ فرمایا گیا۔ رفع کے معنی ہیں اوپر اٹھا لینا۔ کیونکہ رفع، وضع وخفض کی ضد ہے۔ جس کے معنی نیچے رکھنا اور پست کرنا اور دوسرا قرینہ ومطھرک من الذین کفرواہے۔ کیونکہ تطہیر کا مطلب یہی ہے کہ کفار (یہود) کے ناپاک ہاتھوں سے آپ کو صاف بچالوں گا۔چنانچہ ابی جرؒیج سے محدث ابن جریرؒ نے نقل فرمایا ہے:’’عن ابی جریج قولہ (انی متوفیک ورافعک الیّٰ ومطھرک من الذین کفروا) قال فرفعہ ایاہ الیہ توفیہ ایاہ وتطھیرہ من الذین کفروا‘‘(تفسیر ابن جریر ج ۳ ص ۲۹۰)’’باری تعالیٰ کا ارشاد گرامی متوفیک! کی تفسیر یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھالینا ہی آپ کی توفی ہے اور یہی کفار سے ان کی تطہیر ہے۔‘‘اور تیسرا قرینہ حضرت ابوہریرہؓ کی روایت مرفوعہ ہے۔ جس کو امام بیہقیؒ نے نقل فرمایا ہے اور جس میں نزول من السماء کی تصریح ہے:’’کیف انتم اذا نزل ابن مریم من السماء فیکم‘‘(کتاب الاسماء والصفات ص :۲۰۳)اس لئے کہ نزول سے پہلے رفع کا ثبوت ضروری ہے۔ اسی طرح جب یہ لفظ موت کے معنی دے گا۔ تو قرینہ کی احتیاج ہوگی مثلاً:’’قل یتوفٰکم ملک الموت الذی وکل بکم (الم سجدہ:۱۱) ‘‘ترجمہ: ’’اے پیغمبر! ان سے کہہ دو کہ تم کو قبض کرے گا۔ملک الموت جو تم پر مقرر کیا گیا ہے۔ (یعنی تم کو مارے گا)‘‘اس میں ملک الموت قرینہ ہے۔ دیگر متعدد آیات میں بھی بربنائے قرائن توفی بمعنی موت آیا ہے۔ کیونکہ موت میں بھی توفی یعنی پوری پوری گرفت ہوتی ہے۔ ایسے ہی جہاں نیند کے معنی دے گا۔ تو بھی قرینہ کی ضرورت ہوگی۔مثلاً: ’’وھوالذی یتوفٰکم باللیل (انعام:۶۰)‘‘ترجمہ: ’’خدا ایسی ذات ہے کہ تم کو رات کے وقت پورا لے لیتا ہے۔ یعنی سلادیتا ہے۔‘‘یہاں لیل اس بات کا قرینہ ہے کہ توفی سے مراد نوم ہے۔ کیونکہ وہ بھی توفی (پوری پوری گرفت) کی ایک نوع ہے۔ یہ تمام تفصیلات بلغاء کے استعمال کے مطابق ہیں۔ البتہ عام لوگ توفی کو اماتت اور قبض روح کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔ چنانچہ کلیات ابوالبقاء میں ہے:’’التوفی الاماتۃ وقبض الروح وعلیہ استعمال العامۃ او الاستیفاء واخذ الحق وعلیہ استعمال البلغائ‘‘(کلیات ابوالبقائ:۱۲۹)یعنی عام لوگ تو توفی کو اماتت اور قبض روح کے معنی میں استعمال کرتے ہیں اور بلغاء پورا پورا وصول کرنے اور حق لے لینے کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔بہرحال زیر بحث آیت کریمہ میں بربنائے قرائن توفی کے معنی قبض اور پورا پورا۔ یعنی جسم مع الروح کو اپنی تحویل میں لے لینے کے ہیں، اماتت کے نہیں ہیں۔ البتہ قبض روح بصورت نیند کے معنی ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ قبض روح کی دو صورتیں ہیں۔ ایک مع الامساک اور دوسری مع الارسال۔ تو اس آیت میں توفی بقرینہ رافعک الیّٰ بمعنی نیند ہوسکتی ہے اور یہ ہمارے مدعا کے خلاف نہیں ہوگا۔ کیونکہ نیند اور رفع جسمی میں جمع ممکن ہے۔ چنانچہ مفسرین کی ایک جماعت نے اس کو اختیار کیا ہے: ’’(الثانی) المراد بالتوفی النوم ومنہ قولہ تعالیّٰ اﷲ یتوفی الانفس حین موتھا والتی لم تمت فی منامھا) فجعل النوم وفاۃ وکان عیسیٰ قد نام فرفعہ اﷲ وھو نائم لئلا یلحقہ خوف‘‘(خازن ج۱ ص۲۵۵)......سوال … قال اﷲتعالیٰ واذ قال اﷲ یعیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیّٰ‘‘ اس کی صحیح تفسیر بیان کرکے حیات حضرت مسیح علیہ السلام کو ثابت کریں۔ مرزائی ’’ توفی‘‘ سے وفات مراد لیتے ہیں۔ حضرت ابن عباسؓ سے بھی ’’متوفیک‘‘ کی تفسیر ’’ممیتک‘‘ منقول ہے۔ اور اس تائید میں مرزائی ’’توفنا مع الابرار، تو فنا مع المسلمین‘‘ کو بھی پیش کرتے ہیں، ان تمام امور کا شافی جواب تحریر کریں؟جواب … ’’واذ قال اﷲ یعیسیٰ انی متوفیک ورافعک‘‘ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع جسمانی ثابت ہے۔ یہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کی دلیل ہے، نہ کہ وفات عیسیٰ علیہ السلام کی۔ توفی وغیرہ کی کچھ بحث پہلے گزرچکی ہے۔ مزید ملاحظہ ہو:توفی کاحقیقی معنیالف… ’’توفی‘‘ کا حقیقی معنی موت نہیں۔ اس لئے کہ اگر اس کا حقیقی معنی موت ہوتا تو ضرور قرآن و سنت میں کہیں ’’توفی‘‘ کو ’’حیات‘‘ کے مقابل ذکر کیا جاتا۔ حالانکہ ایسا کہیں نہیں ہے۔ بلکہ ’’توفی‘‘ کو ’’مادمت فیھم‘‘ کے مقابلہ میں رکھا گیا۔ معلوم ہوا کہ توفی کا حقیقی معنی موت نہیں۔ دیکھئے قرآن مجید میں جگہ جگہ موت و حیات کا تقابل کیا گیا ہے نہ کہ توفی و حیات کا۔ مثلاً الذی یحیی ویمیت، یحییکم ثم یمیتکم، ھوامات و احیی، لایموت فیھا ولایحییٰ، ویحي الموتیٰ، اموات غیر احیائ، یحییٰ الموتی، یحیی الارض بعد موتھا، تخرج الحي من المیت و تخرج المیت من الحي۰یہ تقابل بتاتا ہے کہ تعرف الاشیاء باضدادہا کے تحت حیات کی ضد موت ہے توفی نہیں۔ توفی کو قرآن مجید میں مادمت فیھم کے مقابلہ میں لایا گیا: ’’ وکنت علیھم شھیداً مادمت فیھم فلما توفیتنی‘‘ اس سے توفی کا حقیقی معنی سمجھا جاسکتا ہے کہ کیا ہے؟ اس کے لئے علامہ زمخشری کا حوالہ کافی ہوگا : ’’اوفاہ، استوفاہ، توفاہ استکمال ومن المجاز توفی و توفاہ اﷲ ادرکتہ الوفاۃ‘‘ ترجمہ : ’’اوفاہ، استوفاہ اور توفاہ کے معنی استکمال یعنی پورا لینے کے ہیں۔ توفی کو مجازاً موت کے معنی میں لیا جاتا ہے۔ جیسے توفی اور توفاہ اﷲ یعنی اس کی وفات ہوگی۔‘‘اس حوالہ سے معلوم ہوا کہ توفی کا حقیقی معنی موت نہیں۔ البتہ مجازاً کہیں کہیں موت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ب… اﷲ رب العزت نے اپنی کتاب میں ’’اماتت‘‘ کی اسناد اپنی طرف ہی فرمائی۔ غیر اﷲ کی طرف ہرگز نہیں کی۔ جبکہ ’’توفی‘‘ کی اسناد ملائکہ کی طرف بھی اکثر موجود ہے۔ یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ توفی کا حقیقی معنی موت نہیں۔ جیسے ’’حتی اذا جاء احد کم الموت توفتہ رسلنا‘‘ یہاں پر توفی کی اسناد ملائکہ کی طرف کی گئی۔ج… توفی کا حقیقی معنی موت نہیں جیسے قرآن مجید میں ہے: ’’حتیٰ یتوفھن الموت‘‘ یہاں توفی اور موت کو مقابلہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ اب اس کے معنی ہوں گے کہ ان کو موت کے وقت پورا پورا لے لیا جاتا ہے۔ اگر توفی کا معنی موت ہو تو پھر اس کا معنی تھا کہ: ’’یمیتہن الموت‘‘ یہ کس قدر رکیک معنی ہوں گے۔ کلام الٰہی اور یہ رکاکت؟ اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔د… توفی کا حقیقی معنی موت نہیں۔ قرآن مجید میں ہے : ’’اﷲ یتوفی الانفس حین موتھا والتی لم تمت فی منامھا فیمسک التی قضیٰ علیہا الموت ویرسل الاخریٰ الیٰ اجل مسمی (الزمر: ۴۲)‘‘ترجمہ: ’’اﷲتعالیٰ نفسوں کو لے لیتا ہے ان کی موت کے وقت اور ان نفسوں کو جو نہیں مرے ان کو نیند میں لے لیتا ہے۔ پس وہ نفس جس کو موت وارد ہوتی ہے روک لیتا ہے اور دوسرے کو مقرر مدت تک چھوڑ دیتا ہے۔‘‘یہاں پہلے جملہ میں توفی نفس کو حین موتھا کے ساتھ مقید کیا ہے۔ معلوم ہوا توفی عین موت نہیں۔اور پھر توفی کو موت اور نیند کی طرف منقسم کیا ہے۔ لہٰذا نصاً معلوم ہوا کہ توفی موت کے مغائر ہے۔نیز یہ کہ توفی، موت اور نیند دونوں کو شامل ہے۔ نیند میں آدمی زندہ ہوتا ہے۔ اس کی طرف توفی کی نسبت کی گئی۔ توفی بھی ہے اور آدمی زندہ ہے۔ مرا نہیں۔ کیا یہ نص نہیں اس بات کی کہ توفی کا حقیقی معنی موت نہیں؟خلاصہ بحث:توفی کا حقیقی معنی پورا پورا لینے کے ہیں۔ ہاں البتہ کبھی مجازاً موت کے معنی میں بھی توفی کا استعمال ہوا ہے۔ جیسے : ’’توفنا مع الابرار، توفنا مسلمین‘‘ وغیرہ۔ضروری تنبیہ… اگرکہیں کوئی لفظ کسی مجازی معنی میں استعمال ہو تو ہمیشہ کے لئے اس کے حقیقی معنی ترک نہیں کردیئے جائیں گے۔ اگر کوئی ایسے سمجھتا ہے تو وہ قادیانی احمق ہی ہوسکتے ہیں۔ ورنہ اصول صرف یہ ہے کہ مجازی معنی وہاں مراد لئے جائیں گے جہاں حقیقی معنی متعذر ہوں۔ یا عیسیٰ انی متوفیک میں حقیقی معنی پورا پورا لینے کے لئے جائیں گے اور توفنا مع الابرار میں مجازی معنی (موت) کے کئے جائیں گے۔.................حضرت ابن عباس ؓ اور حیات عیسیٰ علیہ السلامالف… حضرت ابن عباسؓ پوری امت کی طرح حیات مسیح علیہ السلام کے قائل ہیں۔ آپ نے آنحضرتﷺ سے متعدد روایات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و نزول وحیات کی روایت کی ہیں۔ ’’التصریح بما تواتر فی نزول المسیح طبع ملتان‘‘ کے ص ۱۸۱، ۲۲۳، ۲۲۴، ۲۴۵، ۲۷۳، ۲۷۹، ۲۸۴، ۲۸۹، ۲۹۱، ۲۹۲ پر دس روایات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و نزول کی حضرت ابن عباس ؓ کے حوالہ سے حضرت انور شاہ کشمیریؒ نے جمع فرمائی ہیں۔ من شاء فلیراجع!ب… متوفیک کے معنی ممیتک عبداﷲ بن عباسؓ سے نقل کرنے والا راوی علی بن ابی طلحہ ہے۔(تفسیر ابن جریر ج۳ ص ۲۹۰)علماء اسماء الرجال نے اس کے متعلق ضعیف الحدیث، منکر، لیس بمحمود المذہب کے جملے فرمائے ہیں اور یہ کہ اس نے حضرت عبداﷲ ابن عباسؓ کی زیارت بھی نہیں کی۔ درمیان میں مجاہدؒ کا واسطہ ہے۔(میزان الاعتدال ج ۵ ص ۱۶۳، تہذیب التہذیب ج ۴ ص ۲۱۳)رہا یہ کہ پھر صحیح بخاری شریف میں یہ روایت کیسے آگئی؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ: امام بخاریؒ کا یہ التزام صرف احادیث مسندۃ کے بارے میں ہے۔ نہ کہ تعلیقات و آثار صحابہ کے ساتھ۔ چنانچہ فتح مغیث ص ۲۰ میں ہے: ’’قول البخاری ماادخلت فی کتابی الا ماصح علی، مقصود بہ ھو الاحادیث الصحیحۃ المسندۃ دون التعالیق والاثار الموقوفۃ علی الصحابۃ فمن بعدھم والاحادیث المترجمۃ بھا ونحوذٰلک‘‘ترجمہ: ’’یعنی امام بخاری کے اس فرمان کا مطلب کہ میں نے اپنی کتاب میں صرف وہی ذکر کیا ہے جو صحیح سند سے ثابت ہے۔ اس سے مراد صرف احادیث صحیحہ مسندہ ہیں۔ باقی تعلیقات اور آثار موقوفہ وغیرہ اس میں شامل نہیں۔ اس طرح وہ احادیث جو ترجمۃ الباب میں ذکر کی گئی ہیں وہ بھی مراد نہیں ہیں۔‘‘ج… حضرت عبداﷲ بن عباسؓ سے دوسری صحیح روایت میں اگرچہ توفی کے معنی موت منقول ہیں۔ مگر اسی روایت میں کلمات آیت کے اندر تقدیم و تاخیر بھی صراحتاً مذکور ہے۔ جس سے قادیانی گروہ کی خود بخود تردید ہوجاتی ہے۔’’اخرج ابن عساکر واسحاق بن بشر عن ابن عباسؓ قال قولہ تعالیٰ یٰعیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیّٰ یعنی رافعک ثم متوفیک فی آخرالزمان‘‘(درمنثور ج۲ ص۳۶)ترجمہ: ’’یعنی ابن عساکر اور اسحاق بن بشر نے (بروایت صحیح) ابن عباسؓ سے روایت کی ہے کہ اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ میں آپ کو اٹھانے والا ہوں اپنی طرف پھر آخر زمانہ میں (بعد نزول) آپ کو موت دینے والا ہوں۔‘‘د… تفسیر ابن کثیر میں عبداﷲ ابن عباسؓ سے صحیح روایت منقول ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر قتل کے زندہ آسمان پر اٹھالئے گئے۔’’ورفع عیسیٰ من روزنۃ فی البیت الی السماء ھذا اسناد صحیح الی ابن عباس‘‘(تفسیر ابن کثیر ج ۱ ص ۵۷۴ زیر آیت بل رفعہ اﷲ)ترجمہ: ’’عیسیٰ علیہ السلام گھر کے روزن (روشن دان) سے (زندہ) آسمان کی طرف اٹھالئے گئے۔ یہ اسناد ابن عباسؓ تک بالکل صحیح ہے۔‘‘رفع سے مراد رفع روحانی یا رفع درجات ہے؟؟سوال…سورئہ آل عمران میں ارشاد خداوندی ہے: ’’ورافعک‘‘ اور سورئہ نساء میں فرماتے ہیں: ’’بل رفعہ اﷲ الیہ‘‘ دونوں مقامات پر قادیانی رفع سے مراد رفع روحانی یا رفع درجات لیتے ہیں۔ آپ ان کے مؤقف کا اس طرح رد کریں۔ جس سے قادیانی دجل تارتار ہوجائے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع جسمانی ثابت ہو؟جواب …یہ بات بھی قادیانی دجل کا شاہکار ہے کہ وہ کہیں رافعک اور بل رفعہ اﷲ میں رفع روح مراد لیتے ہیں اور جب ان پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ تمہارے (قادیانی) عقیدہ کے مطابق تو مسیح علیہ السلام صلیب سے اتر کر زخم اچھے ہونے کے بعد کشمیر چلے گئے اور ستاسی سال بعد ان کی موت واقع ہوئی۔ تو موت کے بعد رفع روح ہوا۔ حالانکہ یہ قرآن کے اسلوب بیان کے خلاف ہے۔ اس لئے کہ چاروں وعدوں میں سے تین وعدے جو براہ راست مسیح علیہ السلام کی ذات (جسم) مبارک سے تعلق رکھتے تھے۔ ایک ہی وقت میں ایک ساتھ ان کا ایفاء ہوا۔ تو قادیانی مجبوراً پھر اس سے فوراً رفع درجات پر آجاتے ہیں۔ جس طرح قادیانیوں کو ایمان کا قرار (سکون) نصیب نہیں اس طرح ان کے مؤقف کو بھی قرار نہیں۔ وہ اپنا مؤقف بدلتے رہتے ہیں۔ کبھی رفع روح مراد لیتے ہیں، کبھی رفع درجات مراد لیتے ہیں۔ حالانکہ یہ دونوں مؤقف غلط ہیں۔۱… یہ امر روز روشن کی طرح واضح ہے کہ ’’بل رفعہ اﷲ ‘‘کی ضمیر اسی طرف راجع ہے کہ جس طرف ’’قتلوہ‘‘ اور’’ صلبوہ‘‘ کی ضمیریں راجع ہیں اور ظاہر ہے کہ’’ قتلوہ‘‘اور ’’صلبوہ‘‘ کی ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسم مبارک اور جسد مطہر کی طرف راجع ہیں۔ روح بلا جسم کی طرف راجع نہیں۔ اس لئے کہ قتل کرنا اور صلیب پر چڑھانا جسم ہی کا ممکن ہے۔ روح کا قتل اور صلیب پر لٹکانا قطعاً ناممکن ہے۔ لہٰذا ’’بل رفعہ‘‘ کی ضمیر اسی جسم کی طرف راجع ہوگی۔ جس جسم کی طرف ’’قتلوہ‘‘ اور ’’صلبوہ‘‘ کی ضمیریں راجع ہیں۔۲… دوم یہ کہ یہود روح کے قتل کے مدعی نہ تھے۔ بلکہ قتل جسم کے مدعی تھے اور ’’بل رفعہ اﷲ الیہ‘‘ سے اس کی تردید کی گئی ہے۔ لہٰذا بل رفعہ میں رفع جسم ہی مراد ہوگا۔ اس لئے کہ کلمہ بل کلام عرب میں ماقبل کے ابطال کے لئے آتا ہے۔ لہٰذا بل کے ماقبل اور مابعد میں منافات اور تضاد کا ہونا ضروری ہے جیسا کہ: ’’وقالوا اتخذالرحمن ولداً سبحنہ بل عباد مکرمون ‘‘ولدیت اور عبودیت میں منافات ہے دونوں جمع نہیں ہوسکتے۔ ’’ام یقولون بہ جنۃ بل جاء ھم بالحق‘‘ مجنونیت اور اتیان بالحق (یعنی من جانب اﷲ حق کو لے کر آنا) یہ دونوں متضاد اور متنافی ہیں۔ یکجا جمع نہیں ہوسکتے۔ یہ ناممکن ہے کہ شریعت حقہ کالا نے والا مجنون ہو۔ اسی طرح اس آیت میں یہ ضروری ہے کہ مقتولیت اور مصلوبیت جو بل کا ماقبل ہیں۔ وہ مرفوعیت الیٰ اﷲ کے منافی ہو جو بل کا مابعد ہے اور ان دونوں کا وجود اور تحقق میں جمع ہونا ناممکن ہونا چاہئے اور ظاہر ہے کہ مقتولیت اور روحانی رفع بمعنی موت میں کوئی منافات نہیں۔ محض روح کا آسمان کی طرف اٹھایا جانا قتل جسمانی کے ساتھ جمع ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ شہداء کا جسم تو قتل ہوجاتا ہے اور روح آسمان پر اٹھالی جاتی ہے۔ لہٰذا ضروری ہوا کہ بل رفعہ اﷲ میں رفع جسمانی مراد ہو کہ جو قتل اور صلب کے منافی ہے۔ اس لئے کہ رفع روحانی اور رفع عزت اور رفعت شان قتل اور صلب کے منافی نہیں۔ بلکہ جس قدر قتل اور صلب ظلماً ہوگا۔ اسی قدر عزت اور رفعت شان میں اضافہ ہوگا اوردرجات اور زیادہ بلند ہوں گے۔ رفع درجات کے لئے تو موت اور قتل کچھ بھی شرط نہیں۔ رفع درجات زندہ کو بھی حاصل ہوسکتے ہیں۔ ’’کما قال تعالیٰ ورفعنالک ذکرک‘‘ اور ’’یرفع اﷲ الذین آمنوا منکم والذین اوتو العلم درجات‘‘ ہے ۔۳… یہود حضرت مسیح علیہ السلام کے جسم کے قتل اور صلب کے مدعی تھے۔ اﷲتعالیٰ نے اس کے ابطال کے لئے بل رفعہ اﷲ فرمایا۔ یعنی تم غلط کہتے ہو کہ تم نے اس کے جسم کو قتل کیا یا صلیب پر چڑھایا۔ بلکہ اﷲتعالیٰ نے ان کے جسم کو صحیح و سالم آسمان پر اٹھالیا۔ نیز اگر رفع سے رفع روح بمعنی موت مراد ہے تو قتل اور صلب کی نفی سے کیا فائدہ؟ قتل اور صلب سے غرض موت ہی ہوتی ہے اور بل اضرابیہ کے ما بعد کو بصیغہ ماضی لانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ رفع الیٰ السمائباعتبار ماقبل کے امر ماضی ہے۔ یعنی تمہارے قتل اور صلب سے پہلے ہی ہم نے ان کو آسمان پر اٹھالیا۔ جیسا کہ بل جاء ھم بالحق میں صیغہ ماضی اس لئے لایا گیا کہ یہ بتلادیا جائے کہ آپﷺ کا حق کو لے کر آنا کفار کے مجنون کہنے سے پہلے ہی واقع ہوچکا ہے۔ اسی طرح بل رفعہ اﷲ بصیغہ ماضی لانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ رفع الی السماء ان کے مزعوم اور خیالی قتل اور صلب سے پہلے ہی واقع ہوچکا ہے۔۴… جس جگہ لفظ رفع کا مفعول یا متعلق جسمانی شے ہوگی تو اس جگہ یقینا جسم کا رفع مراد ہوگا اور اگر رفع کا مفعول اور متعلق درجہ یا منزلہ یا مرتبہ یا امر معنوی ہو تو اس وقت رفع مرتبت اور بلندی رتبہ کے معنی مراد ہوں گے۔ ’’کما قال تعالیٰ ورفعنا فوقکم الطور‘‘ اٹھایا ہم نے تم پر کوہ طور ’’اﷲ الذی رفع السمٰوت بغیر عمدا ترونھا‘‘ اﷲ ہی نے بلند کیا آسمانوں کو بغیر ستونوں کے جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو۔ ’’واذ یرفع ابراہیم القواعد من البیت واسمٰعیل‘‘ یاد کرو اس وقت کو کہ جب ابراہیم بیت اﷲ کی بنیادیں اٹھارہے تھے اور اسمٰعیل ان کے ساتھ تھے۔ ’’ورفع ابویہ علی العرش‘‘ یوسف علیہ السلام نے اپنے والدین کو تخت کے اوپر بٹھایا۔ ان تمام مواقع میں لفظ رفع اجسام سے مستعمل ہوا ہے اور ہر جگہ رفع جسمانی مراد ہے اور ورفعنالک ذکرک ہم نے آپﷺ کا ذکر بلند کیا اور ورفعنا بعضھم فوق بعض درجات ہم نے بعض کو بعض پر درجہ اور مرتبہ کے اعتبار سے بلند کیا۔اس قسم کے مواقع میں رفعت شان اور بلندی رتبہ مراد ہے۔ اس لئے کہ رفع کے ساتھ خود ذکر اور درجہ کی قید یعنی قرینہ مذکور ہے۔قادیانی اشکالایک حدیث میں ہے: ’’اذا تواضع العبد رفعہ اﷲ الی السماء السابعۃ‘‘(کنزالعمال ج۳ ص۱۱۰، حدیث نمبر ۵۷۲۰، بحوالہ الخرائطی فی مکارم الاخلاق)ترجمہ: ’’جب بندہ تواضع کرتا ہے تو اﷲتعالیٰ اس کو ساتویں آسمان پر اٹھالیتے ہیں۔ اس حدیث کو خرائطیؒنے اپنی کتاب مکارم الاخلاق میں ابن عباسؓ سے روایت کیا ہے ۔اس روایت کو مرزائی بہت خوش ہوکر بطور اعتراض پیش کیا کرتے ہیں کہ رفع کا مفعول جسمانی شے ہے اور الی السماء کی بھی تصریح ہے۔ مگر باوجود اس کے رفع سے رفع جسمی مراد نہیں بلکہ رفع معنوی مراد ہے۔جواب …یہ ہے کہ یہاں مجاز کے لئے قرینہ عقلیہ قطعیہ موجود ہے کہ یہ اس زندہ کے حق میں ہے۔ جو لوگوں کے سامنے زمین پر چلتا ہے اور تواضع کرتا ہے۔ تو اس کا مرتبہ اور درجہ اﷲتعالیٰ کے یہاں ساتویں آسمان کے برابر بلند اونچا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہاں رفع جسم مراد نہیں بلکہ رفع درجات مراد ہے۔ غرض یہ کہ رفع کے معنی بلندی رتبہ مجازاً بوجہ قرینہ عقلیہ لئے گئے اور اگر کسی کم عقل کی سمجھ میں یہ قرینہ عقلیہ نہ آئے۔ تو اس کے لئے قرینہ قطعیہ بھی موجود ہے۔ وہ یہ کہ کنزالعمال میں روایت مذکورہ کے بعد ہی علی الاتصال یہ روایت مذکور ہے : ’’من یتواضع للّہ درجۃ یرفعہ اﷲ درجۃ حتی یجعلہ فی علیین‘‘ یعنی جس درجہ کی تواضع کرے گا۔ اسی کے مناسب اﷲ اس کا درجہ بلند فرمائیں گے۔ یہاں تک کہ جب وہ تواضع کے آخری درجہ پر پہنچ جائے گا تو اﷲتعالیٰ اس کو علیین میں جگہ دیں گے۔، جو علو اور رفعت کا آخری مقام ہے۔ اس حدیث میں صراحتاً لفظ درجہ کا مذکور ہے اور قاعدہ مسلمہ ہے۔ الحدیث یفسر بعضہ بعضا ایک حدیث دوسری حدیث کی تفسیر اور شرح کرتی ہے۔خلاصہ یہ کہ رفع کے معنی اٹھانے اور اوپر لے جانے کے ہیں۔ لیکن وہ رفع کبھی اجسام کا ہوتا ہے اور کبھی معانی اور اعراض کا ہوتا ہے اور کبھی اقوال اور افعال کا، اور کبھی مرتبہ اور درجہ کا۔ جہاں رفع اجسام کا ذکر ہوگا۔ وہاں رفع جسمی مراد ہوگا اور جہاں رفع اعمال اور رفع درجات کا ذکر ہوگا۔ وہاں رفع معنوی مراد ہوگا۔ رفع کے معنی تو اٹھانے اور بلند کرنے ہی کے ہیں۔ باقی جیسی شے ہوگی اس کا رفع اسی کے مناسب ہوگا۔۵… یہ کہ اس آیت کا صریح مفہوم اور مدلول یہ ہے کہ جس وقت یہود نے حضرت مسیح کے قتل اور صلب کا ارادہ کیا۔ تو اس وقت قتل اور صلب نہ ہوسکا۔ بلکہ اس وقت حضرت مسیح کا اﷲ کی طرف رفع ہوگیا۔ معلوم ہوا کہ یہ رفع جس کا بل رفعہ اﷲ میں ذکر ہے حضرت عیسیٰ کو پہلے سے حاصل نہ تھا۔ بلکہ یہ رفع اس وقت ظہور میں آیا کہ جس وقت یہود ان کے قتل کا ارادہ کررہے تھے اور وہ رفع جو ان کو اس وقت حاصل ہوا وہ یہ تھا کہ اس وقت بجسدہ العنصری صحیح و سالم آسمان پر اٹھا لئے گئے۔ رفعت شان اور بلندی مرتبہ تو ان کو پہلے ہی سے حاصل تھی اور وجیھا فی الدنیا ولآخرۃ ومن المقربینکے لقب سے پہلے ہی سرفراز ہوچکے تھے۔ لہٰذا اس آیت میں وہی رفع مراد ہوسکتا ہے کہ جو ان کو یہود کے ارادہ قتل کے وقت حاصل ہوا۔ یعنی رفع جسمی اور رفع عزت و منزلت اس سے پہلے ہی ان کو حاصل تھا۔ اس مقام پر اس کا ذکر بالکل بے محل ہے۔۶… یہ کہ یہود کی ذلت و رسوائی اور حسرت اور ناکامی اور عیسیٰ علیہ السلام کی کمال عزت و رفعت بجسدہ العنصری صحیح و سالم آسمان پر اٹھائے جانے ہی میں زیادہ ظاہر ہوتی ہے۔ نیز یہ رفعت شان اور علو مرتبت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مخصوص نہیں۔ زندہ اہل ایمان اور زندہ اہل علم کو بھی حاصل ہے۔ ’’کما قال تعالی یرفع اﷲ الذین اٰٰمنوا منکم والذین اوتوا العلم درجات‘‘ بلند کرتا ہے اﷲتعالیٰ اہل ایمان اور اہل علم کو باعتبار درجات کے۔۷… یہ کہ اگر آیت میں رفع روحانی بمعنی موت مراد ہو تو یہ ماننا پڑے گا کہ وہ رفع روحانی بمعنی موت یہود کے قتل اور صلب سے پہلے واقع ہوا جیسا کہ: ’’ام یقولون بہ جنۃ بل جاء ھم بالحق، ویقولون أئنا لتارکوا اٰلھتنا للشاعر مجنون، بل جاء بالحق‘‘ ان آیات میں آنحضرتﷺ کا حق کو لے کر آنا ان کے شاعر اور مجنون کہنے سے پہلے واقع ہوا۔ اسی طرح رفع روحانی بمعنی موت کو ان کے قتل اور صلب سے مقدم ماننا پڑے گا۔ حالانکہ مرزا قادیانی اس کے قائل نہیں۔ مرزا قادیانی تو (العیاذباﷲ) یہ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام یہود سے خلاص ہوکرفلسطین سے کشمیر پہنچے اور عرصہ دراز تک بقید حیات رہے اور اسی عرصہ میں اپنے زخموں کا علاج کرایا اور پھر طویل مدت کے بعدیعنی ستاسی سال زندہ رہ کر وفات پائی اور سری نگر کے محلہ خان یار میں مدفون ہوئے اور وہیں آپ کا مزار ہے۔ لہٰذا مرزا قادیانی کے زعم کے مطابق عبارت اس طرح ہونی چاہئے تھی: ’’وما قتلوہ بالصلیب بل تخلص منھم وذہب الی کشمیر واقام فیھم مدۃ طویلۃ ثم اماتہ اﷲ ورفع الیہ ‘‘۸… یہ کہ رفع روحانی بمعنی موت لینے سے وکان اﷲ عزیزاً حکیماً کے ساتھ مناسبت نہیں رہتی۔ اس لئے کہ عزیز اور حکیم اور اس قسم کی ترکیب اس موقعہ پر استعمال کی جاتی ہے کہ جہاں کوئی عجیب و غریب اور خارق العادات امر پیش آیا ہو اور وہ عجیب و غریب امر جو اس مقام پر پیش آیا وہ رفع جسمانی ہے۔ یہ خیال نہ کیا جائے کہ جسم عنصری کا آسمان پر جانا محال ہے۔ وہ عزت والا اور غلبہ والا اور قدرت والا ہے۔ اس کے لئے یہ کوئی مشکل کام نہیں اور نہ یہ خیال کرے کہ جسم عنصری کا آسمان پر اٹھایا جانا خلاف حکمت اور خلاف مصلحت ہے۔ وہ حکیم ہے اس کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں۔ دشمنوں نے جب حضرت مسیح پر ہجوم کیا تو اس نے اپنی قدرت کا کرشمہ دکھلا دیا کہ اپنے نبی کو آسمان پر اٹھالیا اور جو دشمن قتل کے ارادہ سے آئے تھے۔ انہی میں سے ایک کو اپنے نبی کا ہم شکل اور شبیہ بناکر انہیں کے ہاتھ سے اس کو قتل کرادیا اور پھر اس شبیہ کے قتل کے بعد ان سب کو شبہ اور اشتباہ میں ڈال دیا۔رفع کے معنی عزت کی موت۔ نہ کسی لغت سے ثابت ہے نہ کسی محاورہ سے اور نہ کسی فن کی اصطلاح سے۔ محض مرزا قادیانی کی اختراع ہے۔ البتہ رفع کا لفظ محض اعزاز اور رفع جسمانی کے منافی نہیں اعزاز اور رفع جسمانی دونوں جمع ہوسکتے ہیں۔ نیز اگر رفع سے عزت کی موت مراد ہو تو نزول سے ذلت کی پیدائش مراد ہونی چاہئے۔ اس لئے کہ حدیث میں نزول کو رفع کا مقابل قرار دیا ہے اور ظاہر ہے کہ نزول کے یہ معنی مرزا قادیانی کے ہی مناسب ہیں۔۹… رہا یہ امر کہ آیت میں آسمان پر جانے کی کوئی تصریح نہیں۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ بل رفعہ اﷲ الیہ (اﷲتعالیٰ نے عیسیٰ کو اپنی طرف اٹھالیا) اس کلام کے معنی ہی یہ ہیں کہ اﷲ نے آسمان پر اٹھالیا جیسا کہ: ’’تعرج الملائکۃ والروح الیہ‘‘ کے معنی یہ ہیں کہ: فرشتے اور روح الامین اﷲ کی طرف چڑھتے ہیں یعنی آسمان پر۔ وقال تعالیٰ :’’الیہ یصعد الکلم الطیب والعمل الصالح یرفعہ‘‘ اﷲ ہی کی طرف پاکیزہ کلمات چڑھتے ہیں اور اﷲتعالیٰ عمل صالح کو اوپر اٹھاتا ہے۔ یعنی آسمان کی طرف چڑھتے ہیں۔ اس طرح بل رفعہ اﷲ الیہ میں آسمان پر اٹھایا جانا مراد ہوگا اور جس کو خدائے تعالیٰ نے ذرا بھی عقل دی ہے۔ وہ سمجھ سکتا ہے بل رفعہ اﷲ الیہ کے یہ معنی کہ خدا نے ان کو عزت کی موت دی۔ یہ معنی جس طرح لغت کے خلاف ہیں اسی طرح سیاق و سباق کے بھی خلاف ہیں۔ اس طرح کہ اس آیت کی تفسیر میں حضرت ابن عباسؓ سے باسناد صحیح یہ منقول ہے : ’’لما اراداﷲ ان یرفع عیسیٰ الیٰ السمائ‘‘(تفسیر ابن کثیر ص ۵۷۴ ج۱ زیر آیت بل رفعہ اﷲ)’’جب اﷲتعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی طرف اٹھانے کا ارادہ فرمایا۔ الی آخر القصہ ‘‘اس کے علاوہ متعدد احادیث میں آسمان پر جانے کی تصریح موجود ہے وہ احادیث ہم نقل کرچکے ہیں۔۱۰… مرزا قادیانی نے لکھا ہے: ’’لہٰذا یہ امر ثابت ہے کہ رفع سے مراد اس جگہ موت ہے۔ مگر ایسی موت جو عزت کے ساتھ ہو۔جیسا کہ مقربین کے لئے ہوتی ہے کہ بعد موت ان کی روحیں علیین تک پہنچائی جاتی ہیں : ’’فی مقعد صدق عند ملیک مقتدر‘‘(ازالہ اوہام ص ۵۹۹، خزائن ج۳ ص ۴۲۴)مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ رفع سے ایسی موت مراد ہے جو عزت کے ساتھ ہو۔ جیسے مقربین کی موت ہوتی ہے کہ ان کی روحیں مرنے کے بعد علیین تک پہنچ جاتی ہیں۔ اس عبارت سے خود واضح ہے کہ بل رفعہ اﷲ سے آسمان پر جانا مراد ہے۔ اس لئے کہ علیین اور ’’مقعد صدق‘‘ تو آسمان ہی میں ہیں۔ بہرحال آسمان پر جانا تو مرزا قادیانی کو بھی تسلیم ہے۔ اختلاف اس میں ہے کہ آسمان پر حضرت مسیح بن مریم کی فقط روح گئی یا روح اور جسد دونوں گئے۔ سو یہ ہم پہلے ثابت کرچکے ہیں کہ آیت میں بجسدہ العنصری رفع مراد ہے۔............دعا گو غلام نبی نوری۔
Sunday, 13 September 2015
ڈارلنگ ٹٹی اٹھا لو۔ الہام مرزا قادیانی
متحدہ
07:20
0
comments
07:20
0
comments
ڈارلنگ ٹٹی اٹھا لو۔ الہام مرزا قادیانی
مرزا غلام قادیانی یہاں پر اپنی خباثت دکھاتے ہوئے وحی الہی پر تمسخر بناتے ہوئے اپنی بیوی کو کہتا ہے کہ مجھے کشفی
بتایا گیا ہے کہ جو ٹٹی میں نے تمہیں اٹھانے کے لیے کہا تھا وہ تم نے نہیں اٹھائی،۔ استغفر اللہ۔ کتنی بڑی خباثت ہے مرزا کی۔
اس لعنتی پر لعنت ڈال کر پوسٹ شئیر کریں
Saturday, 5 September 2015
Thursday, 3 September 2015
Qadiayat Par 5Th Class... قادیانیت پر پانچویں کلاس
متحدہ
22:37
0
comments
22:37
0
comments
غداروں کا خاندان
احمدیہ تحریک کے بانی مرزا غلام احمد کا تعلق پنجاب کے ایک مغل گھرانے سے تھا۔سکھ حکمرانوں نے ان کے پردادا مرزا گل محمد کو آبائی علاقے قادیان سے نکال دیا تھا۔ جس نے اس وقت پنجاب کے حکمران راجہ رنجیت سنگھ کے ایک مخالف سردار فتح سنگھ کے دربار میں اپنے اہل و عیال سمیت پناہ لے لی۔فتح سنگھ کے مرنے کے بعد رنجیت سنگھ نے اس کے علاقے بھی قبضہ میں لے لیے۔ مرزا غلام احمد کے باپ مرزا غلام مرتضیٰ اور ان کے چچا مرزا مرزا غلام محی الدین نے سکھ فوج میں شامل ہو کر سکھوں کے مظالم کے خلاف شمالی ہندوستان کے مسلمانوں کی تحریک آزادی کو کچلنے میں سرگرمی سے حصہ لیا۔مرزا مرتضیٰ نے شمال مغربی ہند میں سید احمد شہید کے ساتھیوں اور ان کشمیری مسلمانوں کو شہید کیا جو سکھوں کے اقتدار کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے۔رنجیت سنگھ نے کشمیر پر ١٨١٨ء میں اور پشاور پر ١٨٢٣ء میں قبضہ کیا۔
١٨٣٤ء میں اس کی”بیش بہا ”خدمات کے عوض رنجیت سنگھ نے قادیان میں اس کے پانچ گاؤں بحال کر دئیے۔اگلے سال رنجیت سنگھ نے وفات پائی۔اس کی وفات کے بعد مرکزی قوت کمزور پڑنے لگی اور انگریزوں کا اثر و نفوذ بڑھنے لگا۔ مرزا مرتضیٰ نے انگریزوں کی طرف داری کی۔وہ سکھ دربار میں انگریزوں کا قابل اعتماد آلہ کار بن گیا۔جب سکھوں کو اس بات کا علم ہو گیا تو انہوں نے اسے اور اس کے بھائی مرزا غلام محی الدین کو قتل کرنے کی کوشش کی،مگر یہ اپنے چھوٹے بھائی مرزا غلام حیدر کی مداخلت کے باعث بچ گئے۔
١٨٥٧ء کی جنگ آزادی میں خدمات سر انجام دینے والے وفادار گھرانوں کی دستاویز تیا ر کرتے ہوئے ”روسائے پنجاب ”نامی کتاب میں سرلیپل گریفن غلام مرتضیٰ کی خدمات کے بارے میں مندرجہ ذیل خیالات پیش کرتا ہے :
دربار نو نہال سنگھ اور شیر سنگھ کے وقت مرزا غلام مرتضیٰ کو سر گرم خدمت پر رکھا گیا۔١٨٤١ء میں وہ جنرل ونٹورا کے ساتھ منڈی اور کولو بھیجا گیا اور ١٨٤٣ء میں ایک پیادہ رجمنٹ کے ساتھ پشاور بھیجا گیا۔اس نے ہزارہ میں بغاوت کے وقت اپنے آپ کو ممتاز کیا اور جب ١٨٤٨ء کی بغاوت پھوٹ پڑی تو وہ حکومت کا وفادار رہا اور اس کی طر ف سے لڑتا رہا۔اس کے بھائی غلام محی الدین نے بھی اس وقت بیش قیمت خدمات سرانجام دیں۔دیوان ملراج کی امداد کے لیے جب بھائی دیوان سنگھ اپنے فوجی دستوں کے ساتھ ملتان جا رہا تھا تو مرزا غلام محی الدین نے دوسرے جاگیر داروں لنگر خان ساہیوال اور صاحب خان ٹوانہ کی مدد سے مسلمان آبادی کو ساتھ ملا لیا اور صاحب دیال کی فوج کے ساتھ باغیوں پر حملہ کیا اور انہیں مکمل شکست دیتے ہوئے چناب میں دھکیل دیا جہاں چھ سوسے زائد افراد ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔
Mirza Ghulam Ahmad Qadiani, Kitab-ul-Baryah, Qadian p.143
مارچ ١٨٤٩ء میں جب انگریزوں نے پنجاب پر قبضہ کیا تواس گھرانے کی تمام جاگیریں تو بحال نہ کی گئیں مگر سا ت سو روپے کی پنشن،قادیان اور قریبی دیہاتوں کے مالکانہ حقوق مرزا غلام مرتضیٰ اوراس کے بھائی کو دیے گئے۔
See Abdul Rahim Dard Qadiani, Life of Ahmad, Lahore 1948, p.13
انگریزوں کے پنجاب کے الحاق کے دو ماہ بعد جون ١٨٤٩ء میں مرزا غلام مرتضیٰ نے پنجاب کے مالیاتی کمشنر جے۔ایم۔ ولسن کو خط لکھا جس میں پنجاب کے الحاق کے موقع پر ا س کے خاندان کی طرف سے کی گئی خدمات کے عوض مدد کی استدعا کی گئی تھی۔١١ جون ١٨٤٩ء کو ولسن نے جواب دیا۔
میں نے تمہاری درخواست کا بغور جائزہ لیا ہے جس نے مجھے تمہاری اور تمہارے خاندان کی ماضی کی خدمات اور حقوق یاد دلا دیئے ہیں۔ مجھے بخوبی علم ہے کہ برطانوی حکومت کے قیام سے لے کر تم اور تمہارا خاندان یقیناً مخلص،وفادار اور ثابت قدم رعایا رہے ہو اور تمہارے حقوق واقعی قابل لحاظ ہیں۔تمہیں ہر لحاظ سے پر امید اور مطمئن رہنا چاہیے کہ حکومت برطانیہ تمہارے خاندانی حقوق اور خدمات کو کبھی فراموش نہیں کرے گی اور جب بھی کوئی سازگار موقع آیا ان کا خیال کیا جائے گا۔تم ہمیشہ سرکار انگریزی کا ہوا خواہ اور جاں نثار رہو کیونکہ اسی میں سرکار کی خوشنودی اور تمہاری بہبودی ہے۔
Mirza Ghulam Ahmad, Kashful Ghata, Ziaul-Islam Press Qadian1898,p.
١٨٥٧ء کی جنگ آزادی نے پنجاب کے وفادار خدمت گاروں کو موقع فراہم کیا کہ وہ اپنے برطانوی آقاؤں کو اپنی خدمات پیش کرسکیں۔ ہماری تاریخ کے اس کڑے دور میں مرزا کے گھرانے کی طرف سے انگریزوں کو پیش کی گئی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے سر لیپل گریفن لکھتا ہے :
١٨٥٧ء کی بغاوت کے دوران مرزا کے گھرانے نے بہترین خدمات سرانجام دیں۔مرزا غلام مرتضیٰ نے کئی آدمی بھرتی کیے اور اس کا بیٹا غلام قادر جنرل نکلسن کی فوجوں میں خدمات سرانجام دے رہا تھا۔ جب اس نے چھیالیس مقامی پیادوں کے باغیوں کو تباہ کیا جو سیالکوٹ سے تریموں گھاٹ فرار ہو گئے تھے۔جنرل نکلسن نے غلام قادر کو ایک سند عطا کی جس میں یہ لکھا تھا کہ ١٨٥٧ء میں مرزا کے گھرانے سے بڑھ کر ضلع میں کسی اور نے اتنا وفاداری کا ثبوت نہیں دیا”
See Abdul Rahim Dard Qadiani, Life of Ahmad, Lahore 1948, p.
دلی میں حریت پسندوں کی طرف سے جنرل نکلسن کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔عبدالرحیم درد بیان کرتا ہے :
”جنرل نکلسن کے ذہن پر قائم شدہ وفادارانہ ا ور سرگرم تاثر جو مرزا کے گھرانے نے چھوڑا اور جس کا تذکرہ سرجان لارنس نے اپنی جنگ آزادی کی روداد”جنرل نکلسن کے بغیر دلی فتح نہیں ہو سکتاتھا” میں کیا ہے کی حقیقت حال اس نیچے دئیے گئے خط سے معلوم کی جا سکتی ہے جو اس نے اپنی موت سے ایک ماہ قبل اگست ١٨٥٨ء کو مرزا غلام قادر کو لکھا :
جیساکہ تم نے اور تمہارے گھرانے نے عظیم ترین اخلاص اور وفاداری سے ١٨٥٧ء کی بغاوت کو کچلنے میں تریمو گھاٹ، میر تھل اور دوسری جگہوں پر حکومت کی امداد کی ہے اور اپنے آپ کو حکومت کا مکمل وفادار ثابت کیا ہے اور اپنی جیب سے پچاس سواروں اور گھوڑوں سے حکومت کی امداد کی ہے لہٰذا تمہاری وفاداری اور بہادری کے اعتراف میں تمہیں یہ پروانہ جاری کیا جاتا ہے جسے تم سنبھال کر رکھنا۔حکومت اور اس کے اہل کار ان ہمیشہ تمہاری خدمات،حقوق اور اخلاص جوتم نے حکومت کے بارے میں دکھلایا ہے کا ہمیشہ خیال رکھیں گے۔باغیوں کو کچلنے کے بعد میں تمہارے گھرانے کی بہبود کی طرف خیال کروں گا۔میں نے گورداسپور کے ڈپٹی کمشنر مسٹر نسبت کو لکھا ہے جس میں تمہاری خدمات کی طرف اس کی توجہ مبذول کروائی ہے۔
See Abdul Rahim Dard Qadiani, Life of Ahmad, Lahore 1948, p.
وہ ١٨٥٧ء کی بد نصیب جنگ کے خاتمے پر برطانوی آقاؤں کی جانب سے دو سو روپے مالیت کی ایک خلعت اور ایک سندسے نوازا گیا۔گورنر کے دربار میں اسے ایک کرسی بھی عطا کی گئی۔
نیچے رابرٹ کسٹ کمشنر لاہور کی جانب سے ٢٠ستمبر ١٨٥٨ء کو لکھے گئے اس توصیفی خط کا متن ہے جو اس نے مرزا غلام مرتضیٰ کو لکھا :
رابرٹ کسٹ صاحب بہادر کمشنر لاہور
تہور و شجاعت دستگاہ مرزا غلام مرتضیٰ رئیس قادیان بعافیت باشند
از اینجاکہ ہنگام مفسدہ ہندوستان موقوعہ١٨٥٧ء از جانب آپ کے رفاقت و خیر خواہی ومدد دہی سرکار دولت مدار انگلشیہ درباب نگاہ داشت سواراں وبہمر سانی اسپاں بخوبی بمنصہ ظہور پہنچی اور شروع مفسدہ سے آج تک آپ بہ دل ہوا خواہ سرکا ر رہے اور باعث خوشنودی سرکار ہوا۔لہٰذا بدلے اسی خیر خواہی اور خیر سگالی خلعت مبلغ دوسوروپے سرکار سے آپ کو عطا ہوتا ہے اور حسب منشا چھٹی صاحب چیف کمشنر بہادر نمبری ٥٧٦ مورخہ ١٠ اگست١٨٥٧ء پروانہ ہذا با اظہار خوشنودی سرکار و نیک نامی وفاداری بنام آپ کے لکھا جاتا ہے۔
Ghulam Ahmad, Shahadat-ul-Quran, Punjab Press Sialkot,1893. p.
سر ظفر اللہ بیان کرتا ہے کہ مرزا غلام مرتضیٰ نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں فوج میں شمولیت اختیار کی اور کئی لڑائیوں میں اعزازات حاصل کیے۔بعد ازاں اس نے اور اس کے بڑے بیٹے مرزا غلام قادر نے انگریزوں کے لیے قابل تعریف خدمات سرانجام دیں جن کو حکام نے باقاعدہ پسند کیا۔
Sir Zafarullah, Essence of Islam, vol.1,London,1979,p.viii
١٨٧٦ء میں مرزا غلام مرتضیٰ نے وفات پائی۔
See Qazi Fazal Ahmad’s Kalma-e- Rabani,Lahore,1893
اس کے مرنے کے بعد اس کے بڑے بیٹے مرزا غلام قادر نے کمشنر مالیات پنجاب رابرٹ ایجرٹن کو اپنے والد کی مو ت کی اطلاع دیتے ہوئے اور برطانوی شہنشاہیت کے لیے اپنے خاندان کی خدمات پیش کرتے ہوئے خط لکھا۔اس نے اپنی خدمات کی بنا پر کچھ مدد کی درخواست کی۔مرزا غلام احمد کی کتاب ”کشف الغطاء”میں ٢٩ جون ١٨٧٦ء کو ایجرٹن کی طرف سے غلام قادر کو دیا گیا جواب یوں ہے۔
سررابرٹ ایجرٹن فنانشل کمشنر پنجاب
مشفق مہربان دوستاں مرزا غلام قادر ریئس قادیان حفظہ
آپ کا خط دو ماہ حال کا لکھا ہو ا ملاحظہ حضور ایں جانب میں گزرا۔مرزا غلام مرتضیٰ صاحب آپ کے والد کی وفات سے ہم کو بہت افسوس ہوا۔ مرزا غلام مرتضیٰ سرکار انگریز کا اچھا خیر خواہ اور وفاداررئیس تھا۔ہم آپ کی خاندانی لحاظ سے اسی طرح عزت کریں گے۔جس طرح تمہارے باپ وفادار کی کی جاتی تھی۔ ہم کو کسی اچھے موقع کے نکلنے پر تمہارے باپ کی وفاداری کی بہتری اور پابجائی کا خیال رہے گا۔
المرقوم٢٩ جون ١٨٧٦ء
سررابرٹ ایجرٹن صاحب بہادر
فنانشل کمشنر پنجاب
Mirza Ghulam Ahmad, Kashful Ghata, Qadian 1898, p.5
احمدیہ تحریک کے بانی مرزا غلام احمد کا تعلق پنجاب کے ایک مغل گھرانے سے تھا۔سکھ حکمرانوں نے ان کے پردادا مرزا گل محمد کو آبائی علاقے قادیان سے نکال دیا تھا۔ جس نے اس وقت پنجاب کے حکمران راجہ رنجیت سنگھ کے ایک مخالف سردار فتح سنگھ کے دربار میں اپنے اہل و عیال سمیت پناہ لے لی۔فتح سنگھ کے مرنے کے بعد رنجیت سنگھ نے اس کے علاقے بھی قبضہ میں لے لیے۔ مرزا غلام احمد کے باپ مرزا غلام مرتضیٰ اور ان کے چچا مرزا مرزا غلام محی الدین نے سکھ فوج میں شامل ہو کر سکھوں کے مظالم کے خلاف شمالی ہندوستان کے مسلمانوں کی تحریک آزادی کو کچلنے میں سرگرمی سے حصہ لیا۔مرزا مرتضیٰ نے شمال مغربی ہند میں سید احمد شہید کے ساتھیوں اور ان کشمیری مسلمانوں کو شہید کیا جو سکھوں کے اقتدار کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے۔رنجیت سنگھ نے کشمیر پر ١٨١٨ء میں اور پشاور پر ١٨٢٣ء میں قبضہ کیا۔
١٨٣٤ء میں اس کی”بیش بہا ”خدمات کے عوض رنجیت سنگھ نے قادیان میں اس کے پانچ گاؤں بحال کر دئیے۔اگلے سال رنجیت سنگھ نے وفات پائی۔اس کی وفات کے بعد مرکزی قوت کمزور پڑنے لگی اور انگریزوں کا اثر و نفوذ بڑھنے لگا۔ مرزا مرتضیٰ نے انگریزوں کی طرف داری کی۔وہ سکھ دربار میں انگریزوں کا قابل اعتماد آلہ کار بن گیا۔جب سکھوں کو اس بات کا علم ہو گیا تو انہوں نے اسے اور اس کے بھائی مرزا غلام محی الدین کو قتل کرنے کی کوشش کی،مگر یہ اپنے چھوٹے بھائی مرزا غلام حیدر کی مداخلت کے باعث بچ گئے۔
١٨٥٧ء کی جنگ آزادی میں خدمات سر انجام دینے والے وفادار گھرانوں کی دستاویز تیا ر کرتے ہوئے ”روسائے پنجاب ”نامی کتاب میں سرلیپل گریفن غلام مرتضیٰ کی خدمات کے بارے میں مندرجہ ذیل خیالات پیش کرتا ہے :
دربار نو نہال سنگھ اور شیر سنگھ کے وقت مرزا غلام مرتضیٰ کو سر گرم خدمت پر رکھا گیا۔١٨٤١ء میں وہ جنرل ونٹورا کے ساتھ منڈی اور کولو بھیجا گیا اور ١٨٤٣ء میں ایک پیادہ رجمنٹ کے ساتھ پشاور بھیجا گیا۔اس نے ہزارہ میں بغاوت کے وقت اپنے آپ کو ممتاز کیا اور جب ١٨٤٨ء کی بغاوت پھوٹ پڑی تو وہ حکومت کا وفادار رہا اور اس کی طر ف سے لڑتا رہا۔اس کے بھائی غلام محی الدین نے بھی اس وقت بیش قیمت خدمات سرانجام دیں۔دیوان ملراج کی امداد کے لیے جب بھائی دیوان سنگھ اپنے فوجی دستوں کے ساتھ ملتان جا رہا تھا تو مرزا غلام محی الدین نے دوسرے جاگیر داروں لنگر خان ساہیوال اور صاحب خان ٹوانہ کی مدد سے مسلمان آبادی کو ساتھ ملا لیا اور صاحب دیال کی فوج کے ساتھ باغیوں پر حملہ کیا اور انہیں مکمل شکست دیتے ہوئے چناب میں دھکیل دیا جہاں چھ سوسے زائد افراد ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔
Mirza Ghulam Ahmad Qadiani, Kitab-ul-Baryah, Qadian p.143
مارچ ١٨٤٩ء میں جب انگریزوں نے پنجاب پر قبضہ کیا تواس گھرانے کی تمام جاگیریں تو بحال نہ کی گئیں مگر سا ت سو روپے کی پنشن،قادیان اور قریبی دیہاتوں کے مالکانہ حقوق مرزا غلام مرتضیٰ اوراس کے بھائی کو دیے گئے۔
See Abdul Rahim Dard Qadiani, Life of Ahmad, Lahore 1948, p.13
انگریزوں کے پنجاب کے الحاق کے دو ماہ بعد جون ١٨٤٩ء میں مرزا غلام مرتضیٰ نے پنجاب کے مالیاتی کمشنر جے۔ایم۔ ولسن کو خط لکھا جس میں پنجاب کے الحاق کے موقع پر ا س کے خاندان کی طرف سے کی گئی خدمات کے عوض مدد کی استدعا کی گئی تھی۔١١ جون ١٨٤٩ء کو ولسن نے جواب دیا۔
میں نے تمہاری درخواست کا بغور جائزہ لیا ہے جس نے مجھے تمہاری اور تمہارے خاندان کی ماضی کی خدمات اور حقوق یاد دلا دیئے ہیں۔ مجھے بخوبی علم ہے کہ برطانوی حکومت کے قیام سے لے کر تم اور تمہارا خاندان یقیناً مخلص،وفادار اور ثابت قدم رعایا رہے ہو اور تمہارے حقوق واقعی قابل لحاظ ہیں۔تمہیں ہر لحاظ سے پر امید اور مطمئن رہنا چاہیے کہ حکومت برطانیہ تمہارے خاندانی حقوق اور خدمات کو کبھی فراموش نہیں کرے گی اور جب بھی کوئی سازگار موقع آیا ان کا خیال کیا جائے گا۔تم ہمیشہ سرکار انگریزی کا ہوا خواہ اور جاں نثار رہو کیونکہ اسی میں سرکار کی خوشنودی اور تمہاری بہبودی ہے۔
Mirza Ghulam Ahmad, Kashful Ghata, Ziaul-Islam Press Qadian1898,p.
١٨٥٧ء کی جنگ آزادی نے پنجاب کے وفادار خدمت گاروں کو موقع فراہم کیا کہ وہ اپنے برطانوی آقاؤں کو اپنی خدمات پیش کرسکیں۔ ہماری تاریخ کے اس کڑے دور میں مرزا کے گھرانے کی طرف سے انگریزوں کو پیش کی گئی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے سر لیپل گریفن لکھتا ہے :
١٨٥٧ء کی بغاوت کے دوران مرزا کے گھرانے نے بہترین خدمات سرانجام دیں۔مرزا غلام مرتضیٰ نے کئی آدمی بھرتی کیے اور اس کا بیٹا غلام قادر جنرل نکلسن کی فوجوں میں خدمات سرانجام دے رہا تھا۔ جب اس نے چھیالیس مقامی پیادوں کے باغیوں کو تباہ کیا جو سیالکوٹ سے تریموں گھاٹ فرار ہو گئے تھے۔جنرل نکلسن نے غلام قادر کو ایک سند عطا کی جس میں یہ لکھا تھا کہ ١٨٥٧ء میں مرزا کے گھرانے سے بڑھ کر ضلع میں کسی اور نے اتنا وفاداری کا ثبوت نہیں دیا”
See Abdul Rahim Dard Qadiani, Life of Ahmad, Lahore 1948, p.
دلی میں حریت پسندوں کی طرف سے جنرل نکلسن کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔عبدالرحیم درد بیان کرتا ہے :
”جنرل نکلسن کے ذہن پر قائم شدہ وفادارانہ ا ور سرگرم تاثر جو مرزا کے گھرانے نے چھوڑا اور جس کا تذکرہ سرجان لارنس نے اپنی جنگ آزادی کی روداد”جنرل نکلسن کے بغیر دلی فتح نہیں ہو سکتاتھا” میں کیا ہے کی حقیقت حال اس نیچے دئیے گئے خط سے معلوم کی جا سکتی ہے جو اس نے اپنی موت سے ایک ماہ قبل اگست ١٨٥٨ء کو مرزا غلام قادر کو لکھا :
جیساکہ تم نے اور تمہارے گھرانے نے عظیم ترین اخلاص اور وفاداری سے ١٨٥٧ء کی بغاوت کو کچلنے میں تریمو گھاٹ، میر تھل اور دوسری جگہوں پر حکومت کی امداد کی ہے اور اپنے آپ کو حکومت کا مکمل وفادار ثابت کیا ہے اور اپنی جیب سے پچاس سواروں اور گھوڑوں سے حکومت کی امداد کی ہے لہٰذا تمہاری وفاداری اور بہادری کے اعتراف میں تمہیں یہ پروانہ جاری کیا جاتا ہے جسے تم سنبھال کر رکھنا۔حکومت اور اس کے اہل کار ان ہمیشہ تمہاری خدمات،حقوق اور اخلاص جوتم نے حکومت کے بارے میں دکھلایا ہے کا ہمیشہ خیال رکھیں گے۔باغیوں کو کچلنے کے بعد میں تمہارے گھرانے کی بہبود کی طرف خیال کروں گا۔میں نے گورداسپور کے ڈپٹی کمشنر مسٹر نسبت کو لکھا ہے جس میں تمہاری خدمات کی طرف اس کی توجہ مبذول کروائی ہے۔
See Abdul Rahim Dard Qadiani, Life of Ahmad, Lahore 1948, p.
وہ ١٨٥٧ء کی بد نصیب جنگ کے خاتمے پر برطانوی آقاؤں کی جانب سے دو سو روپے مالیت کی ایک خلعت اور ایک سندسے نوازا گیا۔گورنر کے دربار میں اسے ایک کرسی بھی عطا کی گئی۔
نیچے رابرٹ کسٹ کمشنر لاہور کی جانب سے ٢٠ستمبر ١٨٥٨ء کو لکھے گئے اس توصیفی خط کا متن ہے جو اس نے مرزا غلام مرتضیٰ کو لکھا :
رابرٹ کسٹ صاحب بہادر کمشنر لاہور
تہور و شجاعت دستگاہ مرزا غلام مرتضیٰ رئیس قادیان بعافیت باشند
از اینجاکہ ہنگام مفسدہ ہندوستان موقوعہ١٨٥٧ء از جانب آپ کے رفاقت و خیر خواہی ومدد دہی سرکار دولت مدار انگلشیہ درباب نگاہ داشت سواراں وبہمر سانی اسپاں بخوبی بمنصہ ظہور پہنچی اور شروع مفسدہ سے آج تک آپ بہ دل ہوا خواہ سرکا ر رہے اور باعث خوشنودی سرکار ہوا۔لہٰذا بدلے اسی خیر خواہی اور خیر سگالی خلعت مبلغ دوسوروپے سرکار سے آپ کو عطا ہوتا ہے اور حسب منشا چھٹی صاحب چیف کمشنر بہادر نمبری ٥٧٦ مورخہ ١٠ اگست١٨٥٧ء پروانہ ہذا با اظہار خوشنودی سرکار و نیک نامی وفاداری بنام آپ کے لکھا جاتا ہے۔
Ghulam Ahmad, Shahadat-ul-Quran, Punjab Press Sialkot,1893. p.
سر ظفر اللہ بیان کرتا ہے کہ مرزا غلام مرتضیٰ نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں فوج میں شمولیت اختیار کی اور کئی لڑائیوں میں اعزازات حاصل کیے۔بعد ازاں اس نے اور اس کے بڑے بیٹے مرزا غلام قادر نے انگریزوں کے لیے قابل تعریف خدمات سرانجام دیں جن کو حکام نے باقاعدہ پسند کیا۔
Sir Zafarullah, Essence of Islam, vol.1,London,1979,p.viii
١٨٧٦ء میں مرزا غلام مرتضیٰ نے وفات پائی۔
See Qazi Fazal Ahmad’s Kalma-e- Rabani,Lahore,1893
اس کے مرنے کے بعد اس کے بڑے بیٹے مرزا غلام قادر نے کمشنر مالیات پنجاب رابرٹ ایجرٹن کو اپنے والد کی مو ت کی اطلاع دیتے ہوئے اور برطانوی شہنشاہیت کے لیے اپنے خاندان کی خدمات پیش کرتے ہوئے خط لکھا۔اس نے اپنی خدمات کی بنا پر کچھ مدد کی درخواست کی۔مرزا غلام احمد کی کتاب ”کشف الغطاء”میں ٢٩ جون ١٨٧٦ء کو ایجرٹن کی طرف سے غلام قادر کو دیا گیا جواب یوں ہے۔
سررابرٹ ایجرٹن فنانشل کمشنر پنجاب
مشفق مہربان دوستاں مرزا غلام قادر ریئس قادیان حفظہ
آپ کا خط دو ماہ حال کا لکھا ہو ا ملاحظہ حضور ایں جانب میں گزرا۔مرزا غلام مرتضیٰ صاحب آپ کے والد کی وفات سے ہم کو بہت افسوس ہوا۔ مرزا غلام مرتضیٰ سرکار انگریز کا اچھا خیر خواہ اور وفاداررئیس تھا۔ہم آپ کی خاندانی لحاظ سے اسی طرح عزت کریں گے۔جس طرح تمہارے باپ وفادار کی کی جاتی تھی۔ ہم کو کسی اچھے موقع کے نکلنے پر تمہارے باپ کی وفاداری کی بہتری اور پابجائی کا خیال رہے گا۔
المرقوم٢٩ جون ١٨٧٦ء
سررابرٹ ایجرٹن صاحب بہادر
فنانشل کمشنر پنجاب
Mirza Ghulam Ahmad, Kashful Ghata, Qadian 1898, p.5

























