Showing posts with label مناظرے. Show all posts
Showing posts with label مناظرے. Show all posts

Sunday, 6 September 2015

Qadianiyat par last class.............قادیانیت پر آخری کلاس

0 comments

مذہبی دعووں کی سیاست


مرزا صاحب کا سارا کاروبار صرف اور صرف مذہب کی آڑ میں سیاست تھی جس کا اسلام کے احیاء کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا۔آپ انگریزوں کے آلہ کار اور مسلمانوں کے اتحاد کے سب سے بڑے دشمن تھے۔مجدد، مہدی، مسیح موعود، نبی، رسول اور کرشن اوتار کے دعوے صرف سیاسی تماشے تھے۔آپ کے سیاسی کاروبار کی نوعیت سمجھنے کے لیے آپ کے مہددیت کے دعوے سے گفتگو کا آغاز کرتے ہیں۔



مہدی


احادیث کے مطابق مہدی ایک ہدایت یافتہ شخصیت ہوں گے۔نبی کریمﷺ کے طریق پر خلافت قائم کریں گے اور زمین کو اُس وقت عدل و انصاف سے بھر دیں گے جب اسے زمین سے منتشر کر کے نکالا جا چکا ہو گا۔ وہ ایک جنگجو اور اسلام کے عظیم سپاہی ہوں گے۔تاریخ کے مختلف ادوار میں اپنے سیاسی مقاصد کو پروان چڑھانے کے لیے کئی مذہبی مہم جوؤں نے مہد ی ہونے کا دعویٰ کیا۔سیاسی مقاصد کی خاطر ایران کے بابیوں اور ہندوستان کے قادیانیوں نے اس کا سب سے زیادہ استعمال کیا۔ جب کبھی مسلمانوں کی سیاسی قو ت تنزل کا شکار ہوئی تو کوئی نہ کوئی مہدی اُٹھ کھڑا ہوا۔انیسویں صدی کے سیاسی حالات کے باعث ”مہدی ”کے تصور نے بڑی اہمیت حاصل کی۔ یہ اعتماد بحال کرنے اور کسی قوم کی اُمید زندہ رکھنے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔یہ توقع کی جاتی تھی کہ مہدی علیہ السلام آکر ماضی کی شان و شوکت بحال کریں گے اور اسلامی دُنیا کو ایک خوشگوار انجام تک لے جائیں گے۔مرزا صاحب نے مہدی کا دعویٰ ١٨٩١ء میں کیا۔ آپ نے یہ اعلان کیا کہ آپ کی ذات میں مہدی کے متعلق تمام پیش گوئیاں مکمل ہو گئی ہیں ،مگر مہدی کے جہادی پہلو کے متعلق سوچ کر آپ خوف سے کانپ جاتے۔ آپ نے اپنے آپ کو ”عدم تشدد کا حامی مہدی” قرار دیا جو زمین پر جنگ کو روکنے آیا تھا۔آپ نے انگریزوں اور مسلمانوں کو یہ یقین دلانے کی سر توڑ کوشش کی کہ مہد ی کی عالمی فتوحات کی جو پیش گوئیاں ہیں وہ امن کی فتوحات ہیں ، جنگ کی نہیں۔اپنی کتابوں میں آپ نے مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرایا کہ وہ ایک خونخوار جنگجو اور خونی مہدی کے تصور کو پروان چڑھا رہے ہیں ،جو غیر مسلم یہودیوں اور عیسائیوں کو قتل کرے گا۔ ١ ایسا کوئی مہدی نہیں آ سکتا جو جہاد شروع کرے۔ وہ ایک ابلاغ کا ر تو ہو سکتا ہے،سپاہی نہیں۔انگریزوں کے خلاف جنگ کا سوال ہی پید انہیں ہوسکتا تھا،خواہ ہندوستان میں یااسلامی دُنیا میں کہیں اور اس کی ضرورت پیش آئے۔

انیسویں صدی کے آخیر میں نو آبادیاتی قومیں ایشیا ء اور افریقہ میں نو آبادیوں کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی تھیں فرانسیسی سامراج نے تیونس پر قبضہ کر لیا اور برطانیہ مصر لے گیا۔مصر کے معاملات میں برطانیہ کی مداخلت ١٨٧٥ء میں شروع ہوئی جب برطانوی وزیر اعظم ڈزرائیلی نے نہر سویز کے حصص خریدنے کے لیے بات چیت شروع کی۔ اس کے بعد اگلی دہائی میں بھی انہوں نے ”پُر امن نفوذ پذیری ” جاری رکھی، خد یواسماعیل نے نو آبادیاتی شکنجے سے جان چھڑانے کی کوشش کی،مگر ناکام رہا۔ ١٨٧٩ء میں مصری فوج میں ایک بغاوت ہوئی جو دبادی گئی۔ دوسال بعد کرنل احمد اعرابی نے مصری معاملات میں برطانوی مداخلت کے خلاف چند فوجی افسران اور مذہبی رہنماؤں کے ساتھ مل کر ہتھیار اُٹھا لیے۔ ١١ اور ١٢ جون کو اسکندریہ میں بلوہ ہوا۔ ایک مہینے بعد برطانوی امیر البحر فریڈرک بی کیمپ نے وہ کیاجسے بعد میں ولزلی نے ”اسکندریہ پر احمقانہ اور مجرمانہ بمباری ”کا نام دیا گیا۔لندن میں اعرابی کی جنگ آزادی کو ختم کرنے کے لیے گلیڈ سٹون حکومت نے فوج بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ ستمبر ١٨٨٢ء میں فوج کے نائب سالار ولزلی کو طل کبیر کی جنگ میں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جو کہ نہر سویز اور قاہرہ کے تقریباً وسط میں تھی۔تاہم برطانوی فوجیں کامیاب رہیں اور کرنل احمد کی فوجیں جزیرہ سشیلز کی طرف ہٹ گئیں۔١٨٨٣ء میں برطانیہ نے مصر پر قبضہ کر لیا اوراس حقیقت کے باوجود کہ مصر ترکی سلطنت کا حصہ تھا،برطانیہ نے اس پر اپنا نو آبادی تسلط جاری رکھا۔

(مرزا غلام احمد”حقیقت المہدی ”قادیان۔ ١٨٩٩ء۔ صفحہ نمبر ٦۔ اور ” محمد علی، مرزا غلام احمد” لاہور۔١٩٦٧ء صفحہ نمبر ٥)

اعرابی کی نو آبادیاتی مخالف بغاوت کے دوران سوڈان میں ایک مذہبی رہنما المہدی (محمد احمد ) اُٹھ کھڑے ہوئے۔انہوں نے تمام قبائل کو متحد کیا اور ان تمام مصری دستوں کو متواتر شکستیں دیں جو انہیں گرفتار کرنے کے لیے بھیجے گئے تھے۔نیل کے مغرب میں مہدی کے درویشوں نے پورے سوڈان کا مکمل اختیار جلد ہی سنبھا ل لیا۔

((مہدی برطانوی یا مصری تاریخ کا ایک باب یا حصہ نہیں یہ اسلامی احیاء کے خود مختار تاریخی عمل کا حصہ ہے۔ دیکھئے بی۔ایم۔ہولٹ ”سوڈان میں مہدی ریاست ”۔ ٨٩۔١٨٨١۔ آکسفورڈ۔١٩٥٨۔ اور۔محمد شکیبہ۔”سوڈان میں برطانوی حکمت عملی ” لندن۔١٩٥٢ء)

١٨٨٣ء میں دس ہزار فوجیوں کولے کر برطانوی جرنیل ہکس نے درویشوں کے خلاف لڑنے کے لیے صحرا میں بڑھنا شروع کیا۔ جذبہ جہاد سے سر شار مہدی کی فوجوں نے دس ہزار آدمیوں کی فوج کا مکمل صفایا کر دیا جس سے برطانوی حیران اور خوفزدہ ہو گئے۔ لارڈ فٹ موریز نے دار الامرا ء کو بتایا کہ ”جب سے فرعون کے ہاتھی بحیرہ احمر میں ڈوب کر تباہ ہوئے اس وقت سے کسی فوج کی اتنی مکمل تباہی آج تک نہیں ہو سکی ”۔ سوڈانیوں اور عرب ممالک کی کثیر تعداد نے یہ یقین کر لیا کہ آپ وہی ا صل مہدی ہیں جن کی آمد کی خوشخبری حضور اکرمﷺ نے دی تھی۔

(لٹن سٹار کی۔ Eminent Victorians۔چٹوئی اور انڈس۔لندن۔١٩٧٤۔صفحہ نمبر ٢٥٥)

برطانوی سامراجیوں نے درویشوں کے خلاف لڑنے کے لیے چارلس گورڈن کا انتخاب کیا۔ گورڈن نے تائیوان کی چین میں ”تائپنگ بغاوت ”کو کچل کر بڑا نام کمایا تھا۔اس تحریک کا سربراہ خدا کا بیٹا،خدا کا پیغمبر،آسمانی بادشاہ اور حضرت مسیح کا چھوٹا بھائی ہونے کا دعویدار تھا۔ وہ بھی مرزا کی طرح اپنے علمی مقاصد میں ناکامی پرسیاست کی طرف راغب ہو گیا۔١٨٦٤ ء میں گورڈن نے ”مسیح کی بغاوت ”کچل دی اور نان کن پر قبضہ کر لیا۔

مہدی کی فوجو ں کے بڑھتے ہوئے عسکری دباؤ کے سامن گورڈن نے اپنی چھاؤنیاں ہٹا لیں اور برطانوی احکامات کے خلاف خرطوم پر اپنا قبضہ جاری رکھا جب تک کہ ١٨٨٥ء میں مہدی کی فوجوں نے اس پر قبضہ کر لیا۔ درویشوں نے جنرل گورڈن کو مار ڈالا۔ملکہ وکٹوریہ اصرار کرتی رہی کہ ہندوستانی دستوں کو عدن سے حرکت دی جائے کہ وہ گورڈن کو بچا سکیں۔مشہور انگریزی شاعر لارڈٹینی سن نے گورڈن کے بارے ایک نظم لکھی اور برطانوی پریس نے اسے ”سپاہی ولی”کا خطاب دے دیا اگرچہ ریڈ ور زبلرز نے یہ کہا ”یہ آدمی اُونٹوں سے بھی کم حیثیت کا مالک تھا۔

(رچرڈ گیرٹ۔ ”جنرل گورڈن ”۔آتھر بیکر لمیٹڈ لندن۔١٩٧٤ء صفحہ نمبر ٢١٥

محمد احمد المہدی سوڈانی کو برطانوی فوجیں کبھی بھی نیچا نہ دکھا سکیں۔ دس سال کے عرصے کے بعد کچنر نے ١٨٩٦ء میں سوڈان کو سامراجی دائرہ اختیار میں زبردستی لانے کے لیے فوجی مہمات شروع کیں۔ ایک سال کے بعد مہدی کے خلیفہ کو بڑی خونریزی کے بعد شکست ہوئی اور وہ ایک سال بعد مارے گئے۔کچنر نے مہدی کا مقبرہ تباہ کر دیا۔ ان کی ہڈیاں دریائے نیل میں پھینک دی گئیں اور یہ تجویز ہوا کہ ان کی کھوپڑی رائل کالج آف سرجنز کو بھجوائی جائے جہاں اس کی نپولین کی آنتوں کے ساتھ نمائش کی جا سکے۔بعد ازاں وادی حلفہ میں یہ کھوپڑی رات کے وقت خفیہ طور پر دفن کر دی گئی۔

مہدی کی سوڈان میں جنگ آزادی نے عرب اور شام میں سنگین خطرے بھڑکا دئیے۔ مسلمانانِ ہند نے بھی برطانوی فوجوں کی ذلت آمیز شکستوں پر اطمینان کا سانس لیا۔ انہوں نے مہدی سوڈانی کو عزت و احترام دیا۔ انہیں خطوط بھیجے اور قوموں کے نجات دہندہ کا درجہ دیا۔ ہندوستان میں اُنہیں یقین پورا پایا جاتا تھا کہ مہدی سوڈانی افریقہ کو فتح کرنے کے بعد انڈیا بھی فتح کریں گے اور غیر ملکی شکنجوں سے مسلمانوں کو آزاد کرائیں گے۔

( اے ایگمن ہیک۔دی جزنر۔میجر جرنل سی۔ جی گولڈن۔سی۔ بی الخرطوم۔کیگن پال ٹرونج اینڈ کمپنی لندن ١٨٨٥ء۔صفحہ نمبر ٤٤ٍ)

جب مہدی سوڈانی کی تحریک پورے زوروں پر تھی، مرزا قادیانی جہاد کی مذمت اور برطانوی سامراج کے روشن ترین خاکے تیار کر کے مذہبی مواد کی بھاری مقدار افریقہ کو بھجوا رہا تھا۔

اپنی کتاب ”حقیقت المہدی ”میں اس نے جہادی اور خونی مہدی کی سخت مذمت کی اور دعویٰ کیا کہ پچھلے بیس سالوں سے (١٨٧٩۔٩٩ ١٨ء)وہ تصور جہاد کے خلاف پرچار کر رہا ہے۔ ایک خونی مہدی اور مسیح کی آمد کے نظریئے اور جہاد مخالف لٹریچر کی عرب ممالک خصوصاً ترکی،شام، کابل وغیرہ میں تقسیم جاری رکھی۔ اپنی کتاب کے ساتھ عربی اور فارسی میں ایک اٹھارہ صفحات کا ضمیمہ منسلک کر کے اس نے عرب ممالک کے مسلمانوں کو دعوت دی کہ وہ اس کی مہدویت کے دعویٰ کو تسلیم کر لیں اور جہاد کے نام پر جنگیں بند کر دیں اور برطانوی حکومت کے بارے میں اپنے دلوں میں گہرا احترام پیدا کریں۔ایک دوسری کتاب ”ملکہ وکٹوریہ کی خدمت میں تحفہ ”میں آپ ذکر کرتے ہیں۔

”والد صاحب مرحوم کے انتقال کے بعد یہ عاجز دنیا کے مشغلوں سے بالکل علیحدہ ہو کر خدا تعالی کی طرف مشغول ہوا اور مجھ سے سرکار انگریزی کے حق میں جو خدمت ہوئی وہ یہ تھی کہ میں نے پچاس ہزار کے قریب کتابیں اور رسائل اور اشتہارات چھپوا کر اس ملک اور نیز دوسرے بلادِاسلامیہ میں اس مضمون کے شائع کیے کہ گورنمنٹ انگریز ہم مسلمانوں کی محسن ہے، لہٰذا ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ اس گورنمنٹ کی سچی اطاعت کرے اور دل سے اس دولت کا شکر گزار اور دعا گو رہے اور یہ کتابیں میں نے مختلف زبانوں یعنی فارسی عربی میں تالیف کر کے اسلام کے تمام ملکوں میں پھیلا دیں یہاں تک کہ اسلام کے دو مقدس شہروں مکہ اور مدینہ میں بھی شائع کر دیں۔اور روم کے پایہ تخت قسطنطنیہ اور بلادِ شام اور مصر اور کابل اور افغانستان کے متفرق شہروں میں جہاں تک ممکن تھا اشاعت کر دی جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ لاکھوں انسانوں نے جہاد کے غلیظ خیالات چھوڑ دئیے جو نا فہم ملاؤں کی تعلیم سے ان کے دلوں میں تھے۔یہ ایک ایسی خدمت مجھ سے ظہور میں آئی کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمانوں میں سے اس کی نظیر کوئی مسلمان دکھلا نہیں سکتا۔

( دیکھئے مرزا غلام احمد ”ستارہ قیصریہ ”١٨٩٩ء۔قادیان۔ صفحہ نمبر ٤٠٣ ”حقیقت مہدی ”قادیان۔١٨٩٩ء)

کیا اپنی جیب سے ہزاروں روپیہ خرچ کر کے برطانوی حمایت میں لٹریچر چھپوانے میں کوئی مقصد کارفرما ہے؟ کیا احمدی اس پر روشنی ڈالیں گے؟ یہ ہزاروں روپے (جن کی آج وقعت کروڑوں روپے بنتی ہے )کہاں سے آئے ؟ ١٨٩٨ء میں مرزا صاحب نے انکم ٹیکس کے ایک مقدمہ میں اپنی سالانہ آمدنی سات سو روپے سے کم ظاہر کی تھی، جس پر ضلع گرداسپور کے کلکٹر ٹی۔ٹی ڈکسن نے انہیں انکم ٹیکس سے مستثنی قرار دیا تھا۔

(مرزا غلام احمد۔”تحفہ قیصریہ”ص ٢٧۔)

مرزا صاحب اسے ایک خدائی نشانی قرار دیتے ہیں۔

(مرزا غلام احمد”ضرورت الامام ”قادیان ١٨٩٩ء )

برطانوی پروپیگنڈا مہم میں خرچ کے لیے وہ ہزاروں روپوں کا کہاں سے انتظام کرسکا ؟ جواب بالکل صاف ہے۔ سیاست کے اس فریب کارانہ کھیل کی مدد کے لیے برطانوی خفیہ تنظیموں کی تفویض پر خفیہ مذہبی رقوم رکھی گئی تھیں۔ہندوستان اوراس کے باہر برطانیہ کی حمایت میں پروپیگنڈا مہم کی تدوین اور اسے جاری رکھنے کے لیے فری میسن اور یہودی بھی آپ کو رقوم دیتے تھے۔ مرزا صاحب نے یہ وضاحت بھی کی ہے کہ وہ اسلامی ممالک میں اس لٹریچر کے ساتھ چند عرب شرفا ء کو بھی بھیجتے رہے ہیں۔

(مرزا غلام احمد کی تیار کردہ یادداشت جو منظوری کے لیے ملکہ وکٹوریہ ہندوستان کے منتظم اعلی کے نائب منتظم اور ہندوستان کے دوسرے اہل کاروں کو پیش کی گئی۔”تبلیغ رسالت ”۔جلد ٣۔صفحہ نمبر ١٩٦ )

قادیان کی خفیہ تنظیم کے تربیت یافتہ یہ جاسوس اسلام مخالف قوتوں کے ساتھ قریبی تعلقات قائم رکھتے تھے۔غلام نبی (قادیان)عبدالرحمن مصری، عبدالمحی عرب،(پروفیسر عبدالمحی عرب حکیم نورالدین سے بہت متاثر تھا۔ وہ نیویارک میں طب کی تعلیم کے لیے جانا چاہتا تھا،مگر امریکی حکومت نے اسے ایرانی جاسوس سمجھتے ہوئے اجازتِ داخلہ دینے سے انکار کر دیا۔ جس پر وہ لندن میں مقیم ہو گیا )

(مولانا غلام رسول مہر۔”سفر نامہ حجاز ” کراچی۔ ١٩٨٤ئ۔ صفحہ نمبر ٧٦)

اور شاہ ولی اللہ کو انیسویں صدی کے اخیر میں تخریب کارانہ مقاصد کے لیے مصر بھیجا گیا۔ان کی خدمات قاہرہ میں برطانوی خفیہ والوں کو تفویض کر دی گئیں۔ہمارے ذہنوں میں ایک اور اہم سوال اُبھرتا ہے کہ مرزا صاحب کا یہ دعویٰ تھا کہ برطانوی ہند میں جہاد ممنوع اور غیر قانونی ہے،مگر آپ نے اسے بقیہ اسلامی دنیا کے لیے مکمل طور پر غیر قانونی اور ممنوعہ کیوں قرار دیا۔ جہاں مسلمان یورپی سامراجیت کے خلاف اپنے بقاء کی جنگ لڑ رہے تھے۔کیا یہ سامراجی قوتوں اور ان کے یہودی حلیفوں کے واسطے اسلامی دنیا کی جہادی تحاریک کو تباہ کرنے کی ایک طے شدہ حکمت عملی نہیں تھی ؟



قادیانیت کیا ہے؟


قادیانیت برطانوی سامراج کا پیدا کردہ اسلام دُشمن سیاسی و سازشی فتنہ ہے جس کو مرزا غلام قادیانی نے مذہبی روپ دے کر مسلمانوں کے دلوں سے جذبہ جہاد کو مٹانے کی خطرناک سازش دور فرنگی میں فرنگی کے اشاروں پر تیار کی تھی جس کا اعتراف خود مرزا غلام قادیانی کرتا ہے کہ قادیانیت انگریز کا (خود کاشتہ پودا ) ہے (مجموعہ اشتہارات جلد سوم ص١٢١ از مرزا قادیانی ) اور قادیانی عالمی صیہونی تحریک کے آلہ کار یورپ کے تربیت یافتہ اور اسرائیل کے ایجنٹ ہیں۔ قادیانیت کا وجود ننگ انسانیت اور ملت اسلامیہ کے لیے ایک ناسور اور ایمان کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ قادیانیت حضورﷺ سے بغض و عناد، ختم نبوت پر ڈاکہ زنی اور یہودیت کے مکر و فریب اور دجل کا دوسرا نام ہے۔
 

Saturday, 5 September 2015

mirza Qadiani Gnada

0 comments

Thursday, 3 September 2015

Qadianiyat par 7th class...قادیانیت پر ساتویں کلاس

0 comments
شاہکار تخلیق : Magnum Opus


سال ١٨٧٢ء کے لگ بھگ مرزا صاحب نے ہندوستانی اخبارات و رسائل میں اپنے آپ کو اسلام کے علمبردار کے طور پر متعارف کرانے کے لیے مضامین روانہ کرنے شروع کیے۔بعد ازاں انہوں نے آریا برہمو اور دیو سماج کے رہنماؤں کے ساتھ ویدوں کے فلسفے اور تناسخ ارواح کے سوال پر زور دار مباحثے شروع کیے۔وہ اپنے آپ کو اسلام کا دفاع کرنے والے اسلامی مبلغ کے طور پر پیش کرنے کے لیے بیتاب تھے اور اس کے لیے مسلمانوں کی تائید حاصل کرنا چاہتے تھے۔١٨٧٩ء تک وہ ”براہین احمدیہ ” نامی کتاب کی تدوین میں مصروف رہے ١٨٨٤ء میں اس کتاب کی پہلی چار جلدیں چھپ گئیں۔اس کی متواتر اپیلوں پر بہت سے خوشحال مسلمانوں خصوصاً ریاست پٹیالہ کے دیوان سید محمد حسین (ریاست پٹیالہ کا دیوان خلیفہ محمد حسین برطانوی حکومت کا طرف دار تھا اسے اس شاہی مجلس کا اعتماد بھی حاصل تھا جو کہ پنجاب کی اس وفادار ریاست کے معاملات پر اختیار رکھی تھی۔اس کتاب کی اشاعت کے لیے اس نے مرزا صاحب کی بڑی مالی اور اخلاقی مدد کی۔١٨٨٤ء میں مرزا پٹیالہ گیا جہاں اس کا سرگرم استقبال کیا گیا۔١٨٨٦ء میں مرزا کو پٹیالہ آنے کی دعوت دی کہ چند اہم معاملات پر بات کرنا تھی اور تین ارکان پر مشتمل شاہی مجلس جس کے سربراہ سردار دیواسنگھ ان سے اس کا تعارف کرایا گیا۔مسیحیت کے دعویٰ کے بعد ١٨٩١ء میں مرزا صاحب نے ریاست کا تیسرا چکر لگایا۔کچھ لوگوں کوشک تھا کہ اپنے مکروہ مقاصد کی تکمیل کے لیے رقم کے فراہمی کے لیے خلیفہ انگریزوں اور مرزا صاحب کے مابین رابطے کا کام کرتا تھا۔(دیکھیے مصباح الدین۔”خاتم النبیین ”۔ راولپنڈی ١٩٧٣ء نواب بھوپال، حیدر آباد دکن کے مولوی چراغ علی، لدھیانوی کے نواب علی محمد خان اور واہ کے رئیس سردار غلام محمد نے اس کتاب کی اشاعت میں اس کی مالی معاونت کی۔

Mirza Ghulam Ahmad, Brahin-e-Ahmadya, Safeer-e-Hind Press, Amritsar, 188

براہین احمدیہ کی پہلی جلد میں دو فارسی نظمیں اور ایک طویل اعلان جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگر اسلام کی حمایت میں درج ان کی دلیلوں کو کوئی جھٹلانے کی جرأت کرے تو اسے دس ہزار روپے انعام دیا جائے گا۔یہ ایک احمقانہ اور بڑا دعویٰ تھا بعد ازاں ان کے بیٹے مرزا بشیر احمد نے کہا کہ وہ اسللام کے حق میں ایک دلیل بھی نہ دے سکے۔

Mirza Bashir Ahmad, Searat-ul-Mahdi, vol.1 p.93

مرزا نے یہ کتاب کاروباری نکتہ نظر اور اسلام کے داعی ہونے کی شہرت حاصل کرنے کے لیے لکھی پہلے کتاب کی قیمت پانچ روپے بتائی گئی لیکن بعد ازاں اسے دوگنا کیا اور پھر پچیس روپے تک بڑھا دی گئی۔وہ اس کی قیمت سو روپے مقرر کرنا چاہتے تھے مگر یہ خیال ترک کر دیا۔مسلمانان ہند کو اپیلیں کی گئیں کہ وہ پیشگی رقوم بھجیں۔یہ وعدہ کیا گیا کہ اس کتاب کی پچاس جلدیں آئیں گی جن میں اسلام کی حقانیت کے ڈھیر لگا دیے جائیں گے مگر اس کی صرف پانچ جلدیں چھپ سکیں۔ پہلی چار ١٨٨٤ ء جب کہ پانچویں جلد ٢٣ سال کے بعد ١٩٠٨ میں یعنی مرزا کی وفا ت کے بعد منظر عام پر آسکی۔ براہین احمدیہ میں مرزا کی بہت دلچسپ وحی،کشف اور الہامات کے نمونے درج ہیں۔مرزا نے اپنے مستقبل کے فاسد منصوبوں کی تکمیل کے لیے ان الہامات وغیرہ کو خام مواد کے طور پر استعمال کیا درحقیقت اس نے ابتدا ہی میں خفیہ طور پر نبوت کا دعویٰ کر دیا تھا۔(براہین احمدیہ کی تدوین کے وقت مرزا غلام احمد نے اپنے اصل مدعا ء یعنی دعویٰ نبوت کو چھپائے رکھا اور بڑی عیاری سے اس کو مناسب وقت کے لیے مؤخر کر دیا۔١٧اگست ١٨٩٩ء کو ” دنیا میں ایک نبی اصیا جس کو دنیا نے قبول نہ کیا ”۔اس سے قبل جب وہ براہین احمدیہ کی تدوین میں مصروف تھا دعویٰ نبوت کے خلاف مسلمانوں کے سخت رد عمل کی وجہ سے اس نے اپنی وحی کی نام نہاد دوسری قرأت بیان کی۔”دنیا میں ایک نذیر آیا ”۔یہ بڑے واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ وہ کس درجہ محتاط تھا اور اس کی وحی اور خوابوں میں کیا منصوبے پنہاں تھے۔”تذکرہ ”۔صفحہ نمبر ١٠٤ ) نہ تو اس وقت کوئی مناسب وقت تھا نہ ہی وہ اس احمدی ناٹک کے ابتدائی مرحلہ میں مسلمانوں کے غیض و غضب کو للکارنے کی ہمت رکھتا تھا۔اس کتاب کی تیسری جلد میں اس نے فصیح و بلیغ انداز میں برطانوی راج کی تعریف کی اور اپنے گھرانے کو برطانوی سامراج کے سب سے مخلص اور وفادار کے طور پر متعارف کرایا ا س نے پر زور طریقے سے اپنے آپ کو وحی کا حامل گردانا اور برطانوی حکومت کے خلاف جہاد کو اللہ کی طرف سے ممنوع قرار دیا۔اس نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ انجمن اسلام لاہور (ایک نجی ادارہ جو مسلمانوں کے لیے کام کرتا تھا۔) اور اس کی شاخوں کو ہندوستان کے مقتدر علماء سے جہاد کے خلاف فتاوی حاصل کرنے چاہئیں اور انہیں کتابی شکل میں اس کے سرورق ”علماء ہند کی جانب سے خطوط کا مرقع ” کے تحت چھاپ دینا چاہیے۔اس کی پنجاب اور خصوصی طور پر ہندوستان شمال مغربی حصوں میں وسیع پیمانے پر تقسیم کرنی چاہیے تاکہ ہنٹر کی کتاب ”ہندوستانی مسلمان ” میں لگائے گئے الزامات کا جواب دیا جا سکے اور جہاد کے قائل مسلمانوں کے دلوں سے اس تصور کو اکھاڑ ا جا سکے۔

Brahin-e-Ahmadya,vol.3 P.A

مسلمانان ہند نے مرزا صاحب کی نیت کو مشکوک جان کر اس کی ان تحریروں کے خلاف سخت رد عمل ظاہر کیا جن میں برطانوی راج کی مدح و توصیف اور دنیائے اسلام کے دیگر حصوں پر اس کے قیام ک خواہشات درج تھیں۔کتاب کی چوتھی جلد میں اس نے تسلیم کیا کہ کئی لوگوں نے ان تحریروں پر سخت اعتراضات کیے ہیں ، بلکہ گالیاں تک دی ہیں کہ وہ ہندوستان میں برطانوی راج کی وکالت کیوں کرتا ہے۔ ٧ تاہم اس نے دلیل دی کہ قرآنی آیات اور احادیث نبویہ کے مطالعہ کے بعد وہ اپنا ذہن تبدیل نہیں کر سکتا اور اپنے موقف پر قائم ہے۔اس کتاب کی بعض وجوہات کی بناء پر کچھ حلقوں کی جانب سے پذیرائی بھی ہوئی کیونکہ غلطی سے یہ سمجھ لیا گیا کہ یہ اسلامی احیا ء کے ایک دعویدار کی طرف سے اپنے انداز میں اسلام کے دفاع کی ایک کوشش ہے مگر محتاط مسلمان علماء نے مرزا غلام احمد کے ممکنہ بلند بانگ دعووں کے خلاف اپنے خدشات کا اظہار کیا انہوں نے مرزا صاحب کو سیاسی آلہ کار،جھوٹا مدعی اور نالائق قرار دیا۔براہین احمدیہ کی طباعت کے بعد اس نے اپنی نجی زندگی پر توجہ دی۔اس کے پاس ایک آرام دہ زندگی گزارنے کے لیے کافی رقم اکھٹی ہو گئی تھی اور یہ سلسلہ بڑھتا گیا کیونکہ برطانیہ کے خفیہ فنڈ سے بھی آبیاری جاری رہی۔اس کے کچھ قریبی ارتقا ء نے اس پر اعتراض کیا کہ ان کی محنت سے کمائی گئی اور کنجوسی سے بچائی گئی رقم، جو کہ اسلام کی اشاعت کے لیے بدی جاتی ہے وہ مرزا صاحب کی بیوی کے زیورات کی خریداری پر صرف ہو رہی ہے۔ (”فاروق ”۔قادیاں۔٧ اکتوبر ١٩٩٨ء۔مرزا صاحب کے نہایت قریبی ساتھی اور جماعت کے اہم رکن خواجہ کمال الدین بھی ان میں سے ایک تھے۔سید سرور شاہ۔”کشف اختلاف”۔صفحہ نمبر ١٥ ) ڈاکٹر عبد الحکیم جو ایک وقت میں مرزا صاحب کے پر جوش پیروکار تھے انہوں نے واضح طور پر مرزا صاحب کے رقم بٹورنے کے طریق کار کو افشاء کیا اور بتایا کہ وہ کس طرح اسلام کے نام پر رقم بٹورتے تھے اور اسے ذاتی استعمال میں لاتے تھے۔(الذکر الحکیم نمبر ١تا ٦۔مبارک برادرز۔پٹیالہ سٹیٹ۔پنجاب ٧۔ ١٩٠٦ء ) ایسی اکا دکا آوازوں کو دبا دیا گیا،بلکہ مرزا صاحب کے دعووں میں ڈوب گئیں۔

Brahin-e-Ahmadya,vol.4 p.A

١٨٨٤ء میں پچاس برس کی عمر میں آپ کو دوسری شادی کا خیال آیا۔پہلی بیوی سے آپ کے بیٹے مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد تھے۔اگرچہ آپ نے اپنی خراب صحت کا متعدد تحریروں میں بڑا واویلا کیا اور کہا کہ وہ پرانی بیماریوں مثلاً تپ دق ذیابیطس اور درد شقیقہ وغیرہ میں مبتلا ہے اور صنف مخالف میں ہر طرح کی دلچسپی کھو چکا ہے پھر بھی اس نے اعلان کیا کہ خدیجہ کے ساتھ دوسری شادی کے لیے اس پر وحی اُتری ہے۔

.Tazkira: 2nd Edition,Rabwah,1969,p.3

١٧ نومبر ١٨٨٤ ء کو آپ نے نصرت جہاں سے شادی کر لی جو لاہور میں محکمہ آب پاشی میں معمولی ملازم میر ناصر نواب کی بیٹی تھی۔میر صاحب عرصہ دراز تک مرزا صاحب کے مذہبی دعووں کی مخالفت کرتے رہے بعد میں رام ہو گئے۔مرزا صاحب کو تیسری شادی کی بھی شدید خواہش تھی مگر محمدی بیگم کے ساتھ معاشقے نے انہیں ایک ایسی الہامی دلدل میں پھنسا دیا کہ وہ اس خیال کو زیادہ دیر تک بر قرار نہ رکھ سکے۔

١٨٨٥ء میں مرزا صاحب نے مجد داور وقت کے مصلح ہونے کا دعویٰ کیا۔اگلے سال آپ ہشیار پور تنہائی میں چلہ کشی کے لیے چلے گئے۔چلے کے مکمل ہونے پر آپ نے ٢٠ فروری ١٨٨٦ء کو یہ اعلان چھپوایا کہ انہیں ایک ذہین اور خوبصورت بچہ عطا ہو گا اس کا نام عمانویل اور بشیر ہو گا۔وہ اول اور آخر کا روپ۔سچائی اور عظمت کا مظہر ہو گا۔جیسے اللہ تعالی بذات خود عالم بالا سے اُتر آیا ہو۔نتیجہ آپ کے بیٹے مرزا (بشیر الدین ) محمود احمد نے دعویٰ کیا کہ وہ ہی موعود بیٹا ہے۔آپ نے ١٩٤٤ء میں ایک تو مرزا صاحب کی مبہم تحریر دوسرے اپنی وحی کی بناء پر”مصلح موعود ”ہونے کا دعویٰ کیا۔

یکم دسمبر ١٨٨٨ء کو مرزا صاحب نے اعلان کیا کہ انہیں خدا نے بیعت اور جماعت بنانے کا حکم دیا ہے۔ بیعت ہونے کے لیے دس شرائط قبول کرنا تھا۔ان میں چوتھی شرائط اگرچہ عمومی نوعیت کی تھی،لیکن ہر احمدی کو پابند کرتی تھی کہ وہ حکومت برطانیہ کا وفادار رہے گا۔ آپ نے رسمی طور پر لدھیانہ میں ٢٣ مارچ ١٨٨٩ء کو بیعت لی۔جماعت میں داخلے کی چوتھی شرط پر مرزا محمود اس طرح خیال آرائی کرتے ہیں :

”اپنے آغاز سے یہ جماعت حکومت کی وفادار ہے اور ہر طرح کی بد نظمی اور پریشانیوں سے دور رہی ہے۔اس تحریک کے مقدس بانی نے اسے تحریک میں شمولیت کی بنیادی شرط کے طور پر مقرر کیا ہے کہ ہر رکن قانونی طور سے قائم حکومت کی مکمل اطاعت کرے اور بغاوت کی طرف لے جانے والے تمام راستوں سے پرہیز کرے۔اس حکم کی تعمیل میں جماعت احمدیہ کے پیروکاروں نے ہمیشہ اپنے آپ کو احتجاج کی ہر طرح کی اقسام سے علیحدہ رکھا ہے اور دوسرے لوگوں کی ایک کثیر تعداد پر بھی اپنا اثر و نفوذ ڈالا ہے”۔ (مرزا محمود احمد۔”تحفہ شہزادہ ویلز شہنشاہ معظم۔ویلز کے شہزادے کی خدمت میں تحفہ۔منجانب احمدیہ جماعت نشر و اشاعت۔صدر انجمن احمدیہ۔قادیان۔راج ہنس پریس۔دلی۔جنوری ١٩٢٢ء صفحہ نمبر ٥)۔



شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار


ہندوستان میں برطانوی راج کو مرزا صاحب خدا کی ایک نعمت عظیمہ خیال کر تے تھے۔آپ نے اپنے پیروکاروں کو پر زور تاکید کی کہ وہ ان کے ساتھ بھر پور تعاون کریں کیوں کہ اسی میں ان کی نجات اور خدا کی رضامندی ہے۔ یہ صرف برطانوی سامراجیوں کا استحقاق تھا کہ وہ توپوں کے گولے چلائیں یا اسلحہ لہرائیں۔اس کے برعکس بیکار مذہبی مباحث میں زبان چلانا اور قلم گھسیٹنامسلمانان عالم کی ذمہ داری تھی۔مرزا صاحب کہتے ہیں ” چونکہ میری زندگی کا زیادہ تر حصہ برطانوی حکومت کی وفاداری کے پرچار میں گزرا ہے۔جہاد کی مذمت اور برطانوی حکومت کی وفاداری کے پرچار پر میں نے اتنی کتابیں لکھیں ہیں کہ اگر ان کو اکٹھا کر دیا جائے تو پچاس الماریاں بھر جائیں ”۔

Mirza Ghulam Ahmad,Taryaq-ul-Quloob,,1899,P.1

ایک اور کتاب میں آپ سوال پوچھتے ہیں :

”پھر میں پوچھتا ہوں کہ جو کچھ میں نے سرکار انگریزی کی امداد حفظ و امان اور جہادی خیالات کے روکنے کے لیے برابر سترہ سالوں (١٨٨٥ تا ١٨٩٧ ) تک پورے جوش سے پوری استقامت سے کام کیا۔کیا اس کام کی اور اس خدمت نمایاں کی اور اس مدت دراز کی دوسرے مسلمانوں میں جو میرے مخالف ہیں کوئی نظیر ہے ؟کوئی ‘نہیں ‘۔

Mirza Ghulam Ahmad,Sitara Qaaisarya,Qadian,1899,P.3Qadian

ہمیں مرزا غلام احمد کی انگریز کی حمایت میں لکھی گئی تحریروں پر کوئی اعتراض نہیں ، نہ ہو گا اگر وہ ذاتی نوعیت کی ہوتیں۔آخر اور کئی لوگ انگریز سے کھلی وفاداری کا اظہار کر رہے تھے،مگر آپ اپنے ہر اس فقرے کو جو آپ کے ہونٹوں سے نکلتا ہے ”وحی و الہام” کہتے ہیں۔ ہمیں خدا کی وحی کی رو سے انگریز کی سامراجی ظالمانہ حکومت کی آنکھ بند کر کے اطاعت پر سخت اعتراض ہے۔

Phoenix, His Holiness,P.63

قادیانیوں کا جماعتی آرگن ”ریویو آف ر یلیجنز قاد یان ”بڑے واضح انداز سے مرزا صاحب کی ان خدمات کا تذکرہ کرتا ہے جو آپ نے برطانوی نو آبادیاتی نظام کے استحکام کے لیے سرانجام دیں۔جریدہ لکھتا ہے :

”جماعت احمدیہ کے بانی کی تحریروں کو عظیم سفارت کاروں اور حکومت میں موجود دانشوروں نے بہت سراہا ہے”۔

سرفریڈرک کنگھم نے جو پشاور ضلع کا مہتمم اور سپرنٹنڈنٹ تھا،نے ١٩٠٠ میں مرزا صاحب کو لکھا :

”جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں یہ اسلام کے نظریے کی ایک منصفانہ اور روشن خیال تعبیر ہے جس میں آپ کے علم اور قوت فیصلہ کا برابر حصہ ہے۔مجھے کوئی شک نہیں کہ آپ جیسے شہرت یافتہ معلم کے بیان کا ہر اچھا محمڈن (مسلمان) خیر مقدم کرے گا۔اپنے عقیدے کے محافظ کے طور اور اس ثبوت کے باعث کہ اسلام ایسے جرائم پر پردہ نہیں ڈالتا جو عیار یا جاہل لوگ مذہب کے لبادے میں کرتے ہیں۔ مجھے بڑی خوشی ہو گی اگر آپ کے رسالے اور مفتوی کی صوبہ سرحدمیں وسیع پیمانے پر تشہیر کی جائے۔

Review of Religions, Qadian,Vol.VI.190

اسی طرح امریکہ یوینورسٹی بیروٹ کے پروفیسر ٹوائے نے اسلامی خطرہ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا جس میں اس نے عام مسلمانوں کے خیالات پر ان اثرات کی تعریف کی گئی جو جماعت احمدیہ نے مرتب کیے ہیں۔

Review of Religions,Qadian,Vol.V.May1906,P.193.MirQasimAli,Tabligh-i-Risalat,Vol.VI,P.13

Thursday, 20 August 2015

Debate Muslman Vs Qadiani. or qadiani Bhaag Nikla.

0 comments
When the debate on an anti-ran
قادیانیوں کے ایک بڑے مربی کے ساتھ مناظرہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم نبوت ﷺ زندہ آباد 
تاجدار ختم نبوت ﷺ پائندہ آباد،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر کسی مربی نے مناظرہ کرنا ہو تو ہم سے رابطہ فرمائیں،۔

Debate Muslman Vs Qadiani۔ قایدانی مناظرہ مسلمان کے ساتھ

0 comments
ایک مرزائی جس کا نام آصف احمدی تھا اس سے ختم نبوت ﷺ پر مناظرہ ہوا،
الحمد اللہ لگاتار مناظرہ کرنے کے بعد خادم ختم نبوت ﷺ غلام نبی نوری کو اللہ نے شرف فتحیابی نصیب فرمایا، اس کی تصویری جھلکیاں فرمائیں،



۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم نبوت ﷺ زندہ آباد، 
اگر کسی مرزائی کو ہم سے مناظرہ کرنا ہو تو وہ رابطہ کرسکتا ہے،