Showing posts with label سیرت رسول عربی اور مرزا قادیانی. Show all posts
Showing posts with label سیرت رسول عربی اور مرزا قادیانی. Show all posts

Sunday, 24 September 2017

عقل ہوتی تو خدا سے نہ لڑائی لیتے

0 comments
عقل ہوتی تو خدا سے نہ لڑائی لیتے
مربی صاحب آپ کو پوسٹ میں یہ غلطی تو نظر آگئی کہ مرز ا جی نے حضور ﷺ کی قبر کو نہیں
بلکہ غار ثورا کو متعفن اور زلیل کہا ہے لیکن نہ جانے کیوں آپ یہ بات بھول رہے ہیں
کہ حضور ﷺ کے قدم مبارک جس جگہ پر پڑ جائیں وہ تاقیامت نشانی بن جاتی ہے
یہ وہ قدم ہیں جن کے بارے میں اللہ کا قرآن ارشاد فرماتا ہے
لا اقسم بھٰذا البلد o وانت حل بھٰذا لبلد ۔
آپ کا ماننا ہے کہ یہ گستاخی مرز ا جی نے حضور ﷺ کی قبر کے بارے
میں نہیں کی بلکہ غارثورکے بارے میں کی ہے تو جب حضور ﷺ نے
غار ثور میں قیام فرمایا تو کیا اُس کی فضیلت بلند نہ ہوئی؟ کیا وہ متعفق بدبودار
اور حشرات الارض کی نجاست کی جگہ رہ گئی؟؟؟؟
اللہ عزوجل آپ سمیت تمام مرزائی حضرات کو عقل سلیم عطا فرمائے

Tuesday, 4 July 2017

مرزا قادیانی گستاخ تھا

0 comments

                                 مرزا قادیانی گستاخ تھا

 





















"اللہ کی شان میں گستاخی" "اللہ کی گستاخی اللہ چور" "اللہ کی گستاخی۔ اللہ گونگا" "امت مسلمہ کی گستاخی 2" "امت مسلمہ کی گستاخی" "تہزیبی رسول" "جو مرزا کو نہ مانے وہ کافر" "جو ہمیں نہیں مانتا وہ حرامدہ ہے" "حدیث کی توہین" "حضرت ابو ہریرا کی شان میں گستاخی" "حضرت عیسی کی شان میں گستاخی" "عیسی کی شان میں گستاخی" "قادیان میں رسول" "قرآن کی تو ہیں۔" "قرآن کی توہین" "محمد رسول اللہ ہونے کا دعویٰ" "محمد ہونے کا دعویٰ گستاخی" "مرزا قادیانی کے نہ ماننےوالے مشرک اور عیسائی" "میری ان کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے۔ مگر رنڈیوں (بدکارعورتوں) کی اولاد نے میری تصدیق نہیں کی۔‘‘" "نبی پاک کی شان میں گستاخی" "ہمارے دشمن بیابانوں کے خنزیر عورتیں کتیوں سے بڑھ گئیں" 

Monday, 10 April 2017

مرزا غلام قادیانی کی سیرت و کردار

0 comments



















Sunday, 7 February 2016

مرزا کی عیش پرستی اور مقامِ نبوت ۔

0 comments

مرزا کی عیش پرستی اور مقامِ نبوت ۔


مرزا کی عیش پرستی اور مقامِ نبوت ۔
ایک قصہ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک مشہور شاعر ڈاکٹر ٹیگور سے کسی نے سوال کیا کہ برہمو سماج کی ناکامی کا سبب کیا ہے ؟ حالانکہ اس کے اصول بہت منصفانہ صلح کل کے تھے اس کی تعلیم تھی کہ سارے مذاہب سچے اور کل مذہبوں کے بانی اچھے اور نیک لوگ تھے ۔ اس میں عقل اور منطق کے خلاف کوئی چیز نہ تھی اور موجودہ تمدن موجودہ فلسفہ اور موجودہ حالات کو دیکھ کر بتایا گیا تھا ۔ تاہم اس نے کامیابی حاصل نہ کی ۔ فلسفی شاعر نے جواب میں کتنا اچھا نکتہ بیان کیا کہ یہ اسلئے ناکامیاب ہوا کہ اس کے پیچھے کوئی شخصی زندگی اور عملی سیرت نہ تھی ۔ یہ ایک اٹل سچائی ہے کہ عمل کے بغیر وعظ کسی بھی زمانے میں قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا گیا ۔ اور خدا کی نگاہ میں تو یہ چیز بہت ہی ناپسندیدہ ہے ۔ کیونکہ اس سے تضاد لازم ہے اور جو منجانب اللہ ہو اُس میں تضاد نہیں ہو سکتا کیونکہ تضاد چاہے قول کا عمل سے ہو یا قول کا قول سے بہرحال تضاد ہی کہلائے گا اسلئے اللہ تعالیٰ قرآن میں کئی مقامات پر اس کی ممانعت فرماتا ہے ۔ (کیوں تم کہتے ہو جو کرتے نہیں ۔القرآن) اسلئے یہ تضاد کسی نبی کی سیرت اور گفتار میں نظر نہیں آ سکتا ۔ کیونکہ پھر وہ کلام اور انسان منجانب اللہ نہیں رہے گا ۔
انبیاء کرام لوگوں سے دنیا چھڑوانے آتے ہیں نہ کے دنیا داری کی لت میں مبتلا کرنے حضرت محمد ﷺکا فرمان ہے’’ الدنیا جیفۃ وطالبہا کلاب‘‘ دنیا ایک مردار بدبودار ہے اور اس کے چاہنے والے کتے ہیں ۔
یہ بات مرزا اور اُس کے مریدوں کو بھی مسلم تھی چنانچہ مرزا کا ایک صحابی غلام رسول راجیکی لکھتا ہے ۔ایسا ہی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام(مرزا قادیانی) کی بارگاہ عالی میں جب بعض لوگوں کی طرف سے دنیاوی مقاصد کے حصول کے لئے دعا کی درخواست ہوتی اور ان کے خطوط موصول ہوتے تو حضور انور اکثر فرمایا کرتے تھے ۔
’’ہم جس دنیا کو چھڑانے کے لئے آئے ہیں یہ لوگ وہی دنیا ہم سے مانگتے ہیں۔‘‘
کاش ہمارے یہ دوست جو ہم سے دنیا کے متعلق دعا کراتے ہیں یہ اصلاحِ نفس اور خدمت اسلام کے متعلق بھی اپنے دلوں میں ایسی ہی تڑپ محسوس کریں جیسا کہ دنیا کے لئے محسوس کرتے ہیں پھر حضور اقدر علیہ الصلوۃ والسلام(مرزا قادیانی) یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ کئی دوستوں کی درخواستیں دعا کے متعلق اس غرض سے ہوتی ہیں کہ ان کا فلاں کام ہو جائے اور مال و دولت مل جائے یا بیوی اور بچے مل جائیں اور بیماروں کو صحت ہو جائے مگر ایسی درخواستیں بہت کم ہوتی ہیں جن میں یہ لکھا ہو کہ آپ میرے لئے دعا کریں کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی اور رسول کی محبت نصیب ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔حضور اقدر علیہ الصلوۃ واسلام( مرزا قادیانی) یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ مومنوں کا کام تو یہ ہے کہ ان کا ہر ایک شغل دین سے تعلق رکھنے والا ہو اور جیسے کافر لوگ دنیا اور دنیا کے مال و دولت اور ہر ایک چیز سے کفر کی بقاو ترقی کے لئے کوشش کرتے ہیں ایسے ہی مومنوں کو چاہیے کہ وہ ان کے مقابل میں غیرت کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی جان و مال اور گھر بار کو دین کی خدمت میں لگاکر دین کو دنیا میں قائم کر دیں ۔ (حیات قدسی ص135از غلام رسول راجیکی)
مرزا غلام قادیانی اپنی اس تعلیم میں کہاں تک مخلص اور سچے تھے اس بات کا اندازہ تو مرزا غلام قادیانی کے اُسی مقدس فراڈ سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے جو 50اور 5کے نام پر غریب اور معصوم عوام کے ساتھ کیا گیا قادیانی حضرات اس مکر و فریب اور ٹھگ بازی کو اندھی عقیدت کے چشمے سے جیسے مرضی دیکھیں یا اپنی آنکھیں پھوڑ ڈالیں انہیں حق ہے اور ہم کو بھی کہ ہم مرزا غلام قادیانی کے اس بیہودہ فعل کو حضرت محمد ﷺکے اس قول کی روشنی میں دیکھیں ’’الدنیا زور لایحصل الا بالزور ‘‘دنیا مکروفریب ہے اور بغیر مکروفریب کے حاصل نہیں ہو سکتی۔مرزا غلام قادیانی دنیا طلبی،عیش پرستی،اور دولت کی ہوس میں اس قدر اندھے تھے کہ کسی غریب یا مجبور کی مجبوری کاعلم ہوتا توجھٹ سے راستہ میں گھات لگا کر بیٹھ جاتے تھے ایسا ہی ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ ’’پٹیالہ کے ایک رئیس کے ہاں کوئی لڑکا پیدا نہ ہوا ۔ مرزا صاحب کے خواص سے دعا کی سفارش کروائی ۔ ان کو جواب دیا کہ محض رسمی طور پر دعا کے لئے ہاتھ اُٹھا دینے سے دعا نہیں ہوتی ۔ دوباتیں ہونی ضروری ہیں ۔ گہرا تعلق ہو یا دینی خدمت ۔ رئیس سے کہو کہ ایک لاکھ روپیہ دے تو پھر ہم دعا کریں گے ۔‘‘(سیرت المہدی جلد اول ص257)
ایک ستم یہ بھی ہے کہ مرزا غلام قادیانی کے لئے ایک خاص فرشتہ ’’ٹیچی ٹیچی‘‘ بروقت روپے پیسے کی رسدکے لئے خاص تھا۔ (حقیقت الوحی ص332،خزائن ج 22ص345-346)۔
شاہانہ لائف سٹائل کی کچھ جھلکیاں ملاحظہ فرمائیں ۔
’’لدھیانہ کا ایک شخص تھا جس نے ایک دفعہ مسجد میں مولوی محمد علی صاحب خواجہ کمال الدین صاحب اور شیخ رحمت اللہ کے سامنے کہا کہ ہم جماعت کے لئے مقروض ہو کر اپنے بیوی اور بچوں کا پیٹ کاٹ کر چندہ میں روپیہ بھیجتے ہیں مگر یہاں بیوی صاحبہ کے کپڑے اور زیورات بن جاتے ہیں ۔ ‘‘(خطبہ میاں محمود احمد خلیفہ قادیاں،اخبار الفضل جلد 26،21اگست 1938 ؁ء)
مرزا غلام قادیانی نے اپنی لاڈلی اور چہیتی بیوی نصرت جہاں بیگم کو جو زیورات پہنائے اس کی کل رقم 3505روپے ہے ۔ (قادیانی نبوت ص85)اس زمانہ میں سونا تقریباً بیس روپے تولہ تھا اب اس زمانہ سے خود ہی مرزا غلام قادیانی کی بیوی کے زیورات کی مالیت کا اندازہ لگا لیں کہ اُنہوں نے دین کو دنیا پر کہاں تک مقدم رکھا۔
’’اوائل میں حضرت صاحب انٹر کلاس میں سفر کرتے تھے اور اگر بیوی صاحبہ ساتھ ہوتی تھیں تو ان کو دیگر مستورات کے ساتھ تھرڈ کلاس میں بٹھا دیا کرتے تھے ۔ لیکن آخری سالوں میں حضور ایک سالم سیکنڈ کلاس کمرہ اپنے لئے ریزرو کرا لیا کرتے تھے اور اسی میں حضرت بیوی صاحبہ اور بچوں کے ساتھ سفر کرتے تھے اور حضور کے اصحاب دوسری گاڑی میں بیٹھتے تھے ۔‘‘(سیرت المہدی حصہ دوم ص101روایت نمبر:427)
عیش پرستی کی بھی کچھ جھلکیاں ملاحظہ ہوں۔
1۔پرندوں کا گوشت آپ کو بہت مرغوب تھا ۔ مرغ اور بٹیر کا گوشت بھی آپ کو پسند تھا ۔ کباب،پلاؤ،انڈے ،فیرینی،اس وقت کہہ کر پکواتے تھے ۔جب ضعف معلوم ہوتا تھا ۔ میوہ جات بھی آپ کو پسند تھے ۔ موجودہ زمانہ کی ایجادات برف،سوڈا،لیمن بھی پیا کرتے تھے ۔ بلکہ موسم گرما میں برف امرتسر یا لاہور سے بھی منگوا لیا کرتے تھے۔(سیرت المہدی حصہ دوم ص132-135)
ڈاکٹر عبد الحکیم خان مرحوم جو مرزا قادیانی کے مرید تھے ۔ مرزائیت سے توبہ کرنے کے بعد اُنہوں نے لاہور میں جو تقریر کی اُس میں اپنے تائب ہونے کی وجہ بیان فرمائی کہ :اُن کے ذمہ مرزا قادیانی نے ایک خاص خدمت کر رکھی تھی ۔ ہر مہینے وہ مرزا قادیانی کے لئے ایک تولہ خالص مشک مہیا کرتے تھے ۔ جو ساٹھ ستر روپیہ تولہ ملتی تھی ۔ حکیم نورالدین کے مشورے سے ایک یا قوتی تیار کرتے تھے ۔ جو مرزا قادیانی استعمال کرتے تھے ۔ بٹالہ سے روزانہ سوڈے کی بوتلیں اور برف مرزا قادیانی کے لئے جاتی تھی ۔ خوردونوش میں بھی بہت سے تکلفات کو دخل تھا ۔ ان چیزوں پر مریدوں کا روپیہ بے دریغ صرف ہوتا تھا ۔ ایک دن جب وہ یا قوتی تیار کر رہے تھے ان کے دل میں یہ خیال آیا کہ جناب رسول اللہ ? تو ایسی سادہ زندگی بسر کرتے تھے کہ ایک روایت کے مطابق نبوت کے گھر میں تین دن متواتر ایک وقت جوکی روٹی سے کسی کا پیٹ نہ بھرا تھا ۔ اور مرزا قادیانی دعویٰ تو فنا فی الرسول ہونے کا کرتا ہے ۔ لیکن تنعیم دوستی کا یہ عالم ہے جب ڈاکٹر صاحب نے اپنا یہ شبہ مرزا قادیانی پر ظاہر کیا تو ان سے کوئی جواب سوائے ہیر پھیر کے نہ بن پڑا ۔چنانچہ ڈالٹر صاحب مرزائیت ترک کر کے مسلمان ہو گئے ۔
مرزائی حضرات کے لئے ڈاکٹر صاحب کے بیان پر اعتبار کرنا مشکل ہو سکتا ۔کیونکہ وہ ڈاکٹر صاحب کو مرزا قادیانی کا دشمن مانتے ہیں ۔ تو اس ضمن میں مندرجہ ذیل حوالے جات خوف خدا رکھنے والی آنکھوں سے پڑھنے کے لائق ہیں ۔
1۔ پہلی مشک ختم ہو چکی ہے ۔ اسلئے پچاس روپے بذریعہ منی آرڈر آپ کی خدمت میں ارسال ہیں ۔ دوتولہ مشک خالص دو شیشیوں میں ارسال فرماویں ۔ آپ بے شک ایک تولہ مشک بہ قیمت خرید کر کے بذریعہ وی۔پی بھیج دیں ۔ (خطوط امام بنام غلام ص2-3)
2۔ مخدومی سیٹھ صاحب سلمہ اسلام علیکم رحمتہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔۔کل کی تاریخ عنبر بھی پہنچ گیا ۔ آپ میری طرف سے ان مہربان دوست کی خدمت میں شکریہ ادا کر دیں ۔(مکتوب نمبر67،مکتوبات احمدیہ ج 5حصہ اوّل ص26-27)
3۔ میں اس کو اپنے مولا کریم کے فضل سے اپنے لئے بے اندازہ فخر کا موجب سمجھتا ہوں کہ حضور (مرزا قادیانی) بھی اس ناچیز کی تیارکردہ مفرح عنبری کا استعمال فرماتے ہیں ۔(خطوط امام بنام غلام ص8)
4۔ اسی طرح مکتوب احمدیہ جلد پنجم نمبر2ص14پر شہوت کو اُبھارنے والی دوا مرزا نے استعمال کی اور حکیم نورالدین کو بھی یہی دوا کو استعمال کرنے کا مشورہ دیا اسی طرح سیرت المہدی جلد سوئم ص50-51پر شہوت اُبھارنے کے لئے ایک افیون سے تیار کردہ الہامی نسخہ درج کیا گیا ہے ۔ جو مرزا نے استعمال بھی کیا اور دوسروں کو بھی کرایا ۔
اسلئے ڈاکٹر صاحب کا بیان جھٹلایا نہیں جا سکتا ۔ اور ایسی قیمتی مقویات جو شہوت کو اُبھارنے کے لئے دنیا میں مشہور ہیں ۔کیا کسی نبی کی شان کے شایان ہیں ؟ خود سوچیں کے شہوت کے زیرِ اثر رہ کر کوئی انسان عبادت الٰہی کیسے کر سکتا ہے ؟ اور یہ بھی سوچیں کہ ایک زاہد و عابد جس کا دعویٰ فنا فی الرسول ہونے کا ہو کیا ایسے شہواتی مقویات کا محتاج ہوا کرتا ہے انبیاء اپنے مریدوں سے ریاضت اور اطاعت کا کام لیتے ہیں ۔ لیکن مرزا غلام قادیانی مقویات کٹوانے اور بنوانے کا کام لیتے ہیں سبحان اللہ شاید کوئی بے حیائی کا لباس اوڑھ کر اور مرزا غلام قادیانی کی بے شرم زبان اپنے منہ میں رکھ کر کہہ دے کہ یہ بھی مرزا غلام قادیانی کی صداقت کا ایک ثبوت ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جس میں حیاء اور غیرت نہ ہو وہ جو مرضی کرتا اور کہتا رہے کسی کو کیا فرق پڑتا ہے ۔
ایسے ہی مرزا کا بے شرمی میں لپٹا ہوا یہ دعویٰ بھی قابل غور رہے کہ اللہ تعالیٰ کی مجھ سے یہ عادت ہے کہ جو نقد روپیہ آنے والا ہو یا اور چیزیں تحائف کے طور پر ہوں ۔ ان کی خبر قبل از وقت بذریعہ الہام یا خواب مجھ کو دے دیتا ہے اور اس قسم کے نشان پچاس ہزار سے کچھ زیادہ ہوں گے ۔ (حقیقت الوحی 333،خزائن ج 22ص346)
حضرت محمد ﷺکے قول کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ بدبودار اور کتوں کے کام ہیں ۔ لیکن اگر قادیانی عینک لگا کر دیکھا جائے تو یہ خارق عادت یا معجزات ہیں جن کی بنا پر مرزا غلام قادیانی فرماتے ہیں کہ اگر یہ معجزات ہزار انبیاء پر تقسیم کئے جائیں تو کئی کی نبوت ثابت ہو جاتی ۔ یہ تو شکر خدا کا ہے کہ یہ منطق فرعون اور قارون کے دماغ میں نہیں سمائی ورنہ وہ ایسے نشانوں سے پتہ نہیں کتنے لوگوں کی خدائی ثابت کر جاتے ۔

Wednesday, 6 January 2016

مرزا غلام قادیانی کی حدیث پر جاہلانہ تاویل

0 comments

مرزا غلام قادیانی کی حدیث پر جاہلانہ تاویل

مرزا غلام احمد قادیانی ایک ایسا کذاب تھا جس نے ہمیشہ من گھڑت تاویلوں کا سہارا لے کر اپنی جھوٹی نبوت کی دکان چمکائی اور لوگوں کو گھمراہی میں دھکیل گیا . ایسی ایسی تاویلیں کی کہ بندھے کی عقل حیران رہ جاتی ہے. یہ تاویلات کی فیکٹری کہاں تھی کسی کو نہیں معلوم کہ مرزا کی عقل سلیم میں یہ تاویلات کہاں سے طول پکڑتی تھی . اگر مرزائی مرزا کی بے تکی تاویلات پر ہی غور کریں تو وہ مرزائیت سے توبہ کر لے لیکن کیا ہے کہ ان کے دماغ اور دل پر کفر کی مہر لگ چکی ہے .مرزا کسی بھی حدیث کو خواب، کشف ، استعارہ ، رویا ، تمثل بنا دیتا، لیکن مرزا ان سب الفاظ کا فرق نہیں جانتا تھا ، یہی وجہ مرزا کی کوئی بھی تاویل اصل سیاق و سباق سے ہٹ کر ہوتی تھی جس کا ( اوریجنل کونٹیکسٹ ) سے کوئی تعلق نہ ہوتا تھا ، مرزا نے عربی زبان پر اردو میں قیاس کیا ، تو کبھی عربی سے اردو ٹرانسلیشن میں ہی تاویلیں کرتا گیا ، اور اس طرح اس وقت کے لوگوں کو یہ چندے کے حصول کے لئے بے وقوف بناتا گیا اور گھمراہ کرتا گیا .اس کا نمونہ آپ اس پوسٹ میں دیکھ سکتے ہیں .
زرد رنگ کی چادروں کے متعلق حدیث توطویل ہے لیکن میں پوسٹ کے عنواں مدنظر رکھتے ہوۓ زرد رنگ کی چادروں والا ہی حضہ کاپی کر رہا ہوں :
"سیدنا نواس ابن سمعان رضی اﷲ عنہ سے ایک طویل حدیث مروی ہے کہ دجّال کا فتنہ ظہور پذیر ہوچکا ہوگا اور وہ لوگوں کو شعبدے دکھا دکھاکر اپنی طرف مائل اور کفر میں لے جارہاہوگا۔ اسی دوران اﷲ تعالیٰ مسیح ابن مریم علیہما السلام کو بھیجے گا ۔ وہ دمشق کے مشرق میں سفید منارہ پر نزول فرماہوں گے، زرد رنگ کے دوکپڑوں)چادروں) میں ملبوس ہوں گے، اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے کاندھوں پر رکھے ہوں گے ۔ سرکو جھکائیں گے تو پانی کے قطرے گریں گے۔ اور جب سرکو اوپر کی طرف اٹھائیں گے تو اس سے صاف شفاف پانی کے قطرے سفید موتیوں کی طرح نظر آئیں گے۔ ان کی سانس جس کا فر تک جائے گی وہ مرتاچلاجائے گا اور ان کی سانس کی ہوا وہاں تک جائے گا جہاں تک ان کی نگاہ جائے گی ۔ وہ دجّال کا پیچھا کرتے ہوئے اسے )دمشق کی فصیل کے ) ’’باب لُدّ‘‘ کے قریب جاکر قابو کرکے اسے قتل کرڈالیں گے۔(صحیح مسلم، باب ذکر الدجال)"
اس حدیث پر مرزا نے کیا تاویل پکڑی اور کیا فرمایا نیچے ریفرنس میں دیکھیں :
زرد چادروں کی تعبیر علم تعبیر الرؤیا کے رُو سے ٢ بیماریاں ہیں :
مَیں ایک دائم المرض آدمی ہوں اور وہ دو زرد چادریں جن کے بارے میں حدیثوں میں ذکر ہے کہ ان دو چادروں میں مسیح نازل ہوگا وہ دو۲ زرد چادریں میرے شامل حال ہیں جن کی تعبیر علم تعبیر الرؤیا کے رُو سے دو بیماریاں ہیں۔ (روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۷- اربعین: صفحہ 470)
۔انبیاء علیھم السلام کے اتفاق سے زرد چادر کی تعبیر بیماری ہے:
سو یہ وہی دو زرد چادریں ہیں جو میری جسمانی حالت کے ساتھ شامل کی گئیں ۔انبیاء علیھم السلام کے اتفاق سے زرد چادر کی تعبیر بیماری ہے اور دو زرد چادریں دو بیماریاں ہیں جو دو حصہ بدن پر مشتمل ہیں اور میرے پر بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے یہی کھولا گیا ہے کہ دو زرد چادروں سے مُراد دو بیماریاں ہیں اور ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ کا فرمودہ پورا ہوتا۔ (روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ٢٢-: صفحہ ٣٢٠)
تمام معبّرین کے اتفاق سے تعبیر کی رو سے زرد رنگ چادر سے بیماری مراد ہوتی ہے:
اور یہ ہم نے اس لئے کہا کہ احادیث سے ثابت ہے کہ آنے والا عیسیٰ زعفرانی رنگ کی دو چادروں میں نازل ہو گا۔ اور تمام معبّرین کے اتفاق سے تعبیر کی رو سے زرد رنگ چادر سے بیماری مراد ہوتی ہے۔ (روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۱- براہینِ احمدیہ حصہ پنجم: صفحہ 373)
تمام اہلِ تعبیر اس پر متفق ہیں:
کیونکہ لکھا ہے کہ وہ دو زرد چادروں میں اُترے گا سو یہ وہی د۲و زرد رنگ کی چادریں ہیں۔ ایک اوپر کے حصّہء بدن پر اَور ایک نیچے حصّہء بدن پر۔ کیونکہ تمام اہلِ تعبیر اس پر متفق ہیں کہ عالمِ کشف یا عالمِ روء یا میں جو نبوت کا عالم ہے اگر زرد چادریں دیکھی جائیں تو ان سے بیماری مُراد ہوتی ہے۔ (روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۹- نسیمِ دعوت: صفحہ 436)
دوچادریں اور تین بیماریاں. تین کو دو بناتے ہوۓ :
اور ایک دفعہ یہ ذکر آیا کہ احادیث میں ہے کہ مسیح موعود دو زرد رنگ کی چادروں میں اترے گا .ایک چادر بدن کے اوپر حصہ میں ہو گی اور دوسری چادر بدن کے نیچے کے حصہ میں . سو میں نے کہا کہ یہ اس طرف اشارہ تھا کہ مسیح موعود دو بیماریاں کے ساتھ ظاہر ہو گا کیوں کہ تعبیر کے علم میں زرد کپڑے سے مراد بیماری ہے اور دونوں بیماریاں مجھ میں ہیں یعنی ایک سر کی بیماری اور دوسری کثرت پیشاب اور دستوں کی بیماری . (روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ٢٠- : صفحہ ٤٦)
کثرت پیشاب سے خارش کے عارضہ تک :
مجھے اس وقت ایک اپنا سرگذشت قصّہ یاد آیا ہے اور وہ یہ کہ مجھے کئی سال سے ذیابیطس کی بیماری ہے۔ پندرہ بیس مرتبہ روز پیشاب آتا ہے اور بعض وقت سو سو دفعہ ایک ایک دن میں پیشاب آیا ہے اور بوجہ اس کے کہ پیشاب میں شکر ہے۔ کبھی کبھی خارش کا عارضہ بھی ہو جاتا ہے اور کثرت پیشاب سے بہت ضعف تک نوبت پہنچتی ہے۔ (روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۹- نسیمِ دعوت: صفحہ 434)
١. علم تعبیر الرؤیا کی کون سی کتاب میں زرد رنگ کی چادروں سے مراد ٢ بیماریاں ہیں ؟
٢. کیا حدیث خواب ، یا رویا ، یا کشف تھی جس میں زرد رنگ کی چادروں کا ذکر ہیں ؟
٣. انبیاء علیھم السلام کے اتفاق سے زرد چادر کی تعبیر بیماری ہے؟ انبیاء سے مراد کون کون سے انبیاء ہیں ؟ اور کہاں درج ہے ؟ کوئی حوالہ ، کوئی ریفرنس ؟
٤. تمام معبّرین کے اتفاق سے تعبیر کی رو سے زرد رنگ چادر سے بیماری مراد ہوتی ہے؟ یہ معبّرین کون کون سےہیں ، کہاں اتفاق ہوا ؟ کوئی حوالہ ، کوئی ریفرنس ؟
٥. زرد رنگ کی چادروں سے مراد یہ ٢ بیماریاں کثرت پیشاب ، ذہنی امراض ہی کیوں ہے ؟ کیا یہ مخصوص ہے کہ یہی ٢ بیماریاں ہیں ؟
٦.کیا عربی کی حدیث کو عربی میں تاویل کیا جائے گا یا اردو میں قیاس پکڑی جائے گی ؟
٧. کیا حدیث میں زرد رنگ کی چادریں کشفی یا خواب میں بیان کی گئی تھی ؟
٨. کیا حدیث کے ترجمہ کی تاویل کی گئی ہے . یعنی اردو ترجمہ کی ؟ یا عربی
٩ ، دو بیماریوں کی درجہ بندی کس نے کی کہ ایک اوپر کی اور ایک نیچے کی ؟ کس کلیہ کے ساتھ درجہ بندی کی گئی کہ اوپر کی کون سی ہے اور نیچے کی کون سی ہے ؟
١٠. کیا دو چادروں کے ساتھ ٢ پیوند بھی لگے تھے جیسے کہ خارش کا عارضہ ا ور دستوں کی بیماری ؟
١١. کیا کثرت پیشاب ،اور دستوں کی بیماری ایک ہے یا دو ؟ اگر ایک ہے تو کیا مرزا کو دن میں سو سو دفعہ دست بھی آتے تھے ؟ جس میں شکر بھی تھی ؟ کیا دستوں کی بیماری کا نام ذیابیطس بھی ہے ؟
١٢. مرزا روحانی خزائن میں لکھا ہے کہ " احادیث میں ہے کہ مسیح موعود دو زرد رنگ کی چادروں میں اترے گا " بقول قادیانیوں کہ اترے گا یعنی نزول سے مراد مرزائیوں کے نزدیک پیدا ہونے کی ہے تو اسی اصول کے مطابق مرزا کو پیدا ہوتے ہی ان دو بیماریوں میں مبتلا ہو جانا چاہیے ، کیا مرزا پیدا ہوتے ہی دائم المرض ، کثرت پیشاب ، سر کی بیماریوں میں مبتلا ہو گیا تھا ؟
اب یہ سوال ایسے ہے جن کا جواب کسی مرزائی کے پاس نہیں ، اور ہو گے بھی نہیں ،کیوں کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے اور جھوٹے کی بات میں تضاد ہوتا ہے . اور اس پوسٹ میں آپ دیکھ سکتے کس طرح مرزا نے علم رویا ، ۔انبیاء علیھم السلام سے اپنی تاویل کو منسوب کیا بنا کسی سیاق و سابق یا ریفرنس سے .
دوسرا حصہ پڑھنے کے لئے نیچے حصہ دوم پر کلک کریں
مرزا غلام قادیانی کی حدیث پر جاہلانہ تاویل کے مضحکہ خیز دلائل : ( حصہ دوم ﴾
سورة الحجرات:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ ﴿٦﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو (
6)

مرزا قادیانی کے جھوٹے الہاموں کے لیے نبیوں کی مثالیں دینا ، مکمل آپریشن

0 comments

مرزا قادیانی کے جھوٹے الہاموں کے لیے نبیوں کی مثالیں دینا ، مکمل آپریشن


قارئین محترم! اللہ تعالی کی طرف سے بھیجے ہوئے انبیاء میں سے اگر کوئی نبی کبھی بھول گیا تو اللہ تعالی نے اسے کبھی بھی غلطی پر نہیں رہنے دیا اور کسی نہ کسی طریقے سے جلد از جلد اسے یاد دہانی فرمادی یا اصلاح فرمادی ، یہ بات خود مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی تسلیم ہے چنانچہ اس نے صاف طور پر لکھا ہے: ۔

’’ انبیاء غلطی پر قائم نہیں رکھے جاتے‘‘ (رخ جلد 19صفحہ 133)
اور اس کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود نے لکھا: ۔

’’خدا اپنے نبی کو وفات تک غلطی میں نہیں رکھتا‘‘ (آئینہ صداقت، انوار العلوم جلد 6صفحہ 124)
اور یہ بات بھی ہمیشہ ذہن میں رکھیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے بارے میں یہ لکھا ہے : ۔

’’ان اللہ لا یترکنی علی خطأ طرفۃ عین‘‘ اللہ مجھے ایک لمحے کے بھی غلطی پر نہیں رہنے دیتا ۔ (نور الحق، رح جلد 8صفحہ 272)

یعنی مرز اکے مطابق اگر اس سے کوئی غلطی ہوجائے تو اس کا خدا فوراً اس کی اصلاح کردیتا ہے اور بتا دیتا ہے کہ یہ غلطی تھی اسے ٹھیک کرلو ۔ اب اگر تو ثابت ہوجائے کہ مرزا غلام احمد سے فلاں غلطی ہوئی ، اس نے فلاں بات غلط لکھی، اپنی (خودساختہ) وحی اور الہام کی ایک تشریح کی لیکن وہ غلط نکلی اور یہ بھی ثابت ہوجائے کہ مرزا اس دنیا سے چلا گیا لیکن اسے اس کی غلطی کا پتہ ہی نہ چلا تو یہ اس بات کی واضح دلیل ہوگی کہ مرزا غلام احمد اللہ کا نبی نہیں تھا ، اگر ہوتا تو یہ نا ممکن تھا کہ اس کی موت ہوجاتی اور اللہ اسے اس کی غلطی کے بارے میں نہ بتاتا کیونکہ بقول مرزا محمود ’’خدا اپنے نبی کو وفات تک غلطی میں نہیں رکھتا‘‘ ۔

یہ دوتین باتیں اگر آپ ہمیشہ ذہن میں رکھیں گے تو میں جس مرزائی فریب کا ذکر کرنے جارہاہوں آپ کبھی بھی اس سے دھوکہ نہیں کھائیں گے ، وہ فریب یہ ہے کہ مرزائی مربیوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ جب بھی تم مرزا غلام احمد کا دفاع کرنے میں نا کام ہوجاؤ ، اس کی کتابوں میں لکھے جھوٹوں کو سچ ثابت نہ کرسکو، اس کی پیش گوئیوں کو سچا ثابت نہ کرسکو ، تو ایک دم یہ کرو کہ اللہ کے نبیوں اور خاص طور پر آنحضرت صلى الله عليه وسلم پر اعتراضات شروع کردو اور کہنا شروع کردو کہ اے مولویو! تم جو اعتراض مرزا غلام احمد پر کرتے ہو وہ تو دوسرے نبیوں پر بھی ہوتے ہیں ، اور شور مچانا شروع کردو کہ یہ مولوی توہین انبیاء کرتے ہیں ، نعرے لگاؤ کہ مسلمانو! نبی کریم صلى الله عليه وسلم پر اعتراض کرکے دکھاؤ وغیرہ ، یعنی مرزا ئی مربیوں کی کوشش ہوتی ہے کہ جو عیب مرزا غلام احمد میں ثابت ہوتا ہے اسے کسی طرح اللہ کے نبیوں میں بھی ثابت کیا جائے ، اس کی چند مثالیں پیش کرتا ہوں تاکہ آپ کو اچھی طرح اس مرزائی فریب کی سمجھ آجائے ۔ مثلاً جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ مرزا غلام احمد نے دعویٰ کیا کہ اسے اس کے خدا نے الہام کیا تھاکہ ’’ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں‘‘ (الہام مرزا بتاریخ 14 جنوری 1906، تذکرۃ، صفحہ 503 طبع چہارم) لیکن مرزا تو لاہور میں مرا اس طرح یہ الہام جھوٹا ہوا ، اس کے جواب میں مرزائی مربی بڑے زور وشور سے آپ کو لعن طعن کرے گا اور کہے گا کہ تم مولوی یہودی ہو ، تم پوری بات پیش نہیں کرتے ، اس الہام کی تشریح تو خود مرزا قادیانی نے کردی تھی کہ مکہ میں مرنے سے مراد مکی فتح اور مدینہ میں مرنے سے مراد مدنی فتح ہے، یعنی مجھے فتح حاصل ہوگی (یہ الگ بات ہے کہ موت کا مطلب فتح کس لغت میں ہے؟) تو جب ہمارے حضرت جی نے اپنے الہام کی خود تشریح کردی تو تم کون ہوتے ہواعتراض کرنے والے ؟ جیسے حضرت یوسف علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ انہیں چاند، سورج اور گیارہ ستارے سجدہ کررہے ہیں ، اس کی تعبیر یہ تھی کہ چاند سورج سے مراد ان کے والدین اور ستاروں سے مراد ان کے بھائی تھے ، اس لئے جس کا خواب ہو یا جس کا الہام ہو جو تعبیر اور تشریح وہ بتائے وہی قابل قبو ل ہوگی ۔

لیکن دوستو! یہی مربی اس وقت اپنا بیان بدل لیں گے جب اگلا آدمی یہ پوچھے کہ مرزا غلام احمد نے کہا کہ اسے الہام ہوا تھا ’’بکر وثیب‘‘ اور اس کی تشریح خود مرزا نے یوں کی کہ ’’خدا تعالی کا ارادہ ہے کہ وہ 2 عورتیں میرے نکا ح میں لائے گا ، ایک بکر ہوگی (یعنی کنواری ہوگی) اور دوسری بیوہ ، چنانچہ یہ الہام جو بکر (یعنی کنواری) کے متعلق تھا وہ پورا ہوگیا (نصرت جہاں کی صورت میں) اور بیوہ کے الہام کی انتظار ہے‘‘ اب مرزائی مربی سے پوچھیں کہ یہاں آپ کے حضرت جی نے خود اپنے الہام کی تشریح بھی کردی ، تو اب بتاؤ کہ مرزا کے نکاح میں اس کی موت تک کون سی بیوہ آئی؟؟ تو یہاں مربی یہ نہیں کہے گا کہ تشریح تو وہی قابل قبول ہوگی جو مرزا نے کردی کیونکہ اس سے مرزا جھوٹا ہوتا ہے ، بلکہ یہا ں وہ دوسری چال چلے گا ، کہے گا کہ ’’مرزا قادیانی سے اس الہام کو سمجھنے میں غلطی ہوگئی ، اس الہام کا یہ مطلب نہیں تھا کہ اس کا نکاح دو عورتوں کے ساتھ ہوگا جن میں سے ایک کنواری اور ایک بیوہ ہوگی ،بلکہ اس الہام کی تشریح یہ تھی کہ صرف ایک عورت یعنی نصرت جہاں کے ساتھ جب نکاح ہوگا تو اس وقت وہ کنواری ہوگی اورپھر وہی نصرت جہاں ایک وقت بیوہ ہوجائے گی ، مرزا قادیانی نے یہاں اجتہادی غلطی کردی ، اور نبیوں سے کبھی اجتہادی غلطی ہوجا تی ہے ‘‘، دوستو! غورکیا آپ نے؟ الہام تھا مرزا کا ، تشریح کی مرزا نے، اس نے تو مرتے دم تک اپنی اس تشریح کو غلط نہیں کہا، نہ ہی اس نے یہ کہا کہ ہاں اس سے یہ الہام سمجھنے میں غلطی ہو گئی تھی ، نہ ہی اسے اس کے خدا نے اس غلطی پر مطلع کیا ، اور خود اس کے اقرار کے مطابق انبیاء تو غلطی پر قائم نہیں رکھے جاتے ، بقول مرزا محمود، اللہ اپنے نبی کو اس کی وفات تک غلطی پر نہیں رکھتا ، اور بقول مرزا قادیانی اللہ اسے ایک لمحے کے لئے بھی غلطی پر نہیں چھوڑتا، نیز مرزا نے صاف طور پر کہا تھا : ۔

’’کسی الہام کے وہ معنی ٹھیک ہوتے ہیں کہ ملہَم آپ بیان کرے ، اور ملہَم کے بیان کردہ معنوں پر کسی اور کی تشریح اور تفسیر ہرگز فوقیت نہیں رکھتی کیونکہ ملہَم اپنے الہام سے اندرونی واقفیت رکھتا ہے اور خدا تعالیٰ سے خاص طاقت پاکر اس کے معنیٰ کرتا ہے‘‘۔ (مجموعہ اشتہارات، جلد1 ، صفحہ 122)
پھر ایک جگہ مرزا نے لکھاتھا:۔

’’ملہَم سے زیادہ کوئی الہام کے معنیٰ نہیں سمجھ سکتا اور نہ کسی کا حق ہے جو اس کے مخالف کہے‘‘۔ (تتمہ حقیقۃ الوحی، رخ 22 صفحہ 438)
تو سوال یہ ہے کہ مرزا اپنے اس الہام کو اپنی سچائی کی نشانی کے طورپر شائع کرتا رہا ، اور وہ یہی لکھتا رہا کہ 2 عورتیں آئیں گی ، جن میں سے کنواری تو آچکی ، اب بیوہ کا انتظار ہے ، اس نے ہرگز یہ نہ لکھا کہ ان دو عورتوں سے مراد ایک ہی عورت یعنی نصرت جہاں بیگم ہے ، مرزا اس دنیا سے چلا گیا ، اس کے بعد اس کے مریدوں کو اس الہام کی ٹھیک تشریح سمجھ آئی اور انہوں نے اعلان کردیا کہ ہمارے نبی کو اس الہام کو سمجھنے میں غلطی لگی تھی ، اب ہمیں یہ سمجھ آیا ہے ۔ ہے ناں نادانوں کا ٹولہ؟ جو لوگ خود اپنے نبی کو جھوٹا ثابت کرتے ہوں ان سے بڑھ کر احمق بھلا کون ہوگا؟ ۔

اب آگے چلیے ! یہاں مرزائی مربی دو تین مثالیں بھی دیتے ہیں ، کہتے ہیں کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے خواب دیکھاکہ زمین کے خزانوں کی کنجیاں آپ کے ہاتھ مبارک پر رکھ دی گئیں ، لیکن آپ صلى الله عليه وسلم کی زندگی میں ایسا نہ ہوا بلکہ آپ کے وصال کے بعد صحابہؓ اور آپ کے غلاموں کے ہاتھوں فتوحات ہوئیں، تو کیا نعوذ باللہ تم آنحضرت صلى الله عليه وسلم پر بھی یہی اعتراض کروگے کہ آپ کا خواب جھوٹا ہوا؟، اسی طرح دیکھو آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے فرمایا تھا کہ میں نے خواب دیکھا جس میں مجھے ایک سرزمین دکھائی گئی جہاں کھجور کے درخت تھے اور مجھے بتایاگیا کہ آپ کی ہجرت اس مقام کی طرف ہوگی ، میرا خیال اس طرف گیا کہ یہ یمامہ ہے لیکن در حقیقت وہ یثرب یعنی مدینہ تھا اب کرو اعتراض نبی کریم صلى الله عليه وسلم پر انہوں نے مدینہ کو غلطی سے یمامہ سمجھ لیا ، اسی طرح حضرت نوح علیہ السلام سے اللہ نے وعدہ کیا تھا کہ میں تیرے ’’اھل‘‘ کو غرق ہونے سے بچالوں گا ، جب ان کا بیٹا غرق ہونے لگا تو انہوں نے دعا کی اے اللہ میرا بیٹا تو میرے اہل میں سے ہے اور آپ نے وعدہ کیا تھا کہ آپ میرے اہل کو بچائیں گے ، تواللہ نے آپ کو تنبیہ کردی کہ اے نوح! تیرا بیٹا تیرے اہل میں سے نہیں ، تیرے اہل وہ ہیں جو مومن ہیں ، یعنی اللہ نے بتادیا کہ میں نے جن اہل کو بچانے کا وعدہ کیا تھا اس سے مراد ظاہری اہل نہیں بلکہ روحانی اہل ہیں ، تو کرو اعتراض حضرت نوح عليه السلام پر انہوں نے اہل کا مطلب غلط سمجھا ۔

دوستو! اس دھوکے کا مختصر جواب یہی ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے ہرگز کوئی غلطی نہیں کی تھی ، اللہ نے ان سے ان کے اہل کو بچانے کا وعدہ فرمایا تھا اور وہا ں اللہ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ اس سے مراد روحانی اہل ہیں ، اور بیٹا یقینی طور پر اہل میں داخل ہے ، حضرت نوح علیہ السلام نے اسی بناپر دعا فرمائی ، اللہ نے ان کی دعا کے بعد اسی وقت وضاحت فرمادی کہ میری مراد اہل سے ظاہری والا اہل نہیں بلکہ روحانی اہل ہے اور حضرت نوح علیہ السلام کو پتہ چل گیا ، یعنی اللہ اپنے نبی کو غلطی پر نہیں رکھتا ، یہی ہم پہلے ثابت کرآئے ہیں ، اسی طرح زمین کے خزانوں کی کنجیاں آپ صلى الله عليه وسلم کے دست اقدس میں رکھے جانے والا خواب بھی سمجھیں ، پہلی بات یہ کہ وہ خواب تھا ، اور نبی کے خواب دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جن کی تعبیر بالکل اسی خواب کی طرح ظاہری ہوتی ہے کہ ویسا ہی ہوگا جیسا خواب میں نظر آیا ، اور دوسری قسم وہ ہوتی ہے جو خواب تعبیر طلب ہوتے ہیں جیسے حضرت یوسف علیہ السلام کا سورج ، چاند اور ستاروں کو اپنے سامنے سجدہ کرنے کا خواب اس کی تعبیر ظاہری نہ تھی ، یہ بات مرزا نے بھی لکھی ہے ، مرزا کا ایک مرید مولوی عبدالکریم بیمار تھا ، مرزا نے خواب دیکھا کہ وہ ٹھیک ہوگیا ہے ، لیکن حقیقت میں وہ ٹھیک نہ ہوا بلکہ مرگیا ، کسی نے اعتراض کیا کہ مرزا جی! آپ کا خواب جھوٹا ہوگیا تو مرزا نے لکھا:۔

’’ہاں ایک خواب میں ان کو دیکھا تھا کہ گویا وہ صحت یاب ہیں مگر خوابیں تعبیر طلب ہوتی ہیں اور تعبیر کی کتابوں کو دیکھ لو خوابوں کی تعبیر میں کبھی موت سے مراد صحت، اور کبھی صحت سے مراد موت ہوتی ہے ، اور کئی مرتبہ خواب میں ایک شخص کی موت دیکھی جاتی ہے اور اس کی تعبیر زیادت عمر ہوتی ہے ‘‘۔ (تتمہ حقیقۃ الوحی، رخ جلد 22صفحہ 459-458)

اب مرزائی مربی سے پوچھیں کہ مرزا نے جب مولوی عبدالکریم کے صحت یاب ہونے کا خواب دیکھا تمہارے عقیدے کے مطابق وہ نبی تھا کہ نہیں؟ اور وہ لکھتا ہے کہ خوابیں تعبیر طلب ہوتی ہیں ، ثابت ہوا کہ نبی کے ایسے خواب بھی ہوتے ہیں جن کی تعبیر ظاہری خواب کے مطابق نہیں ہوتی ، مثال ہم حضرت یوسف علیہ السلام کی دے چکے ہیں ، اور زمین کے خزانوں والے خواب کی تعبیر دوسری احادیث میں خود نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے بیان فرمادی ہے جن کے اندر یہ خبر دی کہ میرے صحابہ یا میری امت کے لوگ قیصر وکسریٰ کے ملک فتح کریں گے اور ان کے خزانوں پر اِن کا قبضہ ہوگا ، مثال کے طور پر صحیح مسلم کی ایک حدیث ہے ، حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: مسلمانوں یا مومنوں کی ایک جماعت ضرور بالضرور کسریٰ کے اس خزانے کو فتح کرے گی جو قصر ابیض میں ہے (صحیح مسلم: حدیث نمبر 2919) ، اسی طرح مسند احمد میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ : جب کسریٰ ہلاک ہوجائے گا تو پھر اس کے بعد کوئی کسریٰ نہ ہوگا (یعنی اس کے بعد ایران کے کسی بادشاہ کا لقب کسریٰ نہ ہوگا) اور جب قیصر ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہ ہوگا (یعنی روم کے کسی بادشاہ کا لقب قیصر نہ ہوگا) اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد(صلى الله عليه وسلم) کی جان ہے تم لوگ ان دونوں (یعنی قیصر وکسریٰ) کے خزانے ضرور اللہ کی راہ میں خرچ کروگے ۔ (مسند احمد، حدیث نمبر 7184) ، تو نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اپنے صحابہ اور اپنی امت کو فتوحات کی خوشخبری سناکر اپنے اس خواب کی تعبیر بیان فرمادی کہ میرے ہاتھ میں زمین کے خزانوں کی کنجیاں رکھے جانے کا مطلب ہے کہ میری امت کا ان پر قبضہ ہوگا ۔

اب آئیے آنحضرت صلى الله عليه وسلم کے اس خواب کی طرف جس میں آپ کو وہ سرزمین دکھا ئی گئی جہاں آپ کی ہجرت ہوناتھی ، یاد رکھیں خواب میں آپ کو صرف ایک سرزمین دکھائی گئی تھی ، اس کا نام نہیں بتایا گیا تھا ، اس سرزمین پر کھجوروں کے باغات تھے ، اور جیسے مدینہ (یثرب) میں کھجوروں کے باغات تھے بالکل اسی طرح یمامہ میں بھی تھے ، آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا ہے کہ اس سرزمین کو دیکھ کر میرا خیال یمامہ کی طرف گیا تھا ، جی ہاں یہی لفظ ہیں ’’میرا خیال اس طرف گیا تھا‘‘ نہ تو نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اس خواب کی کسی کے سامنے اس وقت تعبیر بیان فرمائی کہ اس کی تشریح یہ ہے کہ ہماری ہجرت یمامہ کی طرف ہوگی اور نہ ہی نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے کوئی اشتہار نکالا اور پیش گوئی شائع کردی کہ مجھے میرے خدا نے خبر دی ہے کہ تمہاری ہجرت یمامہ کی طرف ہوگی (جیسے مرزا قادیانی کیا کرتا تھا)، اور اس کا تو کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے ہجرت مدینہ کی طرف ہی فرمائی تھی نہ کہ یمامہ کی طرف ، تو اگر آپ غلط سمجھتے تو ضرور پہلے یمامہ جاتے لیکن ایسا نہیں ہوا ، اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم نے بالکل ٹھیک جگہ ہجرت فرمائی، اس حدیث شریف میں تو صرف خیال جانے کی بات ہے ۔ اور آخری بات وہی کہ اگر بالفرض آپ کا خیال یمامہ کیطرف جانا یہ آپ کی اجتہادی غلطی تھی تو اللہ نے اس خیال کی اصلاح فرمادی اور آپ نے ہجرت مدینہ کی طرف فرمائی ، کیونکہ انبیاء غلطی پر قائم نہیں رکھے جاتے ، لیکن جھوٹے مدعی نبوت وہ ہوتے ہیں جو پوری زندگی اشتہار نکالتے ہیں کہ میرا نکاح محمدی بیگم کے ساتھ ہوکر رہے گا ، یہ ایسی بات ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی ، لیکن وہ مرجاتے ہیں ایسا نہیں ہوتا اور نہ ہی اللہ انہیں بتاتا ہے کہ مرزا جی! نکاح تو کینسل ہوچکا یا آخرت میں ہوگا، جھوٹے وہ ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ اللہ نے انہیں الہام میں بتایا ہے کہ قادیان کے میاں منظور محمدلدھیانوی جن کی بیوی کا نام محمدی بیگم ہے ان کے گھر ایک لڑکا پیدا ہوگا جس کے نو نام ہیں ، لیکن وہ لڑکا غائب ہوجاتا ہے ، اور بعد میں مرزا کے مرید بتاتے ہیں کہ وہ لڑکا تو مرزا بشیر الدین محمود تھا ، مرزا جی کو غلطی لگی تھی ، اور میاں منظور محمد لدھیانوی سے مراد خود مرزا جی تھے اور محمدی بیگم سے مراد ہماری اماں جان نصرت جہاں بیگم تھیں لیکن ٹیچی (مرزا کے ایک فرشتہ کا نام) نے آنے میں دیر کردی اور مرزا جی دنیا سے چلے گئے

Saturday, 22 August 2015

دس ماہ کے حمل کی اصل حقیقت۔

0 comments
مرزا غلام قادیانی اپنی کتاب روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 50 پر لکھتا ہے کہ مجھے دس ماہ کا
حمل ہوا اور پھر میں اپنے آپ سے خود پیدا ہوا، یعنی مرزا بن مرزا۔ یہ دنیا کا واحد مرزا
ہے جو اپنا باپ خود ہے، لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ دس ماہ کا حمل گدھی کو ہوتا ہے،
10 سے 14 ماہ تک گدھی کوحمل ہوتا ہے اس کے بعد کدھی کے ہاں بچہ پیدا ہوتا ہے۔
مرزا کی اس تحریر میں واضح ہے کہ پہلے وہ گدھی تھا پھر دس ماہ بعد وہ خود سے پیدا ہوکر
گدھا بن گیا، یعنی مرزا قادیانی ولد مرزا قادیانی، اب صفت مرزا میں لفظ گدھا کا اضافہ
فطری طور پر فرض ہے، اسی لیے قارئین اکرام مرزا کو گدھا ضرور کہا کیجئے،

Thursday, 20 August 2015

سیرت مرزا قادیانی پر چند اقتباسات

0 comments







مرزا قادیانی کا باپ بے نمازی تھا

بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم اے کہ ایک دفعہ قادیان میں ایک بغدادی مولوی آیا۔ دادا صاحب نے اس کی بڑی خاطر و مدارت کی۔ اس مولوی نے دادا صاحب سے کہا کہ مرزا صاحب! آپ نماز نہیں پڑھتے؟ دادا صاحب نے اپنی کمزوری کا اعتراف کیا اور کہا کہ ہاں بے شک میں میری غلطی ہے۔ مولوی صاحب نے پھر بار بار اصرار کے ساتھ کہا اور ہر دفعہ دادا صاحب یہی کہتے گئے کہ میرا قصور ہے۔ آخر مولوی نے کہا آپ نماز نہیں پڑھتے، اللہ آپ کو دوزخ میں ڈالے گا۔ اس پر دادا صاحب کو جوش آ گیا اور کہا ” تمہیں کیا معلوم ہے کہ وہ مجھے کہاں ڈالے گا میں اللہ تعالی پر ایسا بدظن نہیں ہوں میری امید وسیع ہے خدا فرماتا ہے لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رّحْمَۃِ اللّہ۔ تم مایوس ہو گے میں مایوس نہیں ہوں، اتنی بے اعتقادی میں تو نہیں کرتا“ پھر کہا ” اس وقت میری عمر 75 سال کی ہے۔ آج تک خدا نے میری پیٹھ نہیں لگنے دی تو کیا اب وہ مجھے دوزخ میں ڈال دیگا۔“ خاکسار عرض کرتا ہے کہ پیٹھ لگنا پنجابی کا محاورہ ہے جس کے معنی دشمن کے مقابلے میں ذلیل و رسوا ہونا ہے۔ ورنہ ویسے مصائب تو دادا صاحب پر بہت آئے ہیں۔(سیرت المہدی تین جلدوں والا ایڈیشن۔ جلد اول، روایت نمبر 224 صفحہ نمبر 212)
اور ہڈی ٹوٹ گئی

بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسط مولوی رحیم بخش صاحب ایم اے کہ ایک دفعہ والد صاحب اپنے چوبارے کی کھڑکی سے گر گئے اور دائیں بازو پر چوٹ آئی چنانچہ آخری عمر تک وہ ہاتھ کمزور رہا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ اپ کھڑکی سے اترنے لگے تھے سامنے سٹول رکھا تھا وہ الٹ گیا اور آپ گر گئے اور دائیں ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی اور یہ ہاتھ آخر عمر تک کمزور رہا۔ اس ہاتھ سے اپ لقمہ منہ تک لے جا سکتے تھے مگر پانی کا برتن وغیرہ منہ تک نہیں اٹھا سکتے تھے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ نماز میں بھی آپ کو دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کے سہارے سے سنبھالنا پڑتا تھا۔(سیرت المہدی تین جلدوں والا ایڈیشن۔ جلد اول رویت نمبر 187 صفحہ 198)

انگلی کاٹ ڈالی

خاکسار کے ماموں ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ گھر میں ایک مرغی کے چوزہ کے ذبح کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ اور اس وقت گھر میں کوئی اور اس کام کو کرنے والا نا تھا اس لئے حضرت صاحب اس کو ہاتھ میں لے کر خود ذبح کرنے لگے مگر بجائے چوزہ کی گردن پر چھری پھیرنے کے غلطی سے اپنی انگلی کاٹ ڈالی، جس سے بہت خون بہہ گیا اور آپ توبہ توبہ کرتے ہوئے چوزہ کو چھوڑ کر اٹھ گئے۔ پھر وہ چوزہ کسی اور نے ذبح کیا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کی عادت تھی کہ جب کوئی چوٹ وغیرہ اچانک لگتی تو جلدی جلدی توبہ توبہ کے الفاظ منہ سے فرمانے لگ جاتے تھے۔۔۔الخ(سیرت المہدی تین جلدوں والا ایڈیشن۔ جلد دوم روایت نمبر 307 صفحہ 285)

ایک لطیفہ

بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب سناتے تھے کہ جب میں بچہ ہوتا تھا تو ایک دفعہ بعض بچوں نے مجھے کہا کہ جاؤ گھر سے میٹھا لاؤ میں گھر میں آیا اور بغیر کسی سے پوچھنے کہ ایک برتن میں سے سفید بورا اپنی جیبوں میں بھر کر باہر لے گیا اور راستہ میں ایک مٹھی بھر کر منہ میں ڈال لی۔ بس پھر کیا تھا میرا دم رک گیا اور بڑی تکلیف ہوئی کیونکہ معلوم ہوا کہ جسے میں نے سفید بورا سمجھ کر جیبوں میں بھر ا تھا وہ بورا نہ تھا بلکہ پسا ہوا نمک تھا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھے یاد آیا کہ ایک دفعہ گھر میں میٹھی روٹیاں پکیں کیونکہ حضرت صاحب کو میٹھی روٹی پسند تھی جب حضرت صاحب کھانے لگے تو آپ نے اس کا ذائقہ بدلہ ہوا پایا۔ مگر آپ نے اس کا خیال نہ کیا کچھ اور کھانے پر حضرت صاحب نے کڑواہٹ محسوس کی اور والدہ صاحبہ سے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے کہ روٹی کڑوی معلوم ہوتی ہے؟ والدہ صاحبہ نے پکانے والی سے پوچھا تو اس نے کہا میں تو میٹھا ڈالا تھا والدہ صاحبہ نے پوچھا کہ کہاں سے لے کر ڈالا تھا؟ وہ برتن لاؤ۔ وہ عورت ایک ٹین کا ڈبہ اٹھا لائی۔ دیکھا تو معلوم ہوا کہ کونین کا ڈبہ تھا اور اس عورت نے جہالت سے بجائے میٹھے کے روٹیوں میں کونین ڈال دی تھی۔ اس دن گھر یہ بھی ایک لطیفہ ہو گیا۔(سیرت المہدی تین جلدوں والا ایڈیشن۔ جلد اول صفحہ 225 روایت نمبر 244)
ماں کا نافرمان مرزا قادیانی

بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ بعض بوڑھی عورتوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ بچپن میں حضرت صاحب نے اپنی والدہ سے روٹی کے ساتھ کچھ کھانے کو مانگا انہوں نے کوئی چیز شاید گڑ بتایا کہ یہ لے لو۔ حضرت نے کہا نہیں۔ یہ میں لیتا انہوں نے کوئی اور چیز بتائی۔ حضرت صاحب نے اس پر بھی وہی جواب دیا۔ وہ اس وقت کسی بات پر چڑی ہوئی بیٹھی تھیں۔ سختی سے کہنے لگیں کہ جاؤ پھر راکھ سے روٹی کھا لو۔ حضرت صاحب روٹی پر راکھ ڈال کر بیٹھ گئے اور گھر میں ایک لطیفہ ہو گیا۔ یہ حضرت صاحب کے پچپن کا واقع ہے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ والدہ صاحبہ نے یہ واقع سنا کر کہا کہ جس وقت اس عورت نے مجھے یہ بات سنائی تھی اس وقت حضرت صاحب بھی پاس مگر آپ خاموش رہے۔(سیرت المہدی تین جلدوں والا ایڈیشن۔ جلد اول صفحہ 225-226 روایت نمبر 245)
مٹی اور گڑ کے ڈھیلے

آپ کو شیرینی سے بہت پیار تھا اور مرض بول بھی عرصہ سے آپ کو لگی ہوئی تھی۔ اس زمانہ میں آپ مٹی کے ڈھیلے بعض وقت جیب میں ہی رکھتے تھے اور اسی جیب میں گڑ کے ڈھیلے بھی رکھ لیا کرتے تھے۔(مسیح موعود کے مختصر حالات ملحقہ براہین احمدیہ طبع چہارم صفحہ 67 مرتبہ معراج الدین عمر قادیانی)
سندھی، دسوندی، چڑا مار مسیح

بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ تمہاری دادی ایمہ ضلع ہوشیار پور کی رہنے والی تھیں۔ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ہم اپنی والدہ کے ساتھ بچپن میں کئی دفعہ ایمہ گئے ہیں۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ وہاں حضرت صاحب بچپن میں چڑیاں پکڑا کرتے تھے اور چاقو نہیں ملتا تو سرکنڈے سے ذبح کر لیا کرتے تھے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ ایک دفعہ ایمہ سے چند بوڑھی عورتیں آئیں تو انہوں نے باتوں باتوں میں کہا سندھی ہمارے گاؤں چڑیاں پکڑا کرتا تھا۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں نہ سمجھ سکی کہ سندھی سے کون مراد ہے۔ آخر معلوم ہوا کہ ان کی مراد حضرت صاحب سے ہے۔ والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ دستور ہے کہ کسی منت ماننے کے نتیجے میں بعض لوگ خصوصاً عورتیں اپنے کسی بچے کا عرف سندھی رکھ دیتے ہیں۔ چنانچہ اسی وجہ سے آپ کی والدہ اور بعض عورتیں آپ کو بچپن میں کبھی اس لفظ سے پکار لیتی تھیں۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ سندھی غالباً دسوندی یا دسبندھی سے بگڑا ہوا ہے جو ایسے بچے کو کہتے ہیں جس پر کسی منت کے نتیجے میں دس دفعہ کوئی چیز باندھی جاوے اور بعض منت کوئی نہیں ہوتی بلکہ یونہی پیار سے عورتیں اپنے کسی بچے پر یہ رسم ادا کر کے اسے سندھی پکارنے لگ جاتی ہیں۔(سیرت المہدی تین جلدوں والا ایڈیشن۔ جلد اول صفحہ 41 روایت نمبر 51)
پینشن چور مسیح

بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ جوانی کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود(اس کی نظر میں مرزا قادیانی لعنت اللہ علیہ) تمہارے دادا کی پینشن وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام الدین بھی چلا گیا۔ جب آپ نے پینشن وصول کر لی تو وہ آپ کو پھسلا کر اور دھوکہ دے کر بجائے قادیان لانے کے باہر لے گیا اور اِدھر اُدھر پھراتا رہا۔ پھر جب اس نے سارا روپیہ اڑا کر ختم کر دیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا۔ حضرت صاحب اس شرم سے واپس گھر نہیں آئے ۔ اور چونکہ تمہارے دادا کا منشاء رہتا تھا کہ آپ کہیں ملازم ہو جائیں اس لئے آپ سیالکوٹ شہر میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخواہ ہر ملازم ہو گئے اور کچھ عرصہ ملازمت کی۔ پھر جب تمہاری دادی بیمار ہوئیں تو تمہارے داد نے آدمی بھیجا کہ ملازمت چھوڑ کر آ جاؤ جس پر حضرت صاحب فوراً روانہ ہو گئے۔۔۔۔والدہ صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ہمیں چھوڑ کر پھر مرزا امام الدین اِدھر اُدھر پھراتا رہا۔ آخر اس نے چائے کے ایک قافلہ پر ڈاکہ مارا اور پکڑا گیا مگر مقدمہ میں رہا ہو گیا۔ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ معلوم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے ہماری(”خدمت خاص“ کی) وجہ سے ہی اسے قید سے بچا لیا ورنہ خواہ وہ خود کیسا ہی آدمی تھا، ہمارے مخالف یہی کہتے کہ ان کا ایک چچا زاد بھائی جیل خانہ میں رہ چکا ہے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود(مرزا قادیانی لعنت اللہ علیہ) کی سیالکوٹ کی ملازمت 1864ء تا 1868ء کا واقع ہے۔(سیرت المہدی تین جلدوں والا ایڈیشن۔ جلد اول صفحہ 38-39 روایت نمبر 49)
مختاری کے امتحان میں فیل

چونکہ مرزا صاحب ملازمت کو پسند نہیں فرماتے تھے اس لیے واسطے آپ نے مختاری کے امتحان کی تیاری شروع کر دی۔ اور قانونی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا پر امتحان میں کامیاب نہ ہوے۔(سیرت المہدی تین جلدوں والا ایڈیشن۔ جلد اول صفحہ 142 روایت نمبر 150)
غرارہ

بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود(مرزا قادیانی لعنت اللہ علیہ) اوائل میں غرارے استعمال فرمایا کرتے تھے۔ پھر میں نے کہہ کر وہ ترک کروا دیئے۔ اس کے بعد آپ معمولی پاجامے استعمال کرنے لگے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ غرارہ بہت کھلے پائنچے کے پاجامے کو کہتے ہیں۔(پہلے اسکا ہندوستان میں بہت رواج تھا اب بہت کم ہو گیا ہے)۔(سیرت المہدی تین جلدوں والا ایڈیشن۔ جلد اول صفحہ 59-60 رویت نمبر 82)
مرزا کا کلمہ

ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت خلیفۃ المسیح اول(حکیم نور الدین) فرمایا کرتے تھے کہ ہر نبی کا ایک کلمہ ہوتا ہے۔ مرزا کا کلمہ یہ ہے کہ ”میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔“(سیرت المہدی تین جلدوں والا ایڈیشن۔ جلد سوم صفحہ 824 روایت نمبر 974)
قادیانی تیمم

ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود(مرزا قادیانی لعنت اللہ علیہ) کو اگر تیمم کرنا ہوتا تو بسا اوقات تکیہ یا لحاف پر ہی ہاتھ مار کر تیمم کر لیا کرتے تھے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ تکیہ یا لحاف میں سے جو گرد نکلتی ہے، وہ تیمم کی غرض سے کافی ہوتی ہے۔ لیکن اگر کوئی تکیہ لحاف بالکل نیا ہو اور اس میں کوئی گر نہ ہو تو پھر اس سے تیمم جائز نہ ہو گا۔(سیرت المہدی تین جلدوں والا ایڈیشن۔ جلد سوم صفحہ 774-775 رویت نمبر 878)
قادیانی مسیح کے اعلیٰ اخلاق کی ایک مثال

میرے گھر سے یعنی والدہ عزیز مظفر احمد نے مجھے سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود(مرزا قادیانی لعنت اللہ علیہ) عموماً گرم پانی سے طہارت فرمایا کرتے تھے اور ٹھنڈے پانی کو استعمال نہ کرتے تھے۔ ایک دن آپ نے کسی خادمہ سے فرمایا کہ آپ کے لئے پاخانہ میں لوٹا رکھ دے۔ اس نے غلطی سے تیز گرم پانی کا لوٹا رکھ دیا۔ جب حضرت مسیح موعود(مرزا قادیانی لعنت اللہ علیہ) فارغ ہو کر باہر تشریف لائے تو دریافت فرمایا کہ لوٹا کس نے رکھا تھا۔ جب بتایا گیا کہ فلاں خادمہ نے رکھا تھا تو آپ نے اُسے بلوایا اور اُسے اپنا ہاتھ آگے کرنے کو کہا۔ اور پھر اس کے ہاتھ پر آپ نے لوٹے کا بچا ہوا پانی بہا دیا تاکہ اسے احساس ہو کہ یہ پانی اتنا گرم ہے کہ طہارت میں استعمال نہیں ہو سکتا۔ اس کے سوا آپ نے اسے کچھ نہیں کہا۔(سیرت المہدی تین جلدوں والا ایڈیشن۔ جلد سوم صفحہ 758 روایت نمبر 847)
عورتوں کا امام

باہر مردوں میں نماز باجماعت ہونے کے علاوہ آخری سالوں میں حضرت مسیح موعود(مرزا قادیانی لعنت اللہ علیہ) ایک بہت بڑے عرصہ تک اندر عورتوں میں پیش امام ہو کر مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک لمبے عرصہ تک جمع کراتے رہے۔(ذکر حبیب صفحہ 65 از مفتی محمد صادق قادیانی)
زنانہ نماز

ڈاکٹر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود(مرزا قادیانی لعنت اللہ علیہ) کو میں نے بار ہا دیکھا کہ گھر میں نماز پڑھاتے تو حضرت ام المومنین(لعنت اللہ علیھا) کو اپنے دائیں جانب بطور مقتدی کے کھڑا کر لیتے۔ حالانکہ مشہور فقہی مسئلہ یہ ہے کہ خواہ عورت اکیلی ہی مقتدی ہو تب بھی اسے مرد کے ساتھ نہیں بلکہ الگ پیچھے کھڑا ہونا چاہیے۔ ہاں اکیلا مرد مقتدی ہو تو اسے امام کے ساتھ دائیں طرف کھڑا ہونا چاہیے۔ میں نے حضرت ام المومنین(لعنت اللہ علیھا) سے پوچھا تو انہوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی مگر ساتھ یہ بھی کہا کہ حضرت صاحب نے مجھ سے یہ بھی فرمایا تھا کہ مجھے بعض اوقات کھڑے ہو کر چکر آ جایا کرتا ہے اس لیے تم میرے پاس کھڑے ہو کر نماز پڑھ لیا کرو۔ (سیرت المہدی تین جلدوں والا ایڈیشن۔ جلد سوم صفحہ 636-637 روایت نمبر 696)
یعنی کہ؎

دیوارِ خستگی ہوں مجھے ہاتھ مت لگا
میں گر پڑوں گا دیکھ مجھے آسرا نہ دے

نماز میں فارسی نظم


ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ گرمیوں میں مسجد مبارک میں مغرب کی نماز پیر سراج الحق صاحب نے پڑھائی۔ حضور(مرزا قادیانی لعنت اللہ علیہ) بھی اس نماز میں شامل تھے۔ تیسری رکعت میں رکوع کے بعد انہوں نے بجائے مشہور دعاؤں کے حضور(مرزا قادیانی لعنت اللہ علیہ) کی ایک فارسی نظم پڑھی جس کا یہ مصرعہ ہے
”اے خدا اے چارہ آزارما“
خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ فارسی نظم اعلیٰ درجہ کی مناجات ہے جو روحانیت سے پُر ہے۔۔۔الخ(سیرت المہدی تین جلدوں والا ایڈیشن۔ جلد سوم صفحہ 644 روایت نمبر 707)
(زہن میں رہے مرزا قادیانی نے اس پر سکوت کیا یعنی اصلاح نہیں کی کہ نظم نہیں پڑھنی چاہیے تھی)

نماز میں پان

ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت صاحب کو سخت کھانسی ہوئی، ایسی کہ دم نہ آتا تھا۔ البتہ پان رکھ کر قدرے آرام معلوم ہوتا تھا۔ اس وقت آپ نے اس حالت میں پان منہ میں رکھے رکھے نماز پڑھی تاکہ آرام سے پڑھ سکیں۔(سیرت المہدی تین جلدوں والا ایڈیشن۔ جلد سوم صفحہ 605-606 روایت نمبر 638)
بیٹے کی خاطر نماز جمعہ نہیں پڑھی

صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب مرض الموت کے ایام میں ایک جمعہ کے دن حضرت مسیح موعود(مرزا قادیانی لعنت اللہ علیہ) حسب معمول کپڑے بدل کر عصا ہاتھ میں لے کر جماعہ مسجد کو جانے کے واسطے تیار ہوئے۔ جب صاحبزادہ کی چار پائی کے پاس سے گذرتے ہوئے ذرا کھڑے ہو گئے تو صاحبزادہ صاحب نے حضرت مسیح موعود(مرزا قادیانی لعنت اللہ علیہ) کا دامن پکڑا لیا اور اپنی چارپائی پر بیٹھا دیا اور اٹھنے نہ دیا۔ صاحبزادہ صاحب کی خاطر حضور بیٹھے رہے اور جب دیکھا کہ بچہ اٹھنے نہیں دیتا اور جمعہ کے وقت میں دیر ہوتی ہے تو حضور نے کہلا بھیجا کہ جمعہ پڑھ لیں اور حضور کا انتظار نہ کریں۔ (ذکر حبیب صفحہ 172 از مفتی محمد صادق قادیانی)
روزہ توڑ دیا

ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ لدھیانہ میں حضرت مسیح موعود(مرزا قادیانی لعنت اللہ علیہ) نے رمضان کا روزہ رکھا ہوا تھا کہ دل گھٹنے کا دورہ ہوا اور ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے۔ اس وقت غروب آفتاب کا وقت بہت قریب تھا مگر آپ نے فوراً روزہ توڑ دیا۔ آپ ہمیشہ شریعت میں سہل راستہ کو اختیار فرمایا کرتے تھے۔(سیرت المہدی تین جلدوں والا ایڈیشن۔ جلد سوم صفحہ 637 روایت نمبر 697)
روزے نہیں رکھے

بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب حضرت مسیح موعود(مرزا قادیانی لعنت اللہ علیہ) کو دورے پڑھنے شروع ہوئے تو آپ نے اس سال سارے رمضان کے روزے نہیں رکھے اور فدیہ ادا کر دیا۔ دوسرا رمضان آیا تو آپ نے روزے رکھنے شروع کئے مگر آٹھ نو روزے رکھے تھے کہ پھر دورہ ہوا اس لئے باقی چھوڑ دیئے اور فدیہ ادا کر دیا۔ اس کے بعد رمضان آیا تو اس میں آپ نے دس گیارہ روزے رکھے تھے کہ پھر دورہ کی وجہ سے روزے ترک کرنے پڑھے اور آپ نے فدیہ ادا کر دیا۔ اس کے بعد جو رمضان آیا تو آپ کا تیرہواں روزہ تھا کہ مغرب کے قریب آپ کو دورہ پڑا اور آپ نے روزہ توڑ دیا اور باقی روزے نہیں رکھے اور فدیہ ادا کر دیا۔ اس کے بعد جتنے رمضان آئے آپ نے سب روزے رکھے مگر پھر وفات سے دو تین سال قبل کمزوری کی وجہ سے روزے نہیں رکھ سکے اور فدیہ ادا کرتے رہے۔ خاکسار نے دریافت کیا کہ جب آپ نے ابتداء دوروں کے زمانے میں روزے چھوڑے تو کیا پھر بعد میں ان کو قضاء کیا؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا نہیں صرف فدیہ ادا کر دیا تھا۔(سیرت المہدی تین جلدوں والا ایڈیشن۔ جلد اول صفحہ 59 روایت نمبر 81)
دوسروں کے روزے بھی تڑوا دیئے

ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ لاہور سے کچھ احباب رمضان میں قادیان آئے۔ حضرت صاحب کو اطلاع ہوئی تو آپ مع کچھ ناشتہ کے ان سے ملنے کے لیے مسجد میں تشریف لائے۔ ان دوستوں نے عرض کیا کہ ہم سب روزے سے ہیں۔ آپ نے فرمایا سفر میں روزہ ٹھیک نہیں، اللہ تعالیٰ کی رخصت پر عمل کرنا چاہیے۔ چنانچہ ان کو ناشتہ کروا کے ان کے روزے تڑوا دیئے۔ (سیرت المہدی تین جلدوں والا ایڈیشن۔ جلد دوم صفحہ 344-345 روایت نمبر 381)
بے روز مسیح موعود کا احترام رمضان

اس موخر الذکر سفر میں حضور نے لدھیانہ میں ایک لیکچر دیا جس میں ہندو، عیسائی، مسلمان اور بڑے بڑے معزز لوگ موجود تھے۔ تین گھنٹے حضور اقدس نے تقریر فرمائی۔ حالانکہ بوجہ سفر دہلی کچھ طبیعت بھی درست نہ تھی۔ رمضان کا مہینہ تھا اس لیے حضور اقدس نے بوجہ سفر روزہ نہ رکھا تھا۔ اب حضور اقدس نے تین گھنٹہ تقریر جو فرمائی تو طبیعت پر ضعف سا طاری ہوا۔ مولوی محمد احسن صاحب نے اپنے ہاتھ سے دودھ پلایا جس پر نا واقف مسلمانوں نے اعتراضاً کہا کہ مرزا رمضان میں دودھ پیتا ہے اور شور کرنا چاہا۔ لیکن چونکہ پولیس کا انتظام اچھا تھا، فوراً یہ شور کرنے والے مسلمان وہاں سے نکال دیے گئے۔ (سیرت المہدی 1939 ایڈیشن جلد سوم صفحہ 272)

آپ لیکچر گاہ میں اندر تشریف لے گئے اور لیکچر شروع کیا۔ لیکن مولوی صاحبان کو اعتراض کا کوئی موقع نہ ملا جس پر لوگوں کو بھڑکائیں۔ پندرہ منٹ آپ کی تقریر ہو چکی تھی کہ ایک شخص نے آپ کے آگے چائے کی پیالی پیش کی کیونکہ آپ کے حلق میں تکلیف تھی اور ایسے وقت میں اگر تھوڑے تھوڑے وقفہ سے کوئی سیال چیز استعمال کی جائے تو آرام رہتا ہے۔ آپ نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ رہنے دو لیکن اس نے آپ کی تکلف کے خیال سے پیش کر ہی دی۔ اس پر آپ نے بھی اس میں سے ایک گھونٹ پی لیا۔ لیکن وہ مہینہ روزوں کا تھا۔ مولویوں نے شور مچا دیا کہ یہ شخص مسلمان نہیں کیونکہ رمضان شریف میں روزہ نہیں رکھتا۔(سیرت مسیح موعود صفحہ 55-56 از مرزا بشیر الدین محمود)

حج، اعتکاف، ذکوۃ

ڈاکٹر میر محمد اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود(مرزا قادیانی لعنت اللہ علیہ) نے حج نہیں کیا اور نہ اعتکاف کیا اور ذکوۃ نہیں دی ، تسبیح نہیں رکھی ، میرے سامنے ضب یعنی گوہ کھانے سے انکار کیا ۔ صدقہ نہیں کھایا۔ ذکوۃ نہیں کھائی۔ صرف نذرانہ اور ہدیہ قبول فرماتے تھے۔ پِیروں کی طرح مصلی اور خرقہ نہیں رکھا۔ رائج الوقت درود و وظائف مثلاً پنچ سورہ۔ دعائے گنج العرش۔ درود تاج۔ حزب البحر۔ دعائے سریانی وغیرہ نہیں پڑھتے تھے۔۔۔۔اور ذکوۃ اس لیے نہیں دی کے آپ کبھی صاحبِ نصاب نہیں ہوئے۔ البتہ حضرت والدہ صاحبہ زیور پر ذکوۃ دیتی رہی ہیں اور تسبیح اور رسمی وظائف کے آپ قائل ہی نہیں تھے۔(سیرت المہدی تین جلدوں والا ایڈیشن۔ جلد سوم صفحہ 623-624 روایت نمبر 672)

بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ میں نے کبھی حضرت مسیح موعود(مرزا قادیانی لعنت اللہ علیہ) کا اعتکاف بیٹھے نہیں دیکھا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ میاں عبداللہ سنوری نے بھی مجھ سے یہی بیان کیا۔(سیرت المہدی تین جلدوں والا ایڈیشن۔ جلد اول صفحہ 62 روایت نمبر 86)
مردہ اسلام

ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ڈاکٹر عبد الحکیم خان مرتد بڑا خواب بین شخص تھا۔ اس کے دماغ کی بناوٹ ہی ایسی تھی کہ ذرا اونگھ آئی اور خواب آیا یا الہام ہوا۔ وہ یا تو ابتداء زمانہ طالب علمی میں قادیان آیا کرتا تھا یا پھر ایک مدت دراز کے بعد لمبی رخصت لے کر قادیان آیا اور یہاں وہ حضرت صاحب کو ہر روز مغرب و عشاء کے درمیان اپنی تفسیر سنایا کرتا تھا اور داد چاہتا تھا۔ جو جو باتیں اور عقائد اور اعتراض عبدالحکیم خاں نے مرتد ہوتے وقت بیان کئے ہیں وہ سب آج کل غیر مبایعین میں موجود ہیں۔ دراصل ان لوگوں کو اس نے ہلاک کیا اور خود اس کو اس کی خواب بینی اور بلعمی صفات نے ہلاک کیا۔ چنانچہ ایک دفعہ ان لوگوں نے یہ تجویز پیش کی کہ ریویو میں حضرت صاحب کا اور احمدیت کی خصوصیات کا ذکر نہ ہو بلکہ عام اسلامی مضامین ہوں تاکہ اشاعت زیادہ ہو۔ اخبار وطن میں بھی یہ تحریر چھی تھی۔ جس پر حضرت صاحب نے نہایت ناراضگی کا اظہار کیا تھا اور فرمایا تھا کہ ہمیں چھوڑ کر کیا آپ مردہ اسلام کو پیش کریں گے؟ عبدالحکیم خاں نے حضور کو لکھا تھا کہ اپ کا وجود خادم اسلام ہے نہ کہ عین اسلام۔ مگر حضرت صاحب نے اس فقرہ کی تردید کر دی کہ دراصل آپ کا وجود ہی روح اسلام ہے۔(سیرت المہدی تین جلدوں والا ایڈیشن۔ جلد سوم صفحہ 619-620 روایت نمبر 665)

بےہوش مسیح کے جیب میں اینٹ

آپ کے ایک بچے نے آپ کی واسکٹ کی ایک جیب میں ایک بڑی اینٹ ڈال دی۔ اپ جب لیٹتے تو وہ اینٹ چبتی۔ کئی دن ایسا ہی ہوتا رہا۔ ایک دن اپنے ایک خادم کو کہنے لگے کہ میری پسلی میں درد ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چیز چبتی ہے۔ وہ حیران ہوا اور آپ کے جسد مبارک(لعین) پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ اس کا ہاتھ اینٹ پر جا لگا۔ جھٹ جیب سے نکال لی۔ دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا کہ چند روز ہوئے محمود نے میرے جیب میں ڈالی تھی اور کہا تھا اس کو نکالنا نہیں۔(مسیح موعود کے مختصر حالات ملحقہ براہین احمدیہ طبع چہارم صفحہ 53 مرتبہ معراج الدین عمر قادیانی)

جرابیں، گرگابی پہننے کا مرزائی طریقہ

ڈاکٹر میر محمد اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود(مرزا قادیانی لعنت اللہ علیہ) اپنی جسمانی عادات میں ایسے سادہ تھے کہ بعض دفعہ جب حضور جراب پہنتے تھے تو بے توجہی کے عالم میں اسکی ایڑی پاؤں کے تلوے کی بجائے اوپر کی طرف ہو جاتی تھی اور بار ہا ایک کاج کا بٹن دوسرے کاج میں لگا ہوتا تھا اور بعض اوقات کوئی دوست حضور کے لیے گرگابی لاتا آپ بسا اوقات دایاں پاؤں بائیں میں ڈال لیتے تھے اور بایاں پاؤں دائیں میں ۔ چنانچہ اسی تکلیف کی وجہ سے آپ دیسی جوتی پہنتے تھے اسی طرح کھانا کھانے کا یہ حال تھا کہ خود فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں تو اس وقت پتہ لگتا ہے کہ کیا کھا رہے ہیں جب کھاتے کھاتے کوئی کنکر وغیرہ کا ریزہ دانت کے نیچے آ جاتا۔ (سیرت المہدی تین جلدوں والا ایڈیشن۔ جلد دوم صفحہ 344 روایت نمبر 378)

الٹے کاج پنجابی مسیح کی سنت؟

بار ہا دیکھا گیا کہ بٹن اپنا کاج چھوڑ کر دوسرے ہی میں لگے ہوتے تھے بلکہ صدری کے بٹن کوٹ کے کاجوں میں لگائے گئے دیکھے گئے۔(سیرت المہدی تین جلدوں والا ایڈیشن۔ جلد دوم صفحہ 417 رویت نمبر 447)

الٹی سیدھی گرگابی اور جرابیں

ایک دفعہ کوئی شخص آپ کے لئے گرگابی لے آیا اور آپ نے پہن لی مگر اسکے الٹے سیدھے پاؤں کا آپ کو پتہ نہیں لگتا تھا کئی دفعہ الٹا پہن لیتے تھ اور پھر تکلیف ہوتی تھی۔ بعض دفعہ آپ کا الٹا پاؤں پڑ جاتا تو تنگ ہو کر فرماتے، ان(انگریز) کی کوئی چیز بھی اچھی نہیں ہے۔ (یہاں تک کے انگریزوں سے کوئی ڈھنگ کا ”نبی“ بھی نامزد نہ ہو سکا٭)والدہ صاحبہ فرمایا کہ میں نے آپ کی سہولت کے واسطے الٹے سیدھے پاؤں کی شناخت کے لئے نشان لگا دیے تھے باوجود اسکے آپ الٹے سیدھے پہن لیتے تھے۔(سیرت المہدی تین جلدوں والا ایڈیشن۔ جلد اول صفحہ 60 روایت نمبر 83)

مگر بار ہا جراب اس طرح پہن لیتے کہ پیر پر ٹھیک سے نہ چڑھتی۔ کبھی تو سرا آگے لٹکتا رہتا اور کبھی جراب کی ایڑی کی جگہ پیر کی پشت پر آ جاتی کبھی ایک جراب سیدھی اور دوسری الٹی۔ اگر ایک جراب کہیں سے پھٹ جاتی تو بھی مسح جائز رکھتے ۔۔۔۔جوتی اگر تنگ ہوتی تو ایڑی پھٹا لیتے۔(سیرت المہدی تین جلدوں والا ایڈیشن۔ جلد دوم صفحہ 418 روایت نمبر 447)

کھانے کا طریقہ

کھانا کھاتے ہوئے روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر لیے جاتے تھے، کچھ کھاتے، کچھ چھوڑ دیتے تھے۔ کھانے کے بعد آپ کے سامنے سے بہت سے ریزے اٹھتے تھے۔(سیرت المہدی تین جلدوں والا ایڈیشن۔ جلد اول صفحہ 45 روایت نمبر 56)

ریشمی ازار بند اور اس کا فائدہ اور چابیوں کی حفاظت کا مرزائی طریقہ

چابیاں ازار بند کے ساتھ باندھتے تھے جو بوجھ سے بعض اوقات لٹک آتا تھا۔ والدہ صاحبہ بیان فرماتی ہیں کہ حضرت مسیح موعود(مرزا قادیانی لعنت اللہ علیہ) عموماً ریشمی ازار بند استعمال فرماتے تھے کیونکہ آپ کو پیشاب جلدی جلدی آتا تھا اس لیے ریشمی ازار بند رکھتے تھے تاکہ کھلنے میں آسانی ہو اور گرہ بھی پڑ جاوے تو کھولنے میں دقت نہ ہو۔ سوتی ازار بند میں آپ سے بعض وقت گرہ پڑ جاتی تھی تو آپ کو بڑی تکلیف ہوتی تھی۔(سیرت المہدی تین جلدوں والا ایڈیشن۔ جلد اول صفحہ 49 روایت نمبر 65)

ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود(مرزا قادیانی لعنت اللہ علیہ) کے پاجاموں میں، میں نے اکثر ریشمی ازار بند پڑا ہوا دیکھا ہے اور ازار بند میں کنجیوں کا گچھا بندھا ہوتا تھا۔ ریشمی ازار بند کے متعلق بعض اوقات فرماتے تھے کہ ہمیں پیشاب کثرت سے اور جلدی جلدی آتا ہے تو ایسے ازار بند کے کھولنے میں بہت آسانی ہوتی ہے۔(سیرت المہدی تین جلدوں والا ایڈیشن۔ جلد سوم صفحہ 614 روایت نمبر 652)

مرزائی گھڑی کیسے دیکھے؟

بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ ایک شخص نے حضرت صاحب کو ایک جیبی گھڑی تحفہ دی۔ حضرت صاحب اس کو رومال میں باندھ کر جیب میں رکھتے تھے زنجیر نہیں لگاتے تھے۔ اور جب وقت دیکھنا ہوتا تو گھڑی نکال کر ایک ہندسے سے یعنی عدد سے گِن کر وقت کا پتہ لگاتے تھے اور انگلی رکھ رکھ کر ہندسے گنتے تھے اور منہ سے بھی گنتے جاتے تھے اور گھڑی دیکھتے ہی وقت نہ پہچان سکتے تھے۔ میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا کہ آپ کا جیب سے گھڑی نکال کر اس طرح وقت شمار کرنا مجھے بہت ہی پیارا معلوم ہوتا تھا۔(سیرت المہدی تین جلدوں والا ایڈیشن۔ جلد اول صفحہ 165 روایت نمبر 165)

پیشہ نبوت

18 جنوری 1905ء کو جبکہ میں قادیان کے ہائی سکول میں ہیڈ ماسٹر تھا، میں نے حضرت مسیح موعود(مرزا قادیانی لعنت اللہ علیہ) کی خدمت بابرکت میں ایک رقعہ لکھا تھا جس کا اصل بمعہ جواب درج کرنا مناسب ہے۔ امید ہے کہ ناظرین کی دلچسپی کا موجب ہو گا۔

رقعہ: بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم

حضرت اقدس مرشد و مہدینا مسیح موعود(مرزا قادیانی لعنت اللہ علیہ)


السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ صاحبزادہ میاں محمود کا نام برائے امتحان(مڈل) ارسال کیا جائے گا۔ جس فارم کی خانہ پری کرنی ہے اس میں ایک خانہ ہے ؛کہ اس لڑکے کا باپ کیا کام کرتا ہے؟ میں نے وہاں لفظ نبوت لکھا ہے۔(ذکر حبیب صفحہ 244-245 از مفتی محمد صادق قادیانی)

پہرہ پنجابی مسیح؟

مائی رسول بی بی صاحبہ بیوہ حامد علی صاحب مرحوم نے بواسطہ مولوی فاضل مجھ سے بیان کیا کہ ایک زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت میں مَیں اور اہلیہ بابوشاہ دین رات کا پہرہ دیتی تھیں اور حضرت صاحب نے فرمایا ہوا تھا کہ اگر میں سوتے میں کوئی بات کیا کروں تو مجھے جگا دیا کرو ۔ایک دن کا واقعہ ہے کہ میں نے آپ کی زبان پر کوئی لفظ جاری ہوتے ہوئے سنے اور آپ کو جگا دیا اس وقت رات کے بارہ بجے تھے ان ایام میں عام طور پر پہرہ پرمائی فجو منشیانی اہلیہ منشی محمد دین گوجرانوالہ اور اہلیہ بابو شاہ دین ہوتی تھیں ۔(سیرت المہدی تین جلدوں والا ایڈیشن۔ جلد سوم صفحہ 725 روایت نمبر 786)

شرمندہ مسیح

ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ مجھ سے میری لڑکی زینب نے بیان کیا کہ میں تین ما ہ کے قریب حضرت اقدس (مرزا قادیانی لعنت اللہ علیہ) کی خدمت میں رہی ہوں ۔ گرمیوں میں پنکھا وغیرہ اور اسی طرح کی خدمت کرتی تھی بسا اوقات ایسا ہوتا کہ نصف رات یا اس سے زیادہ مجھ کو پنکھا ہلاتے گزر جاتی تھی مجھ کو اس اثناء میں کسی قسم کی تھکان اور تکلیف محسوس نہیں ہوتی تھی بلکہ خوشی سے دل بھر جاتا تھا دو دفعہ ایسا موقع پیش آیا کہ عشاء کی نماز سے لے کر صبح کی اذان تک مجھے ساری رات خدمت کرنے کا موقع ملا پھر بھی اس حالت میں مجھ کو نہ نیند نہ غنودگی اور تھکان معلوم ہوتی بلکہ خوشی اور سرور پیدا ہوتا تھا ۔اسی طرح جب مبارک احمد صاحب بیمار ہوئے تو مجھ کو ان کی خدمت کے لئے بھی اسی طرح راتیں گذارنی پڑیں۔ حضور نے فرمایا کہ زینب اس قدر خدمت کرتی ہے کہ ہمیں اس سے شرمندہ ہونا پڑتا ہے ۔ اور آپ کئی دفعہ اپنا ”تبرک“ مجھے دیا کرتے تھے۔(سیرت المہدی تین جلدوں والا ایڈیشن۔ جلد سوم صفحہ 789-790 روایت نمبر 910)

بھانو کی حس کمزور ہو رہی ہے

ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیاکہ حضرت ام المؤمنین نے ایک دن سنایا کہ حضرت صاحب کے ہاں ایک بوڑھی ملازمہ مسماۃ بھانو تھی وہ ایک رات جبکہ خوب سردی پڑرہی تھی حضور کو دبانے بیٹھی چونکہ وہ لحاف کے اوپر سے دباتی تھی اس لیے اسے یہ پتہ نہ لگا کہ جس چیز کو میں دبا رہی ہوں وہ حضور کی ٹانگیں نہیں بلکہ پلنگ کی پٹی ہے تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا بھانو آج بڑی سردی ہے ۔ بھانو کہنے لگی ’’ جی ہاں تدے تے تہاڈی لتاں لکڑی وانگوں ہویاں ہویاں نیں ‘‘ یعنی جبھی تو آپ کی لاتیں لکڑی کی طرح سخت ہو رہی ہیں ۔(سیرت المہدی تین جلدوں والا ایڈیشن۔ جلد سوم صفحہ 722 روایت نمبر 780)

لڑکی کیسی ہو؟َ

بیان کیا مجھ سے میاں عبداﷲ صاحب سنوری نے کہ مدت کی بات ہے کہ جب میاں ظفر احمد صاحب کپور تھلوی کی پہلی بیوی فوت ہو گئی اور ان کو دوسری بیوی کی تلاش ہوئی تو ایک دفعہ حضرت صاحب نے ان کو کہا کہ ہمارے گھر میں دو لڑکیاں رہتی ہیں میں ان کو لاتا ہوں آپ ان کو دیکھ لیں پھر ان میں سے جو آپ کو پسند ہو اس سے آپ کی شادی کر دی جائے ۔ چنانچہ حضرت صاحب گئے ان دو لڑکیوں کو بلا کر کمرہ کے باہر کھڑا کر دیا اور پھر اندر آ کر کہا کہ وہ باہر کھڑی ہیں آپ چک کے اندر سے دیکھ لیں چنانچہ میاں ظفر احمد صاحب نے ان کو دیکھ لیا پھر حضر ت صاحب نے ان کو رخصت کر دیا اس کے بعد میاں ظفر صاحب سے پوچھنے لگے کہ آپ کو کون سی لڑکی پسند ہے وہ نام تو کسی کا جانتے نہیں تھے اس لیے انہوں نے کہا کہ جس کا منہ لمبا ہے وہ اچھی ہے اس کے بعد حضرت صاحب نے میری رائے لی میں نے عرض کیا کہ حضور میں نے تو نہیں دیکھا پھر خود فرمانے لگے کہ میرے خیال میں تو دوسری لڑکی بہتر ہے جس کا منہ گول ہے پھر فرمایا جس شخص کا چہرہ لمبا ہوتا ہو وہ بیماری وغیرہ کے بعد عموماً بدنما ہو جاتا ہے لیکن گول چہرہ کی خوبصورتی قائم رہتی ہے ۔(سیرت المہدی تین جلدوں والا ایڈیشن۔ جلد اول صفحہ 240-241 روایت نمبر 268)

ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ مولوی محمد علی صاحب ایم اے لاہور کی پہلی شادی حضرت مسیح موعود(مرزا قادیانی لعنت اللہ علیہ) نے گورداسپور میں کرائی تھی۔ جب رشتہ ہونے لگا تو لڑکی کو دیکھنے کے لئے حضور نے ایک عورت کو گورداسپور بھیجا تا کہ وہ آ کر رپورٹ کرے کہ لڑکی صورت و شکل وغیرہ میں کیسی ہے اور مولوی صاحب کے لئے موزوں بھی ہے یا نہیں۔ چنانچہ وہ عورت گئی۔ جاتے ہوئے اس ے ایک یاداشت لکھ کر دی گئی۔ یہ کاغذ میں نے لکھا تھا اور حضرت صاحب نے بمشورہ حضرت ام المومنین(لعنت اللہ علیہا) لکھوایا تھا۔ اس میں مختلف باتیں نوٹ کرائی تھیں۔ مثلاً یہ کہ لڑکی کا رنگ کیسا ہے۔ قد کتنا ہے۔ اس کی آنکھوں میں کوئی نقص تو نہیں، ناک، ہونٹ، گردن، دانت، چال ڈھال وغیرہ کیسے ہیں۔ غرض بہت ساری باتیں ظاہری شکل و صورت کے متعلق لکھوا دیں تھیں کہ ان کی بابت خیال رکھے اور دیکھ کر واپس آ کر بیان کرے۔ جب وہ عورت واپس آئی اور اس نے ان سب باتوں کی بابت اچھا یقین دلایا تو رشتہ ہو گیا......خاکسار عرض کرتا ہے کہ حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بھی تاکید فرمایا کرتے تھے کہ شادی سے پہلے لڑکی کو دیکھ کر تسلی کر لینی چاہیے کہ کوئی نقص نہ ہو۔ چنانچہ ایک دفعہ ایک مہاجر صحابی کو جو ایک انصاری لڑکی سے شادی کرنے لگا تھا فرمایا کہ لڑکی کو دیکھ لینا، کیونکہ انصاری لڑکیوں کی آنکھ میں عموماً نقص ہوتا ہے۔۔۔الخ(سیرت المہدی تین جلدوں والا ایڈیشن۔ جلد سوم صفحہ 814-815 روایت نمبر954)

چنبیلی کی بوتل

ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود(مرزا قادیانی لعنت اللہ علیہ)کی اولاد میں آپ کی لڑکی عصمت ہی صرف ایسی تھی جو قادیان سے باہر پیدا ہوئی اور باہر ہی فوت ہوئی۔ اس کی پیدائش انبالہ چھاؤنی کی تھی اور فوت لدھیانہ میں ہوئی۔ اسے ہیضہ تھا۔ اس لڑکی کو شربت پینے کی عادت پڑھ گئی تھی۔ یعنی وہ شربت کو پسند کرتی تھی۔ حضرت مسیح موعود(مرزا قادیانی لعنت اللہ علیہ) اس کے لئے شربت کی بوتل ہمیشہ اپنے پاس رکھا کرتے تھے۔ رات کو وہ اٹھا کرتی تو کہتی ابا شربت پینا۔ آپ فوراً اٹھ کر شربت بنا کر اسے پلا دیا کرتے تھے۔ ایک روز لدھیانہ میں اس نے اسی طرح رات کو اٹھ کر شربت مانگا۔ حضرت صاحب نے اسے شربت کی جگہ غلطی سے چنبیلی کا تیل پلا دیا۔ جس کی بوتل اتفاقاً شربت کی بوتل کے پاس ہی پڑی تھی۔ لڑکی بھی وہ ”شربت“ پی کر سو گئی۔ صبح جب تیل کم اور گلاس چکنا دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ غلطی ہو گئی ہے مگر خدا کے فضل سے نقصان نہیں ہوا۔۔۔۔الخ (سیرت المہدی تین جلدوں والا ایڈیشن۔ جلد سوم صفحہ 775 روایت نمبر 879)

پیچش کی موت

ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود(مرزا قادیانی لعنت اللہ علیہ) کو اپنی وفات سے قبل سالہا سال اسہال کا عارضہ رہا تھا۔ چنانچہ حضور اسی مرض میں فوت ہوئے۔ بار ہا دیکھا گیا کہ حضور کو دست آنے کے بعد ایسا ضعف ہوتا تھا کہ حضور فوراً دودھ کا گلاس منگوا کر پیتے تھے۔( سیرت المہدی تین جلدوں والا ایڈیشن۔ جلد دوم صفحہ 344 روایت نمبر 379)
source link