Showing posts with label ختم نبوت فورم متفرقات. Show all posts
Showing posts with label ختم نبوت فورم متفرقات. Show all posts

Sunday, 24 September 2017

عقل ہوتی تو خدا سے نہ لڑائی لیتے

0 comments
عقل ہوتی تو خدا سے نہ لڑائی لیتے
مربی صاحب آپ کو پوسٹ میں یہ غلطی تو نظر آگئی کہ مرز ا جی نے حضور ﷺ کی قبر کو نہیں
بلکہ غار ثورا کو متعفن اور زلیل کہا ہے لیکن نہ جانے کیوں آپ یہ بات بھول رہے ہیں
کہ حضور ﷺ کے قدم مبارک جس جگہ پر پڑ جائیں وہ تاقیامت نشانی بن جاتی ہے
یہ وہ قدم ہیں جن کے بارے میں اللہ کا قرآن ارشاد فرماتا ہے
لا اقسم بھٰذا البلد o وانت حل بھٰذا لبلد ۔
آپ کا ماننا ہے کہ یہ گستاخی مرز ا جی نے حضور ﷺ کی قبر کے بارے
میں نہیں کی بلکہ غارثورکے بارے میں کی ہے تو جب حضور ﷺ نے
غار ثور میں قیام فرمایا تو کیا اُس کی فضیلت بلند نہ ہوئی؟ کیا وہ متعفق بدبودار
اور حشرات الارض کی نجاست کی جگہ رہ گئی؟؟؟؟
اللہ عزوجل آپ سمیت تمام مرزائی حضرات کو عقل سلیم عطا فرمائے

Sunday, 12 February 2017

Qadiani Kafir Fatwa Imam E Azam Abu Hanifa R.A

0 comments
بسم اللہ الرحمن الرحیم ،
 آج کل اکثر گروپس میں مرزائی قادیانی اپنی خفیہ سازشوں کو پایا تکمیل تک پہنچانے کے لیے مسلمانوں کے بھیس میں چھپ کر سادہ فہم عوام کو مختلف اسلامی موضوعات پر بحث و مکالمات کرکے گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ، لیکن مجاہدین ختم نبوت ﷺ کی ٹیم بھی میدان میں آچکی ہے جو ایسی کالی بھیڑوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر بے نقاب کرتی ہے اور ان کے کفریہ عقائد کو عوام کے سامنے ایکسپوز کرتی ہے،
 گزشتہ رات میرا ایک گروپ میں ایک مرزائی کے ساتھ موضوع حیات و فات مسیح پر مناظرہ ہوا، اور ہر بار کی طرح مرزائی دم دبا کر بھاگ نکلا، احتتام مناظرہ پر ہمارے ہی کچھ مسلم احباب نے اپنے تبصرے شروع کر دیے جن میں سے اکثر دیکھنے میں آیا کہ کچھ لوگ امام اعظم ابو حنیفہ ؒ کا ایک فتویٰ پیش کر رہے تھے کہ امام اعظم نے فرمایا ہے کہ حضور ﷺ آخری نبی ہیں ، اب حضور ﷺ کے بعد کسی بھی مدعی نبوت سے دلیل طلب کرنا کفر ہے ، اس لیے مرزائیوں سے مناظرہ کرنے والا بھی کافر ہوجاتا ہے،
 یہ پُوسٹ انھی احباب کے لیے لگا رہا ہوں جن کے زہن میں یہ سوال ہوگا کہ مرزائی یا کسی بھی مدعی نبوت کے ماننے والوں سے ہم مناظرے مباحثے مکالمے کیوں کرتے ہیں،
 درحقیقت ہمارے اُن بھائیوں کو فتویٰ کی اصل نوعیت کی سمجھ نہیں ہوتی اس وجہ سے وہ مسلم مجاہدین ختم نبوت ﷺ و مناظرین ختم نبوت ﷺ پر طرح طرح کے کفرکے فتوے داغنے شروع کر دیتے ہیں،
 کسی بھی نبی کی نبوت کی دلیل معجزہ ہوتا ہے ، امام اعظم رحمتہ اللہ نے جو فتویٰ دیا ہے اُس کا مطلب یہ ہے کہ بعد از رسول کریم ﷺ کسی بھی مدعی نبوت سے اُس کے سچا ہونے پر معجزہ کی دلیل طلب کرنا کفر ہے ،کیونکہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کےآخری نبی ہیں ، اور اس بات پر ہر مسلمان کا ایمان کامل ہے، تو کسی بھی نئے مدعی نبوت سے اُس کی نبوت کی صداقت پر معجزہ بطور دلیل طلب کرنا عقیدہ ختم نبوت ﷺ کے منافی ہوگا ، اس لیے حضور ﷺ کے بعد کسی بھی مدعی نبوت سے دلیل طلب کرنا کفر ہے،
 رہی بات مرزائیوں قادیانیوں سے مناظرہ کرنے کی تو اس زمن میں یہ بات عرض کرتا چلوں کہ ہم ( تمام مجاہدین اکرام ) مرزائیوں قادیانیوں یا کسی بھی مدعی نبوت سے اُس کی نبوت کے سچا ہونے پر دلیل طلب نہیں کرتے بلکہ اُن کر عقائد کو قرآن و سنت کی روشنی میں گمراہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ قرآں و سنت کی روشنی میں اپنے عقیدے درست کر لیں۔ ہمارا مقصد اُن سے مکالمات کرکے اُن کی اصلاح کرنا ہوتا ہے ،
 کیونکہ مناظرہ میں دوفریقین اپنے زہن میں آئے دلائل کا تبادلہ خیال کرتے ہیں تو ان میں سے جو حق پر ہوتا ہے وہ باطل کی تردید کرتا ہے،
ہمارا مقصد دعوت دین ہے۔
 منجانب، غلام نبی نوری

Saturday, 19 September 2015

Esha Iban E Mariyan Zindha Asmaan Par Gaye

0 comments

حدیث نزول عیسی علیہ السلام ( عیسی علیہ السلام کی وفات ہوئی نہیں بلکہ ہونی ہے)

حدیث نزول عیسی علیہ السلام ( عیسی علیہ السلام کی وفات ہوئی نہیں بلکہ ہونی ہے)

حدیث …’’حدثنی المثنی قال ثنا اسحاق قال ثنا ابن ابی جعفر عن ابیہ عن الربیع فی قولہ تعالی (الم اﷲ لا الہ الا ھو الحی القیوم) قال ان النصاریٰ اتوا رسول اﷲﷺ فخاصموہ فی عیسیٰ بن مریم وقالوا لہ من ابوہ وقالوا علی اﷲ الکذب والبھتان لا الہ الا ھو لم یتخذ صاحبۃ ولا ولدا فقال لھم النبیﷺ الستم تعلمون انہ لایکون ولد الاّ ھویشبہ اباہ قالوا بلیٰ قال الستم تعلمون ان ربنا حي لا یموت وان عیسیٰ یأتی علیہ الفناء قالوا بلیٰ قال الستم تعلمون ان ربنا قیم علی کل شئی یکلؤہ ویحفظہ ویرزقہ قالوا بلیٰ قال فھل یملک عیسیٰ من ذلک شیئا قالوا لا قال افلستم تعلمون ان اﷲ عزوجل لا یخفی علیہ شئ فی الارض ولا فی السماء قالوا بلیٰ۰ قال فھل یعلم عیسیٰ من ذلک شیا الا ما علم قالوا لا۰ قال فان ربنا صور عیسیٰ فی الرحم کیف شاء فھل تعلمون ذلک قالوا بلیٰ قال الستم تعلمون ان ربنا لا یاکل الطعام ولا یشرب الشراب ولا یحدث الحدث قالوا بلیٰ قال الستم تعلمون ان عیسیٰ حملتہ امرأۃ کما تحمل المرأۃ ثم وضعتہ کما تضع المرأۃ ولدھا ثم غذی کما یغذی الصبی ثم کان یطعم الطعام ویشرب الشراب و یحدث الحدث قالوا بلیٰ قال فکیف یکون ھذا کمازعمتم قال فعرفوا ثم ابوا الا حجوداً فانزل اﷲ عزوجل الم اﷲ لا الہ الا ھوالحی القیوم‘‘
(تفسیر ابن جریر ص ۱۶۳ ج۳)
ترجمہ: ’’ربیع سے ’’الم اﷲ لا الہ الا ھو الحی القیوم‘‘ کی تفسیر میں منقول ہے کہ جب نصاریٰ نجران، نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضرت مسیح علیہ السلام کی الوہیت کے بارے میں آپﷺ نے مناظرہ اور مکالمہ شروع کیا اور یہ کہا کہ اگر حضرت مسیح ابن اﷲ ہیں تو پھر ان کا باپ کون ہے؟ (مراد کہ اگر حضرت عیسیٰ کا باپ نہیں، تو ان کو اﷲ ہی کا بیٹا کہنا چاہئے) حالانکہ خدا وہ ہے جو لاشریک ہے۔ بیوی اور اولاد سے پاک اور منزہ ہے۔ تو آنحضرتﷺ نے ان سے یہ ارشاد فرمایا کہ تم کو خوب معلوم ہے کہ بیٹا باپ کے مشابہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں بے شک ایسا ہی ہوتا ہے۔ (یعنی جب یہ تسلیم ہوگیا کہ بیٹا، باپ کے مشابہ ہوتا ہے) تو اس قاعدہ سے حضرت مسیح بھی خدا کے مماثل اور مشابہ ہونے چاہئیں۔ حالانکہ سب کو معلوم ہے کہ خدا بے مثل ہے اور بے چون و چگون ہے۔ ’’لیس کمثلہ شئی ولم یکن لہ کفواً احد‘‘ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ ہمارا پروردگار حیی لا یموت ہے۔ یعنی زندہ ہے۔ کبھی نہ مرے گا اور عیسیٰ علیہ السلام پر موت اور فنا آنے والی ہے۔ (اس جواب سے صاف ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ابھی زندہ ہیں، مرے نہیں۔ بلکہ زمانہ آئندہ میں ان پر موت آئے گی) نصاریٰ نجران نے کہا بے شک صحیح ہے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ ہمارا پروردگار ہر چیز کا قائم کرنے والا تمام عالم کا نگہبان اور محافظ اور سب کارزاق ہے۔ نصاریٰ نے کہا بے شک! آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام بھی کیا ان چیزوں کے مالک ہیں؟ نصاریٰ نے کہا نہیں۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا تم کو معلوم ہے کہ اﷲ پر زمین اور آسمان کی کوئی شے پوشیدہ نہیں۔ نصاریٰ نے کہا ہاں بے شک! آپﷺ نے ارشاد فرمایا کیا عیسیٰ کی بھی یہی شان ہے؟ نصاریٰ نے کہا نہیں۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ اﷲ نے حضرت عیسیٰ کو رحم مادر میں جس طرح چاہا بنایا؟ نصاریٰ نے کہا ہاں۔ آپﷺ نے فرمایا کہ تم کو خوب معلوم ہے کہ اﷲ نہ کھانا کھاتا ہے۔ نہ پانی پیتا ہے اور نہ بول و براز کرتا ہے۔ نصاریٰ نے کہا بے شک! آپﷺ نے فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام سے اور عورتوں کی طرح ان کی والدہ مطہرہ حاملہ ہوئیں اور پھر مریم صدیقہ نے ان کو جنا۔ جس طرح عورتیں بچوں کو جنا کرتی ہیں۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام کو بچوں کی طرح غذا بھی دی گئی۔ حضرت مسیح کھاتے بھی تھے، پیتے بھی تھے اور بول و براز بھی کرتے تھے۔ نصاریٰ نے کہا بے شک! ایسا ہی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ پھر عیسیٰ علیہ السلام کس طرح خدا کے بیٹے ہوسکتے ہیں؟‘‘نصاریٰ نجران نے حق کو خوب پہچان لیا۔ مگر دیدئہ و دانستہ اتباع حق سے انکار کیا۔ اﷲ عزوجل نے اس بارے میں یہ آیتیں نازل فرمائیں : ’’الم اﷲ لا الہ الا ھو الحی القیوم‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دعا گو غلام نبی نوری

Tuesday, 15 September 2015

ہاہاہا مرزائیوں کا عینک والا خود ساختہ نبی ۔۔۔۔۔Glass Wala Nabi

0 comments

 عیکنک والے جن تو آپ نے بہت دیکھے ہوں گے پر یہ عینک والا خود ساختہ نبی بھی دیکھ لیں جو اپنے آپ کو یلاش کی بیوی ، مسیح ، ابن مریم، خدا، نبی، رسول، محدث، عالم ، مفکر ، سائنسدان، کیمیا گر، جادو گر، زانی شرابی، چور، ڈکیٹ، وارداتیا، نامر، خسرہ اور بہت سارے تمغوں سے نوازتا ہے ، مذید ہمارے فورم ہر اس کتے کے زاتی الہام پڑھیں اور اس پر لعنت ڈالیں

Sunday, 13 September 2015

خاتم النبیین پر ایک بہترین ، عمدہ اور معلوماتی تحریر

0 comments
خاتم النبیین پر ایک بہترین ، عمدہ اور معلوماتی تحریر

  • ختم نبوت کا عقیدہ ان اجماعی عقائد میں سے ہے، جو اسلام کے اصول اور ضروریات دین میں شمار کئے گئے ہیں . اور عہد نبوت سے لے کر اس عہد تک ہر مسلمان اس پر ایمان رکھتا آیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلا کسی تاویل اور تصخیص کے خاتم النبیین ہیں .
  • قرآن مجید کی ایک سو آیات کریمہ، رحمت عالم ﷺ کی احادیث متواترہ (دوسو دس احادیث مبارکہ) سے یہ مسئلہ ثابت ہے، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کا سب سے پہلا اجماع اسی مسئلہ پر منعقد ہوا کہ مدعی نبوت کو قتل کیا جائے.
  • آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ حیات میں اسلام کے تحفظ وحیات میں اسلام کے تحفظ و حیات کے لیے جتنی بھی جنگیں لڑیں گئیں ، ان میں شہید ہونے والے صحابہ اکرام رضی اللہ عنہ کی کل تعداد 259 ہے .
  • عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ ودفاع کے لئے اسلام کی تاریخ کی پہلی جنگ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں مسلیمہ کزاب کے خلاف یمامہ کے میدان میں لڑی گئی .
  • اس ایک خنگ میں شہید ہونے والے صحابہ رضی اللہ عنہ اور تابعین رحمتہ اللہ کی تعداد بارہ سو ہے جن میں 700 سات سو قرآن مجید کے حافظ اور عالم تھے.
  • رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کل کمائی اور گراں قدر اثاثہ حضرات صحابہ اکرام رضی اللہ عنہ ہی ہیں . جن کی بڑی تعداد اس عقیدہ کے تحفظ کے لئے جام شہادت نوش کر گئی 
  • . اس سے ختم نبوت کے عقیدہ کی عظمت کا اندازہ ہو جاتا ہے .
  • عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور فضیلت

  • حضرت حبیب بن زید انصاری رضی اللہ عنہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یمامہ کے قبیلہ بنو حنیفہ کے مسلیمہ کزاب کے پاس بھیجا، مسلیمہ کذاب نے حضرت حبیب بن زید انصاری رضی اللہ عنہ کو کہا کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ؟ 
    حضرت حبیب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاں ... مسلیمہ نے کہا کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں (مسلیمہ) بھی اللہ کا رسول ہوں؟؟
    حضرت حبیب بن ذید انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں بہرا ہوں تیری یہ بات نہیں سن سکتا ....
    مسلیمہ بار بار سوال کرتا رہا ،وہ یہی جواب دیتے رہے .. 
    مسلیمہ آپ کا ایک ایک عضو کاٹتا رہا حتی' کہ حبیب بن زید رضی اللہ عنہ کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر کہ ان کو شہید کردیا گیا..
    اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرات صحابہ اکرام رضی اللہ تعالی عنہ مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت وعظمت سے کس طرح والہانہ تعلق رکھتے تھے ...
    اب تابعین رضی اللہ عنہ میں سے ایک تابعی کا ایک واقعہ ملاحظہ ہو ............
    "حضرت ابو مسلم خولانی رضی اللہ عنہ جن کا نام عبدللہ بن ثوب رضی اللہ عنہ ہے اور یہ امت محمدیہ کے وہ جلیل القدر بزرگ ہیں جن کے لئے اللہ نے آگ کواس طرح بے اثر فرما دیا ..
    جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے آتش نمرود کو گلزار بنا دیا . یہ یمن میں پیدا ہوئے تھے .اور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں ہی اسلام کے آئے تھے .لیکن ارکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضری کا موقع نہیں ملا تھا .
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ کے آخری دور میں یمن میں نبوت کے جھوٹادعوےدار اسود عنسی پیدا ہوا .جو لوگوں کو اپنی جھوٹی نبوت پر ایمان لانے پر مجبور کیا کرتا تھا .
    اسی دوران اس نے حضرت ابو مسلم خولانی رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج کر اپنے پاس بلایا اور اپنی نبوت پر ایمان لانے کی دعوت دی .... حضرت ابو مسلم رضی اللہ عنہ نے انکار کیا پھر اس نے پوچھا کیا تم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت پر ایمان رکھتے ہو ؟؟؟
    حضرت ابو مسلم رضی اللہ عنہ نے فرمایا ...ہاں
    اس پر اسود عنسی نے آگ دھکائی اور ابو مسلم لو اس خوفناک آگ میں ڈال دیا ، لیکن اللہ تعالی نے ان کے لئے آگ کو بے اثر کر دیا اور وہ اس سے صحیح سلامت نکل آئے. یہ واقعہ اتنا عجیب تھا کہ اسود عنسی اور اس کے رفقاء کو اس پر ہیبت سی طاری ہو گئی اسود کے ساتھیوں نے اسے مشورہ دیا کہ ان کو جلا وطن کر دو . ورنہ خطرہ ہے کہ ان کی وجہ سے تمہارے پیرووں کے ایمان میں تزلزل آجائے گا. چنانچہ انہیں یمن سے جلا وطن کر دیا گیا .
    یمن سے نکل کر آپ مدینہ منورہ تشریف لے آئے .حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ جب ان سے ملے تو فرمایا : شکر اللہ تعالی کا کہ اس نے مجھے موت سے پہلے اس نے امت محمدیہ صلہ اللہ علیہ وآلہ وسلم کہ اس شخص کی زیارت کرا دی جس کے ساتھ اللہ تعالی نے ابراہیم علیہ اسلام جیسا معاملہ فرمایا "
  • قرآن مجید میں ذات باری تعالی کے متعلق "رب العالمین" آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیلئے "رحمتہ للعالمین" قرآن مجید کے لئے "زکرللعالمین" اور بہت اللہ کےلئے "ھدی للعالمین " فرمایا گیا ہے.
    اس سے جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت ورسالت کی آفاقییت وعالمگیریت ثابت ہوتی ہے،وہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصف ختم نبوت کا اختصاص بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس کے لئے ثابت ہوتا ہے. اس لئے کے پہلے تمام انبیاء علیہ السلام اپنے اپنے علاقہ مخصوص قوم اور مخصوص وقت کے لئے تشریف لائے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو حق تعالی نے کل کائنات کو آپ کی نبوت ورسالت کے لئے اکائی بنا دیا .
    جس طرح کل کائنات کےلئے اللہ تعالی "رب" ہے .اسی طرح کل کائنات کےلئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم "نبی" ہیں.
    یہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اعزاز اختصاص ہے. آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےاپنے لئےجن چھے خصوصیات کا زکر فرمایا ان میں سے ایک یہ بھی ہے ::
    "میں تمام مخلوق کو نبی بنا کر بھیجا گیا اور مجھ پر نبوت کا سلسلہ بند کر دیا گیا "(مشکوہ صفحہ 512 فضائل المرسلین 'مسلم جلد 1 صفحہ 199)
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری نبی ہیں ،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت آخری امت ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قبلہ آخری قبلہ بیت شریف ہے .آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل شدہ کتاب آخری آسمانی کتاب ہے .
    یہ سب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کے ساتھ منصب ختم نبوت کے اختصاص کے تقاضے ہیں جو اللہ تعالی نے پورے کر دیے ہیں.
    چنانچہ قرآن مجید کو "زکر للعالمین" بیت اللہ شریف کو "ھدی للعالمین" کا اعزاز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت کے صدقے میں ملا ہے.
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت آخری امت قرار پائی جیسا کہ ارشاد نبوی ہے "انا آخر الانبیاء وانتم آ ”ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین وکان اللہ بکل شئی علیما۔“ (سورۂ احزاب:40) 
    ترجمہ: ”محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے ختم پر ہے اورا للہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔
    تمام مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ خاتم النبیین کے معنی یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو منصبِ نبوت پر فائز نہیں کیا جائیگا۔
    خاتم النبیین کی نبوی تفسیر

    حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے، ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی کسی قسم کا نبی نہیں۔“(ابوداؤد، ترمذی) اس حدیث شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ ”خاتم النبیین“ کی تفسیر ”لانبی بعدی“ کے ساتھ خود فرمادی ہے۔اسی لئے حافظ ابن کثیررحمۃ اللہ علیہ اپنی تفسیر میں اس آیت کے تحت چند احادیث نقل کرنے کے بعد آٹھ سطر پر مشتمل ایک نہایت ایمان افروز ارشاد فرماتے ہیں۔ چند جملے آپ بھی پڑھ لیجئے۔
    ”اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور رسول اکرم نصلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث متواتر کے ذریعہ خبر دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تاکہ لوگوں کو معلوم رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جس نے بھی اس مقام (یعنی نبوت) کا دعویٰ کیا وہ بہت جھوٹا‘ بہت بڑا افترا پرداز‘ بڑا ہی مکار اور فریبی‘ خود گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہوگا‘ اگرچہ وہ خوارق عادات اور شعبدہ بازی دکھائے اور مختلف قسم کے جادو اور طلسماتی کرشموں کا مظاہرہ کرے۔“ (تفسیر ابن کثیررحمۃ اللہ علیہ جلد3 صفحہ494)
    خاتم النبیین کی تفسیر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے

    حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم و تابعین رحمۃ اللہ علیہم کا مسئلہ ختم نبوت سے متعلق مؤقف کیلئے یہاں پر صرف دوصحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی آرأ مبارکہ درج کی جاتی ہیں۔ حضرت قتادہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ انہوں نے آیت کی تفسیر میں فرمایا”اور لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول اور خاتم النبیین یعنی آخرالنبیین ہیں۔“ (ابن جریر صفحہ 16جلد 22) حضرت حسن رحمۃ اللہ علیہ سے آیت خاتم النبیین کے بارہ میں یہ تفسیر نقل کی گئی ہے کہ”اللہ تعالیٰ نے تمام انبیأ کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم کردیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان رسولوں میں سے جو اللہ کی طرف سے مبعوث ہوئے آخری ٹھہرے۔“ (درّ منثور صفحہ204 جلد5) کیا اس جیسی صراحتوں کے بعد بھی کسی شک یا تاویل کی گنجائش ہے؟ اور بروزی یا ظلی کی تاویل چل سکتی ہے؟
  • خرالامم" (ابن ماجہ صفحہ 297)
  • Friday, 28 August 2015

    Qadiani Dar kar bhaag Nikalee. Bhagoore Qadiani

    0 comments
    مسلمانوں سے بات کرنے کی ہمت نہ رہی تو قادیانیوں نے مسلمانوں پر دجل و فریب کے الزامات لگانے شروع کردیے

    Tuesday, 25 August 2015

    Kizbaat E Mirza Part 1

    0 comments
    1 ۔ میرے وقت میں فرشتوں اور شیاطین کا آخری جنگ ہے اور خدا اس وقت وہ نشان دکھائے گا جو اس نے کبھی دکھائے نہیں گویا خدا زمین پر اتر آیا۔ جیسا کہ فرماتا ہے: ’’یوم یأتی ربک فی ظلل من الغمام‘‘ یعنی اس دن بادلوں میں تیرا خدا آئے گا۔‘‘
    (حقیقت الوحی ص۱۵۴، خزائن ج۲۲ ص۱۵۸)
    یہ محض خدا پر افتراء ہے۔ بہتان ہے۔ قرآن شریف میں یہ کوئی آیت نہیں ہے۔

    2 ۔ اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ خدا بعض جگہ انسانی گریمر یعنی صرف ونحو کے ماتحت نہیں چلتا۔ اس کی نظیریں قرآن شریف میں بہت پائی جاتی ہیں۔ چنانچہ ’’ان ہذان لسحران‘‘ انسانی نحو کی رو سے ’’ان ہذین‘‘ چاہئے۔‘‘
    (حقیقت الوحی ص۳۰۴ حاشیہ، خزائن ج۲۲ ص۳۱۷)
    جناب عالی صریح جھوٹ ہے۔ قرآن شریف میں کوئی ایسی غلطی نہیں۔ آپ کو نحو آتی نہیں ورنہ یہ بہتان نہ باندھتے۔

    3 ۔ قرآن شریف خدا کا کلام اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔‘‘
    (حقیقت الوحی ص۸۴، خزائن ج۲۲ ص۸۷)
    جھوٹ ظاہر ہے خدا کی کلام مرزاقادیانی کے منہ کی باتیں کیسے ہوسکتی ہیں؟ ہاں جو قادیانی مرزاقادیانی کے الہام یا کشف ’’وراتینی فی المنام عین اﷲ‘‘ یعنی میں (مرزاقادیانی) نے خواب میں اپنے کو خدا دیکھا۔ ’’وتیقنت اننی ہو‘‘ اور میں نے یقین کیا میں وہی ہوں۔ (آئینہ کمالات اسلام ص۵۶۴، خزائن ج۵ ص ایضاً) کو صحیح مانتے ہوں ان کے نزدیک یہ جھوٹ نہ ہو تو ممکن ہے۔

    4 ۔ قرآن شریف میں اوّل سے آخر تک جس جس جگہ توفی کا لفظ آیا ہے۔ ان تمام مقامات میں توفی کے معنی موت ہی لئے گئے ہیں۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۲۴۷، خزائن ج۳ ص۲۲۴ حاشیہ)
    مرزاقادیانی! یہ آپ کا صریح جھوٹ اور دھوکہ ہے۔ کیا آپ نے قرآن شریف میں ’’وھو الذی یتوفّٰی کم باللیل‘‘ نہیں پڑھا۔ اس کے معنی موت کے کون عقلمند کر سکتا ہے؟ اسی قسم کی اور کئی آیات ہیں۔ جہاں موت کے معنی کرنے ناممکن ہیں۔

    5 ۔ اس علیم وحکیم کا قرآن شریف میں بیان فرمانا کہ ۱۸۵۷ء میں میرا کلام آسمان پر اٹھا لیا جائے گا۔ یہی معنی رکھتا ہے کہ مسلمان اس پر عمل نہیں کریں گے۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۷۲۸، خزائن ج۳ ص۴۹۰ حاشیہ)
    اے قادیانی دوستو! مرزاقادیانی تو فوت ہوچکے۔ آپ میں سے کوئی صاحب ان کی نمائندگی کر کے اس مضمون کی آیت قرآن شریف سے نکال کر مرزاقادیانی کو سچا ثابت کرے۔ ورنہ توبہ کرو ایسے شخص کی بیعت سے جو خدا پر افتراء باندھنا شیر مادر سے بھی زیادہ حلال سمجھتا ہے۔

    6 ۔ ایک اور حدیث ابن مریم کے فوت ہونے پر دلالت کرتی ہے اور وہ یہ کہ آنحضرتﷺ سے پوچھا گیا کہ قیامت کب آئے گی تو آپ نے فرمایا کہ آج کی تاریخ سے ۱۰۰برس تک تمام بنی آدم پر قیامت آجائے گی۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۲۵۲، خزائن ج۳ ص۲۲۷)
    یہ صریح بہتان ہے۔ تحریف ہے۔ کوئی ایسی صحیح حدیث نہیں جس کے معنی ان الفاظ سے عربی کا ایک ادنیٰ طالب علم بھی کر سکے۔

    7 ۔ وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کی نسبت آواز آئے گی کہ: ’’ہذا خلیفۃ اﷲ المہدی‘‘ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے۔ جو ایسی کتاب میں درج ہے جو اصح الکتاب بعد کتاب اﷲ ہے۔‘‘
    (شہادۃ القرآن ص۴۱، خزائن ج۶ ص۳۳۷)
    قادیانی حضرات سے میری مؤدبانہ درخواست ہے کہ اس مضمون کو غور سے پڑھو اور خیال فرماؤ کہ کس قدر زوردار الفاظ میں پبلک کو بخاری کا واسطہ دے کر اس حدیث کی صحت کا یقین دلارہے ہیں۔ اگر یہ جھوٹ اور دھوکہ نہیں تو پھر بتاؤ دھوکہ اور کس جانور کا نام ہے؟ کیونکہ یہ حدیث دنیا کی کسی بخاری شریف میں نہیں۔

    8 ۔ اے عزیزو! تم نے وہ وقت پایا ہے جس کی بشارت تمام نبیوں نے دی ہے اور اس شخص (مرزاقادیانی) کو تم نے دیکھ لیا ہے۔ جس کے دیکھنے کے لئے بہت سے پیغمبروں نے بھی خواہش کی تھی۔‘‘
    (اربعین نمبر۴ ص۱۳، خزائن ج۱۷ ص۴۴۲)
    ہمالیہ سے بڑھ کر جھوٹ ہے۔ اگر ثبوت ہو تو پیش کرو۔ چلو ایک ہی نبی کی خواہش کا ثبوت قرآن اور حدیث سے پیش کرو۔

    9 ۔ پہلے نبیوں کی کتابوں اور احادیث نبویہ میں لکھا ہے کہ مسیح موعود کے ظہور کے وقت یہ انتشار نورانیت اس حد تک ہوگا کہ عورتوں کو بھی الہام شروع ہو جائے گا اور نابالغ بچے نبوت کریں گے اور عوام الناس روح القدس سے بولیں گے۔‘‘
    (ضرورۃ الامام ص۵، خزائن ج۱۳ ص۴۷۵)
    کوئی قادیانی یہ حدیث دکھادے تو علاوہ عام انعام مقررہ کے مبلغ دس روپے نقد انعام کا مستحق سمجھا جائے گا اور اگر نہ دکھا سکے تو اس سے صرف دوبارہ اسلام قبول کر لینا ہی مطلوب ہے۔

    10 ۔ بات یہ ہے کہ مجدد صاحب سرہندی نے اپنے مکتوبات میں لکھا ہے کہ اگرچہ اس امت کے بعض افراد مکالمہ ومخاطبہ الٰہیہ سے مخصوص ہیں اور قیامت تک مخصوص رہیں گے۔ لیکن جس شخص کو بکثرت اس مکالمہ ومخاطبہ الٰہیہ سے مشرف کیا جائے اور بکثرت امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جائیں وہ شخص نبی کہلاتا ہے۔‘‘
    (حقیقت الوحی ص۳۹۰، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶)
    مرزائی دوستو! مکتوبات کو میں نے خود پڑھا۔ وہاں محدث لکھا ہے۔ یقینا اپنی نبوت کے ثبوت میں مجدد صاحب کی پناہ لینے کے لئے افتراء محض سے کام لیا ہے۔ کیونکہ جب محدث ہونے کا دعویٰ تھا اس وقت یہ حوالہ نقل کرتے وقت محدث لکھا کرتے تھے۔ (ازالہ اوہام ص۹۱۵، خزائن ج۳ ص۶۰۱، تحفہ بغداد ص۲۰،۲۱، خزائن ج۷ ص۲۸ حاشیہ) کیا اب بھی مرزاقادیانی کی کذب بیانی کا یقین نہیں آئے گا؟

    11 ۔ ’تفسیر ثنائی میں لکھا ہے کہ ابوہریرہ فہم قرآن میں ناقص تھا۔‘‘
    (ضمیمہ براہین احمدیہ ج۵ ص۲۳۴، خزائن ج۲۱ ص۴۱۰)
    بلکہ ڈبل جھوٹ ہے۔ چونکہ حضرت ابوہریرہؓ جلیل القدر صحابی رسول کریمﷺ نے بہت سی ایسی احادیث بیان فرمائی ہیں جو مرزائی قصر نبوت ومسیحیت میں زلزلہ ڈال دیتی ہیں۔ اس واسطے پبلک کو دھوکہ دینے کے لئے تفسیر ثنائی پر جھوٹ باندھ دیا۔ یا اﷲ! قادیانی جماعت کے لوگوں کو دماغ دے اور دماغ میں سمجھ دے تاکہ وہ ایسی صریح اور سفید جھوٹ بولنے والے انسان کو تیرے بھیجے ہوئے انبیاء علیہم السلام بالخصوص حضرت فخر موجوداتﷺ کا بروز کہنا ترک کر دیں۔

    12 ۔ اور یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے پرندوں کا پرواز کرنا قرآن شریف سے ہرگز ثابت نہیں۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۳۰۷ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۲۵۶)
    صریح مخالفت کلام اﷲ ہے۔ ’’فیکون طیراً باذن اﷲ‘‘ کے معنی کسی پہلی جماعت کے عربی متعلم ہی سے پوچھ لیے ہوئے تو یہ بہتان خدا پر باندھنے کی نوبت نہ آتی۔ خود مرزاقادیانی فرماتے ہیں۔ ’’حضرت مسیح علیہ السلام کی چڑیاں باوجودیکہ معجزہ کے طور پر ان کا پرواز کرنا قرآن کریم سے ثابت ہے۔ مگر پھر بھی مٹی کی مٹی ہی تھیں۔‘‘ (آئینہ کمالات اسلام ص۶۸، خزائن ج۵ ص ایضاً) اے قادیانی جماعت کے تعلیم یافتہ حضرات! کچھ تو خدا کا خوف کرو اور اپنے گریبان میں منہ ڈال کر سوچو کہ اتناقض اور تضاد کا بھی کوئی جواب ہے۔ اگر نہیں ہے اور یقینا نہیں ہے تو پھر قول مرزا نمبر۲ مندرجہ تمہید ٹریکٹ ہذا کے مطابق مرزاقادیانی کو وہی سمجھو جس کی وہ ہدایت کر رہے ہیں۔

    13 ۔ [ARB]واذ قال اﷲ یا عیسیٰ ابن مریم أانت قلت للناس[/ARB] یہ قصہ وقت نزول آیت زمانہ ماضی کا ایک قصہ تھا۔ نہ کہ زمانہ استقبال کا۔ (یعنی یہ باتیں خدا اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان رسول پاک سے پہلے ہو چکی تھیں) کیونکہ ’’اذ‘‘ خاص واسطے ماضی کے آتا ہے۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۶۰۲، خزائن ج۳ ص۴۲۵)
    صریح جھوٹ اور اس کا جھوٹ ہونا خود اس طرح بیان فرماتے ہیں۔ ’’اﷲتعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام سے یہ باتیں قیامت کے دن کریں گے۔‘‘
    (ملخصاً براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۴۰، خزائن ج۲۱ ص۵۱)
    اور لکھا ہے: ’’جس شخص نے کافیہ یا ہدایت النحو بھی پڑھی ہوگی وہ خوب جانتا ہے کہ ماضی مضارع کے معنوں پر بھی آجاتی ہے۔‘‘
    (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ۵ ص۶، خزائن ج۲۱ ص۱۵۹)
    اب دونوں کا تناقض دور کرتا کسی قادیانی عالم ہی کا کام ہے۔ عقل عامہ تو اس کے سمجھنے سے قاصر ہے۔

    14 ۔ مسلمانوں کو واضح رہے کہ خداتعالیٰ نے یسوع کی قران شریف میں کوئی خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا۔‘‘
    (ضمیمہ انجام آتھم ص۹، خزائن ج۱۱ ص ۲۹۳ حاشیہ)
    غور کیجئے۔ عیسیٰ علیہ السلام کیا وہی شخصیت نہیں جسے عیسائی یسوع کہتے ہیں۔ کیا نام بدل دینے سے شخصیت بھی بدل جاتی ہے۔ سبحان اﷲ! یہ عقیدہ بھی جھوٹ محض کا اظہار ہے اور اس کا جھوٹ ہونا بھی خود ہی تسلیم کرتے ہیں۔ گو ان کی امت نہ کرے۔
    (چشمہ معرفت ص۲۱۸، خزائن ج۲۳ ص۲۲۷) پر ہے: ’’اسی وجہ سے خداتعالیٰ نے یسوع کی پیدائش کی مثال بیان کرنے کے وقت آدم ہی کو پیش کیا ہے۔ جیسا کہ فرماتا ہے۔ ان مثل عیسیٰ عند اﷲ کمثل آدم‘‘

    15 ۔ ’اور ان کی پرانی تاریخوں میں لکھا ہے کہ یہ ایک نبی شاہزادہ ہے جو بلاد شام کی طرف سے آیا تھا۔ جس کو قریباً ۱۹۰۰ء برس آئے ہوئے گزر گئے ہیں۔‘‘
    (تحفہ گولڑویہ ص۹، خزائن ج۱۷ ص۱۰۰)
    اے دنیا کے پڑھے لکھے لوگو! خدا کی قسم مرزاقادیانی کا سیاہ جھوٹ ہے۔ اگر کشمیر کی کسی کتاب میں ایسا لکھا ہوا کوئی قادیانی دوست دکھادے تو علاوہ انعام عام کے میں وعدہ کرتا ہوں کہ مبلغ دس ہزار روپے اور انعام دوں گا۔

    16 ۔ کتاب سوانح یوز آصف جس کی تالیف کو ہزار سال سے زیادہ ہوگیاہے۔ اس میں صاف لکھا ہے کہ ایک نبی یوز آسف کے نام سے مشہور تھا اور اس کی کتاب کا نام انجیل تھا۔‘‘
    (تحفہ گولڑویہ ص۹۰۰، خزائن ج۱۷ ص۱۰۰)
    ریمارک وہی ہے جو جھوٹ نمبر۱۵ میں ہے۔

    17 ۔ حضرت مریم صدیقہ کی قبر زمین شام میں کسی کو معلوم نہیں۔‘‘
    (حقیقت الوحی ص۱۰۱ حاشیہ، خزائن ج۲۲ ص۱۰۴)
    پھر ایک شامی دوست کا خط نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’حضرت مریم صدیقہ کی قبر بلدہ قدس کے گرجا میں ہے۔‘‘
    (اتمام الحجۃ ص۲۱ حاشیہ، خزائن ج۸ ص۲۹۹)
    دونوں باتیں مرزابشیر احمد ایم۔اے کے نزدیک صریح جھوٹ ہیں۔ وہ فرماتے ہیں۔ ’’شہر سری نگر محلہ خانیار میں جو دوسری قبر، قبر یوز آسف کے پاس ہے۔ وہ حضرت مریم علیہ السلام کی ہے۔‘‘
    (ریویو آف ریلیجنز ج۱۶، نمبر۷ ص۲۵۶ حاشیہ)
    دیکھا حضرات! باپ جھوٹا یا بیٹا۔ ہم تو دونوں کو جھوٹا سمجھتے ہیں آپ جسے چاہیں سمجھ لیں۔

    18 ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔‘‘
    (کشتی نوح ص۶۵، خزائن ج۱۹ ص۷۱ حاشیہ)
    شراب نجس العین ہے۔ کوئی آدمی شراب پینے والا نبی نہیں ہوسکتا۔ قرآن اور حدیث سے ثبوت دو گے تو مبلغ پانچ روپے انعام ملے گا۔ یہ بھی جھوٹ ہے کہ انجیل کی رو سے شراب حلال تھی جو آدمی مقابلہ پر اس نجس العین کا حلال ہونا ثابت کر دے۔ پانچ روپے مزید انعام لے۔

    19 ۔ سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘
    (دافع البلاء ص۱۱، خزائن ج۱۸ ص۲۳۱)
    ’’نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیاگیا ہوں۔‘‘
    (حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ۲۲ ص۴۰۶)
    ’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔‘‘
    (اخبار بدر مارچ ۱۹۰۸ء، ملفوظات ج۱۰ ص۱۲۷)
    نبوت کا دعویٰ بالکل جھوٹا ہے۔ چنانچہ خود مرزاقادیانی نے مدعی نبوت کے جھوٹ پر اپنے زمانہ اسلام میں مہر تصدیق اس طرح لگادی۔
    ’’میں سیدنا ومولانا حضرت محمد مصطفیﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اﷲ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اﷲ محمد مصطفیﷺ پر ختم ہوگئی۔‘‘
    (تبلیغ رسالت حصہ دوم ص۲۰، ۲۱، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۳۰)

    20 ۔ کوئی شخص اہل لغت اور اہل زبان سے پہلی رات کے چاند پر قمر کا لفظ اطلاق نہیں کرتا۔ بلکہ وہ تین رات تک ہلال کے نام سے موسوم ہوتا ہے۔‘‘
    (ضمیمہ انجام آتھم ص۴۷، خزائن ج۱۱ ص۳۳۱)
    حضرات! مرزاقادیانی یا تو صریح اپنی مطلب برابری کے لئے جھوٹ بول رہے ہیں یا عاجز کو معلوم نہیں کہ لغت کس جانور کا نام ہے۔ چھوٹے چھوٹے طالب علم بھی جانتے ہیں کہ قمر چاند کا ذاتی نام ہے اور ہلال اور بدر اسی کے وصفی نام ہیں۔ چنانچہ تاج العروس لغت کی مشہور کتاب میں لکھا ہے۔ ’’الہلال غرۃ القمر وھی اوّل لیلۃ‘‘ (یعنی ہلال قمر کی پہلی رات ہے) قرآن شریف میں بھی ہلال کو قمر لکھا گیا ہے۔ خود مرزاقادیانی کے صاحبزادے اور خلیفے مرزامحمود قادیانی (اخبار الفضل مورخہ ۱۷؍جولائی ۱۹۲۸ء) میں لکھتے ہیں۔ ’’قمر ہلال نہیں ہوتا مگر ہلال ضرور قمر ہوتا ہے۔ کیونکہ (قمر) چاند کا عام نام ہے۔ خواہ چاند پہلے دن کا ہو یا دوسرے دن کا یا تیسرے دن کا۔‘‘ دیکھا حضرات! مرزاقادیانی کس شان اور رعب سے جھوٹ بول کرمطلب نکالا کرتے تھے۔

    21 ۔ مسیح تیرھویں صدی میں پیدا اور چودھویں صدی میں ظاھر ہو گا

    ’’اور حدیثوں سے ثابت ہے کہ اس مسیح موعود کی تیرھویں صدی میں پیدائش ہوگی اور چودھویں صدی میں اس کا ظہور ہوگا۔‘‘
    (ریویو ج۲ نمبر۱۱، ۱۲، باب ماہ نومبر، دسمبر ۱۹۰۳ء ص۲۳۷)

    صریح بہتان ہے۔ افتراء ہے۔ تمام قادیانی علماء مل کر زور لگائیں کہیںکوئی صحیح حدیث اس مضمون کی نہیں دکھا سکیں گے۔

    22 ۔ کر مہائے تو کرد مارا گستاخ۔ تیری بخششوں نے ہم کو گستاخ کردیا۔‘‘
    (براہین احمدیہ ص۵۵۶، خزائن ج۱ ص۶۶۲، حاشیہ در حاشیہ)
    یہ الہام بالکل جھوٹا ہے۔ چنانچہ میں اپنی تائید میں موجودہ خلیفہ کا اس الہام پر تبصرہ عرض کرتا ہوں۔ دیکھو (الفضل مورخہ ۲۰،۲۳؍جنوری ۱۹۱۷ء) میں فرماتے ہیں:
    ’’نادان ہے وہ شخص جس نے کہا۔ ’’کرمہائے تو کردمارا گستاخ‘‘ کیونکہ خدا کے فضل انسان کو گستاخ نہیں بنایا کرتے اور سرکش نہیں کر دیا کرتے۔‘‘
    (ج۴ ص۱۳، نمبر۵۷،۵۸)
    ایہا الناظرین! اب جب کہ آپ کے خلیفہ بھی مرزاقادیانی کو نادان کہہ رہے۔ تم کیوں نہیں ایسا سمجھنے سے عار کرتے ہو۔

    23 ۔ خدا کا قانون بدلتا ہے، نہیں بدلتا

    ’’خداتعالیٰ کا قانون قدرت ہر گز بدل نہیں سکتا۔‘‘
    (کرامات الصادقین ص۱۴، خزائن ج۷ ص۱۶۲)
    پھر دوسری جگہ ملاحظہ کریں:
    ’’خدا اپنے خاص بندوں کے لئے اپنا قانون بھی بدل دیتا ہے۔‘‘
    (چشمہ معرفت ص۹۶، خزائن ج۲۳ ص۱۰۴)
    حضرات! اس پر حاشیہ لکھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ جھوٹ اظہر من الشمس ہے۔

    24 ۔ بنی اسرائیل کے انبیاء نے غلط پیشنگوئی کی

    ’’بائبل میں یہ بھی لکھا ہے کہ ایک مرتبہ بنی اسرائیل کے چار سو نبی نے ایک بادشاہ کی فتح کی نسبت خبر دی تھی اور وہ غلط نکلی۔ مگر اس عاجز کی کسی پیش گوئی میں کوئی الہام غلطی نہیں۔‘‘
    (اشتہار حقانی تقریر بروفات بشری تبلیغ رسالت حصہ اوّل ص۱۲۷، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۶۹)
    بائبل کا حوالہ دیکھیں وہاں اگر لکھا ہو کہ وہ چار سو نبی انبیاء بنی اسرائیل تھے تو مرزاقادیانی کا یہ جھوٹ غلط اور اگر وہاں لکھا ہو کہ وہ لعل بت کے پچاری تھے۔ جنہیں لوگ (بت پرست) نبی کہتے تھے اور ان بت پرستوں کی پیش گوئی غلط نکلی اور خدا کے رسول میکایا کی پیش گوئی کے مطابق بادشاہ کو شکست ہوئی تو پھر صرف اتنا تو کرو کہ اس قدر جھوٹوں کا طومار باندھنے والے سے برأت کا اظہار کر دو اور بس۔ دیکھا حضرات اپنی پیش گوئی غلط نکلنے پر اپنا جھوٹ ہونا تسلیم نہیں کرتے۔ بلکہ تورات پر افتراء کیا۔ پھر فرماتے ہیں کہ اس عاجز کی کسی پیش گوئی میں کوئی الہام غلطی نہیں۔ مرزاقادیانی خدا کا خوف کرو اور بتاؤ کہ مندرجہ ذیل پیش گوئیاں جو الہامی تھیں پوری ہوئیں۔
    ۱… کیا مولوی محمد حسین بٹالوی نے مطابق پیش گوئی آپ کی بیعت کی؟ ہر گز نہیں۔
    ۲… کیا ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی مطابق پیش گوئی کیا آپ کے سامنے ہلاک ہوا؟
    ۳… کیا محمدی بیگم منکوحہ آسمانی آپ کے نکاح میں آئی؟ ہرگز نہیں۔
    ۴… کیا اسی طرح کی تمام پیش گوئیاں غلط نہیں؟

    25 ۔ مسیح موعود کے زمانے میں طاعون

    ’’اور یہ بھی یاد رہے کہ قرآن شریف میں بلکہ توریت کے بعض صحیفوں میں بھی یہ خبر موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔‘‘
    (کشتی نوح ص۵، خزائن ج۱۹ ص۵)
    اے قادیانی دوستو! اگر قرآن شریف میں ایسا لکھا ہوا دکھا دو تو میں تردید مرزائیت چھوڑ دوں گا اور اگر صریح جھوٹ ہو یا کسی لفظ کے معنی (مثل گندم بمعنی گڑ) خواہ مخواہ تاویل کر لو۔ تو پھر اتنا تو کرو کہ اس جھوٹ کے عوض صرف دس مرزائی مسلمان ہو جاؤ۔

    26 ۔ قرآن میں میرا نام مریم

    ’’اگر قرآن نے میرا نام ابن مریم نہیں رکھا تو میں جھوٹا ہوں۔‘‘
    (تحفۃ الندوہ ص۵، خزائن ج۱۹ ص۹۸)
    آئیے حضرات! مرزاقادیانی کا نام قرآن شریف میں ابن مریم دکھاؤ۔ ورنہ ایسے صریح جھوٹ کے بولنے والے کو نبی کہنا تو چھوڑ دو۔ جھوٹا آدمی تو پکا مسلمان بھی نہیں ہوسکتا۔

    27 ۔ عنقریب پڑھے لکھے ہندونظر نہیں آئیں گے

    ’’عنقریب وہ زمانہ آنے والا ہے کہ تم نظر اٹھا کر دیکھو گے کہ کوئی ہندو دکھائی دے۔ مگر ان پڑھوں لکھوں میں سے ایک ہندو بھی تمہیں دکھائی نہ دے گا۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۳۲، خزائن ج۳ ص۱۱۹)
    اے قادیانی دوستو! اس کی اور اس میں عنقریب کی تاویل کیا کرو گے۔ کیا اب ہندوستان میں کوئی کافر نہیں۔ ہندو مسلمان کیا ہوتے بلکہ کئی مسلمان اچھے بھلے خدا اور اس کے رسول کے ماننے والے مرزاقادیانی کی نبوت کی بھینٹ چڑھ گئے۔ ’’انا ﷲ وانا الیہ راجعون‘‘

    28 ۔ آپ ﷺ کا معراج ایک کشف تھا

    ’’آنحضرتﷺ کو معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا۔ بلکہ وہ نہایت اعلیٰ درجے کا کشف تھا۔ اس قسم کے کشفوں میں خود مؤلف (جناب مرزاقادیانی) بھی صاحب تجربہ ہے۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۴۷ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۱۲۶)
    صریح جھوٹ ہے۔ خلاف قرآن، حدیث اور خلاف اجماع امت اور اس کا جھوٹ ہونا خود اس طرح تسلیم کرتے ہیں۔ ازالہ ’’آنحضرتﷺ کے رفع جسمی کے بارہ میں یعنی اس بارہ میں کہ وہ جسم کے ساتھ شب معراج آسمان کی طرف اٹھا لئے گئے تھے۔ تقریباً تمام صحابہ کا یہی اعتقاد تھا۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۲۸۹، خزائن ج۳ ص۲۴۷) کیوں احمدی دوستو! تمام صحابہ کو جھوٹا کہو گے یا ایک مرزاقادیانی کو؟

    29 ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر بلدۂ قدس کے گرجا میں ہے اور اب تک موجود ہے اور اس پر ایک گرجا بنا ہوا ہے اور وہ گرجا تمام گرجاؤں سے بڑا ہے۔ اس کے اندر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے۔‘‘
    (اتمام الحجۃ ص۲۱، خزائن ج۸ ص۲۹۹)
    اے قادیانی کہلانے والے سمجھ دار طبقہ کے لوگو! اس کے جھوٹا ہونے میں تمہیں شک ہوتو لو۔ جس کی خاطر تم اس پر شک کرتے ہو اس سے کم ازکم اس بیان کے جھوٹا ہونے پر مہر تصدیق میں لگادیتا ہوں۔
    ’’مسیح کی قبر محلہ خانیار شہر سری نگر میں ہے۔‘‘
    (ایام الصلح ص۱۱۸، خزائن ج۱۴ ص۳۵۶)
    اب بتلائیے کیا جھوٹا آدمی (نہیں بلکہ جھوٹوں کی کان) بھی انسانیت اور مسلمانی کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ اب بھی اگر تمہاری عقیدت میں فرق نہ آئے تو شاباش تمہاری مستقل مزاجی کے۔

    30 ۔ حضرت مریم صدیقہ کا اپنے منسوب (جس سے ناطہ یا نسبت ہو) یوسف کے ساتھ پھرنا اس اسرائیلی رسم پر پختہ شہادت ہے۔‘‘
    (ایام الصلح ص۶۶، خزائن ج۱۴ ص۳۰۰ حاشیہ)
    دیکھئے حضرات! یہاںکس زور سے منسوب اور ناطہ ہونے کا اقرار ہے۔ پھر خود ہی (ریویو آف ریلیجنز ج۱ ص۱۵۷ نمبر۴، بابت اپریل ۱۹۰۲ء) پر لکھتے ہیں۔ ’’یہ جو انجیلوں میں لکھا ہے کہ گویا مریم صدیقہ کا معمولی طور پر جیسا کہ دنیا جہاں میں دستور ہے۔ یوسف نجار سے ناطقہ ہوا تھا یہ بالکل دروغ اور بناوٹ ہے۔‘‘
    بتلائیے صاحبان! اب بھی تم لوگو مرزاقادیانی کا دامن چھوڑ کر سرکار دو عالمﷺ سے تعلق نہ جوڑو گے؟ خدا توفیق دے۔

    31 ۔ میں اپنے مخالفوں کو یقینا کہتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام امتی ہرگز نہیں۔‘‘
    (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۹۲، خزائن ج۲۱ ص۳۶۴)
    یہاں اعلان کرتے ہیں کہ وہ امتی نہیں۔ (ازالہ اوہام ص۲۶۵، خزائن ج۳ ص۴۳۶) پر فرماتے ہیں:
    ’’یہ ظاہر ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم اسی امت کے شمار میں آگئے ہیںَ‘‘ ہے کوئی قادیانی یا لاہوری جو اس معمہ کو حل کرے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام امتی بھی ہیں اور امتی نہیں بھی ہیں۔

    32 ۔ پیش گوئی کے معنی کرنے میں انبیاء کی غلطی

    ’’کوئی نبی دنیا میں ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی پیش گوئی کے معنی کرنے میں کبھی غلطی نہ کھائی ہو۔‘‘
    (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ۵ ص۸۶، خزائن ج۲۱ ص۲۴۷)
    اے مرزاقادیانی کے جان نثارو کچھ تو خوف کرو کیا نبی تمہارے خیال میں کلہم غبی ہی ہوتے ہیں کہ اپنے الہام کو ہی نہیں سمجھتے۔ انسان دوسروں کو بھی اپنے اوپر قیاس کرتا ہے۔ نبی خطا سے پاک ہوتا ہے۔ کیا قرآن یا حدیث سے مرزاقادیانی کے اس دعویٰ کو صحیح ثابت کر سکتے ہو؟

    33 ۔ نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی ۔ آنحضرتﷺ پیشگوئیوں کو نہ سمجھ سکے

    ’’بعض پیش گوئیوں کی نسبت آنحضرتﷺ نے خود اقرار کیا ہے کہ میں نے ان کی اصلیت سمجھنے میں غلطی کھائی۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۴۰۰، خزائن ج۳ ص۳۰۷)
    اے قادیانی جماعت کے بزرگو! پڑھو ’’انا ﷲ وانا الیہ راجعون‘‘ جس کی شان خود خدا نے یہ بیان فرمائی ہو۔ ’’وما ینطق عن الہویٰ ان ہو الا وحی یوحی‘‘ وہ پیش گوئیوں کو نہ سمجھ سکیں۔ یہ صریح بہتان ہے۔ افتراء ہے۔ نہیں تو اس مضمون کی کوئی صحیح حدیث دکھاؤ۔

    34 ۔ تمام نبیوں نے ابتداء سے آج تک میرے لئے خبریں دی ہیں۔‘‘
    (تذکرۃ الشہادتین ص۶۲، خزائن ج۲۰ ص۶۴)
    چلیے حضرات کسی نبی کی کتاب سے مرزاقادیانی کے آنے کی خبر نکال دو تو مبلغ دس روپے نقد انعام دوں گا۔

    35 ۔ علم نحو میں توفی کے معنی
    علم نحو میں صریح یہ قاعدہ مانا گیا ہے کہ توفی کے لفظ ہیں۔ جہاں خدا فاعل اور انسان مفعول بہ ہو ہمیشہ اس جگہ توفی کے معنی مارنے اور روح قبض کرنے کے آتے ہیں۔‘‘
    (تحفہ گولڑویہ ص۴۵، خزائن ج۱۷ ص۱۶۲)
    افسوس کوئی صاحب علم قادیانی یا لاہوری نہیں پوچھتا کہ حضرت جی یہ قاعدہ کہاں لکھا ہے؟ مرزاقادیانی کا یہ سفید نہیں بلکہ سیاہ جھوٹ ہے۔

    36 ۔ کتاب براہین احمدیہ کے متعلق جھوٹ

    ’’یہ کتاب (براہین احمدیہ) تین سو محکم اور قوی دلائل حقیقت اسلام اور اصول اسلام پر مشتمل ہے۔‘‘ (براہین احمدیہ ج۲ ص۱۳۶، خزائن ج۱ ص۱۲۹)
    ’’ہم نے صدہا طرح کا فطور اور فساد دیکھ کر کتاب براہین احمدیہ کو تالیف کیا تھا اور کتاب موصوف میں تین سو مضبوط اور محکم عقلی دلیل سے صداقت اسلام کو فی الحقیقت آفتاب سے بھی زیادہ تر روشن دکھلایا گیا۔‘‘
    (براہین احمدیہ ج۲ ص ب، خزائن ج۱ ص۶۲)
    حضرات براہین احمدیہ شائع ہوچکی ہے۔ اس میں تین سو کی بجائے صرف ۱۰دلیلیں بھی اگر دکھا دو تو تین صد روپیہ انعام پاؤ ورنہ توبہ کرو۔ مرزاقادیانی کے پیچھے لگنے سے تمہارا مطلب اگر کوئی دنیوی نہ تھا تو پھر ایسے جھوٹ بولنے والے سے کنارہ پکڑو۔

    36 ۔ زندہ کرنے اور مرنے کی طاقت
    ’’واعطیت صفۃ الاحیاء والافناء‘‘
    (خطبہ الہامیہ ص۵۶، خزائن ج۱۶ ص ایضاً)
    ’’یعنی مجھے مردوں کو زندہ کرنے اور زندوں کو مارنے کی طاقت دی گئی ہے۔‘‘
    حضرات! کون بیوقوف ہے جو اس دعویٰ کو مراق کا نتیجہ نہ سمجھے گا۔ مرزاقادیانی نے کس مردے کوزندہ کیا اور کس زندہ کو مردہ کیا؟ ایک سلطان محمد کو فنا کر کے اپنی منکوحہ آسمانی بھی واپس نہ لاسکے؟ ’’فافہموا ایہا الناظرون‘‘

    37 ۔ بنی اسرائیل میں موسی علیہ السلام کی پیروی
    ’’بنی اسرائیل میں اگرچہ بہت سے نبی آئے۔ مگر ان کی نبوت موسیٰ کی پیروی کا نتیجہ نہ تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیروی کا اس میں ذرہ بھی دخل نہ تھا۔‘‘
    (حقیقت الوحی ص۹۷ حاشیہ، خزائن ج۲۲ ص۱۰۰)
    دیکھئے حضرات! کس زور سے ثابت کر رہے ہیں کہ اگلے نبیوں کی نبوت موسیٰ علیہ السلام کی پیروی کا نتیجہ نہ تھا۔ حالانکہ یہ بالکل جھوٹ ہے۔ دروغ گورا حافظہ نباشد!
    خود (الحکم مورخہ ۲۴؍نومبر ۱۹۰۲ء ص۵) پر لکھتے ہیں: ’’حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اتباع سے ان کی امت میں ہزاروں نبی آئے۔‘‘

    38 ۔ صاحب نبوت امتی ہو سکتا ہے یا نہیں؟؟
    ’’صاحب نبوت تامہ ہرگز امتی نہیں ہوسکتا اور جو شخص کامل طور پر رسول اﷲ کہلاتا ہے۔ اس کا کامل طور پر دوسرے نبی کا مطیع اور امتی ہو جانا نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کی رو سے بالکل ممتنع ہے۔‘‘ اﷲتعالیٰ فرماتا ہے: ’’وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اﷲ‘‘
    (ازالہ حصہ۲ ص۵۶۹، خزائن ج۳ ص۴۰۷)
    مرزاقادیانی کا جھوٹا محض ہونا ان کے اپنے فرزند کی زبان سے سنو۔
    ’’بعض نادان کہہ دیا کرتے ہیں کہ ایک نبی دوسرے نبی کا متبع نہیں ہوسکتا اور اس کی دلیل یہ دیتے: ’’وما ارسلنا من رسول الی آخرہ‘‘ لیکن یہ سب قلت تدبر ہے۔‘‘
    (حقیقت النبوۃ ص۱۵۵)

    39 ۔ محمدی بیگم کی پیشنگوئی پر اقوال

    ’’خدا نے فرمایا کہ میں اس عورت (محمدی بیگم) کو اس کے نکاح کے بعد واپس لاؤں گا اور تجھے دوں گا اور میری تقدیر کبھی نہیں بدلے گی اور میرے آگے کوئی بات انہونی نہیں اور میں سب روکوں کو اٹھادوں گا جو اس حکم کے نفاذ سے مانع ہوں۔ اب اس پیش گوئی سے ظاہر ہے کہ وہ کیاکیا کرے گا اور کون کون سی قہری قدرت دکھلائے گا اور کس کس شخص کو روک کی طرح سمجھ کر اس دنیا سے اٹھالے گا۔‘‘
    (تبلیغ رسالت حصہ۳ ص۱۱۵، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۴۳)
    حضرات! مسلمان تو کہتے ہی ہیں کہ یہ تمام الہامات خدا کی طرف سے نہ تھے۔ بلکہ ایجاد مرزاقادیانی تھے۔ اس کے متعلق مرزاقادیانی کے فرزند وخلیفہ میاں محمود کا فیصلہ سنئے۔ ’’اﷲتعالیٰ کا کوئی وعدہ نہیں تھا کہ وہ لڑکی (محمدی بیگم) آپ کے (مرزاقادیانی کے) نکاح میں آئے گی۔ پھر ہرگز یہ نہیں بتایا گیا کہ کوئی روک ڈالے گا تو وہ دور کیا جائے گا۔‘‘
    (الفضل مورخہ ۲؍اگست ۱۹۲۴ء ص۵، ج۱۲ نمبر۱۰۱)
    احمدی دوستو! اس پر میں کچھ اضافہ نہیں کرنا چاہتا۔ نبی اور نبی زادہ خلیفہ کے الفاظ پڑھو اور اپنا سر پیٹو۔

    40 ۔ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پر ایک کھلا جھوٹ

    ’’سلف صالحین میں سے بہت سے صاحب مکاشفات مسیح کے آنے کا وقت چودھویں صدی کا شروع سال بتلا گئے ہیں۔ چنانچہ شاہ ولی اﷲ صاحب کی بھی یہی رائے ہے۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۱۸۴، خزائن ج۳ ص۱۸۸)
    بالکل جھوٹ شاہ ولی اﷲ صاحب محدث دہلویؒ نے کہیں کسی کتاب میں ایسا نہیں لکھا۔ اگر لکھا ہے تو کوئی صاحب دکھا کر انعام مقررہ وصول کرے۔ ورنہ توبہ کرے مرزاقادیانی کی مریدی سے۔

    41 ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کی شان میں گستاخی ۔عیسی علیہ السلام کا فاحشہ عورتوں سے میل جول(معاذاللہ))

    ’’قرآن شریف میں عیسیٰ علیہ السلام کے لئے حصور کا لفظ نہیں بولا گیا۔ کیونکہ وہ شراب پیا کرتے تھے اور فاحشہ عورتیں اور رنڈیاں اس کے سر پر عطر ملا کرتی تھیں اور اس کے بدن کو چھوا کرتی تھیں۔‘‘
    (دافع البلاء ملخص، خزائن ج۱۸ ص۲۲۰)
    دیکھا قادیانی دوستو! آپ کے مرزاقادیانی کے نزدیک خدا کا ایک اولوالعزم نبی بننا اور ساتھ ہی شرابی اور فاحشہ عورتوں کے ساتھ خلط ملط کرنا بھی ممکن ہے۔ مرزاقادیانی کا دعویٰ مثیل مسیح ہونے کا بھی ہے۔ کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ مرزاقادیانی بھی اسی رنگ میں ان کے مثیل تھے۔ جب کہ قرآن نے مرزاقادیانی کی تفسیر کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام کا شرابی ہونا بتلا دیا ہے تو مرزاقادیانی مثیل مسیح کا شرابی اور رنڈی باز ہونا تو فخر کی بات ہوگی۔

    41 ۔ طاعون زدہ علاقوں میں رہنا یا نہ رہنا

    ’’طاعون زدہ علاقہ سے باہر نکلنا ممنوع ہے۔‘‘
    (اشتہار لنگر خانہ مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۴۶۷)
    ’’طاعون زدہ علاقہ میں رہنا ممنوع ہے۔‘‘
    (ریویو ج۶ نمبر۹ ص۳۶۵، ماہ ستمبر ۱۹۰۷ء)
    اے قادیانیت کے علمبردارو کیا کذب اور اختلاف بیانی کوئی اور چیز ہے۔
    ( جاری ہے )
    source link