Showing posts with label آیات نزول عیسی علیہ السلام. Show all posts
Showing posts with label آیات نزول عیسی علیہ السلام. Show all posts

Sunday, 12 February 2017

بولے جانے والے چند کفریہ کلمات....

0 comments
بولے جانے والے چند کفریہ کلمات....
میں یہاں پر کچھ کفریہ کلمات اپنےدوستوں کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ جو عام طور پر ہمارے مسلمان بھائی بہن بول ڈالتے ہیں۔جن سے ان کا ایمان ضائع ہوجاتا ہے اور ان کو خبر بھی نہیں ہوتی۔ اسی لئے علماء کرام فرماتے ہیں کہ فرائض علوم کو ضرور سیکھئے ۔
1۔ جیسے کوئی مصیبت کے وقت کہے۔" اللہ نے پتہ نہیں مصیبتوں کے لئے ہمارا گھر ہی دیکھ لیا ہے"
2۔ یا موت کے وقت کوئی کہہ دے۔"پتہ نہیں اللہ کو اس شخص کی بڑی ضرورت تھی جو اس کو اپنے پاس اتنی کم عمر میں بلا لیا"۔
3۔ یا کہا ۔ نیک لوگوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ جلدی اٹھا لیتا ہے کیوں کہ ایسوں کی اللہ عَزَّوَجَلَّ کو بھی ضَرورت پڑتی ہے
4۔ یااللہ ! تجھے بچّوں پر بھی ترس نہیں آیا۔
5۔ االلہ ! ہم نے تیرا کیابِگاڑا ہے! آخِر ملکُ الموت کوہمارے ہی گھر والوں کے پیچھے کیوں لگا دیا ہے
6۔ اچّھا ہے جہنَّم میں جائیں گے کہ فلمی اداکار ئیں بھی تو وہیں ہوں گی نہ مزہ آجائے گا۔
7۔ اکثر لوگ فیس بک پر اس طرح کے لطائف لکھ ڈالتے ہیں۔ یہ بھی کفر ہے۔ جیسے اگر تم لوگ جنّت میں چلے بھی گئے تو سگریٹ جلانے کیلئے تو ہمارے ہی پاس (یعنی دوزخ میں)آنا پڑے گا
8۔ آؤ ظہر کی نماز پڑھیں ، دوسرے نے مذاق میں جواب دیا :یا ر ! آج تو چُھٹّی کا دن ہے ، نَماز کی بھی چُھٹّی ہے ۔
9۔ کسی نے مذاق میں کہا:''بس جی چاہتا ہے یہودی یا عیسائی یا قادیانی بن جاؤں۔ ویزہ تو جلدی مل جاتا ہے نا۔
10۔ صبح صبح دعا مانگ لیا کرو اس وقت اللہ فارِغ ہوتا ہے
11۔ اتنی نیکیاں نہ کرو کہ خُدا کی جزا کم پڑجائے
12۔ خُدا نے تمہارے بال بڑی فرصت سے بنائے ہیں
13۔ زید نے کہا:یار!ہوسکتا ہے آج بارش ہوجائے۔ بکرنے کہا:''نہیں یار ! اللہ تو ہمیں بھول گیا ہے۔
14۔ کسی نے نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا مذاق اڑایا توکافر ہے۔
15۔ دنیا بنانے والے کیا تیرے من میں سمائی؟ تو نے کاہے کو دنیا بنائی؟ (گانا)
16۔ حسینوں کو آتے ہیں کیا کیا بہانے ۔ خدا بھی نہ جانے تو ہم کیسے جانے (گانا)
17۔ میری نگاہ میں کیا بن کے آپ رہتے ہیں ۔ قسم خدا کی ' خدا بن کے آپ رہتے ہیں ۔ (گانا) اس طرح کے بے شمار گانے جو ہمارے مسلما ن اکثر گنگناتے دیکھائی دیتے ہیں۔
18۔ نَماز کی دعوت دینے پر کسی نے کہا:''ہم نے کون سے گُناہ کئے ہیں جن کو بخْشوانے کیلئے نَماز پڑھیں۔
19۔ایک نے طبیعت پوچھی تو دوسرے نے مذاق کرتے ہوئے جواب دیا: نصْرمِّنَ اللہِ وَ ٹِّھیک ۔ کہہ دیا ۔کہنے والے پر حکم کفر ہے کہ آیت کو تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔
20۔ رَحمٰن کے گھر شیطان اور شیطان کے گھر رَحمٰن پیدا ہوتا ہے۔
21۔مسلمان بن کر امتحان میں پڑ گیا ہوں۔
وغیرہ وغیرہ۔۔ مزید تفصیل کےلئے مکتبۂ المدینہ کی "کفریہ کلمات " نامی کتاب کا مطالعہ فائدہ مند رہے گا۔
رحمتُ اللعالمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشادِمُعظَّم ہے:''ان فِتنوں سے پہلے نیک اعمال کے سلسلے میں جلدی کرو !جو تاریک رات کے حِصّوں کی طرح ہوں گے، ایک آدَمی صُبح کو مومِن ہو گا اور شام کو کافِر ہوگااور شام کو مومِن ہوگااور صُبح کو کافِر ہوگا ۔ نیز اپنے دین کو دُنیاوی سازو سامان کے بدلے فروخت کر دے گا۔ '' (مُسلِم حدیث118ص73)
درسِ ہدایت:۔ اللہ عزوجل کی شان میں ہرگزہرگز کوئی ایسا لفظ زبان سے نہ نکالنا چاہے جن سے ان کا ایمان ضائع ہونے کا خطرہ ہو۔ آج کل لوگ بہت لا پرواہی کرتے ہیں اور خداوند تعالیٰ کی شان میں کفریہ الفاظ بول کر ایمان گنوا دیتے ہیں اور وہ دنیا و آخرت میں عذاب کے حق دار بن جاتے ہیں۔اللہ تعالی ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے۔ اور ہمیں کلمہ طیبہ پڑھتے ہوئے ایمان کی حالت میں اس دنیا سے رخصت فرمائے۔ آمین..
#Ghulam_Nabi_Noori
میں یہاں پر کچھ کفریہ کلمات اپنےدوستوں کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ جو عام طور پر ہمارے مسلمان بھائی بہن بول ڈالتے ہیں۔جن سے ان کا ایمان ضائع ہوجاتا ہے اور ان کو خبر بھی نہیں ہوتی۔ اسی لئے علماء کرام فرماتے ہیں کہ فرائض علوم کو ضرور سیکھئے ۔



Monday, 7 December 2015

عیسیٰ علیہ اسلام آسمان پر ۔۔۔ مخصوص کیوں ؟

0 comments

عیسیٰ علیہ اسلام آسمان پر ۔۔۔ مخصوص کیوں ؟

سوال : یہ ایک عام قانون الہی ہر فرد بشر پر حاوی ہے تو کیونکر ہو سکتا ہے کہ اس کے صریح خلاف حضرت عیسیٰ علیہ اسلام آسمان پر موجود ہوں ؟
جواب 1 : اگر یہ استدلال درست ہے تو قادیانی حضرات یہ بتائیں کہ موسیٰ علیہ اسلام عام قانون الہی کے برخلاف آسمان پر زندہ کیسے ہیں ؟ ملاخط فرمائیں ۔
مرزا غلام قادیانی کہتا ہے کہ ۔۔
ترجمہ " یہ وہی موسیٰ مرد خدا ہے جس کی نسبت قران میں اشارہ ہے کہ وہ زندہ ہے اور ہم پر فرض ہو گیا کہ ہم اس بات پر ایمان لاویں کہ وہ زندہ آسمان میں ماجود ہے اور ان پر موت نہیں آئی اور وہ مردوں میں سے نہیں " ( خزائن جلد 8 صفحہ 69،68 )
ایک اور جگہ ان کے بارے میں لکھتا ہے کہ :
ترجمہ " بلکہ حیات کلیم اللہ ( موسیٰ علیہ اسلام ) نص قرآن سے ثابت ہے کیا تو نے قران میں نہیں پڑھا اللہ تعالیٰ کا قول ہے کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم شک نہ کریں ان سے ملاقات سے یہ آیت موسیٰ علیہ اسلام کے بارے میں نازل ہوئی ، یہ آیت دلیل صریح ہے موسیٰ علیہ اسلام کی حیات پر . اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موسیٰ علیہ اسلام سے ( معراج میں ) ملاقات ہوئی ، اور اگر ( موسیٰ علیہ اسلام فوت شدہ ہوتے ) تو مردے زندوں سے نہیں ملا کرتے ، ایسی آیت تو عیسیٰ علیہ اسلام کے بارے میں نہیں ، بلکہ مختلف مقامات پر ان کی وفات کا ذکر ہے . ( خزائن جلد 7 صفحہ 222،221 )۔
جواب 2 : خاص دلائل سے حضرت عیسی علیہ اسلام کی حیات ثابت ہوچکی ہے اور علم اصول میں لکھا ہے کہ خاص دلیل عام پر مقدم ہوتی ہے ۔ اور ان دونوں کے مقابلے میں دلیل خاص کا اعتبار کیا جاتا ہے ، 
اس کی مثالیں قرآن مجید میں بکثرت موجود ہیں جیسے عام انسانوں کی پیدائش کی نسبت فرمایا ۔۔۔
"إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ نُطْفَةٍ (الدھر : 2) ترجمعہ : بیشک ہم نے انسان کو ملے جلے نطفہ سے پیدا کیا 
جبکہ حضرت آدم علیہ اسلام ، حضرت حوا علیہا اسلام اور حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کی پیدائش اس طریق سے نہیں ہوئی ۔ پس ان کے متعلق دلیل خاص کا اعتبار کیا گیا ہے ، اور دلیل عام کو ان کی نسبت چھوڑ دیا گیا ہے ۔
جواب 3 : 
چونکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اسی طرح سے تھی کہ ۔۔ حضرت مسیح علیہ اسلام نہ صرف بلا باپ پیدا ہونے کے ۔۔ بلکہ ایک عرصہ زندہ رہنے ۔۔ اور آسمان پر اٹھائے جانے کے نشان قدرت بنائے جائیں ۔۔ اور آخری زمانہ میں ان کے ہاتھ سے خدمت اسلام لےکر ۔۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کو دوبالا کیا جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ مرتبہ ہے کہ ۔۔ مستقبل اور صاحب شریعت وکتاب رسول بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کو آپنی سعادت سمجھیں ۔ حتیٰ کہ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے ہوکر امام الصلوٰۃ بھی نہیں اور یہ گواہی دیں کہ ۔۔
تکرمۃ اللہ ہذہ الامۃ ( بخاری شریف باب قرب اساعۃ ) 
یہ اس امت ( مسلمہ ) کا اعزازہے ۔
اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو آسمان پر اٹھا لیا ۔

جواب 4 :
فرشتوں کی اصلی اور طبعی جائے رہائش آسمان ہے ۔ مگرو ہ عارضی طور پر کچھ مدت کے لیے زمین پر بھی رہتے ہیں ۔
قادیانی حضرات سے سوال

آپ مسیح کی ولادت بلا باپ کو مانتے ہیں جیسا کہ مرزا غلام قادیانی کی تصریحات موجود ہیں ۔ پس بتلائیے کہ کیا وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تو ماں باپ دونوں کے زریعہ پیدا کیا مگر مسیح کو بلا باپ ؟ جو جواب تم اس کا دو گے اس کے اندر ہمارا جواب موجود ہے ۔...........................

Wednesday, 30 September 2015

وفات وحیات مسیح علیہ السلام پر کس منہ سے مناظرہ؟؟؟

0 comments

وفات وحیات مسیح علیہ السلام پر کس منہ سے مناظرہ؟؟؟
مرزا قادیانی اپنی کتاب ازالہ اوہام جلد 1 صفحہ 171 پر لکھتا ہے کہ مسیح کے نزول کا کوئی ایسا عقیدہ نہیں جو ہمارے ایمانیات یا دین کا کوئی جز ہو، بلکہ یہ ہزار ہا پشین گوئیوں میں سے ایک پشین گوئی ہے۔جس کا حقیقت اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب مربیوں سے یہ سوال ہے کہ مرزا قادیانی کے بقول حیات مسیح علیہ السلام کے نزول کا کوئی ایسا عقیدہ نہیںجو ہمارے ایمانیات یا دین کا کوئی جز ہو۔ اب یہ مربی کس منہ سے حیات و وفات مسیح علیہ السلام پر مناظرہ کا چیلنجکرتے ہیں؟؟؟؟ اگر کسی کے پاس اس کا جواب ہے تو میدان میں آئے۔


Saturday, 19 September 2015

آسمان کی طرف حضرت عیسی علیہ السلام کے جانے کا قرآنی ثبوت

0 comments

آسمان کی طرف حضرت عیسی علیہ السلام کے جانے کا قرآنی ثبوتسوال…مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ اﷲ پاک نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہود کی دست درازیوں سے محفوظ رکھتے ہوئے آسمانوں پر اٹھالیا۔ آپ قرآن و احادیث صحیحہ کی روشنی میں اس عقیدئہ کو ثابت کریں؟جواب… حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ جسد عنصری کے ساتھ آسمان پر اٹھایا جانا۔دلیل۱… ارشاد ربانی: ’’اذ قال اﷲ یعیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیّٰ ومطھرک من الذین کفروا وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الیٰ یوم القیامۃ ثم الیّٰ مرجعکم فاحکم بینکم فیما کنتم فیہ تختلفون (آل عمران:۵۵)‘‘ترجمہ: ’’جب کہ اﷲتعالیٰ نے فرمایا: اے عیسیٰ! میں لے لوں گا تجھ کو اور اٹھالوں گا اپنی طرف اور تم کو ان لوگوں سے پاک کرنے والا ہوں۔ جو منکر ہیں اور جو لوگ تمہارا کہنا ماننے والے ہیں ان کو غالب رکھنے والا ہوں ان لوگوں پر جو کہ منکر ہیں۔ روزقیامت تک پھر میری طرف ہوگی سب کی واپسی۔ سو میں تمہارے درمیان فیصلہ کردوں گا۔ ان امور میں جن میں تم باہم اختلاف کرتے تھے۔‘‘اس آیت کریمہ کے متصل ماقبل کی آیت کریمہ و مکروا و مکراﷲ میں باری تعالیٰ کی جس خفیہ و کامل تدبیر کی جانب اشارہ فرمایا گیا تھا۔ اس کی تفصیل حسب بیان مفسرین آیت مذکورہ میں فرمائی گئی ہے۔ اس محکم تدبیر کے وقوع سے پہلے ہی جب کہ یہود بے بہبود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جائے قیام کا محاصرہ کرکے قتل و سولی پر چڑھانے کا ناپاک منصوبہ بنارہے تھے۔ حضرت حق جل مجدہ نے ایسے خطرناک وقت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تسلی دینے کے لئے بشارت دے دی کہ آپ کے دشمن خائب و خاسر رہیں گے۔اس سلسلہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے چار وعدے فرمائے گئے:میں تجھے پورا پورا لے لوں گا۔اور تجھے اپنی طرف (آسمان پر) اٹھالوں گا۔اور تجھے کفار (یہود) کے شر سے صاف بچالوں گا۔تیرے متبعین کو تیرے دشمنوں پر قیامت تک غالب رکھوں گا۔یہ چار وعدے اس لئے فرمائے گئے کہ یہود کی سازش میں یہ تفصیل تھی کہ:حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پکڑیں۔اور طرح طرح کے عذاب دے کر ان کو قتل کریں۔اور پھر خوب رسوا اور ذلیل کریں۔اور اس ذریعہ سے ان کے دین کو فنا کریں کہ کوئی ان کا متبع ونام لیوا بھی نہ رہے۔لہٰذا ان کے پکڑنے کے مقابلہ میں متوفیک فرمایا۔ یعنی تم کو بھرپورلینے والا ہوں۔تم میری حفاظت میں ہو اور ارادئہ ایذاء و قتل کے مقابلہ میں رافعک الیّٰ فرمایا۔ یعنی میں تم کو آسمان پر اٹھالوں گا، اور رسوا اور ذلیل کرنے کے مقابلہ میں مطہرک من الذین کفروا فرمایا۔ یعنی میں تم کو ان یہود نامسعود سے پاک کروں گا۔ رسوائی و بے حرمتی کی نوبت ہی نہیں آئے گی اورآپ کی امت کو مٹانے اور دین مسیحی کو نیست و نابود کرنے والوں کے مقابلہ میں: ’’جاعل الذین اتبعوک‘‘ فرمایا۔ یعنی تیرے رفع کے بعد تیرے متبعین کو ان کفار پر غلبہ دوں گا۔توفی کے معنیبہرحال پہلا وعدہ لفظ ’’توفی‘‘ سے فرمایا گیا ہے۔ اس کے حروف اصلیہ ’’وفا‘‘ ہیں۔ جس کے معنی ہیں پورا کرنا۔ چنانچہ استعمال عرب ہے وفی بعھدہ اپنا وعدہ پورا کیا۔(لسان العرب)باب تفعل میں جانے کے بعد اس کے معنی ہیں: اخذ الشئی وافیاً (بیضاوی) یعنی کسی چیز کو پورا پورا لینا۔ توفی کا یہ مفہوم جنس کے درجہ میں ہے۔ جس کے تحت یہ تمام انواع آتی ہیں۔ موت، نیند اور رفع جسمانی۔چنانچہ امام رازیؒ فرماتے ہیں: ’’قولہ (انی متوفیک) یدل علی حصول التوفی وھو جنس تحتہ انواع بعضھا بالموت وبعضھا بالاصعاد الی السماء فلما قال بعدہ (و رافعک الیّٰ) کان ھذا تعیینا للنوع و لم یکن تکراراً‘‘(تفسیر کبیر زیر آیت یعیسیٰ انی متوفیک ص۷۲ جز۸)ترجمہ: ’’باری تعالیٰ کا ارشاد انی متوفیک صرف حصول توفی پر دلالت کرتا ہے اور وہ ایک جنس ہے۔ جس کے تحت کئی انواع ہیں۔ کوئی بالموت اور کوئی بالرفع الی السمائ۔ پس جب باری تعالیٰ نے اس کے بعد ورافعک الیّٰ فرمایا تو اس نوع کو متعین کرنا ہوا۔ (رفع الی السمائ) نہ کہ تکرار۔‘‘یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ کسی لفظ جنس کو بول کر اس کی خاص نوع مراد لینے کے لئے قرینہ حالیہ و مقالیہ کا پایا جانا ضروری ہے۔ تو یہاں توفی بمعنی رفع جسمانی الی السماء لینے کے لئے ایک قرینہ یہ ہے کہ اس کے فوراً بعد ورافعک الیّٰ فرمایا گیا۔ رفع کے معنی ہیں اوپر اٹھا لینا۔ کیونکہ رفع، وضع وخفض کی ضد ہے۔ جس کے معنی نیچے رکھنا اور پست کرنا اور دوسرا قرینہ ومطھرک من الذین کفرواہے۔ کیونکہ تطہیر کا مطلب یہی ہے کہ کفار (یہود) کے ناپاک ہاتھوں سے آپ کو صاف بچالوں گا۔چنانچہ ابی جرؒیج سے محدث ابن جریرؒ نے نقل فرمایا ہے:’’عن ابی جریج قولہ (انی متوفیک ورافعک الیّٰ ومطھرک من الذین کفروا) قال فرفعہ ایاہ الیہ توفیہ ایاہ وتطھیرہ من الذین کفروا‘‘(تفسیر ابن جریر ج ۳ ص ۲۹۰)’’باری تعالیٰ کا ارشاد گرامی متوفیک! کی تفسیر یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھالینا ہی آپ کی توفی ہے اور یہی کفار سے ان کی تطہیر ہے۔‘‘اور تیسرا قرینہ حضرت ابوہریرہؓ کی روایت مرفوعہ ہے۔ جس کو امام بیہقیؒ نے نقل فرمایا ہے اور جس میں نزول من السماء کی تصریح ہے:’’کیف انتم اذا نزل ابن مریم من السماء فیکم‘‘(کتاب الاسماء والصفات ص :۲۰۳)اس لئے کہ نزول سے پہلے رفع کا ثبوت ضروری ہے۔ اسی طرح جب یہ لفظ موت کے معنی دے گا۔ تو قرینہ کی احتیاج ہوگی مثلاً:’’قل یتوفٰکم ملک الموت الذی وکل بکم (الم سجدہ:۱۱) ‘‘ترجمہ: ’’اے پیغمبر! ان سے کہہ دو کہ تم کو قبض کرے گا۔ملک الموت جو تم پر مقرر کیا گیا ہے۔ (یعنی تم کو مارے گا)‘‘اس میں ملک الموت قرینہ ہے۔ دیگر متعدد آیات میں بھی بربنائے قرائن توفی بمعنی موت آیا ہے۔ کیونکہ موت میں بھی توفی یعنی پوری پوری گرفت ہوتی ہے۔ ایسے ہی جہاں نیند کے معنی دے گا۔ تو بھی قرینہ کی ضرورت ہوگی۔مثلاً: ’’وھوالذی یتوفٰکم باللیل (انعام:۶۰)‘‘ترجمہ: ’’خدا ایسی ذات ہے کہ تم کو رات کے وقت پورا لے لیتا ہے۔ یعنی سلادیتا ہے۔‘‘یہاں لیل اس بات کا قرینہ ہے کہ توفی سے مراد نوم ہے۔ کیونکہ وہ بھی توفی (پوری پوری گرفت) کی ایک نوع ہے۔ یہ تمام تفصیلات بلغاء کے استعمال کے مطابق ہیں۔ البتہ عام لوگ توفی کو اماتت اور قبض روح کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔ چنانچہ کلیات ابوالبقاء میں ہے:’’التوفی الاماتۃ وقبض الروح وعلیہ استعمال العامۃ او الاستیفاء واخذ الحق وعلیہ استعمال البلغائ‘‘(کلیات ابوالبقائ:۱۲۹)یعنی عام لوگ تو توفی کو اماتت اور قبض روح کے معنی میں استعمال کرتے ہیں اور بلغاء پورا پورا وصول کرنے اور حق لے لینے کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔بہرحال زیر بحث آیت کریمہ میں بربنائے قرائن توفی کے معنی قبض اور پورا پورا۔ یعنی جسم مع الروح کو اپنی تحویل میں لے لینے کے ہیں، اماتت کے نہیں ہیں۔ البتہ قبض روح بصورت نیند کے معنی ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ قبض روح کی دو صورتیں ہیں۔ ایک مع الامساک اور دوسری مع الارسال۔ تو اس آیت میں توفی بقرینہ رافعک الیّٰ بمعنی نیند ہوسکتی ہے اور یہ ہمارے مدعا کے خلاف نہیں ہوگا۔ کیونکہ نیند اور رفع جسمی میں جمع ممکن ہے۔ چنانچہ مفسرین کی ایک جماعت نے اس کو اختیار کیا ہے: ’’(الثانی) المراد بالتوفی النوم ومنہ قولہ تعالیّٰ اﷲ یتوفی الانفس حین موتھا والتی لم تمت فی منامھا) فجعل النوم وفاۃ وکان عیسیٰ قد نام فرفعہ اﷲ وھو نائم لئلا یلحقہ خوف‘‘(خازن ج۱ ص۲۵۵)......سوال … قال اﷲتعالیٰ واذ قال اﷲ یعیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیّٰ‘‘ اس کی صحیح تفسیر بیان کرکے حیات حضرت مسیح علیہ السلام کو ثابت کریں۔ مرزائی ’’ توفی‘‘ سے وفات مراد لیتے ہیں۔ حضرت ابن عباسؓ سے بھی ’’متوفیک‘‘ کی تفسیر ’’ممیتک‘‘ منقول ہے۔ اور اس تائید میں مرزائی ’’توفنا مع الابرار، تو فنا مع المسلمین‘‘ کو بھی پیش کرتے ہیں، ان تمام امور کا شافی جواب تحریر کریں؟جواب … ’’واذ قال اﷲ یعیسیٰ انی متوفیک ورافعک‘‘ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع جسمانی ثابت ہے۔ یہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کی دلیل ہے، نہ کہ وفات عیسیٰ علیہ السلام کی۔ توفی وغیرہ کی کچھ بحث پہلے گزرچکی ہے۔ مزید ملاحظہ ہو:توفی کاحقیقی معنیالف… ’’توفی‘‘ کا حقیقی معنی موت نہیں۔ اس لئے کہ اگر اس کا حقیقی معنی موت ہوتا تو ضرور قرآن و سنت میں کہیں ’’توفی‘‘ کو ’’حیات‘‘ کے مقابل ذکر کیا جاتا۔ حالانکہ ایسا کہیں نہیں ہے۔ بلکہ ’’توفی‘‘ کو ’’مادمت فیھم‘‘ کے مقابلہ میں رکھا گیا۔ معلوم ہوا کہ توفی کا حقیقی معنی موت نہیں۔ دیکھئے قرآن مجید میں جگہ جگہ موت و حیات کا تقابل کیا گیا ہے نہ کہ توفی و حیات کا۔ مثلاً الذی یحیی ویمیت، یحییکم ثم یمیتکم، ھوامات و احیی، لایموت فیھا ولایحییٰ، ویحي الموتیٰ، اموات غیر احیائ، یحییٰ الموتی، یحیی الارض بعد موتھا، تخرج الحي من المیت و تخرج المیت من الحي۰یہ تقابل بتاتا ہے کہ تعرف الاشیاء باضدادہا کے تحت حیات کی ضد موت ہے توفی نہیں۔ توفی کو قرآن مجید میں مادمت فیھم کے مقابلہ میں لایا گیا: ’’ وکنت علیھم شھیداً مادمت فیھم فلما توفیتنی‘‘ اس سے توفی کا حقیقی معنی سمجھا جاسکتا ہے کہ کیا ہے؟ اس کے لئے علامہ زمخشری کا حوالہ کافی ہوگا : ’’اوفاہ، استوفاہ، توفاہ استکمال ومن المجاز توفی و توفاہ اﷲ ادرکتہ الوفاۃ‘‘ ترجمہ : ’’اوفاہ، استوفاہ اور توفاہ کے معنی استکمال یعنی پورا لینے کے ہیں۔ توفی کو مجازاً موت کے معنی میں لیا جاتا ہے۔ جیسے توفی اور توفاہ اﷲ یعنی اس کی وفات ہوگی۔‘‘اس حوالہ سے معلوم ہوا کہ توفی کا حقیقی معنی موت نہیں۔ البتہ مجازاً کہیں کہیں موت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ب… اﷲ رب العزت نے اپنی کتاب میں ’’اماتت‘‘ کی اسناد اپنی طرف ہی فرمائی۔ غیر اﷲ کی طرف ہرگز نہیں کی۔ جبکہ ’’توفی‘‘ کی اسناد ملائکہ کی طرف بھی اکثر موجود ہے۔ یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ توفی کا حقیقی معنی موت نہیں۔ جیسے ’’حتی اذا جاء احد کم الموت توفتہ رسلنا‘‘ یہاں پر توفی کی اسناد ملائکہ کی طرف کی گئی۔ج… توفی کا حقیقی معنی موت نہیں جیسے قرآن مجید میں ہے: ’’حتیٰ یتوفھن الموت‘‘ یہاں توفی اور موت کو مقابلہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ اب اس کے معنی ہوں گے کہ ان کو موت کے وقت پورا پورا لے لیا جاتا ہے۔ اگر توفی کا معنی موت ہو تو پھر اس کا معنی تھا کہ: ’’یمیتہن الموت‘‘ یہ کس قدر رکیک معنی ہوں گے۔ کلام الٰہی اور یہ رکاکت؟ اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔د… توفی کا حقیقی معنی موت نہیں۔ قرآن مجید میں ہے : ’’اﷲ یتوفی الانفس حین موتھا والتی لم تمت فی منامھا فیمسک التی قضیٰ علیہا الموت ویرسل الاخریٰ الیٰ اجل مسمی (الزمر: ۴۲)‘‘ترجمہ: ’’اﷲتعالیٰ نفسوں کو لے لیتا ہے ان کی موت کے وقت اور ان نفسوں کو جو نہیں مرے ان کو نیند میں لے لیتا ہے۔ پس وہ نفس جس کو موت وارد ہوتی ہے روک لیتا ہے اور دوسرے کو مقرر مدت تک چھوڑ دیتا ہے۔‘‘یہاں پہلے جملہ میں توفی نفس کو حین موتھا کے ساتھ مقید کیا ہے۔ معلوم ہوا توفی عین موت نہیں۔اور پھر توفی کو موت اور نیند کی طرف منقسم کیا ہے۔ لہٰذا نصاً معلوم ہوا کہ توفی موت کے مغائر ہے۔نیز یہ کہ توفی، موت اور نیند دونوں کو شامل ہے۔ نیند میں آدمی زندہ ہوتا ہے۔ اس کی طرف توفی کی نسبت کی گئی۔ توفی بھی ہے اور آدمی زندہ ہے۔ مرا نہیں۔ کیا یہ نص نہیں اس بات کی کہ توفی کا حقیقی معنی موت نہیں؟خلاصہ بحث:توفی کا حقیقی معنی پورا پورا لینے کے ہیں۔ ہاں البتہ کبھی مجازاً موت کے معنی میں بھی توفی کا استعمال ہوا ہے۔ جیسے : ’’توفنا مع الابرار، توفنا مسلمین‘‘ وغیرہ۔ضروری تنبیہ… اگرکہیں کوئی لفظ کسی مجازی معنی میں استعمال ہو تو ہمیشہ کے لئے اس کے حقیقی معنی ترک نہیں کردیئے جائیں گے۔ اگر کوئی ایسے سمجھتا ہے تو وہ قادیانی احمق ہی ہوسکتے ہیں۔ ورنہ اصول صرف یہ ہے کہ مجازی معنی وہاں مراد لئے جائیں گے جہاں حقیقی معنی متعذر ہوں۔ یا عیسیٰ انی متوفیک میں حقیقی معنی پورا پورا لینے کے لئے جائیں گے اور توفنا مع الابرار میں مجازی معنی (موت) کے کئے جائیں گے۔.................حضرت ابن عباس ؓ اور حیات عیسیٰ علیہ السلامالف… حضرت ابن عباسؓ پوری امت کی طرح حیات مسیح علیہ السلام کے قائل ہیں۔ آپ نے آنحضرتﷺ سے متعدد روایات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و نزول وحیات کی روایت کی ہیں۔ ’’التصریح بما تواتر فی نزول المسیح طبع ملتان‘‘ کے ص ۱۸۱، ۲۲۳، ۲۲۴، ۲۴۵، ۲۷۳، ۲۷۹، ۲۸۴، ۲۸۹، ۲۹۱، ۲۹۲ پر دس روایات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و نزول کی حضرت ابن عباس ؓ کے حوالہ سے حضرت انور شاہ کشمیریؒ نے جمع فرمائی ہیں۔ من شاء فلیراجع!ب… متوفیک کے معنی ممیتک عبداﷲ بن عباسؓ سے نقل کرنے والا راوی علی بن ابی طلحہ ہے۔(تفسیر ابن جریر ج۳ ص ۲۹۰)علماء اسماء الرجال نے اس کے متعلق ضعیف الحدیث، منکر، لیس بمحمود المذہب کے جملے فرمائے ہیں اور یہ کہ اس نے حضرت عبداﷲ ابن عباسؓ کی زیارت بھی نہیں کی۔ درمیان میں مجاہدؒ کا واسطہ ہے۔(میزان الاعتدال ج ۵ ص ۱۶۳، تہذیب التہذیب ج ۴ ص ۲۱۳)رہا یہ کہ پھر صحیح بخاری شریف میں یہ روایت کیسے آگئی؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ: امام بخاریؒ کا یہ التزام صرف احادیث مسندۃ کے بارے میں ہے۔ نہ کہ تعلیقات و آثار صحابہ کے ساتھ۔ چنانچہ فتح مغیث ص ۲۰ میں ہے: ’’قول البخاری ماادخلت فی کتابی الا ماصح علی، مقصود بہ ھو الاحادیث الصحیحۃ المسندۃ دون التعالیق والاثار الموقوفۃ علی الصحابۃ فمن بعدھم والاحادیث المترجمۃ بھا ونحوذٰلک‘‘ترجمہ: ’’یعنی امام بخاری کے اس فرمان کا مطلب کہ میں نے اپنی کتاب میں صرف وہی ذکر کیا ہے جو صحیح سند سے ثابت ہے۔ اس سے مراد صرف احادیث صحیحہ مسندہ ہیں۔ باقی تعلیقات اور آثار موقوفہ وغیرہ اس میں شامل نہیں۔ اس طرح وہ احادیث جو ترجمۃ الباب میں ذکر کی گئی ہیں وہ بھی مراد نہیں ہیں۔‘‘ج… حضرت عبداﷲ بن عباسؓ سے دوسری صحیح روایت میں اگرچہ توفی کے معنی موت منقول ہیں۔ مگر اسی روایت میں کلمات آیت کے اندر تقدیم و تاخیر بھی صراحتاً مذکور ہے۔ جس سے قادیانی گروہ کی خود بخود تردید ہوجاتی ہے۔’’اخرج ابن عساکر واسحاق بن بشر عن ابن عباسؓ قال قولہ تعالیٰ یٰعیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیّٰ یعنی رافعک ثم متوفیک فی آخرالزمان‘‘(درمنثور ج۲ ص۳۶)ترجمہ: ’’یعنی ابن عساکر اور اسحاق بن بشر نے (بروایت صحیح) ابن عباسؓ سے روایت کی ہے کہ اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ میں آپ کو اٹھانے والا ہوں اپنی طرف پھر آخر زمانہ میں (بعد نزول) آپ کو موت دینے والا ہوں۔‘‘د… تفسیر ابن کثیر میں عبداﷲ ابن عباسؓ سے صحیح روایت منقول ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر قتل کے زندہ آسمان پر اٹھالئے گئے۔’’ورفع عیسیٰ من روزنۃ فی البیت الی السماء ھذا اسناد صحیح الی ابن عباس‘‘(تفسیر ابن کثیر ج ۱ ص ۵۷۴ زیر آیت بل رفعہ اﷲ)ترجمہ: ’’عیسیٰ علیہ السلام گھر کے روزن (روشن دان) سے (زندہ) آسمان کی طرف اٹھالئے گئے۔ یہ اسناد ابن عباسؓ تک بالکل صحیح ہے۔‘‘رفع سے مراد رفع روحانی یا رفع درجات ہے؟؟سوال…سورئہ آل عمران میں ارشاد خداوندی ہے: ’’ورافعک‘‘ اور سورئہ نساء میں فرماتے ہیں: ’’بل رفعہ اﷲ الیہ‘‘ دونوں مقامات پر قادیانی رفع سے مراد رفع روحانی یا رفع درجات لیتے ہیں۔ آپ ان کے مؤقف کا اس طرح رد کریں۔ جس سے قادیانی دجل تارتار ہوجائے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع جسمانی ثابت ہو؟جواب …یہ بات بھی قادیانی دجل کا شاہکار ہے کہ وہ کہیں رافعک اور بل رفعہ اﷲ میں رفع روح مراد لیتے ہیں اور جب ان پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ تمہارے (قادیانی) عقیدہ کے مطابق تو مسیح علیہ السلام صلیب سے اتر کر زخم اچھے ہونے کے بعد کشمیر چلے گئے اور ستاسی سال بعد ان کی موت واقع ہوئی۔ تو موت کے بعد رفع روح ہوا۔ حالانکہ یہ قرآن کے اسلوب بیان کے خلاف ہے۔ اس لئے کہ چاروں وعدوں میں سے تین وعدے جو براہ راست مسیح علیہ السلام کی ذات (جسم) مبارک سے تعلق رکھتے تھے۔ ایک ہی وقت میں ایک ساتھ ان کا ایفاء ہوا۔ تو قادیانی مجبوراً پھر اس سے فوراً رفع درجات پر آجاتے ہیں۔ جس طرح قادیانیوں کو ایمان کا قرار (سکون) نصیب نہیں اس طرح ان کے مؤقف کو بھی قرار نہیں۔ وہ اپنا مؤقف بدلتے رہتے ہیں۔ کبھی رفع روح مراد لیتے ہیں، کبھی رفع درجات مراد لیتے ہیں۔ حالانکہ یہ دونوں مؤقف غلط ہیں۔۱… یہ امر روز روشن کی طرح واضح ہے کہ ’’بل رفعہ اﷲ ‘‘کی ضمیر اسی طرف راجع ہے کہ جس طرف ’’قتلوہ‘‘ اور’’ صلبوہ‘‘ کی ضمیریں راجع ہیں اور ظاہر ہے کہ’’ قتلوہ‘‘اور ’’صلبوہ‘‘ کی ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسم مبارک اور جسد مطہر کی طرف راجع ہیں۔ روح بلا جسم کی طرف راجع نہیں۔ اس لئے کہ قتل کرنا اور صلیب پر چڑھانا جسم ہی کا ممکن ہے۔ روح کا قتل اور صلیب پر لٹکانا قطعاً ناممکن ہے۔ لہٰذا ’’بل رفعہ‘‘ کی ضمیر اسی جسم کی طرف راجع ہوگی۔ جس جسم کی طرف ’’قتلوہ‘‘ اور ’’صلبوہ‘‘ کی ضمیریں راجع ہیں۔۲… دوم یہ کہ یہود روح کے قتل کے مدعی نہ تھے۔ بلکہ قتل جسم کے مدعی تھے اور ’’بل رفعہ اﷲ الیہ‘‘ سے اس کی تردید کی گئی ہے۔ لہٰذا بل رفعہ میں رفع جسم ہی مراد ہوگا۔ اس لئے کہ کلمہ بل کلام عرب میں ماقبل کے ابطال کے لئے آتا ہے۔ لہٰذا بل کے ماقبل اور مابعد میں منافات اور تضاد کا ہونا ضروری ہے جیسا کہ: ’’وقالوا اتخذالرحمن ولداً سبحنہ بل عباد مکرمون ‘‘ولدیت اور عبودیت میں منافات ہے دونوں جمع نہیں ہوسکتے۔ ’’ام یقولون بہ جنۃ بل جاء ھم بالحق‘‘ مجنونیت اور اتیان بالحق (یعنی من جانب اﷲ حق کو لے کر آنا) یہ دونوں متضاد اور متنافی ہیں۔ یکجا جمع نہیں ہوسکتے۔ یہ ناممکن ہے کہ شریعت حقہ کالا نے والا مجنون ہو۔ اسی طرح اس آیت میں یہ ضروری ہے کہ مقتولیت اور مصلوبیت جو بل کا ماقبل ہیں۔ وہ مرفوعیت الیٰ اﷲ کے منافی ہو جو بل کا مابعد ہے اور ان دونوں کا وجود اور تحقق میں جمع ہونا ناممکن ہونا چاہئے اور ظاہر ہے کہ مقتولیت اور روحانی رفع بمعنی موت میں کوئی منافات نہیں۔ محض روح کا آسمان کی طرف اٹھایا جانا قتل جسمانی کے ساتھ جمع ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ شہداء کا جسم تو قتل ہوجاتا ہے اور روح آسمان پر اٹھالی جاتی ہے۔ لہٰذا ضروری ہوا کہ بل رفعہ اﷲ میں رفع جسمانی مراد ہو کہ جو قتل اور صلب کے منافی ہے۔ اس لئے کہ رفع روحانی اور رفع عزت اور رفعت شان قتل اور صلب کے منافی نہیں۔ بلکہ جس قدر قتل اور صلب ظلماً ہوگا۔ اسی قدر عزت اور رفعت شان میں اضافہ ہوگا اوردرجات اور زیادہ بلند ہوں گے۔ رفع درجات کے لئے تو موت اور قتل کچھ بھی شرط نہیں۔ رفع درجات زندہ کو بھی حاصل ہوسکتے ہیں۔ ’’کما قال تعالیٰ ورفعنالک ذکرک‘‘ اور ’’یرفع اﷲ الذین آمنوا منکم والذین اوتو العلم درجات‘‘ ہے ۔۳… یہود حضرت مسیح علیہ السلام کے جسم کے قتل اور صلب کے مدعی تھے۔ اﷲتعالیٰ نے اس کے ابطال کے لئے بل رفعہ اﷲ فرمایا۔ یعنی تم غلط کہتے ہو کہ تم نے اس کے جسم کو قتل کیا یا صلیب پر چڑھایا۔ بلکہ اﷲتعالیٰ نے ان کے جسم کو صحیح و سالم آسمان پر اٹھالیا۔ نیز اگر رفع سے رفع روح بمعنی موت مراد ہے تو قتل اور صلب کی نفی سے کیا فائدہ؟ قتل اور صلب سے غرض موت ہی ہوتی ہے اور بل اضرابیہ کے ما بعد کو بصیغہ ماضی لانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ رفع الیٰ السمائباعتبار ماقبل کے امر ماضی ہے۔ یعنی تمہارے قتل اور صلب سے پہلے ہی ہم نے ان کو آسمان پر اٹھالیا۔ جیسا کہ بل جاء ھم بالحق میں صیغہ ماضی اس لئے لایا گیا کہ یہ بتلادیا جائے کہ آپﷺ کا حق کو لے کر آنا کفار کے مجنون کہنے سے پہلے ہی واقع ہوچکا ہے۔ اسی طرح بل رفعہ اﷲ بصیغہ ماضی لانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ رفع الی السماء ان کے مزعوم اور خیالی قتل اور صلب سے پہلے ہی واقع ہوچکا ہے۔۴… جس جگہ لفظ رفع کا مفعول یا متعلق جسمانی شے ہوگی تو اس جگہ یقینا جسم کا رفع مراد ہوگا اور اگر رفع کا مفعول اور متعلق درجہ یا منزلہ یا مرتبہ یا امر معنوی ہو تو اس وقت رفع مرتبت اور بلندی رتبہ کے معنی مراد ہوں گے۔ ’’کما قال تعالیٰ ورفعنا فوقکم الطور‘‘ اٹھایا ہم نے تم پر کوہ طور ’’اﷲ الذی رفع السمٰوت بغیر عمدا ترونھا‘‘ اﷲ ہی نے بلند کیا آسمانوں کو بغیر ستونوں کے جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو۔ ’’واذ یرفع ابراہیم القواعد من البیت واسمٰعیل‘‘ یاد کرو اس وقت کو کہ جب ابراہیم بیت اﷲ کی بنیادیں اٹھارہے تھے اور اسمٰعیل ان کے ساتھ تھے۔ ’’ورفع ابویہ علی العرش‘‘ یوسف علیہ السلام نے اپنے والدین کو تخت کے اوپر بٹھایا۔ ان تمام مواقع میں لفظ رفع اجسام سے مستعمل ہوا ہے اور ہر جگہ رفع جسمانی مراد ہے اور ورفعنالک ذکرک ہم نے آپﷺ کا ذکر بلند کیا اور ورفعنا بعضھم فوق بعض درجات ہم نے بعض کو بعض پر درجہ اور مرتبہ کے اعتبار سے بلند کیا۔اس قسم کے مواقع میں رفعت شان اور بلندی رتبہ مراد ہے۔ اس لئے کہ رفع کے ساتھ خود ذکر اور درجہ کی قید یعنی قرینہ مذکور ہے۔قادیانی اشکالایک حدیث میں ہے: ’’اذا تواضع العبد رفعہ اﷲ الی السماء السابعۃ‘‘(کنزالعمال ج۳ ص۱۱۰، حدیث نمبر ۵۷۲۰، بحوالہ الخرائطی فی مکارم الاخلاق)ترجمہ: ’’جب بندہ تواضع کرتا ہے تو اﷲتعالیٰ اس کو ساتویں آسمان پر اٹھالیتے ہیں۔ اس حدیث کو خرائطیؒنے اپنی کتاب مکارم الاخلاق میں ابن عباسؓ سے روایت کیا ہے ۔اس روایت کو مرزائی بہت خوش ہوکر بطور اعتراض پیش کیا کرتے ہیں کہ رفع کا مفعول جسمانی شے ہے اور الی السماء کی بھی تصریح ہے۔ مگر باوجود اس کے رفع سے رفع جسمی مراد نہیں بلکہ رفع معنوی مراد ہے۔جواب …یہ ہے کہ یہاں مجاز کے لئے قرینہ عقلیہ قطعیہ موجود ہے کہ یہ اس زندہ کے حق میں ہے۔ جو لوگوں کے سامنے زمین پر چلتا ہے اور تواضع کرتا ہے۔ تو اس کا مرتبہ اور درجہ اﷲتعالیٰ کے یہاں ساتویں آسمان کے برابر بلند اونچا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہاں رفع جسم مراد نہیں بلکہ رفع درجات مراد ہے۔ غرض یہ کہ رفع کے معنی بلندی رتبہ مجازاً بوجہ قرینہ عقلیہ لئے گئے اور اگر کسی کم عقل کی سمجھ میں یہ قرینہ عقلیہ نہ آئے۔ تو اس کے لئے قرینہ قطعیہ بھی موجود ہے۔ وہ یہ کہ کنزالعمال میں روایت مذکورہ کے بعد ہی علی الاتصال یہ روایت مذکور ہے : ’’من یتواضع للّہ درجۃ یرفعہ اﷲ درجۃ حتی یجعلہ فی علیین‘‘ یعنی جس درجہ کی تواضع کرے گا۔ اسی کے مناسب اﷲ اس کا درجہ بلند فرمائیں گے۔ یہاں تک کہ جب وہ تواضع کے آخری درجہ پر پہنچ جائے گا تو اﷲتعالیٰ اس کو علیین میں جگہ دیں گے۔، جو علو اور رفعت کا آخری مقام ہے۔ اس حدیث میں صراحتاً لفظ درجہ کا مذکور ہے اور قاعدہ مسلمہ ہے۔ الحدیث یفسر بعضہ بعضا ایک حدیث دوسری حدیث کی تفسیر اور شرح کرتی ہے۔خلاصہ یہ کہ رفع کے معنی اٹھانے اور اوپر لے جانے کے ہیں۔ لیکن وہ رفع کبھی اجسام کا ہوتا ہے اور کبھی معانی اور اعراض کا ہوتا ہے اور کبھی اقوال اور افعال کا، اور کبھی مرتبہ اور درجہ کا۔ جہاں رفع اجسام کا ذکر ہوگا۔ وہاں رفع جسمی مراد ہوگا اور جہاں رفع اعمال اور رفع درجات کا ذکر ہوگا۔ وہاں رفع معنوی مراد ہوگا۔ رفع کے معنی تو اٹھانے اور بلند کرنے ہی کے ہیں۔ باقی جیسی شے ہوگی اس کا رفع اسی کے مناسب ہوگا۔۵… یہ کہ اس آیت کا صریح مفہوم اور مدلول یہ ہے کہ جس وقت یہود نے حضرت مسیح کے قتل اور صلب کا ارادہ کیا۔ تو اس وقت قتل اور صلب نہ ہوسکا۔ بلکہ اس وقت حضرت مسیح کا اﷲ کی طرف رفع ہوگیا۔ معلوم ہوا کہ یہ رفع جس کا بل رفعہ اﷲ میں ذکر ہے حضرت عیسیٰ کو پہلے سے حاصل نہ تھا۔ بلکہ یہ رفع اس وقت ظہور میں آیا کہ جس وقت یہود ان کے قتل کا ارادہ کررہے تھے اور وہ رفع جو ان کو اس وقت حاصل ہوا وہ یہ تھا کہ اس وقت بجسدہ العنصری صحیح و سالم آسمان پر اٹھا لئے گئے۔ رفعت شان اور بلندی مرتبہ تو ان کو پہلے ہی سے حاصل تھی اور وجیھا فی الدنیا ولآخرۃ ومن المقربینکے لقب سے پہلے ہی سرفراز ہوچکے تھے۔ لہٰذا اس آیت میں وہی رفع مراد ہوسکتا ہے کہ جو ان کو یہود کے ارادہ قتل کے وقت حاصل ہوا۔ یعنی رفع جسمی اور رفع عزت و منزلت اس سے پہلے ہی ان کو حاصل تھا۔ اس مقام پر اس کا ذکر بالکل بے محل ہے۔۶… یہ کہ یہود کی ذلت و رسوائی اور حسرت اور ناکامی اور عیسیٰ علیہ السلام کی کمال عزت و رفعت بجسدہ العنصری صحیح و سالم آسمان پر اٹھائے جانے ہی میں زیادہ ظاہر ہوتی ہے۔ نیز یہ رفعت شان اور علو مرتبت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مخصوص نہیں۔ زندہ اہل ایمان اور زندہ اہل علم کو بھی حاصل ہے۔ ’’کما قال تعالی یرفع اﷲ الذین اٰٰمنوا منکم والذین اوتوا العلم درجات‘‘ بلند کرتا ہے اﷲتعالیٰ اہل ایمان اور اہل علم کو باعتبار درجات کے۔۷… یہ کہ اگر آیت میں رفع روحانی بمعنی موت مراد ہو تو یہ ماننا پڑے گا کہ وہ رفع روحانی بمعنی موت یہود کے قتل اور صلب سے پہلے واقع ہوا جیسا کہ: ’’ام یقولون بہ جنۃ بل جاء ھم بالحق، ویقولون أئنا لتارکوا اٰلھتنا للشاعر مجنون، بل جاء بالحق‘‘ ان آیات میں آنحضرتﷺ کا حق کو لے کر آنا ان کے شاعر اور مجنون کہنے سے پہلے واقع ہوا۔ اسی طرح رفع روحانی بمعنی موت کو ان کے قتل اور صلب سے مقدم ماننا پڑے گا۔ حالانکہ مرزا قادیانی اس کے قائل نہیں۔ مرزا قادیانی تو (العیاذباﷲ) یہ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام یہود سے خلاص ہوکرفلسطین سے کشمیر پہنچے اور عرصہ دراز تک بقید حیات رہے اور اسی عرصہ میں اپنے زخموں کا علاج کرایا اور پھر طویل مدت کے بعدیعنی ستاسی سال زندہ رہ کر وفات پائی اور سری نگر کے محلہ خان یار میں مدفون ہوئے اور وہیں آپ کا مزار ہے۔ لہٰذا مرزا قادیانی کے زعم کے مطابق عبارت اس طرح ہونی چاہئے تھی: ’’وما قتلوہ بالصلیب بل تخلص منھم وذہب الی کشمیر واقام فیھم مدۃ طویلۃ ثم اماتہ اﷲ ورفع الیہ ‘‘۸… یہ کہ رفع روحانی بمعنی موت لینے سے وکان اﷲ عزیزاً حکیماً کے ساتھ مناسبت نہیں رہتی۔ اس لئے کہ عزیز اور حکیم اور اس قسم کی ترکیب اس موقعہ پر استعمال کی جاتی ہے کہ جہاں کوئی عجیب و غریب اور خارق العادات امر پیش آیا ہو اور وہ عجیب و غریب امر جو اس مقام پر پیش آیا وہ رفع جسمانی ہے۔ یہ خیال نہ کیا جائے کہ جسم عنصری کا آسمان پر جانا محال ہے۔ وہ عزت والا اور غلبہ والا اور قدرت والا ہے۔ اس کے لئے یہ کوئی مشکل کام نہیں اور نہ یہ خیال کرے کہ جسم عنصری کا آسمان پر اٹھایا جانا خلاف حکمت اور خلاف مصلحت ہے۔ وہ حکیم ہے اس کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں۔ دشمنوں نے جب حضرت مسیح پر ہجوم کیا تو اس نے اپنی قدرت کا کرشمہ دکھلا دیا کہ اپنے نبی کو آسمان پر اٹھالیا اور جو دشمن قتل کے ارادہ سے آئے تھے۔ انہی میں سے ایک کو اپنے نبی کا ہم شکل اور شبیہ بناکر انہیں کے ہاتھ سے اس کو قتل کرادیا اور پھر اس شبیہ کے قتل کے بعد ان سب کو شبہ اور اشتباہ میں ڈال دیا۔رفع کے معنی عزت کی موت۔ نہ کسی لغت سے ثابت ہے نہ کسی محاورہ سے اور نہ کسی فن کی اصطلاح سے۔ محض مرزا قادیانی کی اختراع ہے۔ البتہ رفع کا لفظ محض اعزاز اور رفع جسمانی کے منافی نہیں اعزاز اور رفع جسمانی دونوں جمع ہوسکتے ہیں۔ نیز اگر رفع سے عزت کی موت مراد ہو تو نزول سے ذلت کی پیدائش مراد ہونی چاہئے۔ اس لئے کہ حدیث میں نزول کو رفع کا مقابل قرار دیا ہے اور ظاہر ہے کہ نزول کے یہ معنی مرزا قادیانی کے ہی مناسب ہیں۔۹… رہا یہ امر کہ آیت میں آسمان پر جانے کی کوئی تصریح نہیں۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ بل رفعہ اﷲ الیہ (اﷲتعالیٰ نے عیسیٰ کو اپنی طرف اٹھالیا) اس کلام کے معنی ہی یہ ہیں کہ اﷲ نے آسمان پر اٹھالیا جیسا کہ: ’’تعرج الملائکۃ والروح الیہ‘‘ کے معنی یہ ہیں کہ: فرشتے اور روح الامین اﷲ کی طرف چڑھتے ہیں یعنی آسمان پر۔ وقال تعالیٰ :’’الیہ یصعد الکلم الطیب والعمل الصالح یرفعہ‘‘ اﷲ ہی کی طرف پاکیزہ کلمات چڑھتے ہیں اور اﷲتعالیٰ عمل صالح کو اوپر اٹھاتا ہے۔ یعنی آسمان کی طرف چڑھتے ہیں۔ اس طرح بل رفعہ اﷲ الیہ میں آسمان پر اٹھایا جانا مراد ہوگا اور جس کو خدائے تعالیٰ نے ذرا بھی عقل دی ہے۔ وہ سمجھ سکتا ہے بل رفعہ اﷲ الیہ کے یہ معنی کہ خدا نے ان کو عزت کی موت دی۔ یہ معنی جس طرح لغت کے خلاف ہیں اسی طرح سیاق و سباق کے بھی خلاف ہیں۔ اس طرح کہ اس آیت کی تفسیر میں حضرت ابن عباسؓ سے باسناد صحیح یہ منقول ہے : ’’لما اراداﷲ ان یرفع عیسیٰ الیٰ السمائ‘‘(تفسیر ابن کثیر ص ۵۷۴ ج۱ زیر آیت بل رفعہ اﷲ)’’جب اﷲتعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی طرف اٹھانے کا ارادہ فرمایا۔ الی آخر القصہ ‘‘اس کے علاوہ متعدد احادیث میں آسمان پر جانے کی تصریح موجود ہے وہ احادیث ہم نقل کرچکے ہیں۔۱۰… مرزا قادیانی نے لکھا ہے: ’’لہٰذا یہ امر ثابت ہے کہ رفع سے مراد اس جگہ موت ہے۔ مگر ایسی موت جو عزت کے ساتھ ہو۔جیسا کہ مقربین کے لئے ہوتی ہے کہ بعد موت ان کی روحیں علیین تک پہنچائی جاتی ہیں : ’’فی مقعد صدق عند ملیک مقتدر‘‘(ازالہ اوہام ص ۵۹۹، خزائن ج۳ ص ۴۲۴)مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ رفع سے ایسی موت مراد ہے جو عزت کے ساتھ ہو۔ جیسے مقربین کی موت ہوتی ہے کہ ان کی روحیں مرنے کے بعد علیین تک پہنچ جاتی ہیں۔ اس عبارت سے خود واضح ہے کہ بل رفعہ اﷲ سے آسمان پر جانا مراد ہے۔ اس لئے کہ علیین اور ’’مقعد صدق‘‘ تو آسمان ہی میں ہیں۔ بہرحال آسمان پر جانا تو مرزا قادیانی کو بھی تسلیم ہے۔ اختلاف اس میں ہے کہ آسمان پر حضرت مسیح بن مریم کی فقط روح گئی یا روح اور جسد دونوں گئے۔ سو یہ ہم پہلے ثابت کرچکے ہیں کہ آیت میں بجسدہ العنصری رفع مراد ہے۔............دعا گو غلام نبی نوری۔

Esha Iban E Mariyan Zindha Asmaan Par Gaye

0 comments

حدیث نزول عیسی علیہ السلام ( عیسی علیہ السلام کی وفات ہوئی نہیں بلکہ ہونی ہے)

حدیث نزول عیسی علیہ السلام ( عیسی علیہ السلام کی وفات ہوئی نہیں بلکہ ہونی ہے)

حدیث …’’حدثنی المثنی قال ثنا اسحاق قال ثنا ابن ابی جعفر عن ابیہ عن الربیع فی قولہ تعالی (الم اﷲ لا الہ الا ھو الحی القیوم) قال ان النصاریٰ اتوا رسول اﷲﷺ فخاصموہ فی عیسیٰ بن مریم وقالوا لہ من ابوہ وقالوا علی اﷲ الکذب والبھتان لا الہ الا ھو لم یتخذ صاحبۃ ولا ولدا فقال لھم النبیﷺ الستم تعلمون انہ لایکون ولد الاّ ھویشبہ اباہ قالوا بلیٰ قال الستم تعلمون ان ربنا حي لا یموت وان عیسیٰ یأتی علیہ الفناء قالوا بلیٰ قال الستم تعلمون ان ربنا قیم علی کل شئی یکلؤہ ویحفظہ ویرزقہ قالوا بلیٰ قال فھل یملک عیسیٰ من ذلک شیئا قالوا لا قال افلستم تعلمون ان اﷲ عزوجل لا یخفی علیہ شئ فی الارض ولا فی السماء قالوا بلیٰ۰ قال فھل یعلم عیسیٰ من ذلک شیا الا ما علم قالوا لا۰ قال فان ربنا صور عیسیٰ فی الرحم کیف شاء فھل تعلمون ذلک قالوا بلیٰ قال الستم تعلمون ان ربنا لا یاکل الطعام ولا یشرب الشراب ولا یحدث الحدث قالوا بلیٰ قال الستم تعلمون ان عیسیٰ حملتہ امرأۃ کما تحمل المرأۃ ثم وضعتہ کما تضع المرأۃ ولدھا ثم غذی کما یغذی الصبی ثم کان یطعم الطعام ویشرب الشراب و یحدث الحدث قالوا بلیٰ قال فکیف یکون ھذا کمازعمتم قال فعرفوا ثم ابوا الا حجوداً فانزل اﷲ عزوجل الم اﷲ لا الہ الا ھوالحی القیوم‘‘
(تفسیر ابن جریر ص ۱۶۳ ج۳)
ترجمہ: ’’ربیع سے ’’الم اﷲ لا الہ الا ھو الحی القیوم‘‘ کی تفسیر میں منقول ہے کہ جب نصاریٰ نجران، نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضرت مسیح علیہ السلام کی الوہیت کے بارے میں آپﷺ نے مناظرہ اور مکالمہ شروع کیا اور یہ کہا کہ اگر حضرت مسیح ابن اﷲ ہیں تو پھر ان کا باپ کون ہے؟ (مراد کہ اگر حضرت عیسیٰ کا باپ نہیں، تو ان کو اﷲ ہی کا بیٹا کہنا چاہئے) حالانکہ خدا وہ ہے جو لاشریک ہے۔ بیوی اور اولاد سے پاک اور منزہ ہے۔ تو آنحضرتﷺ نے ان سے یہ ارشاد فرمایا کہ تم کو خوب معلوم ہے کہ بیٹا باپ کے مشابہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں بے شک ایسا ہی ہوتا ہے۔ (یعنی جب یہ تسلیم ہوگیا کہ بیٹا، باپ کے مشابہ ہوتا ہے) تو اس قاعدہ سے حضرت مسیح بھی خدا کے مماثل اور مشابہ ہونے چاہئیں۔ حالانکہ سب کو معلوم ہے کہ خدا بے مثل ہے اور بے چون و چگون ہے۔ ’’لیس کمثلہ شئی ولم یکن لہ کفواً احد‘‘ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ ہمارا پروردگار حیی لا یموت ہے۔ یعنی زندہ ہے۔ کبھی نہ مرے گا اور عیسیٰ علیہ السلام پر موت اور فنا آنے والی ہے۔ (اس جواب سے صاف ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ابھی زندہ ہیں، مرے نہیں۔ بلکہ زمانہ آئندہ میں ان پر موت آئے گی) نصاریٰ نجران نے کہا بے شک صحیح ہے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ ہمارا پروردگار ہر چیز کا قائم کرنے والا تمام عالم کا نگہبان اور محافظ اور سب کارزاق ہے۔ نصاریٰ نے کہا بے شک! آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام بھی کیا ان چیزوں کے مالک ہیں؟ نصاریٰ نے کہا نہیں۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا تم کو معلوم ہے کہ اﷲ پر زمین اور آسمان کی کوئی شے پوشیدہ نہیں۔ نصاریٰ نے کہا ہاں بے شک! آپﷺ نے ارشاد فرمایا کیا عیسیٰ کی بھی یہی شان ہے؟ نصاریٰ نے کہا نہیں۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ اﷲ نے حضرت عیسیٰ کو رحم مادر میں جس طرح چاہا بنایا؟ نصاریٰ نے کہا ہاں۔ آپﷺ نے فرمایا کہ تم کو خوب معلوم ہے کہ اﷲ نہ کھانا کھاتا ہے۔ نہ پانی پیتا ہے اور نہ بول و براز کرتا ہے۔ نصاریٰ نے کہا بے شک! آپﷺ نے فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام سے اور عورتوں کی طرح ان کی والدہ مطہرہ حاملہ ہوئیں اور پھر مریم صدیقہ نے ان کو جنا۔ جس طرح عورتیں بچوں کو جنا کرتی ہیں۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام کو بچوں کی طرح غذا بھی دی گئی۔ حضرت مسیح کھاتے بھی تھے، پیتے بھی تھے اور بول و براز بھی کرتے تھے۔ نصاریٰ نے کہا بے شک! ایسا ہی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ پھر عیسیٰ علیہ السلام کس طرح خدا کے بیٹے ہوسکتے ہیں؟‘‘نصاریٰ نجران نے حق کو خوب پہچان لیا۔ مگر دیدئہ و دانستہ اتباع حق سے انکار کیا۔ اﷲ عزوجل نے اس بارے میں یہ آیتیں نازل فرمائیں : ’’الم اﷲ لا الہ الا ھو الحی القیوم‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دعا گو غلام نبی نوری

Wednesday, 16 September 2015

مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق دجال کو عیسیٰ علیہ اسلام نے قتل کرنا ہے مگر مرزا غلام قادیانی نے کہا کہ میں مسیح موعود ہوں اور قتل دجال عیسیٰ علیہ اسلام کے ہاتھوں نہیں بلکہ قلم سے ہونا ہے ۔ کیا دجال کا قتل قلم سے ممکن ہے ؟

0 comments

سوال : مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق دجال کو عیسیٰ علیہ اسلام نے قتل کرنا ہے مگر مرزا غلام قادیانی نے کہا کہ میں مسیح موعود ہوں اور قتل دجال عیسیٰ علیہ اسلام کے ہاتھوں نہیں بلکہ قلم سے ہونا ہے ۔ کیا دجال کا قتل قلم سے ممکن ہے ؟جواب :حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ابن صیاد کے متعلق مشہور ہوا کہ وہ دجال ہے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تلوار نکال کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی کہ اگر اجازت ہو تو میں اسے قتل کر دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ دجال ہے تو تو تم اسے قتل نہیں کرسکتے اس کو حضرت عیسیٰ علیہ اسلام ہی قتل کریں گے اگر یہ دجال نہیں تو تم کیوں اپنے ھاتھ قتل ناحق سے رنگین کرتے ہو ۔ عن جابر بن عبداللہ (فی قصۃ ابن صیاد)فقال عمر بن الخطاب ائذن لی فاقتلہٗ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان یکن ھو فلست صاحبہ انما صاحبہ عیسیٰ ابن مریم علیہ الصلوٰۃ والسلام، و ان لا یکن فلیس لک ان تقتل رجلا من اھل العھد(مشکوٰۃ۔ کتاب الفتن، باب قصّۃ بن صیّاد ، بحوالہ شرح السُّنہ بَغَوی)جا بر بن عبداللہ (قصّۂ ابن صیّاد کے سلسلہ میں) روایت کرتے ہیں کہ پھر عمر بن خطاب نے عرض کیا، یا رسول اللہ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اسے قتل کردوں ۔ اس پرحضوؐر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ وہی شخص (یعنی دجال) ہے تو اس کے قتل کرنے والے تم نہیں ہو بلکہ اسے تو عیسیٰ بن مریم ہی قتل کریں گے۔ اور اگر یہ وہ شخص نہیں ہے تو تمہیں اہلِ عہد (یعنی ذمیوں) میں سے ایک آدمی کو قتل کردینے کا کوئی حق نہیں ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا تلوار نکالنا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اگر یہ دجال ہے تو تم اسے قتل نہیں کرسکتے اس کو عیسیٰ ابن مریم ہی قتل کریں گے ، اس حدیث شریف نے یہ ثابت کردیا کہ دجال سے حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کی لڑائی ہوگی اور حضرت عیسیٰ ابن مریم دجال کا قتل کریں گے ، ورنہ جس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تلوار نکالی تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرما دیتے کہ اے عمر رضی اللہ عنہ یہ کیا کر رہے ہو اس کے ساتھ تو جہاد قلم کے ساتھ ہوگا ۔چنانچہ یہ حدیث دلیل ہے اس بات کی کہ دجال کے ساتھ حضرت عیسیٰ ابن مریم کی باقاعدہ لڑائی ہوگی اور دجال اس لڑائی میں مارا جائے گا نہ کہ قلم سے کے ساتھ دجال کو ختم کیا جائے گا ۔خود مرزا غلام قادیانی کہتا ہے کہ " اگر ابن صیاد کی پیشانی پر ک ف ر لکھا ہوا ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس کے قتل کرنے سے کیوں منع فرماتے اور کیوں فرماتے کہ ہمیں ابھی اس کے حال پر ابھی اشتباہ ہے اگر یہی دجال ہے تو اس کا صاحب عیسیٰ ابن مریم ہے جو اسے قتل کرے گا ہم اسے قتل نہیں کر سکتے " ( خزائن جلد 3 صفحہ 213، 212 ) مرزا غلام قادیانی کی مندرجہ بالا تحریر سے تین باتیں ثابت ہوتی ہیں 1 : ابن صیاد کی دجال کی طرف نسبت کرنے سے یہ بات بلکل واضح ہوجاتی ہے کہ دجال فرد واحد کا نام ہے کسی گروہ کا نہیں ، جیسا کہ قادیانی امت کا دجال کے بارے میں خیال ہے کہ دجال سے مراد پادریوں کا گروہ ہے ( خزائن جلد 3 صفحہ 362 ، 365 ، 494 )2 : مرزا غلام قادیانی نے اس حدیث کا حوالہ دے کر یہ تسلیم کرلیا ہے کہ دجال کا قتل عیسیٰ علیہ اسلام کے ھاتھوں ہوگا نہ کہ قلم سے 3 : قادیانی امت حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کی وفات کے بارہ میں صحابہ کے اجماع کا دعویٰ کرتے ہیں اور اسکی بنیاد آںحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا تلوار نکالنا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا آیت قد خلت پڑھنا بتاتے ہیں اور اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ وفات مسیح کے قائل نہ تھے ۔ ورنہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر یہی دجال ہے تو اس کا صاحب عیسی ابن مریم ہے جو اسے قتل کرے گا ہم اسکو قتل نہیں کرسکتے ۔ تو وہاں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہ کیوں نہ فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ اسلام تو وفات پاچکے ہیں وہ دجال کو کیسے قتل کرینگے ؟ خلاصہ بحثلہذا ثابت ہوگیا کہ دجال کا قتل حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے ھاتھوں ہوگا نہ کہ قلم سے دجال فرد واحد ہے نہ کہ کسی پادریوں کے گروہ کا نام وفات مسیح علیہ اسلام پر صحابہ راضوان اللہ علیہ اجمعین کے اجماع کا دعویٰ سراسر جھوٹ ہے ۔

عمر مسیح علیہ السلام پر اختلاف کا جواب۔ از قلم غلام نبی نوری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔The age of Hzrat e Esah . A.S

0 comments

" عن عائشہ رضی اللہ عنہا ان عیسیٰ ابن مریم عاش عشرین و ما ئۃ سنۃ۔" ۔یعنی حضرت عیسیٰ علیہ اسلام ١٢٠ برس تک زندہ رہے یہاں عاش ماضی کا صیغہ ہے جس سے معلوم ہوا کے ١٢٠ سال کے بعد ان کا انتقال ہو گیاالجوابقادیانی اپنی تلبیس کی عادت قدیمہ پر عمل کرتے ہوۓ یہ حدیث پوری نقل نہیں کرتے اگر پوری نقل کرے تو ان کا سارا پول کھل جائے ...حدیث کی ابتدا یوں ہے کے .." انہ لم یکن کان بعدہ نبی الا عاش نصف عمری الذی کان قبله ،و ان عیسیٰ ابن مریم عاش عشرین و ما ئۃ سنۃ. " .(کنزا العمل صفحہ ٤٧٩ حدیث ٣٢٢٦٢ )ہر بعد میں آنے والا نبی اپنے سے پہلے نبی کی آدھی عمر پاتا ہے اور بیشک حضرت عیسیٰ علیہ اسلام نے120برس عمر پائیاصل بات یہ ہے کے یہ حدیث عقلاََ بھی اس قابل نہیں کے اس کی طرف ادنیٰ سا بھی غور کیا جائے کیونکے اس روایت کے شروع میں یہ مضمون بھی ہے کے ہر بعد میں آنے والا نبی اپنے سے پہلے نبی کی آدھی عمر پاتا ہے.اب اگر اسے صحیح مان کر حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے اوپر کے دس انبیاء کی عمریں شمار کی جائیں تو ان کی عمریں ہزاروں لاکھوں برسوں سے تجاوز کر جائیں گی اور حضرت آدم علیہ اسلام کی عمر تو اتنا بڑھ جائے گی کے ماجودہ زمانے کے کمپیوٹر اسے شمار کرنے سے عجاز آئیں گے .اگر حساب کیا جائے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اوپر بیسویں نبی کی عمر ٦ کروڑ ٢٩ لاکھہ ١٤ ہزار ٥٦٠ سال بنتی ہے حالانکہ خود قران مجید میں حضرت نوح علیہ اسلام کی عمر ٩٥٠ برس بتائی گئی ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ اسلام سے بہت پہلے کے رسول ہیں ..لہذا جب روایت کا پہلا جز ہی نہ قابل اعتبار ٹھہرا تو دوسرے جز پر کیسے اعتبار کیا جا سکے گا ؟اگر حدیث کا پہلا جز صحیح ہے کے ہر بعد میں انے والا نبی اپنے سے پہلے نبی کی آدھی عمر پاتا ہے تو اس رو سے مرزا جھوٹا ثابت ہوتا ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر ٦٣ برس ہے اور چونکہ قادیانی حضرات مرزے کو نبی مانتے ہیں تو اس لئے اس حدیث کے لحاظ سے اس کی عمر ٣١ ،٣٢ ہونی چاہیے تھی حالانکہ اس کی عمر ٧٠ کے لگ بھگ تھی .یہ حدیث ابن لہیہ کے واسطے سے مروی ہے جو محدثین کے نزدیک بالاتفاق مردود اور نا قابل عتبار راوی ہے اس لیے روایت صحیع کی مجودگی میں یہ روایت بلکل نہ قابل قبول ہے .اگر بالفرض اس حدیث کو صحیح تسلیم کرلیا جائے تو دیگر حدیث متواتر کو سامنے رکھہ کر اس طرح تطبیق دی جائے گی کے وہ نصوص کے مخلاف نہ ہو چانچہ ملا علی قاری رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی تطبیق اس طرح دینے کی کوشس کی ہے کے نبوت سے قبل 40 سال ،نبوت کے بعد 33 سال اور قیامت کے قریب نازل ہونے کے بعد کے 48 سال اس طرح کل ملا کے 118 سال ہوۓ حدیث میں کسر کو پورا کر کے 120 سال کہہ دیا جس حدیث میں نزول کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ اسلام صرف 7 سال زندہ رہنے کی بات ہے وہ قتل دجال کے بعد7 سال تک زندہ رہنے پر محمول کی جائے گی.

Friday, 21 August 2015

نزول عیسی علیہ السلام کے بعد آپ علیہ السلام کس شریعت پر پیرا عمل ہونگے

0 comments

نزول عیسی علیہ السلام کے بعد آپ علیہ السلام کس شریعت پر پیرا عمل ہونگے


Thursday, 20 August 2015

وفاتِ مسیح ثابت کرنے کے لیے قادیانیوں کی جانب سے پیش کی جانے والی آیت: ( سورۃ مائدہ: ۱۱۷)

0 comments


وفاتِ مسیح ثابت کرنے کے لیے قادیانیوں کی جانب سے پیش کی جانے والی آیت: 
وکنت علیھم شھیداً مادمت فیھم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم (مائدہ: ۱۱۷)
قادیانی استدلال :
’’وکنت علیھم شھیداً مادمت فیھم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم (مائدہ: 117)‘‘
مرزا بشیر الدین کے ترجمہ کے الفاظ یہ ہیں:
’’اور جب تک میں ان میں (موجود) رہا۔ میں ان کا نگران رہا۔ مگر جب تو نے میری روح قبض کرلی، تو تو ہی ان پر نگران تھا۔ ‘ ‘
(ترجمہ قرآن مجید از مرزا بشیر الدین ص ۲۵۸)
وفات عیسیٰ علیہ السلام پر اس آیت سے قادیانی استدلال کی بنیاد ان کے خیال میں بخاری شریف کی ایک تفصیلی روایت پر ہے۔ جو مندرجہ ذیل ہے:
’’انہ یجاء برجال من امتی فیوخذبھم ذات الشمال فاقول یارب اصحابی فیقال انک لاتدری ما احدثوا بعدک فاقول کما قال العبد الصالح: وکنت علیھم شہیداً مادمت فیھم‘‘
(بخاری ص ۶۶۵ ج۲ کتاب التفسیر)
ترجمہ: ’’میری امت کے بعض لوگ لائے جائیں گے اور بائیں طرف۔ یعنی جہنم کی طرف ان کو چلایا جائے گا، تو میں کہوں گا: اے میرے رب یہ تو میرے صحابی ہیں۔ پس کہا جائے گا کہ آپﷺ کو اس کا علم نہیں کہ انہوں نے آپﷺ کے بعد کیا کچھ کیا۔ پس میں ایسے ہی کہوں گا جیسا کہ عبد صالح یعنی عیسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ جب تک میں ان میں موجود تھا۔ ان پر گواہ تھا اور جب تو نے مجھے بتمامہٖ بھرپور لے لیا تھا۔ اس وقت آپ نگہبان تھے۔‘‘
تو ’’توفی‘‘ کا لفظ حضورﷺ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دونوں کے کلام میں آتا ہے اور ظاہر ہے کہ حضورﷺ کی توفی بصورت وفات ہے۔ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توفی بھی بصورت وفات ہوگی۔ نیز حضورﷺ نے بتایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ارشاد زمانہ ماضی میں ہوچکا ہے۔ معلوم ہوا کہ وہ وفات پاچکے ہیں۔
جواباس تحریف کا جواب بھی معلوم ہوچکا ہے کہ توفی کے حقیقی معنی پورا پورا لینے کے ہیں۔ لیکن حضور اقدسﷺ کے کلام میں یہ بمعنٰی موت ہے۔ کیونکہ سب جانتے ہیں کہ آپﷺ کی وفات ہوئی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کلام میں توفی بطور اصعاد الی السماء پائی گئی ہے۔ کیونکہ اس کا قرینہ ورافعک الیّٰ موجود ہے۔
جواب…اگر دونوں حضرات کی توفی ایک طرح کی ہوتی تو آپﷺ یوں فرماتے: ’’فاقول ماقال، العبد الصالح‘‘ تو فاقول کما قال العبد الصالح فرمانا بتارہا ہے کہ مشبہ اور مشبہ بہٖ میں چونکہ تغایر ہوا کرتا ہے۔ اس لئے اصل مقصد ہر دو حضرات کا امت کے درمیان اپنی عدم موجودگی کو بطور عذر پیش کرنا ہے۔ لہٰذا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی غیر موجودگی توفی بمعنی اصعاد الی السماء سے بیان فرمائی اور نبی کریمﷺ نے اپنی غیر موجودگی توفی بصورت موت بیان فرمائی ہے۔
جواب…رہا یہ کہ آپﷺ نے اپنے متعلق فرمایا اقول اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق قال ماضی کا صیغہ فرمایا۔ تو اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ جس وقت آپﷺﷺ نے یہ حدیث ارشاد فرمائی: سورئہ مائدہ کی مذکورہ آیت نازل ہوچکی تھی اور اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قول جو قیامت کے دن باری تعالیٰ کے سوال کہ : ’’أ انت قلت للناس اتخذونی و امی الھین من دون اﷲ‘‘ کے جواب میں فرمائیں گے، حکایت کیا گیا ہے۔
اور دوسری وجہ یہ ہے کہ قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ کلام پہلے ہوچکے گا اور حضورﷺ کا معاملہ بعد میں پیش آئے گا۔