Showing posts with label آیات ختم نبوت. Show all posts
Showing posts with label آیات ختم نبوت. Show all posts

Sunday, 24 September 2017

عقل ہوتی تو خدا سے نہ لڑائی لیتے

0 comments
عقل ہوتی تو خدا سے نہ لڑائی لیتے
مربی صاحب آپ کو پوسٹ میں یہ غلطی تو نظر آگئی کہ مرز ا جی نے حضور ﷺ کی قبر کو نہیں
بلکہ غار ثورا کو متعفن اور زلیل کہا ہے لیکن نہ جانے کیوں آپ یہ بات بھول رہے ہیں
کہ حضور ﷺ کے قدم مبارک جس جگہ پر پڑ جائیں وہ تاقیامت نشانی بن جاتی ہے
یہ وہ قدم ہیں جن کے بارے میں اللہ کا قرآن ارشاد فرماتا ہے
لا اقسم بھٰذا البلد o وانت حل بھٰذا لبلد ۔
آپ کا ماننا ہے کہ یہ گستاخی مرز ا جی نے حضور ﷺ کی قبر کے بارے
میں نہیں کی بلکہ غارثورکے بارے میں کی ہے تو جب حضور ﷺ نے
غار ثور میں قیام فرمایا تو کیا اُس کی فضیلت بلند نہ ہوئی؟ کیا وہ متعفق بدبودار
اور حشرات الارض کی نجاست کی جگہ رہ گئی؟؟؟؟
اللہ عزوجل آپ سمیت تمام مرزائی حضرات کو عقل سلیم عطا فرمائے

Sunday, 7 February 2016

مرزا کی عیش پرستی اور مقامِ نبوت ۔

0 comments

مرزا کی عیش پرستی اور مقامِ نبوت ۔


مرزا کی عیش پرستی اور مقامِ نبوت ۔
ایک قصہ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک مشہور شاعر ڈاکٹر ٹیگور سے کسی نے سوال کیا کہ برہمو سماج کی ناکامی کا سبب کیا ہے ؟ حالانکہ اس کے اصول بہت منصفانہ صلح کل کے تھے اس کی تعلیم تھی کہ سارے مذاہب سچے اور کل مذہبوں کے بانی اچھے اور نیک لوگ تھے ۔ اس میں عقل اور منطق کے خلاف کوئی چیز نہ تھی اور موجودہ تمدن موجودہ فلسفہ اور موجودہ حالات کو دیکھ کر بتایا گیا تھا ۔ تاہم اس نے کامیابی حاصل نہ کی ۔ فلسفی شاعر نے جواب میں کتنا اچھا نکتہ بیان کیا کہ یہ اسلئے ناکامیاب ہوا کہ اس کے پیچھے کوئی شخصی زندگی اور عملی سیرت نہ تھی ۔ یہ ایک اٹل سچائی ہے کہ عمل کے بغیر وعظ کسی بھی زمانے میں قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا گیا ۔ اور خدا کی نگاہ میں تو یہ چیز بہت ہی ناپسندیدہ ہے ۔ کیونکہ اس سے تضاد لازم ہے اور جو منجانب اللہ ہو اُس میں تضاد نہیں ہو سکتا کیونکہ تضاد چاہے قول کا عمل سے ہو یا قول کا قول سے بہرحال تضاد ہی کہلائے گا اسلئے اللہ تعالیٰ قرآن میں کئی مقامات پر اس کی ممانعت فرماتا ہے ۔ (کیوں تم کہتے ہو جو کرتے نہیں ۔القرآن) اسلئے یہ تضاد کسی نبی کی سیرت اور گفتار میں نظر نہیں آ سکتا ۔ کیونکہ پھر وہ کلام اور انسان منجانب اللہ نہیں رہے گا ۔
انبیاء کرام لوگوں سے دنیا چھڑوانے آتے ہیں نہ کے دنیا داری کی لت میں مبتلا کرنے حضرت محمد ﷺکا فرمان ہے’’ الدنیا جیفۃ وطالبہا کلاب‘‘ دنیا ایک مردار بدبودار ہے اور اس کے چاہنے والے کتے ہیں ۔
یہ بات مرزا اور اُس کے مریدوں کو بھی مسلم تھی چنانچہ مرزا کا ایک صحابی غلام رسول راجیکی لکھتا ہے ۔ایسا ہی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام(مرزا قادیانی) کی بارگاہ عالی میں جب بعض لوگوں کی طرف سے دنیاوی مقاصد کے حصول کے لئے دعا کی درخواست ہوتی اور ان کے خطوط موصول ہوتے تو حضور انور اکثر فرمایا کرتے تھے ۔
’’ہم جس دنیا کو چھڑانے کے لئے آئے ہیں یہ لوگ وہی دنیا ہم سے مانگتے ہیں۔‘‘
کاش ہمارے یہ دوست جو ہم سے دنیا کے متعلق دعا کراتے ہیں یہ اصلاحِ نفس اور خدمت اسلام کے متعلق بھی اپنے دلوں میں ایسی ہی تڑپ محسوس کریں جیسا کہ دنیا کے لئے محسوس کرتے ہیں پھر حضور اقدر علیہ الصلوۃ والسلام(مرزا قادیانی) یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ کئی دوستوں کی درخواستیں دعا کے متعلق اس غرض سے ہوتی ہیں کہ ان کا فلاں کام ہو جائے اور مال و دولت مل جائے یا بیوی اور بچے مل جائیں اور بیماروں کو صحت ہو جائے مگر ایسی درخواستیں بہت کم ہوتی ہیں جن میں یہ لکھا ہو کہ آپ میرے لئے دعا کریں کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی اور رسول کی محبت نصیب ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔حضور اقدر علیہ الصلوۃ واسلام( مرزا قادیانی) یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ مومنوں کا کام تو یہ ہے کہ ان کا ہر ایک شغل دین سے تعلق رکھنے والا ہو اور جیسے کافر لوگ دنیا اور دنیا کے مال و دولت اور ہر ایک چیز سے کفر کی بقاو ترقی کے لئے کوشش کرتے ہیں ایسے ہی مومنوں کو چاہیے کہ وہ ان کے مقابل میں غیرت کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی جان و مال اور گھر بار کو دین کی خدمت میں لگاکر دین کو دنیا میں قائم کر دیں ۔ (حیات قدسی ص135از غلام رسول راجیکی)
مرزا غلام قادیانی اپنی اس تعلیم میں کہاں تک مخلص اور سچے تھے اس بات کا اندازہ تو مرزا غلام قادیانی کے اُسی مقدس فراڈ سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے جو 50اور 5کے نام پر غریب اور معصوم عوام کے ساتھ کیا گیا قادیانی حضرات اس مکر و فریب اور ٹھگ بازی کو اندھی عقیدت کے چشمے سے جیسے مرضی دیکھیں یا اپنی آنکھیں پھوڑ ڈالیں انہیں حق ہے اور ہم کو بھی کہ ہم مرزا غلام قادیانی کے اس بیہودہ فعل کو حضرت محمد ﷺکے اس قول کی روشنی میں دیکھیں ’’الدنیا زور لایحصل الا بالزور ‘‘دنیا مکروفریب ہے اور بغیر مکروفریب کے حاصل نہیں ہو سکتی۔مرزا غلام قادیانی دنیا طلبی،عیش پرستی،اور دولت کی ہوس میں اس قدر اندھے تھے کہ کسی غریب یا مجبور کی مجبوری کاعلم ہوتا توجھٹ سے راستہ میں گھات لگا کر بیٹھ جاتے تھے ایسا ہی ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ ’’پٹیالہ کے ایک رئیس کے ہاں کوئی لڑکا پیدا نہ ہوا ۔ مرزا صاحب کے خواص سے دعا کی سفارش کروائی ۔ ان کو جواب دیا کہ محض رسمی طور پر دعا کے لئے ہاتھ اُٹھا دینے سے دعا نہیں ہوتی ۔ دوباتیں ہونی ضروری ہیں ۔ گہرا تعلق ہو یا دینی خدمت ۔ رئیس سے کہو کہ ایک لاکھ روپیہ دے تو پھر ہم دعا کریں گے ۔‘‘(سیرت المہدی جلد اول ص257)
ایک ستم یہ بھی ہے کہ مرزا غلام قادیانی کے لئے ایک خاص فرشتہ ’’ٹیچی ٹیچی‘‘ بروقت روپے پیسے کی رسدکے لئے خاص تھا۔ (حقیقت الوحی ص332،خزائن ج 22ص345-346)۔
شاہانہ لائف سٹائل کی کچھ جھلکیاں ملاحظہ فرمائیں ۔
’’لدھیانہ کا ایک شخص تھا جس نے ایک دفعہ مسجد میں مولوی محمد علی صاحب خواجہ کمال الدین صاحب اور شیخ رحمت اللہ کے سامنے کہا کہ ہم جماعت کے لئے مقروض ہو کر اپنے بیوی اور بچوں کا پیٹ کاٹ کر چندہ میں روپیہ بھیجتے ہیں مگر یہاں بیوی صاحبہ کے کپڑے اور زیورات بن جاتے ہیں ۔ ‘‘(خطبہ میاں محمود احمد خلیفہ قادیاں،اخبار الفضل جلد 26،21اگست 1938 ؁ء)
مرزا غلام قادیانی نے اپنی لاڈلی اور چہیتی بیوی نصرت جہاں بیگم کو جو زیورات پہنائے اس کی کل رقم 3505روپے ہے ۔ (قادیانی نبوت ص85)اس زمانہ میں سونا تقریباً بیس روپے تولہ تھا اب اس زمانہ سے خود ہی مرزا غلام قادیانی کی بیوی کے زیورات کی مالیت کا اندازہ لگا لیں کہ اُنہوں نے دین کو دنیا پر کہاں تک مقدم رکھا۔
’’اوائل میں حضرت صاحب انٹر کلاس میں سفر کرتے تھے اور اگر بیوی صاحبہ ساتھ ہوتی تھیں تو ان کو دیگر مستورات کے ساتھ تھرڈ کلاس میں بٹھا دیا کرتے تھے ۔ لیکن آخری سالوں میں حضور ایک سالم سیکنڈ کلاس کمرہ اپنے لئے ریزرو کرا لیا کرتے تھے اور اسی میں حضرت بیوی صاحبہ اور بچوں کے ساتھ سفر کرتے تھے اور حضور کے اصحاب دوسری گاڑی میں بیٹھتے تھے ۔‘‘(سیرت المہدی حصہ دوم ص101روایت نمبر:427)
عیش پرستی کی بھی کچھ جھلکیاں ملاحظہ ہوں۔
1۔پرندوں کا گوشت آپ کو بہت مرغوب تھا ۔ مرغ اور بٹیر کا گوشت بھی آپ کو پسند تھا ۔ کباب،پلاؤ،انڈے ،فیرینی،اس وقت کہہ کر پکواتے تھے ۔جب ضعف معلوم ہوتا تھا ۔ میوہ جات بھی آپ کو پسند تھے ۔ موجودہ زمانہ کی ایجادات برف،سوڈا،لیمن بھی پیا کرتے تھے ۔ بلکہ موسم گرما میں برف امرتسر یا لاہور سے بھی منگوا لیا کرتے تھے۔(سیرت المہدی حصہ دوم ص132-135)
ڈاکٹر عبد الحکیم خان مرحوم جو مرزا قادیانی کے مرید تھے ۔ مرزائیت سے توبہ کرنے کے بعد اُنہوں نے لاہور میں جو تقریر کی اُس میں اپنے تائب ہونے کی وجہ بیان فرمائی کہ :اُن کے ذمہ مرزا قادیانی نے ایک خاص خدمت کر رکھی تھی ۔ ہر مہینے وہ مرزا قادیانی کے لئے ایک تولہ خالص مشک مہیا کرتے تھے ۔ جو ساٹھ ستر روپیہ تولہ ملتی تھی ۔ حکیم نورالدین کے مشورے سے ایک یا قوتی تیار کرتے تھے ۔ جو مرزا قادیانی استعمال کرتے تھے ۔ بٹالہ سے روزانہ سوڈے کی بوتلیں اور برف مرزا قادیانی کے لئے جاتی تھی ۔ خوردونوش میں بھی بہت سے تکلفات کو دخل تھا ۔ ان چیزوں پر مریدوں کا روپیہ بے دریغ صرف ہوتا تھا ۔ ایک دن جب وہ یا قوتی تیار کر رہے تھے ان کے دل میں یہ خیال آیا کہ جناب رسول اللہ ? تو ایسی سادہ زندگی بسر کرتے تھے کہ ایک روایت کے مطابق نبوت کے گھر میں تین دن متواتر ایک وقت جوکی روٹی سے کسی کا پیٹ نہ بھرا تھا ۔ اور مرزا قادیانی دعویٰ تو فنا فی الرسول ہونے کا کرتا ہے ۔ لیکن تنعیم دوستی کا یہ عالم ہے جب ڈاکٹر صاحب نے اپنا یہ شبہ مرزا قادیانی پر ظاہر کیا تو ان سے کوئی جواب سوائے ہیر پھیر کے نہ بن پڑا ۔چنانچہ ڈالٹر صاحب مرزائیت ترک کر کے مسلمان ہو گئے ۔
مرزائی حضرات کے لئے ڈاکٹر صاحب کے بیان پر اعتبار کرنا مشکل ہو سکتا ۔کیونکہ وہ ڈاکٹر صاحب کو مرزا قادیانی کا دشمن مانتے ہیں ۔ تو اس ضمن میں مندرجہ ذیل حوالے جات خوف خدا رکھنے والی آنکھوں سے پڑھنے کے لائق ہیں ۔
1۔ پہلی مشک ختم ہو چکی ہے ۔ اسلئے پچاس روپے بذریعہ منی آرڈر آپ کی خدمت میں ارسال ہیں ۔ دوتولہ مشک خالص دو شیشیوں میں ارسال فرماویں ۔ آپ بے شک ایک تولہ مشک بہ قیمت خرید کر کے بذریعہ وی۔پی بھیج دیں ۔ (خطوط امام بنام غلام ص2-3)
2۔ مخدومی سیٹھ صاحب سلمہ اسلام علیکم رحمتہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔۔کل کی تاریخ عنبر بھی پہنچ گیا ۔ آپ میری طرف سے ان مہربان دوست کی خدمت میں شکریہ ادا کر دیں ۔(مکتوب نمبر67،مکتوبات احمدیہ ج 5حصہ اوّل ص26-27)
3۔ میں اس کو اپنے مولا کریم کے فضل سے اپنے لئے بے اندازہ فخر کا موجب سمجھتا ہوں کہ حضور (مرزا قادیانی) بھی اس ناچیز کی تیارکردہ مفرح عنبری کا استعمال فرماتے ہیں ۔(خطوط امام بنام غلام ص8)
4۔ اسی طرح مکتوب احمدیہ جلد پنجم نمبر2ص14پر شہوت کو اُبھارنے والی دوا مرزا نے استعمال کی اور حکیم نورالدین کو بھی یہی دوا کو استعمال کرنے کا مشورہ دیا اسی طرح سیرت المہدی جلد سوئم ص50-51پر شہوت اُبھارنے کے لئے ایک افیون سے تیار کردہ الہامی نسخہ درج کیا گیا ہے ۔ جو مرزا نے استعمال بھی کیا اور دوسروں کو بھی کرایا ۔
اسلئے ڈاکٹر صاحب کا بیان جھٹلایا نہیں جا سکتا ۔ اور ایسی قیمتی مقویات جو شہوت کو اُبھارنے کے لئے دنیا میں مشہور ہیں ۔کیا کسی نبی کی شان کے شایان ہیں ؟ خود سوچیں کے شہوت کے زیرِ اثر رہ کر کوئی انسان عبادت الٰہی کیسے کر سکتا ہے ؟ اور یہ بھی سوچیں کہ ایک زاہد و عابد جس کا دعویٰ فنا فی الرسول ہونے کا ہو کیا ایسے شہواتی مقویات کا محتاج ہوا کرتا ہے انبیاء اپنے مریدوں سے ریاضت اور اطاعت کا کام لیتے ہیں ۔ لیکن مرزا غلام قادیانی مقویات کٹوانے اور بنوانے کا کام لیتے ہیں سبحان اللہ شاید کوئی بے حیائی کا لباس اوڑھ کر اور مرزا غلام قادیانی کی بے شرم زبان اپنے منہ میں رکھ کر کہہ دے کہ یہ بھی مرزا غلام قادیانی کی صداقت کا ایک ثبوت ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جس میں حیاء اور غیرت نہ ہو وہ جو مرضی کرتا اور کہتا رہے کسی کو کیا فرق پڑتا ہے ۔
ایسے ہی مرزا کا بے شرمی میں لپٹا ہوا یہ دعویٰ بھی قابل غور رہے کہ اللہ تعالیٰ کی مجھ سے یہ عادت ہے کہ جو نقد روپیہ آنے والا ہو یا اور چیزیں تحائف کے طور پر ہوں ۔ ان کی خبر قبل از وقت بذریعہ الہام یا خواب مجھ کو دے دیتا ہے اور اس قسم کے نشان پچاس ہزار سے کچھ زیادہ ہوں گے ۔ (حقیقت الوحی 333،خزائن ج 22ص346)
حضرت محمد ﷺکے قول کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ بدبودار اور کتوں کے کام ہیں ۔ لیکن اگر قادیانی عینک لگا کر دیکھا جائے تو یہ خارق عادت یا معجزات ہیں جن کی بنا پر مرزا غلام قادیانی فرماتے ہیں کہ اگر یہ معجزات ہزار انبیاء پر تقسیم کئے جائیں تو کئی کی نبوت ثابت ہو جاتی ۔ یہ تو شکر خدا کا ہے کہ یہ منطق فرعون اور قارون کے دماغ میں نہیں سمائی ورنہ وہ ایسے نشانوں سے پتہ نہیں کتنے لوگوں کی خدائی ثابت کر جاتے ۔

Sunday, 23 August 2015

قادیانی ظلی بروزی نبوت کا فراڈ اور وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ کا جواب

0 comments



مرزائی ظلی بروزی نبوت کا ڈرامہ
(وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ فَأُوْلَـٰٓٮِٕكَ مَعَ ٱلَّذِينَ أَنۡعَمَ ٱللَّهُ عَلَيۡہِم مِّنَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ وَٱلصِّدِّيقِينَ وَٱلشُّہَدَآءِ وَٱلصَّـٰلِحِينَ‌ۚ وَحَسُنَ أُوْلَـٰٓٮِٕكَ رَفِيقً۬ا)
جب بھی کوئی قادیانی قرآن کی کوئی بھی آیت یا کوئی حدیث پیش کرے اور اس سے اپنا عقیدہ ثابت کرنے کی کوشش کرے تو سب سے پہلے اس سے یہ بات طے کرلیں کہ وہ کسی بھی آیت کی جو بھی تفسیر پیش کریگا وہ امّت کے گزشتہ اور مرزا قادیانی سے پہلے کی تفسیروں سے بھی ثابت کریگا کہ اس آیت کی وہی تفسیر ہے جو وہ کر رہا ہے .. اور جو حدیث وہ پیش کر رہا ہے مرزا قادیانی سے پہلے کے محدثین نے اس حدیث کی وہی تشریح کی ہے جو وہ کر رہا ہے۔
وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ فَأُوْلَـٰٓٮِٕكَ مَعَ ٱلَّذِينَ أَنۡعَمَ ٱللَّهُ عَلَيۡہِم مِّنَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ وَٱلصِّدِّيقِينَ وَٱلشُّہَدَآءِ وَٱلصَّـٰلِحِينَ‌ۚ وَحَسُنَ أُوْلَـٰٓٮِٕكَ رَفِيقً۬ا.
ترجمہ : اور جو لوگ خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں وہ (قیامت کے روز) ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر خدا نے بڑا فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ اور ان لوگوں کی رفاقت بہت ہی خوب ہے (سورة النساء آيت 69 پارہ 5)
قادیانی نقطہ نظر
جیسا کہ آپ کو اس آیت کے ترجمہ سے پتہ چل گیا ہوگا کہ اس آیت کا مفہوم کیا ہے ، لیکن قادیانی کہتے ہیں کہ "جو لوگ الله اور اسکے رسول کی اطاعت کرینگے وہ نبی ہونگے ، صدیق ہونگے، شہید ہونگے اور صالح ہونگے اس آیت میں چار درجات ملنے کا ذکر ہے اگر انسان الله اور رسول کی اطاعت کرکے صدیق ، شہید اور صالح بن سکتا ہے تو نبی کیوں نہیں بن سکتا؟؟ تو اس آیت سے ثابت ہوا کہ الله اور اسکے رسول کی اطاعت کرکے نبوت بھی حاصل ہو سکتی ہے ..''
تو یاد رکھیں
مرزائی عقیدہ یہ کہ "نبوت کی تین قسمیں ہیں، پہلی وہ نبوت جو مستقل اور حقیقی ہو اور شريعت والى ہو، دوسری مستقل اور حقیقی غير تشريعى نبوت اور تيسرى غیر حقیقی غیر مستقل غیر تشريعى ظلى بروزى نبوت" (یہ تیسری قسم مرزائیوں نے ایجاد کی ہے) پھر انکا ماننا ہے کہ "پہلی دونوں قسم کی نبوت یعنی مستقل تشريعى نبوت اور غير مستقل غير تشريعى نبوت آنحضرت صلى الله عليه وسلم کے بعد بند ہو چکی، صرف تیسری قسم غير مستقل ظلى بروزى غير تشريعى نبوت بند نہیں ہوئی، اور پھر انکا یہ عقیدہ بھی ہے کہ یہ نبوت بھی صرف ایک شخص کو ملی اور کسی کو نہ ملی نہ ملے گی۔
اب مرزائیوں کو ثابت تو کرنا ہوتا ہے کہ "مستقل تشريعى اور مستقل غير تشريعى نبوت بند ہے" اور پھر یہ ثابت کرنا ہے کہ "صرف ظلى بروزى نام کی ایک نئی نبوت کھلی ہے" لیکن وہ اپنے حق میں وہ آیات و احادیث پیش کرتے ہیں جنکے اندر "مطلق نبوت یا رسالت" کا ذکر ہے ، اور ان آیات و احادیث کے مفہوم میں تحریف کرکے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ "ظلى بروزى نبوت جارى ہے" جبکہ وہاں صرف "نبوت یا رسالت" کا ذکر ہے اگر ان آیات یا احادیث سے نبوت کا اجراء ثابت ہوتا ہے تو پھر ہر قسم کی نبوت کا اجراء ثابت ہوتا ہے جو کہ خود مرزائی عقیدہ کے خلاف ہے .اس آیت سے جو دلیل لی جاتی ہے وہ بھی اسی قسم کی ہے۔
مرزائی دلیل کا جائزہ اور انکی تحریفات کا پوسٹ مارٹم
آیت وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ۔۔۔الخ میں نہ تو نبوت ملنے کا ذکر ہے اور نہ ہی کوئی اور چیز ملنے کا ، یہاں تو صرف معيت اور رفاقت کا ذکر ہے کہ الله اور اسکے رسول کی اطاعت کرنے والے مذکورہ چار لوگوں کے ساتھ ہونگے جیسا کہ آیت کے آخر الفاظ "وحسن الئك رفيقاً" سے ظاہر ہے .
آئیے دیکھتے ہیں مفسرین نے اس آیت کا شان نزول کیا بیان کیا ہے.
قادیانیوں کے مسلّم دسویں صدی کے مجدد امام جلال الدين سيوطى رحمه الله نے اپنی تفسیر "جلالين" میں اس آیت کا شان نزول یہ لکھا ہے(ترجمہ) "بعض صحابہ کرام نے آنحضرت صلى الله عليه وسلم سے عرض کیا کہ آپ جنّت کے بلند و بالا مقامات میں ہونگے اور ہم نچلے درجات میں ہونگے، تو آپ صلى الله عليه وسلم کی زیارت کیسے ہوگی؟ تو یہ آیت نازل ہوئی .. یہاں رفاقت سے مراد جنّت کی رفاقت ہے کے صحابہ کرام انبیاء عليهم السلام کی زیارت و حاضری سے فیضیاب ہونگے اگر چہ ان (انبیاء) کا قیام بلند و بالا درجات میں ہوگا" (تفسير جلالين صفحہ 80)
امام فخر الدين رازى رحمه الله (یہ بھی قادیانیوں کے نزدیک اپنے زمانے کے مجدد تھے) نے اس آیت کا شان نزول یہ لکھا ہے "حضرت ثوبان رضى الله عنه جو آنحضرت صلى الله عليه وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے وہ آپ صلى الله عليه وسلم کے بہت زیادہ شیدائی تھے (جدائی) پر صبر نہیں کر سکتے تھے ، ایک دن غمگین صورت بنائے رحمت دو عالم صلى الله عليه وسلم کے پاس آئے ، انکے چہرے پر غم کے آثار تھے ، آپ صلى الله عليه وسلم نے وجہ دریافت فرمائی تو انہوں نے عرض کیا کے مجھے کوئی تکلیف نہیں بس اتنا ہے آپ کو اگر نہ دیکھوں تو اشتياق ملاقات میں بے قراری بڑھ جاتی ہے ، آپ صلى الله عليه وسلم سے ملاقات ہوئی تو آپ نے قیامت کا ذکر کیا تو سوچتا ہوں کہ جنّت میں داخلہ ملا بھی تو آپ صلى الله عليه وسلم سے ملاقات کیسے ہوگی؟ کیونکہ آپ تو انبیاء کے درجات میں ہونگے اور ہم آپ کے غلاموں کے درجہ میں ، اور اگر جنّت میں میرا داخلہ ہی نہ ہوا تو پھر ہمیشہ کیلیے ملاقات سے گئے ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی" (تفسير كبير ، سورة النساء آيت 69)
ایسے ہی الفاظ تفسیر ابن كثير اور تفسير روح المعانى وغیرہ میں بھی لکھے ہوے ہیں ، جن سے معلوم ہوا کہ اس آیت میں جس معيت اور رفاقت کا ذکر ہے اس سے جنّت کی رفاقت مراد ہے۔
کیا قادیانی کسی ایک مشہور و معروف اور فریقین کی متفق عليه تفسیر کا حوالہ پیش کر سکتے ہیں جو انکے مرزا جی سے پہلے 1300 سال میں لکھی گئی ہو اور اس میں اس آیت سے یہ ثابت کیا گیا ہو کہ الله اور رسول کی اطاعت کرکے اب نبی بنا کرینگے؟
اب میں مثال کے طور پر ایک حدیث رسول صلى الله عليه وسلم پیش کر رہا ہوں اس میں بھی ایسے ہی الفاظ ہیں جیسے اس آیت میں لیکن وہاں قادیانی حضرات وہ معنى نہیں کرتے جو اس آیت میں کرتے ہیں ، حدیث ہے "التاجر الصدوق الأمين مع النبيين والصديقين والشهداء" سچا امانت دار تاجر نبیوں ، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا" (تفسير ابن كثير صفحہ 523 جلد 1 ) .. کیا قادیانی بتائیں گے کہ اس امت میں آج تک کتنے سچے اور امانت دار تاجر نبی ہوے ہیں؟؟؟
ایک بات جس کا قادیانی زور زور سے پروپگنڈا کرتے ہیں کہ ”آپ لوگ امت کو شہیدوں ،صالحین وغیرہ سے بھی محروم کر رہے ہو ۔کیا امت میں یہ درجات نہیں ملے؟ تو یہ امت خیر الامت کیسی۔۔۔“
تو یہ بات یاد رکھيے کہ قرآن میں جہاں بھی درجات ملنے کا ذکر ہے وہاں نبوت کا ذکر نہیں ، اگرچہ باقی تمام درجات کا ذکر ہے، جیسے : والذين آمنوا بالله ورسله الئك هم الصديقون والشهداء عند ربهم ، اور جو لوگ ایمان لائے الله اور اسکے سب رسولوں پر وہی ہیں صدیقین اور شهداء اپنے رب کے پاس (سورة الحديد آيت 19 ) ، اور دوسری آیت ہے والذين آمنوا وعملوا الصالحات لندخلنهم في الصالحين، اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے ہم انکو داخل کرینگے نیک لوگوں میں (سورة العنكبوت آيت 9) اور ان سے کہیں انہی ایات سے ہم امت میں درجات کے ملنے کو مانتے ہیں۔
اب اگر ایک منٹ کے لئے قادیانیوں کے بات مان لیں کہ "جو بھی اللہ اور رسول صلى الله عليه وسلم " کی اطاعت اور اتباع کریگا وہ نبی بھی بن سکتا ہے'' تو
سوال 1 : جو بھی الله اور رسول کی اتباع کرے وہ نبی بن سکتا ہے تو کیا عورتیں، بچے اور ہیجڑے بھی اگر الله و رسول کی اتباع کریں تو وہ بھی نبی ہو سکتے ہیں؟؟ یہاں لفظ "من" ہے جسمیں مرد، عورت، بچے اور ہیجڑے سب داخل ہیں تو اگر نبوت اطاعت کاملہ کا نتیجہ ہے تو عورت کو بھی ملنی چاہیے کیونکہ نیک کاموں کا اجر جیسے مرد کو ملیگا اتنا ہی عورت کو بھی ملے گا .. کیا قادیانیوں کے نزدیک عورت نبی ہو سکتی ہے؟؟
سوال 2 : انسے پوچھیں کہ مرزا قادیانی سے پہلے 1300 سال میں کسی نے الله اور اسکے رسول صلى الله عليه وسلم کی کامل اطاعت کی یا نہیں؟ اگر کی ہے تو نبی کیوں نہ بنے؟ اور اگر کسی نے بھی کامل اطاعت نہیں کی تو آپ صلى الله عليه وسلم کی امّت پھر سب سے بہترین امّت نہ ہوئی (نعوذ بالله) جس میں کسی نے بھی اپنے نبی کی کامل اطاعت نہ کی ؟؟
سوال 3 : الله نے صحابہ کرام رضى الله عنهم کے بارے میں خود فرمایا ہے کہ "يطيعون الله ورسوله"کہ وہ الله اور اسکے رسول کی اطاعت کرتے ہیں (سورة التوبه آيت 71 ) ، تو بتاؤ صحابہ میں کوئی نبی کیوں نہ ہوا؟
سوال 4 : مرزا قادیانی خود لکھتا ہے کہ "حضرت عمر فاروق رضى الله عنه کا وجود ظلى طور پر گویا کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم کا وجود ہی تھا (ايام الصلح ، روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 265 ) ، ایک اور جگہ لکھتا ہے "صحابہ کرام آنحضرت صلى الله عليه وسلم کی عکسی تصویریں تھے" (فتح اسلام ، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 21 ) .. اب سوال یہ ہے کہ حضرت عمر فاروق یا دوسرے صحابہ کرام رضى الله عنهم اگر کامل اطاعت اور اتباع کا نمونہ تھے تو نبی کیوں نہ ہوے؟
سوال 5 :اگر بفرض محال مان لیا جائے کہ الله اور اسکے رسول کی اطاعت سے نبوت ملتی ہے تو پھر اس آیت میں یہ تو ذکر نہیں کہ صرف غیر تشريعى نبوت ملتی ہے ، تشريعى نبوت نہیں ملتی ، تم کیوں کہتے ہو کہ صرف غیر تشريعى نبی بن سکتا ہے تشريعى نہیں؟؟ پھر اس آیت میں یہ کہاں ہے کہ "ظلى بروزى" نبی بن سکتا ہے "حقيقى اور مستقل" نہیں؟؟
سوال 6: تم کہتے ہو کہ اس آیت میں "ظلى بروزى نبوت" ملنے کا ذکر ہے ، تو کیا جو باقی تین انعامات اس آیت میں بیان ہووے ہیں "صديقين , شهداء , صالحين" وہاں بھی ظلى بروزى صداقت و شهادت اور صالحيت ملتی ہے یا حقیقی ؟؟ یا تو چاروں جگہ "ظلى بروزى" کا دم چھلہ لگاؤ یا چاروں جگہ حقیقی مانو۔
کیا نبوت ریاضت اور عبادت سے حاصل کی جا سکتی ہے یا یہ الله کی طرف سے ایک وہبی چیز ہے؟
علامہ شعرانى رحمة الله عليه اپنی کتاب "اليواقيت والجواهر" میں لکھتے ہیں: ”فان قلت فعل النبوۃ مکتسبۃ او موھوبۃ فالجواب لیست النبوۃ مکتسبۃ حتی یتوصل الیھا بالنسک والریاضات کما ظنہ جماعۃ من الحمقاء وقد افتی الما لکیہ وغیرھم بکفر من قال ان النبوۃ مکتسبۃ ‘‘"اگر تم کہو کہ نبوت کسبی ہے یا وہبی ہے؟ تو اسکا جواب یہ کہ نبوت کسبی نہیں ہے (یعنی انسان کی اپنی محنت اور ریاضت سے حاصل نہیں ہوتی) کہ محنت و کاوش سے اس تک پہنچا جائے جیسا کہ بعض احمقوں کا خیال ہے" (اليواقيت والجواهر صفحہ 164 -165 جلد 1)
اسی طرح شرح شفاء میں ہے۔’’ من ادعی نبوۃ احد مع نبینا ﷺ او بعدہ وداعی النبوۃ لنفسہ او جوز اکتسابھا او البلوغ بصفاء القلب الی مرتبتھا وکذلک من ادعی منھم انما یوحی الیہ وان لم یدعی النبوۃ فھولاء کلھم کفار مکذبون للنبی ﷺ لانہ اخبر ﷺ انا خاتم النبیین لانبی بعدی ۔‘‘ (شرح شفاء ص۲۷۰؍۲۷۱)
امام رازی لکھتے ہیں’’ ومعلوم انہ لیس المراد من کون ھولاو معھم ھو انھم یکونون فی عین تلک الدرجات لان ھذا ممتنع ‘‘ (تفسیر کبیر ص۲۶۳)
امام رازی ؒ مرزا کے نزدیک چھٹی صدی کے ایک مشہور اور مسلّم مجدد ہیں ۔دیکھئے کس صراحت سے انہوں نے مرزائیوں کی تفسیر کی تردید کی ہے کہ فاؤلئک مع الذین سے مراد یہ نہیں کہ اطاعت کرنے سے ان کو وہ درجات حاصل ہوں گے کیونکہ یہ ممتنع ہے بلکہ اس سے مراد صرف ان کی صحبت ہے جیسا کہ ہم کہتے ہیں۔
مزید یہ کہ مرزا قادیانی لکھتا ہے ۔’’ جب کسی کی حالت اس نوبت تک پہنچ جائے (جو اس سے قبل مذکور ہوچکی ہے ) تو اس کا معاملہ اس عالم سے واراء الورا ء ہوجاتا ہے اوران تما م ہدایتوں اور مقامات عالیہ کو ظلی طور پر پالیتا ہے جو اس سے پہلے نبیوں اور رسولوں کو ملے تھے اورانبیاء اور رسل کا وارث اور نائب ہوجاتا ہے ۔وہ حقیقت جو انبیاء میں معجزہ کے نام سے موسوم ہوتی ہے وہ اس میں کرامت کے نام سے ظاہر ہوتی ہے اور وہی حقیقت جو انبیاء میں عصمت کے نام سے نامزد کی جاتی ہے اس میں محفوظیت کے نام سے پکاری جاتی ہے اور وہی حقیقت جو انبیاء میں نبوت کے نام سے بولی جاتی ہے اس میں محدثیت کے پیرایہ میں ظہور پکڑتی ہے حقیقت ایک ہی ہے لیکن بباعث شدت اور ضعف رنگ کے ان کے نام مختلف رکھے جاتے ہیں ۔ اس لئے آنحضرت ﷺ کے ملفوظات مبارکہ ارشاد فرمارہے ہیں کہ محدث نبی بالقوہ ہوتا ہے اگر باب نبوت مسدود نہ ہوتا تو ہر ایک محدث اپنے وجود میں قوت استعداد نبی ہونے کی رکھتا ہے اور اس قوت اور استعداد کے لحاظ سے محدث کا حمل نبی پر جائز ہے یعنی کہہ سکتے ہیں المحدث نبی جیسا کہ کہہ سکتے ہیں : العنب خمر نظر اعلی القوۃ والاستعداد ومثل ھذا الحمل شائع متعارف فی عبارات القوم وقد جرت المحاورات علی ذالک کما لایخفی علی کل ذکی عالم مطلع علی کتب الادب ‘‘(ریویو آف ریلجنز أپریل ۱۹۰۴ بعنوان اسلام کی برکات ، آئینہ کمالا ت اسلام ص۲۳۷؍۲۳۸ج ۵ ۔ روحانی خزائن ۲۳۷ ؍۲۳۸)
اس عبارت سے واضح ہوگیا کہ ظلی نبوت بھی درحقیقت محدثیت ہی ہے اور ظلی نبی جو کامل اتباع سے بنتا ہے وہ حقیقت میں محدث ہے۔ لہذا قادیانیوں کا یہ کہنا کہ اتباع اور اطاعت سے نبوت حاصل ہوجاتی ہے غلط ٹھرا۔
یہاں پر مرزا محدث کا حمل جو نبی پر کررہے ہیں اور المحدث نبی کہہ رہے ہیں وہ محض اس کی قوۃ اور استعداد کے لحاظ سے ہے ۔جیسا کہ عنب کا حمل قوت اور استعداد کے لحاظ سے خمر پر ہوتا ہے تو اب ظاہر ہے کہ یہ حمل اگرچہ جائز ہے لیکن ان کے احکام مختلف ہیں جیسا کہ عنب اور خمر کے احکام مختلف ہیں اسی طرح محدث جس کو بالقوۃ ہم نبی کہہ رہے ہیں اس کے احکام نبی سے مختلف ہونے چاہئیں۔ لہذا یہ بات ثابت ہوگئی کہ اطاعت کرنے سے مرز ا کے نزدیک جو نبوت حاصل ہوتی ہے وہ محدثیت ہی ہے جس کا انکار کفر نہیں اور اطاعت سے اس مقام کے حاصل ہونے میں کوئی نزاع نہیں ہے ۔ پھر
’’ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ محدثیت محض وہبی ہے کسب سے حاصل نہیں ہوسکتی جیسا کہ نبوت کسب سے حاصل نہیں ہوسکتی ۔‘‘(اردو ترجمہ حمامۃ البشریٰ ل۸۲ روحانی خزائن ص۳۰۱ ج۷)
ایک مرزائی دجل:وہبی چیز میں بھی انسان کا دخل ہوتا ہے جیسے اللہ نے فرمایا ہے الشوری 49 میں فرمایا”اللہ جس کا چاہے بیٹیاں بخشتا ہے اور جس کا چاہے بیٹے۔ تو معلوم ہوا کہ وہبی چیز میں بھی کسب کا دخل ہے۔
جواب: اس بات کا جواب تو اللہ خود اگلی ایت میں ہی دے دیا ہے ”و یجعل من یشآء عقیماً“ (الشوری50) انسان کا دخل اختلاط تک ہوتا ہے مگر لڑکا یا لڑکی عطا کرنے میں انسان کا کوئی دخل نہیں ہے۔ اور بسا اوقات تو اختلاط سے بھی کچھ بھی نہیں ہوتا۔
اب آئیے دیکھتے ہیں مرزا قادیانی کی تحریریں کیا کہتی ہے؟
"اب میں بموجب آیت کریمہ وأما بنعمة ربك بحدث اپنی نسبت بیان کرتا ہوں کہ خدا تعالى نے مجھے اس تیسرے درجے میں داخل کرکے وہ نعمت بخشی ہے جو میری کوشش سے نہیں بلکہ شکم مادر میں مجھے عطا کی گئی ہے"
(حقيقت الوحى ، روحانی خزائن صفحہ 70 جلد 22 )
لیجیے مرزا صاحب تو کہ رہے ہیں کہ انکو یہ نعمت (نبوت) ماں کے پیٹ میں ہی عطا ہو گئی تھے اب بتاؤ اس وقت تک مرزا جی نے الله اور رسول کی کونسی اطاعت کی تھے؟؟ وہ تو ابھی دنیا میں بھی نہیں آئے تھے؟
آگے دیکھیے مرزا صاحب واضح الفاظ میں لکھتے ہیں "صراط الذين انعمت عليهم اس آیت کا خلاصہ یہ کہ جس شخص کو یہ مرتبہ ملا انعام کے طور پر ملا یعنی محض فضل سے نہ کسی عمل کا اجر"
(چشمہ مسيحى ، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 365)
اب بتائیں کس کی بات ٹھیک ہے ؟ آج کل کے قادیانیوں کی یا مرزا کی؟ یہ آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کا اعجاز ہے کہ مرزا اپنے ہی مسلمات کے خلاف لکھ گیا اسی لیے کہاگیا ہے کہ
’’ جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے ‘‘
ایک اور حوالہ مرزا قادیانی کی کتاب کا یاد رکھیں
اس میں وہ خود اس آیت کی وضاحت کر رہا ہے لکھتا ہے "تم پنجوقت نمازوں میں یہ دعا پڑھا کرو اهدنا الصراط المستقيم یعنی اے ہمارے خدا اپنے منعم عليهم بندوں کی ہمیں راہ بتا وہ کون ہے ؟ نبی اور صدیق اور شہید اور صلحاء، اس دعا کا خلاصہ مطلب یہی تھا کہ ان چاروں گروہوں میں سے جسکا زمانہ تم پاؤ اسکے سایہ صحبت میں آ جاؤ" (آئينه كمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 612 ) .. آپ نے غور کیا مرزا نے کیا مطلب بیان کیا؟؟
ایک اور اہم حوالہ
مرزا نے اہل مکہ کیلیے ایک دعا کی ہے کہ الله تم کو انبیاء و رسل ، صدیقین ، شهداء و صالحين کی معيت نصيب کرے ، مرزا نے عربی میں بلکل وہی الفاظ لکھے ہیں جو اس آیت کریمہ یں ہیں لکھتا ہے "نسئله ان يدخلكم في ملكوته مع الانبياء والرسل والصديقين والشهداء والصالحين" (حمامة البشرى ، روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 325 ) تو کیا ان الفاظ کا یہی مطلب ہوگا کہ مرزا جی دعا کر رہے ہیں کہ اہل مکہ تمام کے تمام انبياء اور رسول بن جائیں؟ اور اگر یہی مطلب ہے تو کیا مرزا جی کی یہ دعا قبول ہوئی؟؟
یاد رہے "اور میں جانتا ہوں میری دعائیں کرنے سے پہلے ہی مستجاب ہیں"
(مکتوبات احمد:جلد دوم: صفحہ 40مکتوب نمبر 25)
ایک اور مرزائی شوشہ اور اسکا جواب
قادیانیوں کی اس دلیل کی ساری عمارت "مع النبيين والصديقين والشهداء والصالحين" میں مذکور لفظ "مع" پر کھڑی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ یہاں "مع" کا معنى ہے "میں" یا عربی میں "من" کے معنى میں ہے . قادیانی قرآن کی آیت کریمہ پیش کرکے کہتے ہیں کہ دیکھو اس میں لفظ "مع" ساتھ نہیں بلکہ "من" یا "میں سے" کے معنى میں آیا ہے .. سورة آل عمران کی آیت نمبر 193 کے آخرى الفاظ یہ ہیں وَتَوَفَّنَا مَعَ ٱلۡأَبۡرَارِ،ترجمه: اور (اے ہمارے رب) ہم کو دنیا سے نیک بندوں کے ساتھ اٹھا .
جواب امام فخرالدین رازی کی زبانی
ہم پہلے مختلف تفسیر کے حوالوں سے ثابت کر آئیں ہیں کہ اس آیت کریمہ میں "مع" اپنے حقیقی معنى "ساتھ" میں ہی استعمال ہوا ہے۔ قادیانیوں کے چھٹی صدی کے مسلمہ مجدد امام فخر الدين رازى رحمه الله کی تفسیر کبیر سے ہی اس آیت کی تفسیر یوں ہے(ترجمہ) "انکا ابرار کے ساتھ وفات پانا اس طرح ہوگا کہ وہ ان نیکوں جیسے اعمال کرتے ہوے انتقال کریں، تاکہ قیامت کے دن انکا درجہ پالیں جیسے کوئی آدمی کہتا ہے کہ میں اس مسئله میں امام شافعی کے ساتھ ہوں اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ اسکا اعتقاد رکھنے میں وہ اور امام شافعی برابر ہیں (نہ یہ کہ وہ درجہ میں امام شافعی کے برابر ہوگیا)"( تفسير كبير صفحہ 181 جلد 3)
اور ایک قاعدہ زہن میں رکھیں۔جب کوئی لفظ دو معنوں میں مستعمل ہوتو دیکھا جاتا ہے کہ حقیقت کس میں ہے اور مجاز کس میں جب تک حقیقت متعذر نہ ہوتو مجاز کی طرف رجوع نہیں کیا جاتاہے۔”مع“ معیت اور رفاقت کے معنی میں حقیقت ہے اور یہاں حقیقت متعذر نہیں ہے بلکہ وحسن اولئک رفیقا کا جملہ صاف اور صریح دلالت کررہا ہے کہ یہاں معیت کے معنی میں ہے ورنہ یہ جملہ کلام الٰہی میں بالکل بے فائدہ اور زائد ہوگا کیونکہ جب اطاعت کرنے سے وہ لوگ خود نبی او رصدیق بن گئے تو پھر یہ کہنے کی کیا ضرورت کہ ان لوگوں کی رفاقت اچھی ہوگی۔
اب ذرا قادیانیوں سے ان آیات کا ترجمہ بھی پوچھیں : ان الله مع الصابرين... ان الله مع المتقين .. ان الله مع الذين اتقوا والذين هم محسنون.... ان سب آیات میں اگر لفظ "مع" کا ترجمہ "میں سے" کیا جاۓ تو ٹھیک ہوگا؟؟
مثال کے طور پر اگر کوئی ترجمہ کرے کہ "الله بھی صبر کرنے والوں میں سے ہے" یا الله بھی متقيين میں سے ہے" تو یہ ٹھیک ہوگا؟؟ یا ان آیات کا صحیح ترجمہ یہی ہے کہ "الله صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے" یا "الله متقین کے ساتھ ہے"؟؟ کیا کہتے ہو؟؟
ایک اہم بات آپ لوگ جب بھی کسی قادیانى کے ساتھ اس موضوع پر بات کریں تو سب سے پہلے اس سے یہ پوچھ لیں کہ تمہارا دعوى کیا ہے؟ قادیانیوں کا دعوى یہ ہے کہ"حضرت محمد صلى الله عليه وسلم کے بعد نبوت جاری ہے اور مرزا غلام احمد الله کا نبی ہے" اور جب قادیانی کہے کہ ہاں یہی میرا دعوى ہے تو پھر اس سے سوال کریں کہ اب تم جو بھی دلیل دوگے وہ "عام" یا مبہم نہیں ہونی چاہیے بلکہ دلیل وہ دینا جس میں یہ بھی صاف صاف ہو کہ مرزا غلام احمد الله کا نبی ہے .. صرف یہ دلیل دینا کہ نبوت جاری ہے کافی نہیں ...جیسے مثال کے طور پر میں کہوں کہ آج خالد (فرضی نام) آیا تھا، کوئی کہے کہ نہیں آیا تھا، تو آپ میرے سے خالد کے آنے کا ثبوت مانگیں تو میں ثبوت میں یہ دلیل پیش کروں کہ "آج بہت سے لوگ آئے تھے" تو آپ مجھ سے سوال کروگے کہ چاہے ایک لاکھ لوگ ہی کیوں نہ آئے ہوں، تم یہ ثابت کرو کہ "خالد" آیا تھا یا نہیں؟؟..بلکل اسی طرح قادیانى پادری لوگوں کو قران کی آیات کا غلط ترجمہ کرکے اور دھوکے سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ "حضرت محمد صلى الله عليه وسلم کے بعد بھی نبوت جاری ہے" جبکہ انکو ثابت یہ کرنا ہے کہ نبوت جاری ہے اور مرزا قادیان الله کا نبی ہے ...یہ اپنے عقیدے کا دوسرا حصّہ وہ قیامت تک قرآن و حدیث سے ثابت نہیں کر سکتے۔
source link 

Thursday, 20 August 2015

ختم نبوت ازوائے قران مجید

0 comments
الْیَوْمَ اکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنکُمْ واتممت عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا ۔

1.یعنی آج میں نے قرآن کے اتارنے اور تکمیل نفوس سے تمہارا دین تمہارے لیے کامل کردیا اور اپنی (نبوت کی) نعمت تم پر پوری کردی اور تمہارے لیے دین اسلام پسند کرلیا۔ حاصل مطلب کہ قرآن کریم جس قدر نازل ہونا تھا ہوچکا اور مستعد دلوں میں نہایت حیرت انگیز تبدیلیاں پیدا کرچکا اور تربیت کو کمال تک پہنچا دیا اور اپنی نعمت کو ان پر پورا کردیا۔''(روحانی ص344 تا 349، ج9)
2۔ قرآن شریف جیسا کہ آیت اَلْیَوْمَ اکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ اور آیت ولکن رسول اللّٰہ وخاتم النبیین میں صریح نبوت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم کرچکا ہے اور صریح لفظوں میں فرما چکا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں۔(روحانی ص174، ج13 )

3۔ خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں صحابہ رضی اللہ عنہم کو مخاطب کیا کہ میں نے تمہارے دین کو کامل کیا اور تم اپنی نعمت پوری کی اور اس آیت کو اس طور سے نہ فرمایا کہ آج میں نے اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کے دین کو کامل کردیا۔ اس میں حکمت یہ ہے تاکہ ظاہر ہو کہ صرف قرآن کی تکمیل نہیں ہوئی بلکہ ان کی بھی تکمیل ہوگئی جن کو قرآن پہنچایا گیا اور رسالت کی علت غائی کمال تک پہنچ گئی۔ (حاشیہ نور القرآن نمبر1، ص19) (روحانی ص352، ج9)
4۔ ہم لوگ ختم ہونا وحی کا مانتے ہیں۔ گو کلام الٰہی اپنی ذات میں غیر محدود ہے لیکن چونکہ وہ مفاسد جن کی اصلاح کے لیے کلام الٰہی نازل ہوئی ہے ( یا رسول آتے ہیں۔ ناقل) وہ قدر محدود سے زیادہ نہیں اس لیے کلام الٰہی بھی اسی قدر نازل ہوئی جس قدر نبی آدم کو ضرورت تھی اور قرآن ایسے زمانے میں آیا کہ جس میں ہر طرح کی ضرورتیں جن کا پیش آنا ممکن تھا پیش آگئی تھیں۔ اس لیے قرآن شریف کی تعلیم بھی انتہائی درجہ پر نازل ہوئی پس انہی معنوں میں شریعت فرقانی مختم و مکمل ٹھہری اور پہلی شریعتیں ناقص رہیں۔ اب قرآن اور دوسری کتابوں میں فرق یہ ہے کہ پہلی کتابیں خلل سے بھی محفوظ رہتیں تاہم بوجہ ناقص ہونے کے تعلیم کے ضرور تھا کہ کسی وقت کامل تعلیم یعنی قرآن ظہور ہوتا مگر قرآن کے لیے اب یہ ضرورت در پیش نہیں کہ بعد کوئی کتاب آوے کمال کے بعد اور کوئی درجہ باقی نہیں۔ ہاں اگر فرض کیا جائے کہ اصول قرآن دید اور انجیل کی طرح مشرکانہ بنائے جائیں گے یا مسلمان شرک اختیار کرلیں گے تو بیشک ایسی صورتوں میں دوسری شریعت اور دوسرے رسول کا آنا ضروری ہے مگر یہ دونوں قسم کے فرض محال ہیں۔ قرآن شریف کا محرف ہونا اس لیے محال ہے کہ خدا نے خود فرمایا ہے: اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحَافِظُوْنَ یعنی اس کتاب کو ہم نے ہی نازل کیا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں اور مسلمانوں کا شرک اختیار کرنا اس جہت سے ممتنعات سے ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس بارے میں بھی پیشگوئی کرکے فرما دیا وَمَا یُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا یُعِیْدُیعنی شرک مخلوق پرستی نہ اپنی کوئی شاخ نکالے گی نہ پہلی حالت پر عود کرے گی۔ پس ثابت ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت میں خاتم الرسل ہیں۔ (روحانی ص101،ج1)

مرزائی عذر:

آیت اَلْیَوْمَ اکْمَلْت لکم دینکم کا یہ جواب ہے کہ:
''(1) تورات بھی تمام تھی مگر اس کے بعد پھر کتاب آگئی (2) قرآن شاہد ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام پر بھی نعمت پوری کی گئی تھی (3) انعام صرف نبوت ہی نہیں آیت قرآن کی رو سے نبوت صدیقیت، شہادت، صالحیت سب انعام ہیں کیا یہ بھی بند ہیں؟'' (اکٹ بک ص512 تا 513 )

الجواب:

(1) تورات بیشک تمام تھی مگر اپنے وقت اور قوم کے لیے گذشتہ بنی مخصوص قوموں کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ (ایضاً ص443 )

وَکَانَ النبی یُبْعَثُ اِلٰی قَوْمِہٖ خَاصَّۃً وَبُعِثْتُ اِلَی الناسِ عَامَّۃً پہلے نبی اپنی اپنی قوم کی طرف آئے اور میں تمام دنیا کی طرف۔( اخرجہ البخاری فی الصحیح ص47،ج1 کتاب اتیمم باب نمبر1 و مسلم فی الصحیح ص199،ج1 کتاب المساجد و مواضع الصلوٰۃ واحمد فی مسندہٖ ص304 ج3 واوردہ مرزا خدا بخش القادیانی فی عسل مصفّٰی ص226) (بخاری و مسلم مشکوٰۃ باب سید المرسلین)

(2) ہاں توریت اپنی ذات میں تمام تھی مگر کامل دین الٰہی اور اتمام نبوت اور تعلیم عالمگیر کے رو سے ناقص تھی '' اب قرآن شریف اور دوسری کتابوں میں فرق یہ ہے کہ پہلی کتابیں اگر ہر ایک طرح کے خلل سے محفوظ بھی رہتیں پھر بھی بوجہ ناقص ہونے تعلیم کے ضرور تھا کہ کسی وقت کامل تعلیم آوے۔ مگر قرآن شریف کے لیے اب یہ ضرورت در پیش نہیں کیونکہ کمال کے بعد اور کوئی درجہ نہیں تو نئی شریعت اور نئے الہام کے نازل ہونے میں بھی امتناع عقلی لازم آیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت میں خاتم الرسل ہیں۔''(روحانی ص101 تا 103، ج1 )

اور حضرت یوسف علیہ السلام پر جو نعمت تمام ہوئی وہ اسی طرح کا اتمام تھا کَمَا اَتَمَّھَا عَلٓی ابویک( پ12 یوسف آیت 6) (یوسف ع1) جیسا کہ اس کے باپ دادوں پر ہوا تھا۔ یعنی وقتی اور حسب ضرورت زمانہ جیسا کہ ہم اوپر ثابت کر آئے ہیں۔

نبوت، صدیقیت، شہادۃ، صالحیت بلاشبہ انعام ہے اسی طرح صاحب شریعت نبی ہونا بھی انعام ہے۔ جس کی قسمت میں ابتدائے آفرینش سے قسام ازل نے ختم نبوت کا تمغہ مقسوم رکھا تھا۔ جبکہ آدم علیہ السلام منجدل فی طینتہٖ گوندھی ہوئی مٹی میں پڑے تھے۔ اس کے بعد بھی اس انعام کی توقع بلکہ تقدیر الٰہی کو الٹ دینے کی ناپاک کوشش کرنا کچھ اوندھی کھوپری والے انسانوں کو ہی سوجھتا ہےاَلاَ اِنَّ حِزْبَ الشَّیْطَانِ ھُمُ الْخَاسِرُوْنَ۔(پ28 المجادلہ آیت 19 )

مرزائی عذر:

آیات وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلاَّ رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ۔ کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ۔ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا۔ کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تمام بنی اسرائیل کی طرف رسول تھے کیا ان کے بعد بنی اسرائیل ہی کے لیے حضرت داؤد علیہ السلام ، سلیمان علیہ السلام اور حضرت عیسی علیہ السلام نبی ہو کر نہیں آئے؟ (پاکٹ بک ص514)

الجواب

ہم پہلے ثابت کر آئے ہیں کہ وہ شریعت ناتمام و ناقص تھی۔ اس لیے وقتی ضروریات کے لیے انبیاء کا آنا ضرور تھا۔ اور تورات کے متعلق قرآن شریعت میں ہرگز ہرگز حضرت موسیٰ علیہ السلام کا یہ دعویٰ موجود نہیں کہ تمام بنی اسرائیل کے لیے صرف میں ہی اکیلا رسول ہوں بخلاف اس کے قرآن مجید کامل مکمل غیر متبدل اٹل قانون اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام دنیا کے لیے اکیلے رسول ہونے کے مدعی ہیں اُرْسِلتُ اِلَی الْخَلْقِ کَآفَّۃً وَخُتِمِ بِیَ النَّبِیُّوْنَ۔ (صحیح مسلم) میں تمام دنیا جہان کی طرف بھیجا گیا ہوں میرے ساتھ نبیوں کا سلسلہ ختم ہوگیا۔اَنَا رَسُوْلُ مَن ادرکتُ حَیًّا ومَنْ یُوْلَدُ بَعْدِیْ۔(کنز العمال ص404،ج11 رقم الحدیث 31886 و طبقات ابن سعد 1۔1۔127)
'' خدا نے سب دنیا کے لیے ایک ہی نبی بھیجا۔'' (روحانی ص144،ج23 )