Showing posts with label حادیثِ امام مہدی و مجدد. Show all posts
Showing posts with label حادیثِ امام مہدی و مجدد. Show all posts

Wednesday, 6 January 2016

The Education Of Hadees Pat 2 علم حدیث مکمل

0 comments

The Education Of Hadees Pat 2 علم حدیث مکمل 

حدیث پڑھنے کا فائدہحدیث پڑھنے والا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ایک نورانی سلسلہ قائم ہوجاتا ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ بار بار درود شریف پڑھنے کی توفیق ملتی ہے، جو سعادتِ دارین کا باعث ہے جس کے بے شمار فوائد ہیں، اس طرح علم حدیث کی ضرورت اس لیے بھی ہے کہ اس سے زندگی میں نبوی طریقوں پر عمل پیرا ہونا آسان ہوجاتا ہے جس کا اللہ نے قرآن میں ‘‘اَطِیْعُواالرَّسُوْلَ’’(رسول کی اطاعت کرو)کے ذریعہ حکم دیا ہے، جب کسی ذاتِ بابرکت کے حالات کا عرفان ہوتا ہے تو اس کی تعلیمات پر چلنا اور احکامات کو بجالاناآسان ہوجاتا ہے،حدیث پڑھنے اور اس پر عمل کرنے والا حضور ﷺ کی اس دعا میں شامل ہوجاتا ہے: اللہ اس بندہ کو آسودہ حال رکھے جس نے میری بات(حدیث) سن کر یاد کیا پھر اسے اسی طرح دوسروں تک پہونچایا۔تدوینِ حدیثحدیث کی عظمت وفضیلت اور زندگی کے ہرشعبہ میں اس کی ضرورت کے پیشِ نظر حدیث کی حفاظت وصیانت اور کتابت کا اہتمام زمانۂ رسالت ہی سے کیا گیا؛ چنانچہ احادیث کی تحریر سے قطعِ نظرصحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے علم حدیث کے اصول اور حفظ وضبط کے لیے اللہ کی عطا کردہ غیرمعمولی حافظہ کی تیزی اور ذہن کی سلامتی کا سہارا لیا۔حفاظتِ حدیث کے طریقےعہدِ رسالت اور عہدِ صحابہ رضی اللہ عنہم میں حفاظتِ حدیث کے لیے تین طریقے (حفظِ روایت، تعامل اور تحریر وکتابت) اپنائے گئے تھے جو یہاں ذکر کئے جاتے ہیں۔حفظِ روایتحفاظتِ حدیث کا پہلا طریقہ احادیث کو یاد کرنا ہے اور یہ طریقہ اس دور کے لحاظ سے انتہائی قابل اعتماد تھا، اہلِ عرب کو اللہ تعالیٰ نے غیرمعمولی حافظے عطا فرمائے تھے، وہ صرف اپنے ہی نہیں بلکہ اپنے گھوڑوں تک کے نسب نامے ازبر یاد کرلیا کرتے تھے، ایک ایک شخص کو ہزاروں اشعار حفظ ہوتے تھے ،یہی نہیں بلکہ؛یہ حضرات بسااوقات کسی بات کو صرف ایک بار سن کر یادیکھ کر پوری طرح یاد کرلیتے تھے، تاریخ میں اس کی بے شمار مثالیں ہیں، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے متعلق مشہور ہے کہ ان کے سامنے عمر بن ابی ربیعہ شاعر آیا اور ستر اشعار کا ایک طویل قصیدہ پڑھ گیا، شاعر کے جانے کے بعد ایک شعر کے متعلق گفتگو چلی، ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مصرعہ اس نے یوں پڑھا تھا، جو مخاطب تھا اس نے پوچھا کہ تم کو پہلی دفعہ میں کیا پورا مصرعہ یاد رہ گیا؟ بولے کہو تو پورے ستر شعر سنادوں اور سنادیا۔علماء اسلام کا خیال ہے کہ علاوہ اس کے کہ عرب کا حافظہ قدرتی طور پر غیرمعمولی تھا یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ قرآن مجید کے متعلق جس نے ‘‘وَإِنَّالَہُ لَحَافِظُوْنَ’’ کا اعلان کیا تھا اسی نے قرآن کی عملی شکل یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی حفاظت جن کے سپرد کی تھی ان کے حافظوں کو غیبی تائیدوں کے ذریعہ سے بھی کچھ غیرمعمولی طور پر قوی تر کردیا تھا، وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال کو محفوظ کرنااپنے لیے راہِ نجات سمجھتےتھے، خاص طور پر جب کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ان کے سامنے آچکا تھا:‘‘نَضَّرَ اللَّهُ عَبْدًا سَمِعَ مَقَالَتِي فحفظھا ووعاھا واداھا کماسمع’’۔(ترمذی، باب ماجاء فی الحث علی تبلیغ السماع، حدیث نمبر:۲۵۲۸۔ ابن ماجہ، باب من بلغ علی، حدیث نمبر:۲۲۶۔ مسنداحمد، حدیث جبیر بن مطعم، حدیث نمبر:۱۶۷۸۴۔ مسند شافعی، فدب حامل فقہ غیرفقیہ، حدیث نمبر:۱۱۱۵)اللہ اس بندہ کو آسودہ حال رکھے جس نے میری بات(حدیث) سن کر یاد کیا پھر اسے اسی طرح دوسروں تک پہونچایا۔طریقۂ تعاملحفاظتِ حدیث کا ایک اور طریقہ جو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اختیار کیا تھا وہ تعامل تھا ؛یعنی صحابۂ کرام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال پر بجنسھا عمل کرکے اسے یاد کرتے تھے، ترمذی شریف اور دیگر حدیث کی کتابوں میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے منقول ہے کہ انھوں نے کوئی عمل کیا اور اس کے بعد فرمایا: ‘‘ھٰکَذَا رَأَیْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّیَ اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ’’ بلاشبہ یہ طریقہ بھی نہایت قابلِ اعتماد ہے اس لیے کہ انسان جس بات پر خود عمل پیرا ہوتا ہے تو وہ ذہن میں اچھی طرح راسخ ہوجاتی ہے۔طریقۂ کتابتحدیث کی حفاظت کتابت وتحریر کے ذریعہ سے بھی کی گئی ہے، تاریخی طور پر کتابتِ حدیث کو چار مراحل پر تقسیم کیا جاتا ہے:(۱)متفرق طور سے احادیث کو قلمبند کرنا۔(۲)کسی ایک شخصی صحیفہ میں احادیث کو جمع کرنا جس کی حیثیت ذاتی یاد داشت کی ہو۔(۳)احادیث کو کتابی صورت میں بغیر تبویب(ابواب) کے جمع کرنا۔(۴)احادیث کو کتابی شکل میں تبویب (ابواب)کے ساتھ جمع کرنا۔عہدِرسالت اور عہدِ صحابہ میں کتابت کی پہلی دوقسمیں اچھی طرح رائج ہوچکی تھیں، منکرینِ حدیث عہدِرسالت میں کتابتِ حدیث کو تسلیم نہیں کرتے اور مسلم وغیرہ کی اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں جو ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘‘لَاتَکْتُبُوْا عَنِّیْ وَمَنْ کتب عنی غَیْرَالْقُرْآن فَلْیَمْحُہٗ’’ منکرینِ حدیث کا یہ کہنا ہے کہ حضورﷺ کا کتابتِ حدیث سے منع فرمانا اس بات کی دلیل ہے کہ اس دور میں حدیثیں نہیں لکھی گئیں؛ نیزاس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ احادیث حجت نہیں؛ ورنہ آپ انھیں اہتمام کے ساتھ قلمبند فرماتے؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کتابتِ حدیث کی یہ ممانعت ابتداء اسلام میں تھی۔ذیل میں ہم کتابتِ حدیث سے ممانعت کی وجوہ اور اس کے متعلق اعتراضات کے جوابات پیش کررہے ہیں،کاتبین کی سہولت کے باوجود عمومی طور پر حدیث کی کتابت اور تدوین کی جانب توجہ نہ دینے کے درجِ ذیل اسباب ہیں:(۱)اپنے فطری قوتِ حافظہ کی حفاظت مقصود تھی؛ کیونکہ قیدِ تحریر میں آجانے کے بعد یادداشت کے بجائے نوشتہ پر اعتماد ہوجاتا۔(۲)قرآن کریم کے لفظ اور معنی دونوں کی حفاظت مقدم اور ضروری تھی اس لیے لکھنے کا اہتمام کیا گیا ،جب کہ حدیث کی روایت بالمعنی بھی جائز تھی؛ اس لیے حدیث کے نہ لکھے جانے میں کوئی نقصان نہیں تھا۔(۳)عام مسلمانوں کے اعتبار سے یہ اندیشہ تھا کہ قرآن اور غیرقرآن یعنی حدیث ایک ہی چمڑے یاہڈی پر لکھنے کی وجہ سے خلط ملط ہوسکتے ہیں؛ اس لیے احتیاطی طور پر رسول اللہﷺنے قرآن کریم کے علاوہ احادیث نبویہ کو لکھنے سے منع فرمایا؛ چنانچہ حضرت ابوسعید خدریؓ اور حضرت ابوہریرہؓ سے مروی حدیث جس میں کتابتِ حدیث سے ممانعت فرمائی گئی اسی مصلحت پر مبنی ہے۔(۴)ابتداءِ اسلام میں تحریرِ حدیث کی ممانعت تھی پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عوارضات کے ختم ہونے کے بعد تحریرِ حدیث کی اجازت مرحمت فرمائی جس کے متعلق درجِ ذیل احادیث سے تائید ہوتی ہے:(۱)حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص فرماتے ہیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنتا تھا اسے محفوظ رکھنے کی غرض سے لکھ لیا کرتا تھا ،قریش کے لوگوں نے مجھے منع کیا کہ تم ہربات رسول اللہﷺ سے لکھ لیا کرتے ہو؛ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انسان ہیں ،ان پر بھی خوشی اور غصہ دونوں حالتیں طاری ہوتی ہیں؛ چنانچہ میں لکھنے سے رُک گیا اور رسول اللہﷺ کے پاس جاکر یہ بات میں نے عرض کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگشتِ مبارک سے اپنے دہنِ مبارک کی طرف اشارہ کرکے فرمایا:‘‘اكْتُبْ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَايَخْرُجُ مِنْهُ إِلَّاحَقٌّ’’۔(ابوداؤد،بَاب فِي كِتَابِ الْعِلْمِ حدیث نمبر:۳۱۶۱)تم لکھتے رہو؛ کیونکہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، میرے منہ سے حق بات ہی کا صدور ہوتا ہے۔(۲)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں مجھ سے زیادہ حدیثوں کا جامع کوئی نہیں ہے سوائے عبداللہ بن عمرو کے؛ کیونکہ وہ لکھتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا۔(بخاری شریف، کتاب العلم، باب کتابۃ العلم:۱/۲۲)(۳)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے منقول ہے کہ ایک انصاری شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے حافظہ کی کمزوری کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘‘اسْتَعِنْ بِيَمِينِكَ’’ (یعنی اسے لکھ لو)۔(ترمذی، بَاب مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِيهِ، حدیث نمبر:۲۵۹۰)اس قسم کی احادیث اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ کتابتِ حدیث کی ممانعت کسی امرِعارض کی بناپر تھی اور جب وہ عارض مرتفع ہوگیا تواس کی اجازت؛ بلکہ حکم دیا گیا؛ اسی لیے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ کے دور میں حدیث کے کئی مجموعے (جو ذاتی نوعیت کے تھے) تیار ہوچکے تھے، جیسے صحیفۂ صادقہ، صحیفۂ علی، کتاب الصدقہ، صحفِ انس بن مالک، صحیفۂ سمرہ بن جندب، صحیفۂ سعد بن عبادہ اور صحیفۂ ہمام بن منبہ رضی اللہ عنہم، یہ صحیفے اس بات کی وضاحت کے لیے کافی ہیں کہ عہدِ رسالت اور عہدِ صحابہ میں کتابتِ حدیث کا طریقہ خوب اچھی طرح رائج ہوچکا تھا؛ لیکن اتنی بات ضروری ہے کہ خلفائے ثلاثہ کے دور میں قرآن کی طرح تدوین واشاعتِ حدیث کا اہتمام نہیں ہوا؛ لیکن حضورﷺ کی زندگی عہدِ صحابہ میں بجائے ایک نسخہ کے ہزاروں نسخوں کی صورت میں موجود ہوچکی تھی اس اعتبار سے تدوینِ حدیث کی ایک صورت خود صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگی تھی۔مدوّنِ اوّلسب سے پہلے حدیث کی تدوین اور اس کو کتابی شکل میں جمع کرنے کا حکومت کی جانب سےحکم حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ(۱۰۱ھ) نے دیا ہے، آپ کے مبارک دور میں احادیث کی باضابطہ تدوین کی تحریک پیدا ہوئی ہے، اس لیے کہ اب قرآن کریم سے احادیث کے اختلاط والتباس کا اندیشہ نہ تھا، صحیح بخاری میں ہے۔(۱)َكَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ انْظُرْ مَا كَانَ مِنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاكْتُبْهُ فَإِنِّي خِفْتُ دُرُوسَ الْعِلْمِ وَذَهَابَ الْعُلَمَاءِ..الخ(بخاری،باب کیف یقبض العلم،۱۷۵/۱)حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ابوبکر بن حزم کو لکھا کہ آنحضرتﷺ کی احادیث پر نظر رکھیں اورانہیں لکھ لیں؛کیونکہ مجھے علم کے مٹ جانے اور علماء کے اٹھ جانے کا ڈر ہےالغرض اس طرح تدوینِ حدیث کے اس اہم کام کا آغاز ہوا جس کے نتیجہ میں پہلی ہجری کے آخر میں حدیث کی بہت سی کتابیں وجود میں آگئی تھیں، جیسے: کتب ابی بکر، رسالہ سالم بن عبداللہ فی الصدقات، دفاتر الزھری، کتاب السنن لمکحول، ابواب الشعبی۔یہ حدیث کی کتابوں میں تبویب کی ابتداء تھی، دوسری صدی ہجری میں تدوینِ حدیث کا یہ کام نہایت تیزی اور قوت کے ساتھ شروع ہوا؛ چنانچہ اس دور میں حدیث کی لکھی گئی کتابوں کی تعداد بیس سے بھی زیادہ ہے جن میں سے چند مشہور کتابیں یہ ہیں:کتاب الاثار لابی حنیفہ، المؤطا للامام مالک، جامع معمربن راشد، جامع سفیان الثوری، السنن لابن جریج، السنن لوکیع بن الجراح اور کتاب الزہد لعبداللہ بن المبارک، وغیرہ۔تدوینِ حدیث کا کام تیسری صدی ہجری میں اپنے شباب کو پہونچ گیا جس کے نتیجہ میں اسانید طویل ہوگئیں، ایک حدیث کو متعدد طرق سے روایت کیا گیا؛ نیزشیوعِ علم کی بنا پر فن حدیث پر لکھی گئی کتابوں کو نئی تبویب اور نئے انداز سے ترتیب دیا گیا اس طرح حدیث کی کتابوں کی بیس سے زیادہ قسمیں ہوگئیں پھر اسماء الرجال کے علم نے باقاعدہ صورت اختیار کرلی اور اس پر بھی متعدد کتابیں لکھی گئیں؛ الغرض اسی دور میں صحاحِ ستہ کی بھی تالیف ہوئی جس سے آج تک امت مستفید ہورہی ہے۔خلاصۂ کلام یہ ہے کہ حدیث کی حفاظت وصیانت اور کتابت کا آغاز زمانۂ رسالت ہی سے ہوگیا تھا اور حدیث کی حفاظت کے لیے حفظِ روایت، طریقۂ تعامل اور تحریر سے کام لیا گیا،اور تیسری صدی ہجری تک حدیثوں کوپورے طور پرمدون کردیا گیا۔سنت اور حدیث میں فرقسنت کا لفظ عمل متوارث پر آتا ہے اس میں نسخ کا کوئی احتمال نہیں رہتا،حدیث کبھی ناسخ ہوتی ہےکبھی منسوخ ؛مگر سنت کبھی منسوخ نہیں ہوتی، سنت ہے ہی وہ جس میں توارث ہواور تسلسلِ تعامل ہو،حدیث کبھی ضعیف بھی ہوتی ہے کبھی صحیح، یہ صحت وضعف کا فرق ایک علمی مرتبہ ہے،ایک علمی درجہ کی بات ہے، بخلاف سنت کے کہ اس میں ہمیشہ عمل نمایاں رہتا ہے.(اٰثار الحدیث:۶۲).............جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Wednesday, 16 September 2015

مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق دجال کو عیسیٰ علیہ اسلام نے قتل کرنا ہے مگر مرزا غلام قادیانی نے کہا کہ میں مسیح موعود ہوں اور قتل دجال عیسیٰ علیہ اسلام کے ہاتھوں نہیں بلکہ قلم سے ہونا ہے ۔ کیا دجال کا قتل قلم سے ممکن ہے ؟

0 comments

سوال : مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق دجال کو عیسیٰ علیہ اسلام نے قتل کرنا ہے مگر مرزا غلام قادیانی نے کہا کہ میں مسیح موعود ہوں اور قتل دجال عیسیٰ علیہ اسلام کے ہاتھوں نہیں بلکہ قلم سے ہونا ہے ۔ کیا دجال کا قتل قلم سے ممکن ہے ؟جواب :حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ابن صیاد کے متعلق مشہور ہوا کہ وہ دجال ہے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تلوار نکال کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی کہ اگر اجازت ہو تو میں اسے قتل کر دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ دجال ہے تو تو تم اسے قتل نہیں کرسکتے اس کو حضرت عیسیٰ علیہ اسلام ہی قتل کریں گے اگر یہ دجال نہیں تو تم کیوں اپنے ھاتھ قتل ناحق سے رنگین کرتے ہو ۔ عن جابر بن عبداللہ (فی قصۃ ابن صیاد)فقال عمر بن الخطاب ائذن لی فاقتلہٗ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان یکن ھو فلست صاحبہ انما صاحبہ عیسیٰ ابن مریم علیہ الصلوٰۃ والسلام، و ان لا یکن فلیس لک ان تقتل رجلا من اھل العھد(مشکوٰۃ۔ کتاب الفتن، باب قصّۃ بن صیّاد ، بحوالہ شرح السُّنہ بَغَوی)جا بر بن عبداللہ (قصّۂ ابن صیّاد کے سلسلہ میں) روایت کرتے ہیں کہ پھر عمر بن خطاب نے عرض کیا، یا رسول اللہ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اسے قتل کردوں ۔ اس پرحضوؐر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ وہی شخص (یعنی دجال) ہے تو اس کے قتل کرنے والے تم نہیں ہو بلکہ اسے تو عیسیٰ بن مریم ہی قتل کریں گے۔ اور اگر یہ وہ شخص نہیں ہے تو تمہیں اہلِ عہد (یعنی ذمیوں) میں سے ایک آدمی کو قتل کردینے کا کوئی حق نہیں ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا تلوار نکالنا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اگر یہ دجال ہے تو تم اسے قتل نہیں کرسکتے اس کو عیسیٰ ابن مریم ہی قتل کریں گے ، اس حدیث شریف نے یہ ثابت کردیا کہ دجال سے حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کی لڑائی ہوگی اور حضرت عیسیٰ ابن مریم دجال کا قتل کریں گے ، ورنہ جس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تلوار نکالی تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرما دیتے کہ اے عمر رضی اللہ عنہ یہ کیا کر رہے ہو اس کے ساتھ تو جہاد قلم کے ساتھ ہوگا ۔چنانچہ یہ حدیث دلیل ہے اس بات کی کہ دجال کے ساتھ حضرت عیسیٰ ابن مریم کی باقاعدہ لڑائی ہوگی اور دجال اس لڑائی میں مارا جائے گا نہ کہ قلم سے کے ساتھ دجال کو ختم کیا جائے گا ۔خود مرزا غلام قادیانی کہتا ہے کہ " اگر ابن صیاد کی پیشانی پر ک ف ر لکھا ہوا ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس کے قتل کرنے سے کیوں منع فرماتے اور کیوں فرماتے کہ ہمیں ابھی اس کے حال پر ابھی اشتباہ ہے اگر یہی دجال ہے تو اس کا صاحب عیسیٰ ابن مریم ہے جو اسے قتل کرے گا ہم اسے قتل نہیں کر سکتے " ( خزائن جلد 3 صفحہ 213، 212 ) مرزا غلام قادیانی کی مندرجہ بالا تحریر سے تین باتیں ثابت ہوتی ہیں 1 : ابن صیاد کی دجال کی طرف نسبت کرنے سے یہ بات بلکل واضح ہوجاتی ہے کہ دجال فرد واحد کا نام ہے کسی گروہ کا نہیں ، جیسا کہ قادیانی امت کا دجال کے بارے میں خیال ہے کہ دجال سے مراد پادریوں کا گروہ ہے ( خزائن جلد 3 صفحہ 362 ، 365 ، 494 )2 : مرزا غلام قادیانی نے اس حدیث کا حوالہ دے کر یہ تسلیم کرلیا ہے کہ دجال کا قتل عیسیٰ علیہ اسلام کے ھاتھوں ہوگا نہ کہ قلم سے 3 : قادیانی امت حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کی وفات کے بارہ میں صحابہ کے اجماع کا دعویٰ کرتے ہیں اور اسکی بنیاد آںحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا تلوار نکالنا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا آیت قد خلت پڑھنا بتاتے ہیں اور اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ وفات مسیح کے قائل نہ تھے ۔ ورنہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر یہی دجال ہے تو اس کا صاحب عیسی ابن مریم ہے جو اسے قتل کرے گا ہم اسکو قتل نہیں کرسکتے ۔ تو وہاں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہ کیوں نہ فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ اسلام تو وفات پاچکے ہیں وہ دجال کو کیسے قتل کرینگے ؟ خلاصہ بحثلہذا ثابت ہوگیا کہ دجال کا قتل حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے ھاتھوں ہوگا نہ کہ قلم سے دجال فرد واحد ہے نہ کہ کسی پادریوں کے گروہ کا نام وفات مسیح علیہ اسلام پر صحابہ راضوان اللہ علیہ اجمعین کے اجماع کا دعویٰ سراسر جھوٹ ہے ۔

عمر مسیح علیہ السلام پر اختلاف کا جواب۔ از قلم غلام نبی نوری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔The age of Hzrat e Esah . A.S

0 comments

" عن عائشہ رضی اللہ عنہا ان عیسیٰ ابن مریم عاش عشرین و ما ئۃ سنۃ۔" ۔یعنی حضرت عیسیٰ علیہ اسلام ١٢٠ برس تک زندہ رہے یہاں عاش ماضی کا صیغہ ہے جس سے معلوم ہوا کے ١٢٠ سال کے بعد ان کا انتقال ہو گیاالجوابقادیانی اپنی تلبیس کی عادت قدیمہ پر عمل کرتے ہوۓ یہ حدیث پوری نقل نہیں کرتے اگر پوری نقل کرے تو ان کا سارا پول کھل جائے ...حدیث کی ابتدا یوں ہے کے .." انہ لم یکن کان بعدہ نبی الا عاش نصف عمری الذی کان قبله ،و ان عیسیٰ ابن مریم عاش عشرین و ما ئۃ سنۃ. " .(کنزا العمل صفحہ ٤٧٩ حدیث ٣٢٢٦٢ )ہر بعد میں آنے والا نبی اپنے سے پہلے نبی کی آدھی عمر پاتا ہے اور بیشک حضرت عیسیٰ علیہ اسلام نے120برس عمر پائیاصل بات یہ ہے کے یہ حدیث عقلاََ بھی اس قابل نہیں کے اس کی طرف ادنیٰ سا بھی غور کیا جائے کیونکے اس روایت کے شروع میں یہ مضمون بھی ہے کے ہر بعد میں آنے والا نبی اپنے سے پہلے نبی کی آدھی عمر پاتا ہے.اب اگر اسے صحیح مان کر حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے اوپر کے دس انبیاء کی عمریں شمار کی جائیں تو ان کی عمریں ہزاروں لاکھوں برسوں سے تجاوز کر جائیں گی اور حضرت آدم علیہ اسلام کی عمر تو اتنا بڑھ جائے گی کے ماجودہ زمانے کے کمپیوٹر اسے شمار کرنے سے عجاز آئیں گے .اگر حساب کیا جائے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اوپر بیسویں نبی کی عمر ٦ کروڑ ٢٩ لاکھہ ١٤ ہزار ٥٦٠ سال بنتی ہے حالانکہ خود قران مجید میں حضرت نوح علیہ اسلام کی عمر ٩٥٠ برس بتائی گئی ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ اسلام سے بہت پہلے کے رسول ہیں ..لہذا جب روایت کا پہلا جز ہی نہ قابل اعتبار ٹھہرا تو دوسرے جز پر کیسے اعتبار کیا جا سکے گا ؟اگر حدیث کا پہلا جز صحیح ہے کے ہر بعد میں انے والا نبی اپنے سے پہلے نبی کی آدھی عمر پاتا ہے تو اس رو سے مرزا جھوٹا ثابت ہوتا ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر ٦٣ برس ہے اور چونکہ قادیانی حضرات مرزے کو نبی مانتے ہیں تو اس لئے اس حدیث کے لحاظ سے اس کی عمر ٣١ ،٣٢ ہونی چاہیے تھی حالانکہ اس کی عمر ٧٠ کے لگ بھگ تھی .یہ حدیث ابن لہیہ کے واسطے سے مروی ہے جو محدثین کے نزدیک بالاتفاق مردود اور نا قابل عتبار راوی ہے اس لیے روایت صحیع کی مجودگی میں یہ روایت بلکل نہ قابل قبول ہے .اگر بالفرض اس حدیث کو صحیح تسلیم کرلیا جائے تو دیگر حدیث متواتر کو سامنے رکھہ کر اس طرح تطبیق دی جائے گی کے وہ نصوص کے مخلاف نہ ہو چانچہ ملا علی قاری رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی تطبیق اس طرح دینے کی کوشس کی ہے کے نبوت سے قبل 40 سال ،نبوت کے بعد 33 سال اور قیامت کے قریب نازل ہونے کے بعد کے 48 سال اس طرح کل ملا کے 118 سال ہوۓ حدیث میں کسر کو پورا کر کے 120 سال کہہ دیا جس حدیث میں نزول کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ اسلام صرف 7 سال زندہ رہنے کی بات ہے وہ قتل دجال کے بعد7 سال تک زندہ رہنے پر محمول کی جائے گی.

Friday, 21 August 2015

نزول عیسی علیہ السلام کے بعد آپ علیہ السلام کس شریعت پر پیرا عمل ہونگے

0 comments

نزول عیسی علیہ السلام کے بعد آپ علیہ السلام کس شریعت پر پیرا عمل ہونگے


پٹی پٹی گئی الہام کی حقیقت

0 comments
ہمارے اکثر دوست مرزا صاحب کے اس الہام کو دیکھ پر یشان ہوتے ہیں کہ پٹی پٹی گئی کا کیا مطلب ہے، 
تو آئیں میں آپ کو بتاتا ہوں کہ پٹی پٹی گئی کی اصل حقیقت کیا تھی، 
مرزا صاحب نے محمدی بیگم سے شادی کے لیے ازحد کوششیں کی پر ناکام رہے ، بلا آخر محمدی بیگم کی شادی مرزا سلطان احمد کے ساتھ ہوگئی اور وہ اسے لیکر ضلع لاہور کے علاقہ پٹی میں چلا گیا، تو مرزا کو الہام ہوا 
لے مرزا تیری محمدی بیگم تو پٹی چلی گئی ساتھ میں تیری بھی پٹی پٹی گئی